یہ صورت گر کچھ خوابوں کے، جلددوم —- نعیم الرحمٰن

0

افسانہ و خاکہ نگار، محقق اور استاد ڈاکٹر طاہر مسعود نے چالیس سال کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی کی مشہور شخصیات سے انٹرویوز کیے۔ ان انٹرویوز کی پہلی جلد ’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ نام سے اسی کی دہائی میں شائع ہوکر بے پناہ مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔ جس میں اردو کے معروف ادیبوں اور شاعروں کے انٹرویوز شامل تھے۔ اس کتاب کے تین ایڈیشنزشائع ہوئے۔ ڈاکٹرطاہرمسعود کی کتاب کی ’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ کی دوسری جلد فضلی بکس نے شائع کی ہے۔ اس جلد میں ادبا وشعرا کے علاوہ زندگی کے دوسرے شعبوں کے مشاہیر کے انٹرویوز بھی مع تعارف کے شامل ہیں۔ ان میں علماء، سماجی کارکن، ماہرین تعلیم، سیاست دان، اداکار، ڈرامہ نگار، مزاح نگار، صحافی، مشتہرین، دفاعی ماہر اور کھیلوں کی دنیاکی وہ شخصیات اور ان کی دلچسپ اور پرمغز گفتگو ہے، جنہیں باربارپڑھنے کاجی چاہتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرمسعود کے انٹرویو کرنے کا انداز ہی منفرد اور جداگانہ ہے۔ وہ شخصیتوں سے ایسے مکالمہ کرتے ہیں کہ بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اور پڑھنے والا گفتگو کے سحر میں کھو جاتاہے۔ وہ شخصیات سے مرعوب ہوئے بغیر ایسے سوالات پوچھتے ہیں جنہیں واقعتا پوچھا جانا چاہیے۔ کہیں کہیں ان کا انداز کسی وکیل کی جرح کا ہوتا ہے، اور کہیں وہ زیرِبحث مسئلہ کے پوشیدہ پہلو کا دانشورانہ انداز میں محاکمہ کرتے ہیں اور ایسے جوابات اگلوا لیتے ہیں جن سے پڑھنے والے کی حیرت و مسرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کے انٹرویوکے فن کی مہارت کو پاکستان اور ہندوستان کے ادبی حلقوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ زیرنظرکتاب کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ زندگی کے دوسرے شعبو ں میں بھی ان کی انٹرویو نگاری کی صلاحیت و مہارت کو مان لیا جائے گا۔ یہ کتاب مذہب، تعلیم، سیاست، ادب، تصوف، اشتہارات اور ڈرا مے کے شعبوں میں مستند معلومات افزا صحیفہ ثابت ہوگی۔

ڈاکٹر طاہر مسعود کثیرالتصنیف ادیب ہیں۔ اردوصحافت پران کی دو تحقیقی کتب ’’اُردو صحافت انیسویں صدی میں‘‘ اور ’’اُردو صحافت کی ایک نادرتاریخ‘‘ کامطالعہ صحافی کے شعبے میں قدم رکھنے والے ہرفرد کے لیے لازمی ہے۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ جنہیں ’’تارِ حریم دورنگ‘‘ کے نام سے یکجابھی شائع کیا گیا۔ شخصی خاکوں کی دوکتب ’’کوئے دلبراں‘‘ اور ’’اوراقِ ناخواندہ‘‘ کے علاوہ کالموں کا مجموعہ’’ دل دردسے خالی‘‘ بھی شائع ہوچکا ہے۔

موجودہ دور میں انٹرویوز بھی باقاعدہ صنف ادب کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ معروف انٹرویو نگار منیر احمد منیر کے بقول انٹرویو آپ بیتی سے بہتراورچشم کشاہوتے ہیں۔ کیونکہ آپ بیتی میں مصنف ذاتی خامیاں اور فسادخلق کے پیش نظربہت سے حقائق چھپا لیتاہے۔ جبکہ اچھا انٹرویو نگارایسی باتیں بھی اگلوا لیتا ہے، جو وہ بیان کرنا نہیں چاہتا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کے انٹرویوز کی دوسری جلد ’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘ گذشتہ دنوں منظر عام پر آئی۔ جس میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے بیالیس مشاہیرکے انٹرویوز شامل ہیں۔ فضلی سنز نے کتاب بہترین سفید کاغذ پرعمدہ کتاب و طباعت کے ساتھ شائع کی ہے۔ چھ سو چھیاسٹھ صفحات کی کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے بھی مناسب ہے۔

’’چند وضاحتیں‘‘ میں ڈاکٹرطاہر مسعود نے لکھاہے۔ معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے مشاہیر سے یہ مکالمے ماضی بعید، ماضی قریب اور حال فی الحال کے بھی ہیں۔ ان مکالموں میں سیاست، مذہب، تعلیم، ادب، صحافت، ڈرامہ، کھیل، دفاع اور اشتہارات جیسے موضوعات اور مسائل پر فکر انگیزخیالات و معلومات کاخزانہ اکٹھا ہوگیا ہے۔ جن مشاہیر کے انٹرویوز ہیں، ان کے سوانحی کوائف کے علاوہ جہا ں ضرورت محسوس کی گئی، حاشیے میں اضافی معلومات اور وضاحتیں بھی درج کردی گئی ہیں، کتابوں کے مکمل حوالے نیز انٹرویو کے آخر میں تاریخ ِ اشاعت کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ بلاشبہ کتاب میں شامل اکثر مکالمے بہت پرانے ہیں۔ بعض تو میرے زمانہ طالب علمی کے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ اپنے خیالات کی تازگی کی وجہ سے پڑھنے والوں کو آج بھی دلچسپ اور معلومات افزا محسوس ہوں گے۔ یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بہ حیثیت قوم ہمارا سفرکتنی سست روی کاشکارہے کہ جو الجھنیں اورمسائل تیس چالیس برس پہلے ہمیں درپیش تھے، وہ اب تک موجود ہیں بلکہ ان کی پیچیدگی میں اضافہ ہی ہوا ہے، لیکن امید افزا پہلو یہ بھی ہے کہ ان انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے گئے گزرے معاشرے میں کیسی کیسی گوہرِ نایاب ہستیاں رہتی بستی ہیں۔ ان میں بہت سی تو دنیاسے ہی رخصت ہوگئیں لیکن ان کی خدمات اورکارنامے، وہ نقوش ِ قدم ہیں جو آج بھی مٹے نہیں، باقی ہیں۔ انہیں مٹنا چاہیے بھی نہیں کہ یہ نقوشِ قدم منزل کاسراغ دیتے ہیں۔ منزل جو کھوئی گئی آج بھی ہماری منتظرہے۔‘‘

’’یہ صورت گرکچھ خوابوں کے‘‘ جلد دوم میں بیالیس مشاہیر کی گفتگو شامل ہے۔ جنہیں ان کے شعبہ جات کے اعتبارسے دس حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔ ’’علمائے کرام اور اہلِ سیاست‘‘ میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا سعید احمد اکبرآبادی، ڈاکٹراسرار احمد، مولاناشاہ احمد نورانی، پروفیسر خورشید احمد، حاجی حنیف طیب، احمد جاوید اور ڈاکٹر دلدار احمد قادری سے مکالمہ جات ہیں۔ ’’بے لوث سماجی کارکنان‘‘ میں عبدالستار ایدھی اور انصاربرنی کے انٹرویوز ہیں۔ ’’دفاعِ وطن‘‘ کے زیرعنوان ایئرمارشل(ر) محمود اخترکی گفتگو ہے۔ ’’ماہرینِ تعلیم ‘‘ میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹرمنظور احمد، ڈاکٹر عطاالرحمٰن، پروفیسرمتین الرحمٰن مرتضیٰ اور ڈاکٹر نثار احمدزبیری کے مصاحبوں کوشامل کیا گیا ہے۔ ’’صحافت اور ذرائع ابلاغ‘‘ میں میرخلیل الرحمٰن، الطاف حسن قریشی، محمدصلاح الدین، فرہادزیدی، ضمیر نیازی، سید محمود احمد مدنی، ش فرخ اور مہتاب چنہ سے مکالمہ ہے۔ ’’ادبا اور شعرا‘‘ میں محب عارفی، ڈاکٹر عبدالغنی، زاہدہ حنا، انور شعور، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، مجتبیٰ حسین، شوکت عابد اور آصف فرخی شامل ہیں۔ ’’تصوف‘‘ کے تحت ڈاکٹر اسلم فرخی سے مکالمے کو جگہ دی گئی ہے۔ ’’فنون لطیفہ‘‘ کے تحت طلعت حسین، انور مقصود، کمال احمد رضوی عرف الن اور حمید کاشمیری سے بات چیت دی گئی ہے۔ ’’کھیل‘‘ میں شہناز سہگل اور ’’اشتہارات‘‘ کے تحت ایس ایچ ہاشمی، سی اے رؤف اور شہزادہ احمد شاہ سے مکالمہ کیاگیا ہے۔ ہر انٹرویو کے آغاز میں متعلقہ شخص کاایک اہم جملہ دیاگیاہے۔ جس سے مجموعی گفتگو اور اس نے نتائج کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا۔ ’’جب مجھ میں کچھ شعورپیداہواتومیں نے محسوس کیاکہ میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہوں، اس لیے مسلمان ہوں۔ اس طرح اگر میں عیسائی گھرانے میں پیداہوتاتوعیسائی ہوتا۔ اس وجہ سے میں نے دوسرے مذاہب کا بھی مطالعہ کیا اور اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی۔ جب میرا پوری طرح اطمینان ہوگیاکہ دراصل دینِ حق اسلام ہی ہے تو میں نے پورے شعور کے ساتھ اسلام قبول کیا۔ اسی وجہ سے میں نے خود کو نومسلم بھی لکھاہے۔ مسلم گھرانوں میں لوگوں میں جذباتی وابستگی پائی جاتی ہے، اس قسم کی وابستگی اسلام کے لیے اتناعشق پیداکرسکتی ہے کہ اس کی خاطر انسان جان دے دے لیکن اسلام کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے ساری زندگی گزار دینا ممکن نہیں۔ یا ایک آدمی کو شعور بھی ہے، اسلام کوسمجھتابھی ہے، لیکن اس کی سیرت میں ایسی کمزوری موجود ہے کہ ایک چیز کو فرض جاننے کے با وجود وہ اسے ادا نہیں کرسکتا۔ حقوق العباد وہی اداکرسکتاہے جواپنے کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہو اور یقین رکھتا ہوکہ اگریہاں کسی کاحق مارکربچ جاؤں گاتب بھی یہ عقیدہ اسے باز رکھے گا کہ مرنے کے بعد اسے خداکے سامنے حاضر ہونا ہے۔‘‘

مولانا سعید احمد اکبرآبادی کے انٹرویوپرجملہ ہے۔ ’’اب وقت آگیاہے کہ اللہ اپنے دین کاکام انگریزی تعلیم یافتہ طبقے سے لے گا۔‘‘ طاہر مسعود نے اعتراف کیاہے کہ جن تین مشاہیرسے انہوں نے انٹرویواس بے خبری میں کیے جب ان کی خدمات اور امتیازی حیثیت سے قطعی ناواقف تھا، ان میں مولاناسعید احمداکبر آبادی شامل تھے، اس بے خبری کایہ نقصان ہواکہ جو باتیں بحث طلب تھیں، جوسوالات موضوع پر بہت گہرائی سے کیے جانے تھے، وہ نہ کرسکا۔ مولانا سعید نومبر انیس سو آٹھ میں اکبرآبادمیں پیداہوئے۔ بچپن ہی سے اپنی ذہانت، حافظہ اور صحت کے اعتبارسے عام بچوں سے مختلف تھے۔ شعر و ادب سے شغف کایہ حال تھاکہ آٹھ برس کی عمرمیں مشکل سے مشکل اشعار کے معنی بتادیتے تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں انہیں علامہ سید محمد انورشاہ کشمیریؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ او ر مولاناحبیب الرحمٰن عثمانی ؒ سے کسبِ علم کا موقع ملا۔ دہلی یونیورسٹی میں عربی، فارسی اور اردو تینوں شعبوں کے سربراہ رہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دینیات (سنی) کے صدراورفیکلٹی ّف تھیالوجی کے ڈین 1959ء سے 1972ء تک رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے ہمدردکے تحقیقی ادارے اور پھر دارالعلوم دیوبند کی ’’شیخ الہند اکادمی‘‘ کے ڈائریکٹر رہے۔ انہوں نے دینی، تاریخی، ادبی اور صحافتی موضوعات پر اٹھارہ کتابیں تصنیف کیں۔ مولاناکاانتقال 24مئی 1985ء کو کراچی میں ہوا، تدفین دارالعلوم کورنگی میں ہوئی۔ مولانا سعید احمد اکبرآبادی اس زمانے میں پاکستان تشریف لائے تھے جب صدرضیاالحق کی ہدایت پر ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذکی کوششیں ہورہی تھیں۔ انہوں نے کہا۔ ’’پاکستان میں اسلام کے نام کو استعمال زیادہ کیا گیا، یہاں برسر اقتدارآنے والی کتنی حکومتوں کوقرآن اوراسلام سے دلچسپی تھی؟ خود علمائے کرام نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کیں؟ علما خود بڑے بڑے چندے وصول کرتے ہیں اوراس معاملے میں حرام وحلال کی تمیزبھی نہیں کرتے۔ مذہب کے نام پرکوئی بھی انہیں بھاری رقم دے تو بصد شوق قبول کرلیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگریہاں اسلامی نظام کامیاب ہوگیا تو وہ سرمایہ دارانہ طرز کا ہوگا۔ حالا ں کہ سیرت طیبہ پر غورکیجئے تو معلوم ہوگاکہ حضورﷺ کی زندگی عوامی زندگی تھی۔ ایک اسلامی ریاست کاسربراہ ہونے کے باوجود نچلے اور غریب طبقے کی زندگی سے کبھی الگ نہیں ہوئے۔‘‘

ڈاکٹر اسرار احمد کا کہنا ہے۔ ’’حضرت مہدی کاظہوربھی قریب ہے۔ ‘‘ ڈاکٹرصاحب اپنے رب سے ملاقات کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی ان کے دروسِ قرآن ٹیلی ویژن کے مختلف چینلزسے پابندی سے پیش کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق ’’مسلمان ہونے کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور کھرا تعلق، دل میں اللہ ہی کا خوف ہرآن ہرساعت اسی کی رضا اورخوش نودی کے حصول کی کوششیں۔ ۔ یہی ہے اصل دین اوراسی کی فکر ہونا چاہیے۔‘‘ تاہم ڈاکٹرطاہر مسعود کاکہناہے کہ ’’زندہ مسائل کو مخاطب کرنے کے بجائے ڈاکٹر صاحب نے غیراہم اورنہایت ناقابل التفات مسائل پر تعلیم یافتہ طبقے کوبحث میں الجھا کر خدمتِ دین کا کون ساکارنامہ انجام دیا؟ یہ سمجھنے سے کم از کم میری ناقص عقل ہمیشہ قاصر رہی۔ افسوس کی بات تویہ ہے کہ خلافت کے احیاکی دعوت لے کراٹھنے والے ہمارے ڈاکٹر صاحب نے خود اپنی تنظیم اسلامی میں ملوکیت کا افسوس ناک نمونہ پیش کیا اور اپنی زندگی میں ہی اپنے صاحب زادے کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔‘‘

مولانا شاہ احمدنورانی کاکہناہے۔ ’’پاکستان کے حکمرانوں کے ہاتھوں میںقرآن ہے نہ تلوار!‘‘۔ پروفیسر خورشید احمدنے کہا۔ ’’عصرِ حاضر میں اسلام کوایک قابلِ عمل نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرناہوگا۔ ‘‘حاجی حنیف طیب کے انٹرویو کے آغاز میں فقرہ درج ہے’’ جمہوری نظام میں نااہل وزراء ہوشیار بیورو کریسی کے عملاً زیرِ اثرہوتے ہیں۔ ‘‘معروف دانشوراحمد جاوید نے کہا۔ ’’مسلمانوں کی عملی پس ماندگی کی وجہ علما نہیں، جدیدتعلیم یافتہ ہے۔ ‘‘جبکہ ڈاکٹر دلدار احمد قادری کا کہنا ہے۔ ’’جب سے مسلمانوں میں علوم مذہب اورسائنس کے خانوں میں تقسیم ہوئے ہیں مسلمان قرآن اور سائنس سے دُور ہوگئے ہیں۔‘‘ یہ چند ون لائنر ہیں، جن سے قاری ان مشاہیر کے خیالات کوسمجھ سکتا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے سماجی کارکن عبدالستارایدھی مرحوم بہت سادہ طیبعت انسان تھے۔ وہ اسی سادگی میں بعض ایسی باتیں کہہ جاتے تھے، جو دوسرے کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ ایدھی صاحب سے طاہرمسعود نے دوانٹرویوزکیے۔ پہلا 1978ء میں ریڈیوپاکستان کے لیے اور دوسرابائیس برس بعدنوائے وقت اخبارکے لیے۔ اس بارے طاہرمسعودلکھتے ہیں یہ واحد انٹرویو تھا جس میں رسمی تواضع ومہمان داری سے محروم رہا۔ انٹرویوکے بعد اس کاقلق بھی نہ رہا۔ تاہم جب میں نے ان سے پوچھا۔ ایدھی صاحب یہ کہاں کی انسان دوستی ہے کہ چائے تک کونہ پوچھا؟ توجواب ملا۔ ’’ اللہ نے مجھے دنیامیں بھوکے اور فاقہ زدوں کو کھلانے کے لیے بھیجاہے، پیٹ بھروں کونہیں!‘‘

سن دوہزارکے انٹرویو میں عبدالستار ایدھی نے حیران کن انکشاف کیا اور 1995ء میں لندن میں بیان کے بارے میں بتایا۔ ’’ہمارے پیچھے کوئی اورحکومت کر رہا ہے۔ وہ کسی کو بھی دوسال سے زیادہ ٹکنے نہیں دیتا۔ یہ بات میں نے نوازشریف اور شہبازشریف سے کہی اوربے نظیر سے بھی کہی، اب بھی کوئی آئے، چاہے عمران خان ہی آئے اس کابھی یہی انجام ہوگا۔ میرے بیان کاپس منظریہ تھاکہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرناتھا۔ عمران کوآناتھا۔ لوگ میرے پاس آئے تھے کہتے تھے کہ ایدھی صاحب آپ ہماری بات نہیں مانیں گے توآپ کی زندگی اور موت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ عمران خان آیا تھا، کچھ ریٹائر فوجی تھے وہ آئے تھے، وہ کہتے تھے کہ بے نظیرحکومت کوہٹاناہے۔ میں کہتاتھا کہ کیوں؟ ان کوہٹانے کے بجائے سدھار دو۔ وہ کہتے تھے کہ آپ اس میں ہماراساتھ دیں۔ میں نے کہامیں سیاسی بندہ نہیں ہوں۔ میں بیان دے دوں گا، جسے فون کرنے کے لیے کہوگے کردوں گا، جہاں کہتے ہوچلاجاؤں گالیکن سیاسی کام نہیں کروں گا۔ وہ مجھے لے جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہم آپ کو اتوار کو لینے آئیں گے۔ وہ مجھے کہیں بھی لے جاتے اور بیان دلا دیتے اور خود انقلاب لے آتے۔ میں سمجھ گیاتھاکہ ابھی جو بھی پلاننگ ہورہی ہے، وہ یہ ہے کہ فوج کو ہٹا کر عمران خان کو لے آئیں گے۔ اس سے پہلے میرا فاؤنڈیشن بندکردیں گے۔ مجھے گرفتار کرلیں گے اور مجھ پرہیروئن کی اسمگلنگ کاالزام لگے گا۔ جب تک ملٹری ہے ایسا نہیں ہوگا لیکن جب ملٹری کے خلاف یہ تحریک چلائیں گے۔ عوام میں بغاوت ہوگی پھریہ سب کچھ ہوگا۔‘‘

مولانا عبدالستار ایدھی انٹرویو چشم کشا ہے۔ سماجی کارکن انصاربرنی نے کہا۔ ’’برائیوں کی تشہیرکی وجہ سے برائی اب اچھی لگنے لگی ہے۔‘‘ ایئر مارشل (ر) محمود اخترکاجملہ ہے۔ ’’بھارت اپنی قوم کو بھوکا رکھ کرسُپر پاور بننا چاہتا ہے۔ ‘‘ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی گیارہ سال جامعہ کراچی کے وائس چانسلر رہے۔ انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے یونیورسٹی کو علمی اورتحقیقی اعتبارسے اس مقام پر پہنچا دیا تھا کہ اسے پاکستان کی کیمبرج یونیورسٹی کہا جانے لگاتھا۔ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کے تعلیمی مسائل کو ایک جملے میں بیان کردیا۔ ’’اساتذہ کو صرف اپنی تنخواہوں سے دل چسپی ہے۔‘‘ ماہر تعلیم اور دانشور ڈاکٹر منظور احمد کی جو خوبی انہیں دیگر اسکالروں سے منفرد بناتی ہے، وہ نئی بات کرنا، نیاخیال پیش کرنا، موضوع کوئی بھی ہو، وہ گھِسی پٹی، پیش پاافتادہ گفتگو نہیں کرتے۔ وہم مسلسل مطالعے اور غوروفکر سے اپنے خیالات کی صداقت کو بھی پرکھتے رہتے ہیں اوردلائل مل جائیں توان پرنظرثانی یا مسترد کرنے کی جرأت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی قوم کے طرزِ عمل کو ایک فقرے میں یوں بیان کیاہے۔ ’’ہم بڑی بت پرست قوم ہیں اپنے رہ نماؤں کابُت بتالیتے ہیں۔‘‘

پاکستان میں بابائے صحافت کاخطاب کسی شخصیت پرسجتاہے تووہ ادارہ جنگ کے بانی میرخلیل الرحمٰن ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ ’’مجھے یہ حق نہیں پہنچتاکہ اپنے کسی جذباتی عمل سے اپنے ادارے کے ہزاروں لوگوں کی نوکری داؤ پر لگا دوں۔‘‘

اردو کی جریدی صحافت کی ڈیڑھ پونے دوصدی کی تاریخ میں کتنے رسائل وجرائدایسے ہیں، جوادارہ بن سکے اورنصف صدی بعد بھی اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کوئی ایسارسالہ بھی ہے جورفتارزمانہ کاساتھ دینے کے باوجوداپنامزاج، اپنی پالیسی اوراپنی تعمیری صحافتی اقدارسے منحرف بھی نہ ہواہو۔ ایساایک ہی رسالہ ہے’’اردوڈائجسٹ‘‘ جس کے مدیر الطاف حسن قریشی کانام، ان کاقلم، ان کامخصوص اسلوب تحریر، ان کے انٹرویوز، سیاسی تجزیے اورفکرانگیزاداریے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے ان سب کوکچھ یوں ایک فقرے میں بیان کیا۔ ’’جب اندھیراتھا، کوئی روشنی اورشعلہ لپکتا نہ تھا، میں نے اپنے انٹرویوکے ذریعے روشنی کی چھوٹی چھوٹی قندیلیں جلائیں۔‘‘

فرہاد زیدی پاکستان کے نامورصحافی اوردانشورہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹوکے عدالتی قتل پرفرہادزیدی کی شاہکارنظم ’’نہ میں اُدھر تھانہ میں اِدھرتھا ‘‘ انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ زیدی صاحب کاکہناہے۔ ’’ سعادت حسن منٹوسے پہلی بار ملا تو بڑی مایوسی ہوئی کہ بس گوشت پوست کاآدمی ہے جوپنجابی بولتاہے۔ بیش ترصورتوں میں آدمی کاسحرٹوٹ جاتاہے۔ سب سے زیادہ جس آدمی نے متاثرکیا، وہ ذوالفقارعلی بھٹوکی شخصیت تھی۔ سیاست دانوں میں مفتی محمود اور پروفیسر غفور سے بھی متاثرہوا۔ مفتی محمود سے گفتگوکے بعد احساس ہواکہ وہ بہت ہی بے لاگ آدمی ہیں۔ ان میں سیاست دانوں والی کوئی کاٹ کپٹ نہیں ہے۔ بغیرکسی مصلحت کے صاف اورکھرے۔ مولانانورانی نے سب سے زیادہ مایوس کیا، ایک گفتگو کے دوران ان کے بیان پربات ہوئی توکہنے لگے کون سے اخبارمیں چھپاہے۔ اتفاق سے اخبارمیرے پاس تھا، دکھایا تو فرمانے لگے یہ توایک اخبارہے کم ازکم دواخباردکھائیں تومانوں گا۔ ‘‘

ضمیر نیازی نے تمام زندگی سچ بولااوراس کی پاداش میں مشکلات کاسامناکیا۔ انہوں نے جمہوریت، عوام کے حقوق، صحافت اوراہلِ قلم کو پابندِ سلاسل کرنے کی خوں چکاں داستان رقم کی اس بے بدل مورخ کی کتاب Press in Chains کراچی پریس کلب نے شائع کی تھی کہ تب کسی ناشر میں اسے چھاپنے کی جرأت نہ تھی۔ آج کے مدیر اجمل کمال نے اس کاترجمہ ’’صحافت پابندِ سلاسل‘‘ کے نام سے کیا۔ ان کی اردو میں تین کتابیں اور ہیں۔ ’’حکایاتِ خونچکاں‘‘، ’’انگلیاں فگار اپنی‘‘ اور ’’باغبائی صحرا‘‘ ضمیرنیازی جن کا اصل نام ابراہیم درویش تھا۔ نیازی صاحب کہتے ہیں۔ ’’ہم لوگ ایک کرپٹ معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں سیاست دانوں، فوجی جرنیلوں اورسول بیوروکریسی نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔‘‘

ڈاکٹرطاہرمسعودکی ’’یہ صورت گرکچھ خوابوں کے‘‘ کی جلددوم کے دیگرانٹرویوز بھی حیران کن انکشافات اوردلچسپ معلومات سے بھرپور اور انتہائی دلچسپ ہے۔ جسے پڑھ کرقومی تاریخ کے مختلف شعبوں کے کئی نئے پہلووں کا علم ہوتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20