کیا ہر اپیل ٹو اتھارٹی Appeal_to_authority منطقی مغالطہ ہوتی ہے؟ — وحید مراد

1

ایک صاحب جن کے بارے میں انکے معتقدین نے مشہور کر رکھا ہے کہ وہ پاکستان کے نامور جدلیاتی فلسفی ہیں۔ اسی طرح انکے چند معتقدین، فلسفے کے موضوع پر انہیں ایک اتھارٹی سمجھتے ہوئے مخالفین کی پوسٹوں اور مضامین پر اس طرح کے تبصرے بھی کرتے رہتے ہیں کہ ‘اب تمہیں پتہ چلے گا کہ تمہارا کس فلسفی سے پالا پڑا ہے’۔ اور موصوف نےاس قسم کے تبصروں پر کبھی وضاحت نہیں کی کہ وہ فلسفے پر کوئی اتھارٹی نہیں ہیں بلکہ محض ایک طالب علم ہیں جیسا کہ انکے علم میں ہے کہ فلسفے پر اتھارٹی ہونے کیلئے وہ مطلوبہ شرائط کو پورا نہیں کرتے۔ اسی طرح ایک کرٹیکل تھنکر کیلئے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے دلائل کی جانچ پڑتال بھی بالکل ویسے ہی کرے جیسے وہ کسی مخالف کی دلیل کی جانچ پڑتا کرتا ہے لیکن موصوف ایک ایسا کرٹیکل تھنکر بننے کی کوشش کر رہے ہیں جواپنے ذہنی اور نفسیاتی دبائو میں جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔ مذہب کے خلاف پوسٹوں پر چند خوشامدیوں کی واہ واہ سے یہ سمجھ لیا ہے کہ مذہبی عقائد کوئی قصے کہانیاں ہیں کہ ان کے بارے میں جو دل میں آئے کہہ دو اور جہاں کسی کے چند جملے انکی مخالفت میں نظر آئیں انہیں سیاق و سباق سے کاٹ کر پوسٹ کردو۔ چند روز قبل موصوف نےکسی ویب سائٹ پر “اپیل ٹو اتھارٹی” پر کوئی تحریر پڑھی اور جھٹ سے اس میں سے ایک اقتباس کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پوسٹ کر دیا۔ وہ اقتباس درج ذیل ہے:

“دلیل کی بجائے جب کوئی شخص کسی ماہر انسان یا کتاب کا حوالہ پیش کرکے یہ سمجھے کہ اس نے دلیل پیش کر دی ہے تو یہ ایک منطقی مغالطہ ہوگا۔ اس منطقی مغالطے کی رو سے وہ شخص جو کسی بھی “مقدس کتاب” کو بطور ایک مستند حوالہ پیش کرے وہ بھی اس منطقی مغالطے کا ارتکاب کرتا ہے۔ بغور دیکھا جائے تو تمام مذاہب اپنی سرشت میں ایک منطقی مغالطہ ہیں”

اگلے روز اسی پوسٹ کی مزید وضاحت کیلئے ایک اور پوسٹ “اپیل ٹو اتھارٹی” کے عنوان سے لگائی اور اس میں ایک ویب سائٹ سے اپنے مطلب کے کچھ اقتباس بھی حوالے کے طور پر پیش کئے مگر علمی و فکری دیانت کو بالائے تاک رکھتے ہوئے اسی ویب سائٹ میں موجود Exceptions کے حصے کو دانستہ طور پر نظر انداز کر دیا اور اس پر کوئی بات نہیں کی کیونکہ وہ حصہ انکے مقدمے کی تردید کرتا تھا۔ آئیے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس ویب سائٹ کے جس حصے کو انہوں نے نظر انداز کیا وہ کیا ہے اسکے بعد دیکھیں گے کہ اپیل ٹو اتھارٹی کیا چیز ہے۔ اور موصوف نے اس سے مقدس کتب اور مذاہب کے بارے میں جو نتیجہ اخذ کیا ہے اسکی کیا حیثیت ہے۔ اور موصوف عقیدے اور استدلال کو جو دو بالکل متضاد چیزیں سجھتے ہیں اسکے بارے میں فلاسفہ کیا کہتے ہیں۔ انکی طرف سے نظر انداز کیا گیا اقتباس درج ذیل ہے:

آپ کو اس بات میں بہت محتاط ہونا چاہیے کہ ‘اپیل ٹو اتھارٹی’ کے مغالطے اور ‘کسی مسئلے میں اتھارٹی کو معطل اور موخر کرنے’ کے معاملے میں الجھ نہ جائیں۔ یاد رکھیں کہ ایک مغالطہ، استدلال کی ایک غلطی ہے لیکن صحیح ماہرین اور جائز اتھارٹی کا انکار اور استرداد، اچھی تحقیق اورتشکیک کو انکار میں بدل دیتا ہے۔ ہمیشہ اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کوئی اتھارٹی غلطی پر ہو اس لئے کریٹیکل تھنکر حقائق کو عارضی طور پر قبول کرتے ہیں اور قابل اعتبار اور مستند اتھارٹی کی مہیا کردہ معلومات کو سچائی کے طور پر عارضی طور پر قبول کرنے کو غیر معقول، مغالطہ یا استدلال میں غلطی ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔ یقینی طور پر کسی اتھارٹی کے دعوے کی معقولیت اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ اسکا کیا گیا دعویٰ کتنا غیر معمولی، کتنا اہم، کتنا معتبر اور موضوع زیر بحث سے کتنا مطابقت رکھتا ہے۔ اپیل ٹو اتھارٹی حقائق کے مقابلے میں ان دعووں کے بارے میں ہوتی ہے جنکے بارے میں شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کے ٹور گائیڈنے آپ کو بتایا ہے کہ وٹیکن سٹی کی بنیاد 11 فروری 1929 میں رکھی گئی ہے، اور آپ ان معلومات کو سچائی کے طور پر قبول کرتے ہیں تو، آپ غلطی کے مرتکب نہیں ہو رہے ہیں کیونکہ یہ بات بحث کے تناظر میں نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی آپ کو غیر معقول قرار دیا جا رہا ہے۔ Appeal to Authority: https://www.logicallyfallacious.com/logicalfallacies/Appeal-to-Authority

 اپیل ٹو اتھارٹی :

اپیل ٹو اتھارٹی، دلیل کی ایک ایسی شکل ہے جس میں کسی عنوان پر کسی اتھارٹی کی رائے کسی دلیل کی سپورٹ کیلئے بطور ثبوت استعمال ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کی طرف سے اسے مغالطہ کہا جاتا ہے کیونکہ انکے خیال میں دلائل شواہد پر مبنی ہونے چاہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب کسی موضوع زیر بحث کے تمام فریق دئے گئے سیاق و سباق میں کسی اتھارٹی کی ساکھ پر متفق ہو جائیں تو وہ اتھارٹی موثر اور معقول کہلائے گی۔ تاریخی طور پر اپیل ٹو اتھارٹی کے بارے میں منقسم آراء پائی جاتی ہیں۔ اسے ایک موثر اور معقول دلیل کے طور پر بھی اسی طرح مانا جاتا ہے جس طرح ایک کمزوردلیل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسی طرح اپیل ٹو فالس اتھارٹی کا مغالطہ اس وقت ہوتا ہے جب کو ئی شخص اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر کسی جھوٹی اتھارٹی کو استعمال کرے۔ یا کسی اتھارٹی کی طرف سے ایسے دلائل پیش کئے جائیں جو غلط ثابت ہو جائیں۔ یا کسی اتھارٹی کو غیر متعلقہ فیلڈ میں استعمال کرنا بھی اسی زمرے میں شامل ہوگا مثلاً آئن اسٹائن کی بنیادی مہارت فزکس میں تھی لیکن اگر اسے مذہب کے بارے میں ایک اتھارٹی کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ اپیل ٹو فالس اتھارٹی کہلائے گئی۔

Garrett Wise لکھتا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ دلیل کی صداقت کا تعلق دعویٰ کرنے والے شخص سے نہیں ہوتا بلکہ دلائل کو شواہد پر مبنی ہونا چاہیے تاہم ایسے اوقات بھی ہوتے ہیں جب اتھارٹی کا استعمال مغالطہ نہیں ہوتا مثلاٍ جب والدین جب اپنی اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے بچوں کو کسی خاص برتائو کیلئے راضی کرتے ہیں تو بچہ سوال کرتا ہے کہ ‘میں ایسا کیوں کروں؟’  تو والدین جواب دیتے ہیں کہ ‘کیونکہ میں نے ایسا کہا ہے’۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مواقع پر والدین کو بچوں کے سامنے منطقی طور پر ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ ساکٹ میں انگلیاں ڈالنا خطرناک ہے؟ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب کوئی شخص استدلال کی بنیاد کے طور پر کسی اتھارٹی کو استعمال کر رہا ہوتا ہے تو اس اتھارٹی کی ایمانداری ہی اسکے دعووں پر یقین کرنے کی صحیح وجہ مہیا کرسکتی ہے لیکن اسے مکمل طور پر تشکیل شدہ معقول دلیل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اتھارٹی کے دعوے کو ہماری توجہ مرکوز کرنے کیلئے بطور ذریعہ استعمال کیا جانا چاہیے کیونکہ ہم اپنی تحقیق خود کرتے ہیں لیکن اتھارٹی ہمیں متعلقہ اعداد و شمار کی طرف اشارہ کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

اپیل ٹو اتھارٹی کی منطقی شکل:

1۔ شخص A (کا اپنا دعویٰ ہو یا کوئی اسکے بارے میں یہ دعویٰ رکھتا ہو) کہ وہ مضمون B پر ایکسپرٹ اتھارٹی ہے
2۔ شخصA کا مضمون B کے بارے میں ایک دعویٰ C ہو۔
3۔ پس دعویٰ C ایک سچا دعویٰ ہے۔

مثال 1: ایک شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ “مجھے معلوم ہے اس کائنات میں خدا کا کوئی وجود نہیں کیونکہ اسٹیفن ہاکنگ نے بھی ایسا ہی کہا ہے” یہ ایک نااہل اتھارٹی سے اپیل ہے لہذا یہ استدلال کا مغالطہ کہلائے گی کیونکہ اسٹیفن ہاکنگ ایک ماہر طبیعات تھا جو خود بخود اس مسئلے پر اتھارٹی نہیں بن سکتا کہ خدا موجود ہے یا نہیں۔

مثال 2: ایک شخص کہتا ہے کہ “مجھے دن میں تین بار دوا لینے کی ضرورت ہے کیونکہ میرے ڈاکٹر نے ایسا تجویز کیا ہے”۔ یہ جائز اتھارٹی سے درست اپیل ہے اور یہ مغالطہ نہیں ہے کیونکہ اتھارٹی کے پاس دعویٰ سے متعلق مہارت ہے اور آپ اعتماد کے ساتھ اسکے نسخے اور ہدایت پر عمل کر سکتے ہیں۔

منطقی مغالطہ :

منطقی مغالطے کا ارتکاب اس وقت ہوتا ہے جب موضوع زیر بحث پر کوئی شخص جائز اتھارٹی نہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر فرد A موضوع B میں قابل اعتماد دعویٰ کرنے کا اہل نہ ہو تو یہ دلیل غلط ہوگی اور مغالطہ کہلائے گی۔ ایسے معاملات میں استدلال کو مغالطہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ دعویٰ کرنے والا شخص اپنے دعوے کا کوئی معقول جواز فراہم کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ وہ دعویٰ سچ بھی ہو سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چونکہ وہ دعویٰ کرنے والا شخص اس کیلئے کافی ثبوت فراہم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے اس دعویٰ کو ماننے کی کوئی عقلی وجہ فراہم نہیں ہوتی۔

جب کوئی شخص مغالطہ کا شکار ہوتا ہے تو گویا وہ کافی عقلی ثبوت کے بغیر اس دعویٰ کو تسلیم کر رہا ہوتا ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس غلطی/ غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ دعویٰ کرنے والا ایک جائز ماہر اتھارٹی ہے حالانکہ وہ جائز ماہر اتھارٹی نہیں ہوتا۔ چونکہ لوگوں میں ماہر اتھارٹیز پر یقین کرنےکا رجحان پایا جاتا ہے (اور حقیقت میں، جائز ماہر اتھارٹی کے دعووں کو قبول کرنے کی جائز وجوہات موجود ہیں) اس لئے اس قسم کی غلطی/مغالطہ کا ارتکاب ایک عام سی بات ہے۔

اپیل ٹو اتھارٹی کے اصول و شرائط:

چونکہ استدلال صرف اس وقت غلط/مغالطہ ہوتا ہےجب فرد کسی خاص سیاق و سباق میں ایک جائز اختیار نہیں رکھتا لہذا اسکی ضرورت ہے کہ اس کے جائزے کے کچھ قابل قبول معیارات فراہم کئے جائیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل معیارات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا ہے۔ یہ چھ اصول اور شرائط واضح کرتے ہیں کہ ایک معقول اپیل ٹو اتھارٹی اور غیر معقول اپیل ٹو اتھارٹی میں کیا فرق ہے۔

1۔ اتھارٹی کے سلسلے میں کسی ایسے شخص کے دعوے قابل قبول نہیں ہونگے جو مطلوبہ مہارت کی ڈگری سے محروم ہو اور اسے اس شخص کے مقابلے میں تائید حاصل نہیں ہوگی جس کے پاس مہارت کی ڈگری ہو۔ اگرچہ اس بات کا تعین کرنا کہ کسی فرد کو مطلوبہ ڈگری حاصل ہے یا نہیں اکثر مشکل ہوتا ہے۔ تعلیمی شعبوں مثلاً فلسفہ، انجنئیرنگ، تاریخ، طب وغیرہ میں فرد کی باضابطہ تعلیم، تعلیمی کارکردگی، ریسرچ پیپرز، شائع ہونے والی کتابیں، پیشہ ور اداروں کی رکنیت، ایوارڈ وغیرہ مہارت کے قابل اعتماد اشارے ہو سکتے ہیں۔ لیکن تعلیمی شعبوں سے باہر دیگر معیارات کا اطلاق ہوگا مثلاً ایک جوتے میں تسمہ باندھنے کے بارے میں ایک قابل اعتماد دعویٰ کرنے کیلئے صرف اس حد تک مہارت ہی درکار ہے کہ اسے صحیح طور پر تسمہ باندھنا آنا چاہیے۔ اسی طرح اور بھی کئی کام ہیں جن کی مہارت کیلئے ہمیشہ یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگوں کو یونیورسٹی میں باقاعدہ تعلیم حاصل کئے بغیر بھی اعلیٰ علمی موضوعات میں ڈگری حاصل ہوتی ہے۔ یعنی صرف یہ خیال کہ ڈگری یافتہ شخصیت ہی ماہر ہو سکتا ہے ایک درست خیال نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کو قدرتی طور پر، یا الہامی طور پر بھی کچھ صلاحیتیں قدرت کی طرف سے ایک خاص تحفے کے طور پر ودیعت کی جاتی ہیں۔

2۔ جس موضوع اور فیلڈ کے حوالے سے کسی شخص کی اتھارٹی کا دعویٰ کیا جا رہا ہواسے اس مضمون اور فیلڈ میں مہارت حاصل ہونی چاہیے۔ اس متعلقہ موضوع، مضمون یا فیلڈ سے ہٹ کر اسکی مہارت قابل اعتماد نہیں ہوگی۔ انسانی علم اور مہارت کے وسیع دائرہ کار کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص ہر چیز کا ماہر بن سکے لہذا ماہرین صرف مخصوص مضامین کے سلسلے میں ہی حقیقی ماہر تصور ہونگے۔ یہ بات ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہےکہ ایک شعبے کی مہارت خود بخود دوسرے شعبے کی عدم مہارت پر دلالت کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ماہر طبیعات ہونا ایک شخص کے بارے میں خود بخود یہ طے کر دیتا ہے کہ وہ ماہر اخلاقیات یا سیاسیات نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کا ماہر اداکار ہونا خود بخود یہ ثابت کر دیتا ہے کہ وہ کھیلوں کا ماہر نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے میڈیا کی اشتہار بازی میں اس اصول کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اورایک فیلڈ کے ماہر کو دوسری اشیاء کے اشتہاروں میں ہر چیز کا ماہر بتایا جاتا ہے۔

3۔ ویسے تو ہر مضمون کے اندر ماہرین میں کافی حد تک اتفاق رائے موجود ہوتا ہے لیکن اگر کسی مضمون کے اندر کسی موضوع پر ماہرین کے مابین کافی حد تک جائز تنازعہ موجود ہو تو اس صورت میں متنازعہ ماہرین کے حوالے سے اپیل ٹو اتھارٹی کا استعمال غلط (مغالطہ) ہوگا۔ کیونکہ جب ایک ماہر کے دعویٰ کے سامنے ایک جواب دعویٰ بھی موجود ہوگا تو ایسے معاملے میں اپیل ٹو اتھارٹی فضول ہوگی۔ ایسی صورتحال میں اپیل ٹو اتھارٹی کی بجائے متنازعہ امور پر باہمی غور و فکر سے تنازعہ کو دور کرنا پڑے گا۔ بہت سی فیلڈز ایسی ہیں جہاں جائز تنازعات موجود ہیں مثلاً جو لوگ معاشیات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ بہت سے ماہرین کی تھیوریز ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ جیسے ایک ماہر معاشیات مخلصانہ طور پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ خسارہ ایک کلیدی عنصر (key factor) ہے جبکہ اسی پائے کا دوسرا ماہر معاشیات اسکے برعکس بھی دعویٰ کر سکتا ہے۔ اسی طرح نفسیات کی فیلڈ میں بھی ماہرین کے تنازعات بہت عام ہیں جیسے اگر ایک ماہر نفسیات اپنی مختلف آزمائشوں کے ذریعے یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک شخص پاگل ہے اور مقدمے کا سامنا کرنے کا اہل نہیں لیکن کوئی دوسرا ماہر نفسیات حلف اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہہ سکتا ہے یہ شخص پاگل نہیں ہے اور مقدمے کا سامنا کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی صورتحال میں اپیل ٹو اتھارٹی پر انحصار مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور استدلال غلط ہوگا کیونکہ شواہد اس نتیجے کو قبول کرنے کی ضمانت نہیں دیں گے۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی فیلڈ میں ماہرین کے اندر مکمل اتفاق رائے تو نہیں ہوتا لہذا ایک حد تک تنازعہ قابل قبول ہوتا ہے لیکن یہ سوال کہ کس حد تک قابل قبول ہوتا ہے یہ بات تھوڑی بحث طلب ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ معاشیات، نفسیات یا دیگر شعبہ علوم جہاں عام طور پر تنازعات پائے جاتے ہیں وہاں بھی ہر معاملے میں تنازعات نہیں پائے جاتے وہاں پر بھی بہت سے معاملات میں کسی حد تک اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے اور جہاں جس حد تک اتفاق رائے پایا جاتا ہے اس حد تک اپیل ٹو اتھارٹی درست ہوگی۔

4۔ اگر کوئی ماہر نمایاں طور پر متعصب اور جانبدار ہو تو پھر وہ جو بھی دعویٰ کرتا ہے وہ اسکے تعصب کا آئینہ دار ہوتا ہے اور قابل اعتماد نہیں ہوتا لہذا متعصب ماہر اتھارٹی کی طرف سے دلیل مغالطہ تصور ہوگی کیونکہ ثبوت دعوے کو قبول کرنے کا جواز پیش نہیں کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس دعوے میں حقیقت ہو لیکن ماہر اتھارٹی کا متعصب ہونا اسکی دلیل کو کمزور کرتا ہے کیونکہ اسکے بارے میں جس قدر یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ اس نے اس دعوے کے وقت تعصب نہیں برتا ہوگا اسی قدر یہ بات بھی مانی جا سکتی ہے کہ اس کا یہ دعویٰ سراسر تعصب اور جانبداری پر مبنی ہوگا۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ بحثیت انسان کوئی شخص بھی مکمل طور پر معروضی نہیں ہو سکتا۔ ہر آدمی کسی نہ کسی حد تک اپنے دعوے کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتا ہے ورنہ وہ اس دعوے پر اپنی ملکیت ہی کیوں جتائے گا؟ اس لئے ایک حد تک تعصب قابل قبول ہوتا ہے لیکن خیال یہ رہے کہ یہ کھلا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ اب یہ سوال کہ کس حد تک تعصب قابل قبول ہے؟ اسکا انحصار ہر معاملے میں ذرا مختلف ہوتا ہے اور یہ کسی حد تک بحث طلب بھی ہے مثال کے طور پر اگر تمباکو نوشی کے اثرات کی تحقیقات، تمباکو کی کمپنیوں کی طرف سے کرائی جاتی ہے تو کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمباکو کی کمپنیوں نے محققین کو خرید لیا ہوگا لیکن کچھ لوگ یہ بھی یقین کر سکتے ہیں کہ انکی تحقیق غیر جانبدارانہ ہے اور انکا دعویٰ درست ہے۔

5۔ اگر کوئی شخص کسی فیلڈ میں ماہر ہونے کا دعویدار ہو لیکن اس فیلڈ میں اسکی مہارت کی کوئی قانونی حیثیت یا جواز نہ ہو تو اس فیلڈ میں اسکے کئے گئے دعوے قابل اعتماد نہیں ہونگے۔ مہارت کی قانونی حیثیت یا جواز کا تعین کرنا بعض اوقات کافی مشکل ہوتا ہے تاہم ایسے معاملات جو بالکل صاف اور واضح ہوں ان میں کوئی مشکل نہیں آتی مثال کے طور پر اگر کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کروموبلٹ تھراپی Chroma bullet therapy  کا ماہر ہے اور زور دے کر یہ کہے کہ فائرنگ پینٹڈ رائفل کی گولی سے کینسر کا علاج ممکن ہے تو اسکی مذکورہ مہارت کی بنیاد پر اسکے دعوے کو قبول کرنا بہت معقول بات نہیں ہوگی حالانکہ اسکی مہارت، قانوی اور جائز مہارت میں شامل ہے۔ عام خیال یہ ہےکہ ایک جائز ماہر ہونے کیلئے، کسی فرد کو کسی شعبہ علم یا عملی شعبہ میں حقیقی مہارت حاصل ہونی چاہیے۔ کسی مہارت کی قانونی حیثیت کا تعین بعض اوقات مشکل بھی ہوتا ہے جیسے یورپی تاریخ میں مختلف سائنسدانوں (خاص طور پرارتقاء کے ماہرین وغیرہ) کو اپنی مہارت ثابت کرنے کیلئے چرچ کے ساتھ طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ آج کل کے دور میں کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نفسیات میں تصدیق شدہ ماسٹرز ہیں اور وہ اس شعبے کے ماہر ہیں لیکن بہت سے لوگ انکے اس دعوے کو مضحکہ خیز تصور کرتے ہیں کیونکہ انکے خیال میں انکی مہارت میں کوئی حقیقی مواد شامل نہیں۔ اب اگر یہ دوسری بات درست ہو تو ان ماہرین کے دعوے کو ماننا اپیل ٹو اتھارٹی کا مغالطہ کہلائے گا۔

6۔ اپیل ٹو اتھارٹی اس وقت مغالطہ کہلاتی ہے جب کسی ماہر اتھارٹی کے نام پر کوئی دعویٰ کیا گیا ہو لیکن اس ماہر اتھارٹی کا نام واضح طور پر نہ بتایا گیا ہو یعنی کسی شخص کو اس وقت تک ماہر تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک اسکی مہارت کے ساتھ اسکا نام اور شناخت واضح نہ ہو اس لئے ایسا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کے استدلال کی نوعیت عام طور پر مندجہ ذیل نوعیت کی ہوتی ہے: بحث کرنے والا شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے کسی کتاب میں پڑھاہے۔۔۔۔ کچھ لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔ ماہرین کا کہنا ہے۔۔۔۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے۔۔۔ ٹی وی پر دیکھا ہے۔۔۔۔ اخبار میں آیا ہے وغیرہ۔ اگر کوئی شخص اس طرح کے دعوے کو ماہر اتھارٹی کا دعویٰ سمجھ کر قبول کرتا ہے تو وہ اسکی غلط فہمی اور مغالطہ کہلائے گا۔

مذکورہ اصولوں کے مطابق ہر اپیل ٹو ایکپرٹ اتھارٹی غلط نہیں ہوتی اور نہ ہی استلال کا مغالطہ ہوتی ہیں کیونکہ بہرحال لوگوں کو ماہرین پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص خود ہر چیز کا ماہر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی لوگوں کے پاس خود ہر دعوے کی تحقیقات کرنے کی قابلیت ہوتی ہے۔ بہت سے معاملات میں اپیل ٹو اتھارٹی ایک اچھی اور معقول دلیل ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی شخص کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور ڈاکٹر اسے کہتا ہے کہ اسے نزلہ ہے تو مریض کے پاس ڈاکٹر کے اس دعوے کو قبول کرنے کی معقول وجہ ہے۔ اسی طرح اگر آپ کا کمپیوٹر خراب ہے اور کوئی ماہر اسکی وجہ یہ بتاتا ہے کہ اسکی ہارڈ ڈرائیو کام نہیں کر رہی تو اس پر یقین کرنے کا آپ کے پاس معقول جواز ہے۔ اسی طرح بہت سی چیزیں ہم دوسروں کی مدد کے بغیر سمجھ ہی نہیں سکتے خاص طور پر تکنیکی اور ثقافتی میدان میں زیادہ تر تخلیقات دوسروں کی ہی ہوتی ہیں جن پر ہم انحصار کرتے ہیں۔ مثلاً سیلولر فون کےاستعمال کے وقت ہم سیل فون کے ڈیزائنر کی مہارت پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

Collins & Evans اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ “سائنسی علوم کے بھی بہت سے معاملات جن میں انوسٹیگیشن کے دوران شکو ک و شبہات کو بہت ضروری خیال کیا جاتا تھا، ان میں اب تنقیدی رویہ کو آہستہ آہستہ بے دخل کیا جارہا ہے اور اسکی جگہ “Normative theories of legitimate expertise” کو اپنایا جا رہا ہے اور ان نظریات کے مطابق ہمیں ان لوگوں کی بات زیادہ تسلیم کرنی چاہیے جو کسی چیز کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں”۔ جب تک ہمیں زندگی کے کسی اہم معاملے کے بارے میں مکمل تحقیق کے بعد اطمینان قلب حاصل نہ ہو جائے، ان کے بارے میں کامیابی کے روشن امکانات صرف اس صورت میں ہی زیادہ ہو تے ہیں جب ہم ان کے بارے میں ماہرین کی رائے پر توجہ دیں۔ ماہرین کے بیانات کو مدنظر رکھنا نہ صرف مفید ہے بلکہ ایک دانشمندانہ عمل ہے اور انکو نظر انداز کرنا ایک بیوقوفانہ اور احمقانہ عمل ہے۔ اگر ہم اپنی جسمانی صحت کے حوالے سے ماہر ڈاکٹر کی ہدایت کو نظر انداز کرکے اپنی من مانی کریں گے تو لازمی طور پر ہماری صحت کے بگڑنے کے امکانات زیادہ ہی ہونگےاور دوسرے لوگ جب ہمارے اس رویے کا مشاہدہ کریں گے تو یقینی طور پر وہ ہمارا تمسخر اڑائیں گے، ہمیں احمق سمجھیں گے اور دیگر معاملات زندگی میں بھی ہمیں احمق سمجھتے ہوئے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔ یعنی ماہرین کی رائے پر عمل کرنا صرف جائزاور درست ہی نہیں بلکہ ہم ایسا کرنے پر مجبور بھی ہیں۔ اس حوالے سے چارلس گڈون Charles Goodwin اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ “ایکسپرٹس اسٹیٹمنٹس کی حیثیت ہمارے لئے لازمی، ضروری اور جبری ہوتی ہے اور ہم ایک طرح سے اسکے پابند ہوتے ہیں۔ اور یہ بات Appeal to authority کا جواز فراہم کرتی ہے”۔

مذہبی اتھارٹی :

انسائیکلوپیڈیا ڈاٹ کام کے مطابق مذہبی اتھارٹی کی چار بڑی اقسام ہیں جو دنیا بھر کے مذاہب میں کسی نہ کسی انداز سے تسلیم کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر مذہبی معاملات میں روایت کو ہی مستند اتھارٹی سمجھا جاتا ہے اور خاص طور پر جب موجودہ اتھارٹیز کو چیلنج کیا جا رہا ہو تو ماضی کی حقیقی روایت کو زیادہ مستند اتھارٹی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم صرف چند مذاہب میں روایت کو بڑی اتھارٹی سمجھا جاتا ہے جیسے ہندو ازم اور بدھ ازم۔

اتھارٹی کا دوسرا ماخذ فطرت کی دنیا ہے۔ اسے انسانی طرز عمل کے نمونے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فطری اتھارٹی کو عام استعمال کیا جاتا ہے لیکن صرف چند مذاہب ہی اسے اہم مذہبی اتھارٹی سمجھتے ہیں جیسے تائو ازم، شنٹو ازم۔

روایت اور فطرت کی اتھارٹی کے خلاف جس چیز کو اتھارٹی سمجھا جاتا ہے وہ زبانی اور تحریری نصوص ہیں جو الہام اور وحی پر مشتمل ہوتے ہیں اور جن پیغمبران کرام پر یہ وحی نازل ہوتی ہے انکی ذات مذاہب میں سب سے اعلیٰ اتھارٹی ہوتی ہے۔ بہت سے مذاہب کے مطابق مقدس متن ہمیشہ کسی بھی قاری کے مقابلے میں زیادہ مستند مانا جاتا ہے یعنی قارئین کو چاہیے کہ متن کی اتھارٹی کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ تاہم متن خود کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو لوگوں سے اپنے آپ کو منوائے بلکہ متن کی تعبیر و تشریح اور تفسیر کرنے والے لوگ ہی اس کے احکامات کو مختلف صورتحال پر منطبق کرتے ہیں اس لئے اعلیٰ اتھارٹی خواہ متن ہی ہو لیکن متن کی ترجمانی کرنے والے لوگوں کو بھی بالواسطہ طور پر ایک اتھارٹی حاصل ہو جاتی ہے۔ کچھ مذاہب میں متن کی تشریح کرنے والوں کو متن سے بھی زیادہ اتھارٹی حاصل ہو جاتی ہے اس لئے مذاہب کے حوالے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ عملی طور پران میں مذہبی علماء، جو متن کی تعبیر و تشریح کرتے ہیں، کو بہت اہم ایکسپرٹ اتھارٹی سمجھا جاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ سب مذاہب اس بات کا کھلے عام اعلان نہیں کرتے۔

ادیان ابراہیمی (یہودیت، عیسائیت اورا سلام) کی بنیاد وحی الہی کے ذریعے ملنے والے اس متن پر ہے جو مقدس کتابوں میں محفوظ ہے اور ان تینوں مذاہب کے مطابق انسانی زندگی کی بنیاد اس متن پر ہونی چاہیے جوانسانوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا حکم اور خواہش ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکا تعین کیسے ہو؟ اسی سوال کے جواب کے تعین کیلئے ان مذاہب میں بنیادی اتھارٹی پیغمبران کرام کی ہے اور ہر دور کی مناسبت سے اس سوال کے جواب کے تعین کیلئے علماء کی شکل میں ایکسپرٹ اتھارٹیز موجود ہوتی ہیں جن کو ان پیغمبران کا علمی و روحانی وارث سمجھا جاتا ہے۔

مذاہب میں جو جن لوگوں کو اتھارٹی سمجھا جاتا ہے انکی مختلف اقسام ہیں اور انہیں مختلف اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ عام طور پر وہ مذہبی علماء جو باقاعدہ مذہبی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اسناد حاصل کرتے ہیں وہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ ایکسپرٹ اتھارٹی حاصل ہے۔ کچھ معاملات میں کچھ شخصیات کو موروثی طور پر یا ایک روائیت کے طور پر یہ اتھارٹی حاصل ہوتی ہے۔ کچھ شخصیات کو روحانی طور پر یہ اتھارٹی حاصل ہوتی ہے جیسے پیر صاحب، گرو، جو تشی وغیرہ۔

جس طرح سائنس، فلسفہ، طب اور نفسیات وغیرہ کی فیلڈز میں ایکسپرٹ اتھارٹیز کے درمیان تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں اسی طرح مذاہب میں بھی ایکسپرٹ اتھارٹیز کے درمیان مختلف امور پر تنازعات سامنے آتے ہیں جیسے یہودی اور عیسائی مذہب اتھارٹی کے معاملے میں کئی فرقوں میں تقسیم ہو گیا یا مسلمانوں میں بھی کئی مکاتب فکر موجود ہیں اسی طرح دیگر مذاہب میں اس طرح کی تقسیم موجود ہے۔

جدیدفکر اور اسکےزیر اثر تمدنی ترقی کے ساتھ انسانی جسم، ذہن، اور نفسیات آسانیوں، رخصتوں اورآسائشوں کی خوگر ہو گئی ہے اور اب تمام مذاہب کے ماننے والوں میں بھی ایک بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی پائی جاتی ہے جو مذاہب کے بنیادی اصولوں کو جدید طرز زندگی کے راستے میں موانع تصور کرتے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں بہت سے مذہبی اسکالرز نے مذہبی متون کو جدید فکر کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے طریقے تلاش کرنے شروع کر دئے ہیں۔ اور متن کے بہت سی لفظی سچائیوں Literal Truth کو استعاراتی شکل میں پیش کرکے، وحی الہی کے تناظر کو معاشرتی تناظر میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں کچھ ایسے لوگ بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے روائیتی مذہبی فکر کے ہر پہلو کو جدید سائنس، فلسفے اور تاریخ کے تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے مذاہب کے اندر ماڈرنسٹوں اور روائیت پسندوں میں ایک واضح تفریق اور تصادم نظر آتا ہے جس سے روائیتی مذہبی اتھارٹیز کو چیلنج درپیش ہے۔ لیکن اسکے باوجود مذہبی روایات میں اتھارٹی کے حوالے سے کچھ عمومی باتیں اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہیں اور یہ اب بھی پہلے کی طرح درست ہیں۔ (انسائیکلوپیڈیا ڈاٹ کام)

مذہب میں عقیدے اور استدلال کاتعلق :

انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے مطابق روائیتی طور پر عقیدے اور استدلال (Reason) دونوں کو مذہبی ایمان کے جواز کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ یہ دونوں علمی تعاملات (epistemic function) کی ایک ہی طرح کی خدمت سرانجام دیتے ہیں اس لئے ان دونوں کا باہمی تعلق، ان سے اخذ کردہ دلائل اور دعوے، فلسفیوں اور مذہبی ماہرین کے لئے یکساں طور پر دلچسپی کا باعث ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق ان دونوں کے مابین کوئی تنازعہ نہیں ہے یعنی اگر منطق و استدلال کا صحیح استعمال کیا جائے یا عقیدے کو درست انداز سے سمجھا جائے تو ان سے متضاد دعوے جنم نہیں لیتے۔ لیکن کچھ ماہرین کے مطابق کچھ خاص معاملات میں ان دونوں میں تضاد ہو سکتا ہے اورانکے نزدیک یہ بات بحث طلب ہے کہ جب دونوں میں تضاد اور تنازعہ ہو تو ان میں سے کس کو زیادہ اہمیت اور ترجیح دینی چاہیے؟ مثلاً کرکیگارڈ نے عقیدے اور ایمان کو اس حد تک بھی ترجیح دی ہے کہ جب ایمان مثبت طور پر غیر معقول (positively irrational) ہو جاتا ہے۔ جبکہ لاک ایمان کو صرف اس حد تک قابل ترجیح سمجھتا ہے جہاں تک مذہبی عقیدہ غیر معقول نہ ہو۔ کچھ دوسرے ماہرین نے یہ نظریہ بھی پیش کیا ہےکہ عقیدہ اور استدلال ہر ایک اپنے اپنے الگ ڈومین پر حکومت کرتا ہے اور جب تنازعات مذہبی ڈومین میں ہوتے ہیں تو انہیں عقیدے کی رو سے حل کیا جانا چاہیے اور جب تنازعات کی نوعیت تجربی اور منطقی ہو تو انہیں استلال کی ڈومین میں حل کیا جانا چاہیے۔ یہ صرف حالیہ فلاسفرز مثلاً logical positivists ہیں جو انسانی وجود کیلئے عقیدے کی ڈومین کا انکار کرتے ہیں اور اسکی بجائے تمام قضایا کے درست ثابت ہونے کیلئے صرف عقلی کسوٹی (rational examination) پر پورا اترنا ضروری خیال کرتے ہیں۔

ایمان اور استدلال دونوں اتھارٹی کے ذرائع ہیں جن پر اعتقادات کا انحصار ہوتا ہے۔ استدلال کو عام طور پر تفتیشی طریقہ کار (methodological inquiry) کے طور پر جانا جاتا ہے خواہ یہ تفتیش دانشوارانہ ہو، اخلاقی ہو، جمالیاتی ہو یا مذہبی نوعیت کی ہو۔ ایمان اور عقیدہ محض منطقی تشریح کے قواعد یا کسی روایت یا اتھارٹی کی مجسم حکمت کا نام نہیں ہے۔ استدلال میں منطقی قضایا کی ایک خاص ترتیب اور مظاہرے کے بعدجب انہیں درست مان لیا جاتا ہے تو ان پر قائم دعویٰ مستند دعویٰ کہلاتا ہے۔ لیکن عقیدے میں کچھ دعووں سے متعلق ایک موقف (stance) شامل ہوتا ہے جسکا مظاہرہ (demonstration) منطقی قضایا کی ترتیب کی طرح نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک طرح کی رضامندی، اعتماد اور ایمان کا رویہ ہوتا ہے اور یہ ایمان والے شخص کی طرف سے ایک طرح کا عہدنامہ، اقرار (act of will) ہوتا ہےجس پر وہ عمل پیرا ہونے کا وعدہ کرتا ہے۔

مذہبی عقیدے کا ایک ماخذ ہوتا ہے جسکی اساس وحی کی اتھارٹی پر قائم ہوتی ہے۔ مذہبی عقیدہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک شواہد کے حوالے سے حساس (evidence sensitive) اور دوسرا شواہد کے حوالے سے غیر حساس (evidence insensitive)۔ اول الذکر قابل اعتماد سچائیوں کے ساتھ مل کر مربوط کیا گیا ہوتا ہے اور اس میں دوسرے مومنین کی گواہی اور کام سے حاصل کردہ ثبوت بھی شامل ہوتے ہیں۔ موخر الذکرصرف مذہب کے ماننے والے(مومن) کی مرضی کے مطابقل عمل کے طور پر ہوتا ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ کسی مذہبی عقیدے کو صرف اور صرف ایمان کی بنیاد پر یا صرف اور صرف استدلال کی بنیاد پر استوار رکھا جائے۔ عقیدے کی اساس وحی سے دئے گئے جس متن پر ہوتی ہے یا جن زبانی یا تحریری روایات پر ہوتی ہےانکے پیچھے الوہی طاقت کارفرما ہوتی ہے اس لئے انہیں مقدس فرامین کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔ یہ تحریریں یا زبانی روایات عام طور پر ایک بیانیہ، تمثیل یا ڈسکورس کی شکل میں پیش کی جاتی ہیں اس طرح وہ ایک حد تک عقلی تنقید یا جانچ سے محفوظ ہو جاتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ مذہبی عقائد کی عقلی توثیق(verify rationally) ایک قسم کی غلطی (categorical mistake) تصور ہوتی ہے لیکن اسکے باوجود زیادہ تر مذہبی روایات اپنے عقائد کے کسی نہ کسی طرح کے عقلی امتحان کی اجازت دیتی ہیں اور اسکی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔ (انٹرنیٹ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی)

فلسفہ مذہب میں دلیل اور ایمان کے مابین باہمی میل جول ایک اہم اور تفصیلی موضوع ہے۔ اسکا فلسفہ مذہب کے کئی امور مثلاً خدا کا وجود، خدائی صفات، خیر و شر کا مسئلہ، مذہب و اخلاقیات، مذہب اور سماج، مذہبی تجربہ وغیرہ میں بہت قریب کا تعلق ہے اور مزید یہ کہ عقیدہ اور دلیل کے مابین باہمی میل جول کا تجزیہ دوسرے شعبوں جیسے مابعد الطبیعات، آنٹالوجی Ontology اور اصول علم Epistemology  میں بھی فلسفیانہ دلائل کے وسائل مہیا کرتا ہے۔ چند صفحات کے اس مضمون میں اس تفصیلی موضوع کا احاطہ ممکن نہیں اس لئے کسی اور مضمون میں اسکی دیگر تفصیلات بیان کی جائیں گی۔ انشاء اللہ۔

 

References:

  1. Jean Goodwin, Accounting for the force of the Appeal to Authority, Iowa State University,

https://scholar.uwindsor.ca/cgi/viewcontent.cgi?referer=https://en.wikipedia.org/&httpsredir=1&article=1009&context=ossaarchive

  1. Milgram, S (1965). “Some conditions of obedience and disobedience to authority”.
  2. Fran, H. & Van, Eemaren (2010). “Strategic Maneuvering in Argumentative Discourse”, John Benjamins Publishing
  3. Austin, Cline (2017). “Fallacies of Relevance: Appeal to Authority”

https://www.thoughtco.com/logical-fallacies-appeal-to-authority-250336

  1. The Nizkor Project, Fallacy: Appeal to Authority

http://www.nizkor.com/features/fallacies/appeal-to-authority.html

  1. Encyclopedia.com, Authority in Religious Traditions

https://www.encyclopedia.com/science/encyclopedias-almanacs-transcripts-and-maps/authority-religious-traditions

  1. Garrett, Wise (2019) “Argument from Authority”

https://www.intelligentspeculation.com/blog/argument-from-authority

  1. Collins and Evens (2007), “Rethinking Expertise”

file:///C:/Users/Waaheed-Murad/Downloads/Rethinking_Expertise.pdf

9. Internet Encyclopedia of Philosophy, Faith and Reason. https://iep.utm.edu/faith-re/

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20