گھر تو آخر اپنا ہے ——  عزیز ابن الحسن

0

انتظار حسین نے اس واقعے کو کسی اور طرح لکھا، اور واقعہ گزرنے کی تقریبا پچاس برس بعد لکھا، مگر لب لباب اور مجموعی مفہوم وہی ہے جو عسکری نے خود 1948 میں ایک کالم میں لکھ دیا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انتظار حسین کے قلم نے جب اسے لکھا تو اس ماضی بن چکی “سنہری یاد” کی باز آفرینی میں افسانویت پوری طرح در آئی تھی۔

انتظار حسین کا قلم جب افسانہ نہ لکھ رہا ہو تب بھی کمال اس کا یہ رہتا ہے اس میں افسانوی عنصر کے ساتھ ساتھ ایک زیریں لہر مزاح کی کرن ضرور جگمگاتی ہے۔ پاکستان آمد کے اولین دنوں کو یاد کرتے ہوئے انتظار صاحب لاہور کی پہلی مہاجر آبادی کرشن نگر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

خوب جگہ تھی اجڑی اجڑی اور ساتھ ہی اتنی آباد کہ بازار سے گزرتے ہوئے کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ یہ سب کھوے پناہ گزینوں کے تھے جو رفتہ رفتہ پناہ گیر سے مہاجرین بن گئے۔ انہیں پناہ گیروں میں وہ ایک بڑھیا بھی تھی جس کے منہ سے نکلا ہوا معصوم فقرہ عسکری صاحب نے لپک لیا اور اس میں سے پاکستان کا فلسفہ کشید کرلیا۔ ہمارے آگے آگے پناہ گیروں کی ایک ٹولی میں گھری چل رہی تھی اور اپنے رو میں بول رہی تھی کہنے لگی ‘اے بھیا ملک ولک کیا ہے بس بےچارے مسلمانوں نے لشٹم پشٹم ایک کچا گھر کھڑا کر لیا ہے۔ چلو سر چھپانے کو ایک کونا تو مل گیا”

اب دیکھیے اسے محمد حسن عسکری نے کس طرح لکھا اور عین انہی دنوں لکھا تھا۔ ستمبر 48ء کے کالم جھلکیاں میں ترقی پسندوں کی قومی امنگوں سے لاتعلقی بلکہ مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادیبوں کو پاکستان سے بڑی شکایتیں ہیں مگر عا مۃالناس کے اطمینان کا عالم ہی اور ہے۔ اور پھر یہ بات:

اس سلسلے میں ایک دلی والی نے ایسا جملہ کہا جس پر اردو کی ساری نئی شاعری قربان کی جاسکتی ہے۔ دلی کی ایک بڑھیا کسی دکان پر کھڑی سودا لے رہی تھی اور ساتھ ہی اپنی بپتا سناتی جارہی تھی۔ پاس ہی ایک اور دلی والے بیٹھے تھے، سن کر بولے ‘خیر! بڑی بی جو ہوا سو ہوا خدا کا شکر ادا کرو مسلمانوں کا ایک کچا گھر تو بن گیا”

اس چھوٹے سے اقتباس میں جو دل دھڑک رہا ہے وہی دراصل اس وقت برصغیر کے عام مسلمانوں کی روح کی آواز تھی۔ مگر مسئلہ تب بھی یہ تھا کہ یہاں کا پڑھا لکھا دانشور اور ادیب طبقہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے اجتماعی ملی شعور سے بیگانہ تھا۔ آج صورتحال اور بھی گھمبیر ہے۔ مسلمانوں کی قومی امنگوں سے اس وقت کے اہل دانش کی بیگانگی آج 70 سالوں کے بعد ایک المیہ بن گئی ہے۔

اگرچہ دو قومی نظریے کی مذہبی بنیادوں پر دبے دبے ترقی پسند دانشورانہ سوالات اس وقت بھی اٹھ رہے تھے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران اسلام کی بنیاد پر قائم دو قومی نظریہ بانیان پاکستان کا اکلوتا ہتھیار اور برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں مسلمانوں کی امنگوں کیلیے واحد جذبۂ محرکہ تھا۔ اسی لیے اگست 1948 کو جب پاکستان بنا تو یہ لاکھوں بے خانماؤں کیلیے اجڑا اجڑا بےسروسامانی والا گھر تھا مگر انصار و مہاجرین کے دلوں کے اطمینان کا عالم ہی اور تھا۔ لیکن ایک تصور ایک آدرش ــہند اسلامی تہذیب و ثقافت کے پیدا کردہ خدوخال کے تحفظ کی خاطر قائم کیے جانے والے سیاسی حصار، پاکستان ــ کی خاطر قربانی دینے ایثار کرنے اور تھوڑے پر شکر کرنے والوں کی یہ نسل نئے ملک میں اپنے آدرشوں کو روبہ عمل آنے کی حسرت لئے آہستہ آہستہ رخصت ہوگئی۔ بعد کے پڑھے لکھوں اور اقتدار کے ایوانوں کے قابضین نے پاکستان کے جوازِ وجود یعنی ریاستی سطح پر اسلام کے نفاذ کا مسئلہ پس پشت ڈالنا شروع کر دیا۔ دو قومی نظریے اور اس کی مذہبی بنیادوں پر تیشے چلنے لگے گے۔ ‘پاکستان کا مطلب کیا’ میں ‘لا الہ الا اللہ’ کی جگہ ہے حرص و ہوائے لاانتہا نے لے لی۔ پاکستان کے حقیقی مذہبی تشخص اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کے سوال کو معرض انتشار میں ڈال دیا گیا۔ ریاستی پالیسیوں میں مذہب کو محض چوماچاٹی اور نعرے بازی کیلیے استعمال کیا جانے لگا۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ لفظ اسلام اور پاکستان کا مصرف یہ رہ گیا کہ ایک حربے کے طور پر اسلام اور پاکستان کو خطرے میں بتا کر دو قومی نظریہ کی حقیقی بنیاد یاد دلانے والوں، جمہوریت کی بات کرنے والوں یا اپنے حقوق کیلیے آواز اٹھانے والوں کا منہ بند کردیا جایا کرے۔

کسی بھی آدرش، تصور یا قدر سے وابستہ عامۃ الناس کے جذبات کو اس کے حقیقی محل میں رکھ کر اس کا درست استعمال کرنے کے بجائے جب اسے اپنے مزعومہ و مذمومہ مقاصد کی کار براری کے مصروف میں لانا جب “قومی فریضہ” بن جائے اور ملک و قوم کے “عظیم تر خود ساختہ مفاد” کو تحفظ دینے کی خاطر بہت سارے سچ میں جب اپنے مفاد کا تھوڑا تھوڑا جھوٹ بھی بکثرت ملایا جانے لگے تو اس آدرش اور نصب العین کے حق میں بہت بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔ پچھلے ستر سال میں پاکستان کے سیاسی اور عسکری طالع آزماؤں نے نظریہ پاکستان کے ساتھ یہ کام بہ کثرت کیا ہے۔ اقتدار پر قابض قوتوں کی طرف سے سمجھے منصوبے کے تحت ریاستی سطح پر نظریہ پاکستان کی حقیقی مذہبی روح کے نفاذ کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا صرف غیر ضروری غیر متعلق لاطائل گفتگو کا طومار باندھا جاتا ہے۔ ترجیحات میں کہیں ہزارویں نمبر پر آنے والے چھوٹے چھوٹے معاملات، جیسے تحفظ ناموس صحابہ بل، اسمبلی میں لاکر فرقہ واریت کی راہ ہموار کی جاتی ہے اور کبھی اس کا میڈیا بانیان پاکستان کے آدرشوں ہر ہی سوال اٹھانے لگتا ہے۔ آگے کا پھریرا پھر ہمارا پڑھا لکھا دانشور اور طبقہ اٹھا لیتا ہے۔ 23 مارچ کا موقع ہو یا 14 اگست کا تخلیقِ پاکستان کے محرکات اور نظریہ پاکستان پر ایسی ایسی دانشوری بگھاری جاتی ہے کہ الامان الحفیظ۔ اس سب کچھ کا نتیجہ میں اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ نظریہ پاکستان کی بنیاد اسلام سے حقیقی وابستگی رکھنے والی نئی نسل کے مخلص لوگ اپنے خوابوں کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ سے مایوسی اور شکستِ آرزو کا شکار ہوکر لاتعلقی اور بیگانگی میں مبتلا ہو رہے۔

قومی دنوں کے مختلف موقع پر ہونے والی گذشتہ کئی برسوں کی سرکاری تقریبات میں آپ کوئی ایک موقع بھی ایسا نہیں دیکھا سکتے جہاں کسی صدر کسی وزیراعظم کسی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے تحریک پاکستان کے پس منظر میں اس تاریخی موڑ پر کو نمایاں کیا ہو جب قائد اعظم نے نیشنل سیاست کو چھوڑ کر ایمان و اسلام کی بنیاد پر ہندو مسلم کے دو الگ الگ قومیں ہونے اور صرف و صرف قرآن وسنت ہی کو ملک کا آئین قرار دینے کی بات کرنا شروع کی تھی اور پھر عملی طور پر قرآن و سنت پر مبنی آئین کو نافذ بھی کیا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان زیادہ تعر اسی طرح کی ایک نیشن اسٹیٹ یا ارضی قومی ریاست بنتا جارہا ہے جس کی نفی پر اقبال نے زور دیا تھا اور اور جسے رد کر کے نظریاتی قومیت کے اثبات کا قائد اعظم نے عزم کیا تھا۔ پاکستان کو اگر یہ قومی ریاست ہی بننا ہے جس کا کوئی تعلق مذہب، اور عدل و انصاف جیسی سب سے بڑی مذہبی قدر پر نہ ہو تو محض ارضی بنیادوں پر قائم پاکستانی قومیت کا تصور، شناختی کارڈ میں پاکستانی لکھنے کے باوجود کبھی مستحکم نہیں ہوگا کیوں کہ یہ شے دو قومی نظریئے کی اس روح کے خلاف ہے جس کی بنیاد پر وطنی قومیت کی نفی کی گئی تھی۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ارضی قومیت ہی کو کسی نے اپنی شناخت بنانا ہے تو ایک بلوچ کے لیے بلوچی قومیت اور ایک سندھی کے لئے سندھی قومیت کا تشخص پاکستانی قومیت کی نسبت زیادہ پر کشش ہے۔

اگر ہماری مقتدر قوتیں نظریہ پاکستان کی حقیقی روح سے مخلص ہوتیں تو ان کی سب سے بڑی ترجیح ملک میں اسلام کے نظامِ عدل اور نظام معاش کا قیام ہوتا۔ جہاں ہر کسی کو بلا امتیاز و بلا جہد و جدل برابری کی بنیاد پر تمام مواقع میسر رہتے۔ لوگوں کی جائز معاشی ضروریات اور تعلمی و ثقافتی مطالبات اگر بروقت و بلا رکاوٹ پورے ہوتے رہیں اور اور ناگہانی رکاوٹ پر انصاف ان کے دروازوں پر مہیا ہوتا رہے تو معمول کے حالات میں کوئی ایسا احسان ناشناس نہیں ہوتا جو اپنی علاقائی ثقافتی قومیت کو اس بڑی قومیت میں برضا و رغبت تحلیل نہ کیا کرتا جسے دو قومی نظریے کے علی الرغم بین الاقوامی سیاسی ضرورت کے تحت “پاکستانی قومیت” کہتے ہیں۔

جب میں یہ بات کرتا ہوں تو “پاکستانی قومیت” کے تصور کی نفی نہیں کر رہا بلکہ نظریہ پاکستان کی ان حقیقی بنیادوں کے شعور کو زندہ رکھنے اور ان آدرشوں کے عملی نفاذ کی ضرورت اجاگر کرنا چاہتا ہوں جن کا ماخذ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے صدیوں کے منفرد مذہبی تہذیبی اور ثقافتی شعور میں رہا ہے اور جس کے سیاسی حصار اور قلعے کے طور پر پاکستان وجود میں آیا تھا۔ لیکن اس سب کو نظر انداز کرکے اگر پاکستان کو محض ایک قومی ریاست کے طور پر رکھنا ہی ہماری مقتدرہ کا مطمح نظر رہا تو خاکم بدہن یہ روش جس انجامِ دوچار ہونے والی ہے اس کا اشارہ میں علامہ محمد اسد کی ایک تنبیہ کی صورت میں پیش کرکے کے اجازت چاہتا ہوں۔

تحریک پاکستان کے عروج کے زمانے میں محمد اسد بھی اس ساری صورتحال کا بہت قریبی مشاہدہ اور دو قومی نظریے کی مبادیات پر غور کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی اقبال سے بھی مشاورت رہی تھی۔ اقبال کی فکری آرزو، یعنی اُمّتِ مسلمہ کے جسدِ واحد ہونے کے تصوّرات اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر بننے والی نئی مملکت کو جس طرح ایک محدود قومی ریاست کے بجائے اتحاد بین عالمِ اسلامی کا پہلا زینہ بننا تھا، ان تصوّرات کو جس انداز میں اسد نے اپنے اندر جذب کر لیا اور پھر تحریری و تقریر طور پر ان امور کی وضاحت کی، اور اس سلسلے میں اس دور میں جو کوششیں کیں وہ لائقِ صد تحسین تھیں۔

انہوں نے اس زمانے میں مروج “قومیت” کے خطرناک تصوّرات سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو آگاہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مطالبہ صرف چند مخصوص اقتصادی اور چند مشترکہ ثقافتی مفادات کے تحفّظ کا معاملہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں کا تحریکِ پاکستان میں شمولیت کا کوئی جواز نہ ہوتا، لہٰذا خطرہ اس بات کا ہے کہ مسلمانانِ پاک و ہند بھی پاکستان بننے کے بعد اپنے آدرش اور نصب العین سے بیگانہ نہ ہو جائیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے رسالے “عرفات” 1947 میں تنبیہ کی تھی کہ دیکھیں آپ بھی بلقان کے عیسائیوں کی طرح اس طرح کے فریبوں کا شکار نہ ہوجانا جن کی بنیاد پر بلقان کے عیسائی، ترکوں سے آزادی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے بھی چند ثقافتی اقدار کے تحفّظ کا ڈھنڈورا پیٹا تھا اور اس بنیاد پر ترکوں سے آزادی چاہتے تھے کہ ان کا تمدّن، زبان اور تہذیب سب ترکوں سے مختلف ہے، لہٰذا انہیں اپنے اقدار کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے ایک الگ ملک چاہیے لیکن جب وہ عیسائی اقوام ترکی سے آزاد ہوگئیں تو قومی روایات اور امتیازی اقدار کے وہ سب نعرے ہوا ہوگئے اور جب عملی ریاست کے قیام کا سوال آیا تو جاہلی عصبیت ہی کو قوم پرستی کی بنیاد بنا لیا گیا۔ اس تناظر میں اے مسلمانوں تم بھی “پاکستانی قومیت” کے خطرے سے ہشیار رہنا چاہیے۔

یا حسرتا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا اور بلقانی عیسائیوں کی طرح ہم بھی اپنی ان تمدنی و ثقافتی اقدار سے غافل ہوگئے اور جاہلی وطنی عصبیت کے فریب میں مبتلا ہوگئے۔ صد افسوس!

کرشن نگر کے کسی بوڑھے/ بڑھیا کی زبان سے نکلے جن الفاظ سے عسکری نے پاکستان کا فلسفہ اخذ کر لیا تھا اس فلسفے کا زائیدہ مسلمانوں کا “کچا گھر” آج بفضل خدا اتنا پکا ہوگیا ہے کہ سمندروں کے پانی کو بھاپ بنا کے اڑا اور پہاڑوں کو پگھلا دینے والی ایٹمی قوت بن گیا ہے۔ دعا ہے کہ کاش ہمارے حکمران اپنے دل بھی اتنا مضبوط کر سکیں کہ یو این او اور آئی ایم ایف وغیرہ کے آگے گھگھیانا چھوڑ کڑ اپنے حقیقی دشمن، جو کہ ہم خود ہی ہیں، کو پہچان لیں اور حرص و ہوائے لاانتہا کو چھوڑ کر پھر سے لا الہ الا اللہ کو پاکستان کی بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کو اس کی حقیقی بنیادوں پر مستحکم کریں۔ ہمارا اہل دانش طبقہ پھر سے قوم کی امنگو کے ساتھ خود کو جوڑ لے اور، اگرچہ مشکلات بہت ہیں مگر ہم عوام بھی اپنے تفرقے اپنے مسلک اور اپنے مفادات کو ایک طرف رکھ کے اپنے ملک کی حقیقی بنیاد والی روح اپنے اندر پیدا کرنے کیلیے یک جان ہوجائیں۔

موج بڑھے یا آندھی آئے، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے

رات کٹھن یا دن ہو بوجھل، ہنستے گاتے چلنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے

ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا کے سات سمندر متھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20