چلیں ! اپنے اپنے اسکول چلتے ہیں — اظہر عزمی

0

دنیا میں اگر گھر کے بعد کوئی خوبصورت ترین جگہ ہے تو وہ اسکول ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسکول کے دنوں میں وقت کی پابندی پر خود کو قیدی تصور کرتے۔ پرنسپل سپرٹینڈینٹ جیل، ٹیچرز جیل اسٹاف، پیون وغیرہ مخبر لیکن اصل چڑ گیٹ پر بیٹھے چوکیدار سے تھی۔ اگر کبھی چوکیدار سے نظر بچا کر ریسس (اب بریک ٹائم) میں دیو ھیکل گیٹ کے دائیں بائیں والی جھری سے باہر جھانکتے تو وہ گردن اس بری طرح پکڑتا کہ جیسے چیل اپنا شکار کرتی ہے۔ اصل کوفت اس وقت ہوتی کہ جب چھٹی ہو جاتی اور وہ گیٹ کھولنے کے لئے کسی غیبی اشارے کا انتظار کرتا۔ آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ یہ اشارہ کیسے وصول کیا کرتا تھا۔ اللہ جانے اس کے سر پر کون سا اینٹینا لگا تھا جو ہمیں کبھی نظر نہ آیا۔ گیٹ کھولتا تو سب قیدیوں کی طرح نکل کر بھاگتے مگر ہم کو تو لالہ کے ساتھ جانا ہوتا۔ وہ پہلے ریوڑ کی طرح بچے جمع کرتا۔ چھٹی کی خوشی میں ہم روڈ کراس کرتے ہوئے اٹھکیلیاں کرتے تو سر یا پیٹھ پر ہاتھ جڑنے میں ذرا دیر نہ کرتا۔ یوں سمجھ لیں صبح کا آغاز ڈانٹ ہر اور واپسی کا سفر ہاتھ جڑنے پر ختم ہوتا۔ ظالم کبھی کبھی ہاتھ میں کوئی چھڑی بھی لے لیا کرتا تھا۔

اسکول میں آپ کچھ کرلیں، مخبروں کا حال بچھا ہوتا تھا اطلاع پہنچ ہی جاتی تھی۔ طلبی ہوتی اور یاتھ کے ساتھ ساتھ جسم میں جو نرم جگہ ہوتی اسے سزا بھگتنی پڑتی۔

اب دیکھیں! یہی مسئلہ ہوتا ہے ناسٹیلجیا لکھنے میں، سوچا تھا پہلے صبح بستر سے اٹھنے کا ظلم لکھوں گا اور سیدھا اسکول پہنچ گیا۔

ہائے ہائے وہ صبح اسکول کے لئے بستر سے اٹھایا جانا اور اگر سردیاں ہوں تو والدہ کا وہ لحاف کھینچنا۔ دل چاھتا تھا کہ گھڑی کی سوئیاں ایک گھنٹہ نہ سہی پانچ دس منٹ کے لیے رک جائیں مگر ایسا کہاں ممکن تھا۔ یہ گھڑی تو اس وقت امی سے ہی مل جایا کرتی تھی۔ چلتی نہیں تھی، دوڑتی تھی۔ چاروناچار آدھ کھلی آنکھوں کے ساتھ غسل خانے جانا (ہمارے زمانے میں منہ دھونے اور برش کرنے کے لئے بیسن کا نام سنا تھا نہ شکل دیکھی تھی۔ ہم کو تو بیسن کی روٹی اور پکوڑوں کا پتہ تھا)۔ منہ پر پانی کا پہلا چھپکا مارنا وہ بھی لوٹے سے جس کا آدھا پانی ہم اپنے کپڑوں پر ہی گرا لیا کرتے تھے۔ پانی کا چھپکا مارنے پر آنکھوں کا اظہار ناراضگی کرنا اور آنکھوں کا آنکھیں دکھانا۔ ہم کہتے کھل جاو تو وہ کہتیں جب تم ہی نہ چاھو تو ہم کیا پپوٹوں سے باہر نکل آئیں۔ آنکھوں کے نخرے کیا کم تھے کہ اوپر سے منہ ہزار منہ بناتا۔ ڈینٹونک یا یونانی لقمانی منجن کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ کچھ لمحے تو ہم بھی خاموش کھڑے رہتے اور جھوم جھوم کر نیند کے مزے لیتے۔ وہ تو امی کی آواز آتی:

کیا آج منہ ہی دھوتے رہوگے۔ کہیں جانے کا کہو تو حرام ہے جو بغیر کہے منہ دھو لو۔

امی کی ٹرنک کال پر منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا اور ہم موقع غنیمت جانا کر ڈینٹونک یا لقمانی منجن بھری انگلی منہ میں جا گھساتے بالکل ایسے جیسے ہمارے ہاں پولیس چھاپہ مارنے کے لئے داخل ہوتی ہے۔ انگلی اندر گھستے ہی دانتوں کو چیں چیں کے ساتھ صاف کرنا شروع کر دیتی۔ اس کے بعد ہمارا منہ ہوتا اور لائف بوائے سے چہرے کی رگڑائی۔ لگتا آج منہ نہیں یا ہم نہیں۔ جھومتے جھامتے کمرے میں آتے۔ ہم اپنا روز دھلنے والا لباس (یونیفارم) پہنتے اور اوپر سے لاسٹک والی نیلی ٹائی گلے میں ڈال لیتے۔ ایسے میں کالر کے پچھلا حصہ اوپر کی جانب ہی رہ جاتا جسے جاتے وقت امی ہی ٹھیک کرتیں۔ اب جناب باری آتی اسکول کے بلیک شوز پہننے کی۔ کس کس پیر میں کون سا جوتا پہننا ہے روز کا مسئلہ تھا جو آج بھی برقرار ہے۔ بال وبال لگتے۔

امی ایک ایک لمحے کا حساب رکھتیں : اب تشریف لے آئیں یا میں آوں۔

ہم ناک کی سیدھ میں باورچی خانے میں جا کر پٹرے پر بیٹھ جاتے۔ امئ گرم گرم پراٹھا اسی وقت دو ٹکڑے کردیتیں تاکہ اسکول کے لالہ کے آنے سے پہلے ہم دروازے کے باہر کھڑے ہو جائیں۔ گیس کے چولھے کہاں ہوتے تھے۔ اس زمانے میں گیس صرف پیٹ میں ہوا کرتی تھی چولھوں میں نہیں۔ گول بتی والا چولھا ہوتا جس میں گولائی میں دھاگوں کی پنگیاں اوپر لائی جاتیں جن کا ایک سرا نیچے مٹی کے تیل میں تر بتر ہوتا اور دوسرا سرا اوپر کی جانب جس کو ماچس سے جلا کر کھانا پکایا جاتا، چائے، پراٹھے بنتے۔ یہ پنگیاں ختم ہونے پر ان کو سوئے کی مدد سے دوبارہ داخل چولھا کیا جاتا۔ اس چولھے کو Stove کہا جاتا لیکن عورتیں Stove کے آس پاس جو لفظ سمجھ میں آتا کہہ دیتیں۔ ہاں تو بات ہورہی تھی پراٹھے کی۔ پراٹھا بہت گرم ہوتا، ہاتھ میں نہ آتا۔ نوالہ بنانے اور منہ تک لے جانے میں پھونکیں مارتے۔ اگر امی کے ٹائم فریم سے ذرا سا پیچھے ہوتے تو ارشاد گرامی ہوتا :

ارے مارے باندھے کا اسکول ہے۔ تم بس اس جماعت میں پاس ہو جاو۔ ختم یہ ساری پڑھائی۔ کسی مکینک کی دکان پر بٹھا دیں گے۔ چار پیسے تو کما کر گھر لاو گے۔

مزے کی بات یہ ہے اسکول کی ٹائمنگ سے ہم اتنے تنگ تھے کہ ہم اس پر راضی تھے۔ ایک دن جب والدہ صبح صبح یہ خوراک دے رہی تھیں تو ہم نے صاف کہہ دیا:

ارے چھوڑیں، جب مکینک کی دکان پر بیٹھنا ہی ہے تو امتحان کا انتظار کیوں کر رہی ہیں؟

والدہ کہتیں: ہاں تم سے یہی امید ہے۔ اماں باوا کا نام ایسے ہی اونچا کرنا۔ باپ محنت کر کے ہلکان ہوا جا رہا ہے اور بیٹے صاحب کہتے ہیں کہ مکینک کی دکان پر بٹھا دیں۔ ابھی ایک دوں گی ناں منہ پر تو عقل ٹھکانے آجائے گی۔

جب ہمارے پٹنے کی پیشگی اطلاع دادی کو ملتی تو لحاف سے منہ نکال کر کہتیں : کیوں بھیا۔ یہ کون سی پڑھائی پر بھیج رہی لڑکے کو کہ صبح صبح پٹائی کی باتیں شروع کر دیں۔ ایک دن اسکول نہیں گیا تو کیا کلکٹری چھن جائے گی؟ اسکول نہ ہوا جی کا جنجال ہو گیا۔ ہاں نہیں تو!

امی ہلکے سے پاپا کو نشانے پر لیتے ہوئے کہتیں: ہاں وہ ایک کلکٹر سو تو رہے ہیں۔ ان کو اٹھانا بھی کیا عذاب سے کم ہے۔ جیسا باپ ویسا بیٹا۔ پوتا بھی ددھیال پر گیا ہے پورا کا پورا۔ ہمارے بھائی تو ایک آواز پر اٹھتے تھے۔ امی کو احساس ہوتا کہ ہم نے کچھ سن لیا ہے تو ایک دم غصے سے کہتیں: اب آٹھ بھی جاو کیا ہفتے بھر کا ناشتہ آج ہی کر لو گے۔ ہم بھی کم نہیں تھے۔ فورا کہتے : ایک ہی پراٹھا تو دیا ہے۔ امی کہتیں : نہیں تو کیا بوری آٹے کی پکا دوں۔

لیجئے صاحب، ہم ناشتہ کر ہی رہے ہوتے کہ لالہ کی آواز آجاتی۔ لو بھائی امی کو تو جیسے بجلی دوڑ جاتی ہے۔ نوالہ آدھا منہ میں اور آدھا ہاتھ میں ہوتا اور وہ اٹھا دیتیں۔ اٹھا کیا دیتیں ہاتھ سے پکڑ کمرے میں لاتیں، بستہ ہاتھ میں تھماتیں، کالر صحیح کرتیں اور لالہ سپرد کر دیتیں۔ لالہ بھی کم نہ تھا۔ ایک منٹ کئ دیر بھی برداشت نہ کرتا:

بی بی جی۔ یہ روز دیر سے نکلتا ہے۔ ابھی پانچ بچے اور لینا ہے اور دیکھو سوا سات یہیں ہو گیا۔ ساڑھے سات کا اسکول ہے۔

امی آگے سے کہتیں : لالہ آج لے جاو۔ کل سے دروازے پر نہ ملے تو بھلے سے چھوڑ جانا پھر ان کے باوا خود ہی اسکول چھوڑ آئیں گے۔

ایسا ہفتہ میں دو تین بار ہوتا مگر کچھ نہ ہوتا۔ اسکول پہنچنے سے پہلے راستے میں حلوائی کی دکان بھی آتی۔ بس حسرت سے گھی میں تلی پوریاں، پیلا والا سوجی کا حلوہ اور آلو کی بجھیا دیکھ کر دل چاھتا کہ یہیں بیٹھ جاو۔ بقول عابد حشرئ کے شعر میں ترمیم کے ساتھ:

یہی ایک میری حسرت کبھی ہو سکی نہ پوری
کوئی مجھے پوری دیتا، کوئی مجھے حلوہ کھلاتا

لالہ 20 سے 25 بچوں کو ریوڑ کی طرح ہانک کر لے جاتا۔ دو رویہ بڑی روڈ کراس کرتے ہوئے لالہ کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ کبھی ٹریفک کو رکنے کا اشارہ کرتا تو کبھی بچوں کو اپنے بھاری بھاری ہاتھوں سے پکڑتا بلکہ گھسیٹتا۔ اسکول پہنچتے تو اسمبلی لگ رہی ہوتی۔ سارا ٹیچنگ اسٹاف اوپر چبوترے پر موجود ہوتا۔ قرات کے بعد قومی ترانہ ہوتا۔ عمر کم تھی اس لئے بچے اپنے طور پر اضافت کرتے رہتے۔

قومی ترانہ ختم ہوتا اور سب کلاس میں داخل ہو جاتے اور اپنی مخصوص سیٹوں پر جا بیٹھتے۔ کبھی کبھی بیٹھنے پر دھینگا مشتی بھی ہو جایا کرتی۔ ہم تو سدا کے بیک بینچر تھے۔ ہماری چلبلی طبیعت نے ایک دن خوب لطیفہ کیا۔ کلاس میں ایک لڑکی سلطانہ تھی۔ مس نے حاضری کے وقت اس کا نام جیسے ہی پکارا۔ اس کے یس کہنے سے پہلے ہم نے ڈاکو کہہ دیا۔ پوری کلاس ہنس پڑی لیکن پھر اس ہنسی کی قیمت ہم نے پرنسپل کے کمرے میں جا کر ادا کی۔ یہ ادائیگی ہم زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔

مضمون کی طوالت پڑھنے والوں کو بور نہ کردے اس لئے اب میں خاموشی سے کلاسیں چڑھتا چلا جارہا ہوں۔ آپ میں بھی میرے ساتھ رہیں۔ روزانہ سات پیریڈ ہوا کرتے۔ پہلا پیریڈ انگلش یا میتھس کا ہوتا ہے۔ بریک ٹائم سے پہلے چار پیریڈز ہوتے۔ بریک ٹائم میں برقع پہنے ایک عورت ہورے اسکول کے لئے ریفریشمنٹ کا سامان لاتی۔ ٹک شاپ کس بلا کا نام ہے ہم نہیں جانتے تھے۔ وہ فرش ہر ہی کپڑا بچھا کر بیٹھ جاتی۔ مصالحے والے چھولے، چٹنی کے ساتھ لونگ چڑے، چھوٹے لال بیر، درخت سے ٹوٹے لال بادام، ٹافیاں وغیرہ ساتھ لاتی جو چار آنے ( 25 پیسے )اور آٹھ آنے ( 50 پیسے) میں خریدتے۔ اب سوچتا ہوں تو عجیب محسوس ہوتا ہے۔ وہ عورت ہماری استعمال شدہ کاپیوں کے صفحے پھاڑ کر ہی یہ سب کچھ ہمیں دیا کرتی۔ کبھی کاپی پر 2 کا پہاڑا لکھا ہوتا جس پر 2×2 کے بعد 4 کی جگہ لونگ چڑا رکھا ہوتا ہے۔ صفحے پر ہاتھ سے بنائے گئے دنیا کے نقشے پر چھولے پڑے ہوتے۔ سب کچھ تھا مگر کھانے میں مزہ تھا کسی بیماری کا کوئی خطرہ نہ تھا۔ یہ زمانہ حفظان صحت کا نہیں بلکہ حفظ جوابات کا تھا کیونکہ اس زمانے میں یہی جان بچانے کی واحد ترکیب تھی۔ اس ریفریشمنٹ کے بعد لنگڑی پالا ہوتا۔ اس کے لئے چھوٹا سا ایریا کچا تھا۔ ہمارا اسکول کو ایجوکیشن تھا۔ لڑکیاں گروپ کی صورت میں اکٹھی ہوتی تھیں اور لڑکے الگ کھیل کود میں مصروف رہتے۔

اسکول مخلوط تعلیم گاہ (کو ایجوکیشن) تھا یعنی لڑکا لڑکی ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ کلاس میں اگر ذھین ہوتے تو پھر حسین بھی ہوتے جو کہ یقینا لڑکی ہوتی۔ اب دیکھیں کلاس بڑی ہوگی تو دل بھی بڑا ہو گا اور کسی کے لئے اس میں بڑی خاموشی کے ساتھ جگہ بھی بنے گی۔ بڑی کلاس میں کچھ ان دیکھی محبتیں ہو جایا کرتیں جسے سب دیکھ لیتے۔ اگر یہ ان دیکھی محبت دو طرفہ نہ ہوتی اور حوا کی بیٹی گھر پر شکایت کر دیتی تو آدم کے بیٹے اس آدم کے بیٹے ہر محبت کا بازار بذریعہ لاتیں اور گھونسے گرم کر دیتے جس کا چرچا مدتوں رہتا۔ امتحان ماہانہ، ششماہی اور سالانہ ہوتے۔ ہر ماہانہ امتحان پر یہی کہا جاتا کہ اس کے نمبر سالانہ امتحان میں شامل ہوں گے اور اگر اس میں فیل ہوئے تو سالانہ امتحان میں بیٹھنے بھول جاو۔

جب تک نویں جماعت میں نہ گئے تھے سمجھیں گھر کی بات گھر میں تھی۔ رزلٹ آتا تو گھر والوں کو دکھا دیتے۔ پاپا تھوڑی ڈانٹ ڈپٹ کرتے لیکن امی تو گویا رزلٹ کو ایسے دیکھتیں جیسے ڈاکٹر ایکس رے یا الٹرا ساؤنڈ دیکھتا ہے۔ ایک ایک سنجیکٹ پر لا حاصل بحث ہوتی اور خوب صلواتیں سننی پڑتیں۔ دادی پہلے تو کمرے سے سب خاموشی سے سنا کرتیں لیکن جب مظلوم پر مسلسل “حملات” دیکھتیں تو آواز لگاتیں:

اے بی، بچہ کلاس تو چڑھ گیا ناں۔ اب تم جو اتنی زور زبردستی کرو ہو، ایسے کوئی نہ پڑھے۔

امی کے ایک ہاتھ میں رپورٹ کارڈ اور ایک میں ہمارا کان ہوتا۔ ہلکے سے کہتیں : اس بار تو معاف کر رہی ہوں لیکن اگلی بار ایسا ہوا تو اسکول سے اٹھا لوں گی۔

نہ پوچھیں میٹرک تک کیا گزری۔ نویں میں تھے تو دادی گذر گئیں کوئی بچانے والا نہ رہا۔ اوسط درجے کے طالب علم تھے اوسط درجے میں میٹرک کر لیا۔ مجھے وہ اسکول جاتے راستے، لالہ، حلوائی کی دکان، روڈ کراس کرنے پر گھسیٹا جانا، رزلٹ کے دن گھر آتے ہلکا ہلکا خوف، امی کا ڈانٹنا، دادی کا بچانا سب یاد آتا ہے۔ کاش یہ دن لوٹ آئیں۔ مجھے وہ پیاری قید منظور ہے جہاں سب کچھ میرا تھا۔ ایسی آزادی کا کیا کرنا کہ جہاں کچھ بھی میرا نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20