مذہب، روحانیت اور علم کے عمودی مدارج —- جمیل اصغر جامی

0

ہر علم میں مختلف عمودی مدارج ہوتے ہیں۔ اس میں مذہبی اور غیر مذہبی علوم کی کوئی تخصیص نہیں۔ بلکہ ایسی کسی بھی تحصیص کو روا رکھنا، روحِ علم سے عدام واقفیت ہے۔ بلکہ ایک وسیع تناظر میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ علم مذہبی یا غیر مذہبی نہیں ہوتا یا زیادہ درست انداز میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تمام علم مذہبی ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ ساری کائنات ایک عظیم و مابعد الطبیعاتی وحدت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مشہور بات ہے کہ آئین سٹائن انتہائی سنجیدہ مزاح کے پیراے میں کہا کرتا تھا کہ صرف تین یا چار لوگ اُس کے نظریہ اضافت کو سمجھتے ہیں۔ یوں خواص اور عوام کی تخصیص ہر علم میں ہے۔ میرا تعلق علم لسانیات و ترجمہ سے ہے اور اپنے شعبے کی حد تک میں اس پر خاطر خواہ انداز میں بات کرسکتا ہوں۔ ایک عامی کے لیے زبان اظہار و ابلاغ کا ذریعہ ہے اور بس۔ اس سے زیادہ جاننے کا نہ تو وہ مکلف ہے نہ ہی اسے ضرورت۔ لیکن زبان کے سکالرز اور محققین کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔صرف زبان اور سوچ کے باہمی تعلق پر ایسی ادق بحثیں ہیں کہ الاماں الحفیظ۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہی حال مذہب اور روحانیت کا بھی ہے۔ بلکہ روحانیت کا معاملہ تو دیگر علوم سے کئی گنا بڑھ کر پچیدہ ہے چونکہ یہاں علم ایک مجرد تصورات کی بجاے ایک زندہ و جاوید اور تجرباتی حقیقت (living and experiential reality) کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میدان میں علم سیکھا نہیں بلکہ “جیا” جاتا ہے۔ دوسرے علوم کی طرح یہ علم انسان پر وارد نہیں ہوتا بلکہ بیتتا ہے۔

آخر میں اختصار کے ساتھ ان دوستوں کی خدمت میں کچھ عرض کرتا چلو ں جو یہ فیشن ایبل جملہ بولتے ہیں: “دین تو بہت آسان ہے، خود اللہ نے اس کو آسان کیا ہے”۔ یہ جملہ دراصل خلط مبحت اور ادھورے فہم کا نتیجہ ہے۔ دین کے آسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے اس کی متقاضیات پر کوئی ابہام نہیں۔ اس کے احکامات میں کوئی شبہ نہیں۔ وگرنہ دین نہ تو عمل کے باب میں نہ ہی علم کے باب میں کوئی آسان شے ہے۔ دین پر عمل ہی تو انسان کا ازلی و ابدی امتحان رہا ہے اور اگر یہ بات اتنی ہی سادہ ہوتی اور فطرت انسانی اس کو اتنی ہی آسانی سے اپنا لیتی تو اللہ کو اس دنیا میں لاکھوں انبیا بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر پوری تاریخ انسانی میں ہر سو پھیلی بد عملی اور بے عملی کا سوال ہی کیا؟ تحریکی اور نظریاتی پہلو سے تو دین سر تا سر ایک آزمائش کا نام ہے جس کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔

اور بقول نوابزادہ نصراللہ مرحوم:

پھر تیر ہے تلوار ہے نیزے کی انی ہے
پھر سینہ عشاق پہ ناوک سی تنی ہے

دم گھٹتا ہے وہ حبس کا عالم ہے عزیزو
پھردل پہ مرےگردکی چادرسی تنی ہے

کیااس کےسواہوگاعلاج شب ھجراں
ہرجرعہ مے ناب کاھیرے کی کنی ہے

کوئی نہیں محفل میں زباں دان محبت
اب اپنے وطن میں بھی غریب الوطنی ہے

اب یاد کسے خون شہیداں کا تقاضا
موضوع سخن آج تیری گل بدنی ھے

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاوں سے ٹلی ہے

دو حق وصداقت کی شہادت سرمقتل
اٹھو کہ یہی وقت کا فرمان جلی ہے

الغرض، روحانیت اور دین کے علوم میں کئی عمودی مدارج ہیں۔ کچھ لوگ ایک عام مسلمان کی سی زندگی گزارتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے کچھ لوگ زبان کو محض اظہار و ابلاغ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اس کی باریکیوں میں نہیں بڑتے۔ تاہم پھر اسی میدان میں ہمیں رومیؒ، تبریزؒ، منصورؒ، سرمدؒ جیسے کردار بھی ملتے ہیں۔ یہاں ہمین اقبالؒ جیسی بے چیں ارواح بھی ملتی ہیں جن کی راتیں اضطراب و ہیجان کی نذر ہو جاتی ہیں۔ یہاں ہمیں جنید بغدادی جیسے افسانوی نوعیت کے حقیقی کردار بھی ملتے ہیں کہ جن کا تن من کسی عشق سماوی میں کام آگیا۔ ہمیں حضرت رابعہ بصریؒ جیسی نفوس قدسیہ بھی ملتی ہیں جو زندگی کی چکی عبادت کی غذا کے ایندھن سے چلتی ہے۔ ہمیں ابوذر اور بلال جیسے سرخیل بھی ملتے ہیں جن کے ہاں عشق کسی فلسفے کا نہیں بلکہ جان وار دینے، سینے پر پتھر رکھنے، زندگی کی آسائشوں سے کنارہ کرنے کا نام ہے۔ یہ سب خواص کے مراتب ہیں اور انہی کے شایان شان ہیں۔

اب آئیے، دین و روحانیت میں علم کے موضوع کی طرف۔ یہاں بھی ہمیں تہہ در تہہ پچیدگی کے طویل سلسلے نظر آتے ہیں۔ ذہن انسانی میں مذہب، خدا، ذات و صفات کا باہمی تعلق، کائنات، تخلیق، تقدیر، وقت، زماں، مکاں، مادہ، الغرض ایسے ان گنت تصورات کے بارے میں ایسے ایسے سوالات نمودار ہوتے ہیں، جن تک ایک عامی کا ذہن کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ ان کے جوابات بھی سہل نہیں۔ بلکہ ان سوالات کے مربوط جوابات تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مربوط نظامِ فکر کی تشکیل کی جاے، جیسا کہ صوفیا کے ہاں اور فلاسفہ کے ہاں ہمیں ملتا ہے۔ لیکن یہ سب معاملات خواص کے ہیں اور بہتر ہے کہ ان کو انہی کا موضوع رہنے دیا جاے۔ ایسے معاملات اور موضوعات جب بھی چوکوں و چوراہوں کی زینت بنے، اس سے ہمیشہ منفی پہلو برآمد ہوے۔

یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ کچھ لوگ سادگی میں حکم لگاتے ہیں: “خواص کو ایسی موشگافیوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟”۔ اس کے دو جوابات ہیں۔ اول تو یہ کہ کتاب اللہ خود غور و فکر کی دعوت دیتی ہے اور اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتی۔ دوم، انسانی ذہن کو ایسے کسی بھی پیشگی واسطے کے ذریعے وقتاً خاموش کو کروایا جاسکتا ہے، لیکن اس کی سرشت میں پیوست جستجو کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور کوئی بھی نظریہ، تہذیب یا مذہب جب ایسی تحدید پر اتر آئے تو وہ اپنے ہاتھوں اپنے مستقبل کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اگر دنیا کی مجازی محبتیں انسان کو دیوانہ بنا دیں اور ایسا انسان عشق کے ایک معتبر مقام پر فائز ہو جاے

اور ہمیں حکمِ “سلیم”  ہو کہ

نامرادان ِ محبت کو حقارت سے نہ دیکھ
یہ بڑے لوگ ہیں جینے کا ہنر جانتے ہیں

تو کیا وجہ ہے کہ جو لوگ عشق حقیقی کے پر پیچ راستوں میں ہوش و حواس کھو بیٹھیں، ہم ان کی بابت حیرت و حقارت کا رویہ اپنا لیں۔ کیوں نہ اُن کی بات کو زبان حال سے سنا جاے کہ:

تُو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا

یوسفِ مصرِ تمنا تیرے جلوؤں کے نثار
میری بیداریوں کو خوابِ زلیخا نہ بنا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20