علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور تصوف —– میر امتیاز آفریںؔ

0

تعارف: علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کے علم تصوف کے متعلق افادات پر آنے سے پہلے میں تصوف کے متعلق کچھ معاصر فکری رویوں کا ایک جائزہ لینا چاہوں گا۔ جیسا کہ آپ واقف ہیں کہ تصوف اسلام کی باطنی و روحانی تعبیر (dimension) کا نام ہے۔ جس نے اسلامی تہذیب و تمدن کے دامن کو نہ صرف وسیع کیا ہے بلکہ علوم و فنون کے اک لا متناہی سلسلے کو جنم دیا ہے۔ صوفیانہ فکر و فن نے صدیوں سے تاریخ اسلام میں بڑے اعلیٰ قلوب و اذہان کو متاثر کیا ہے جن میں رومیؒ، غزالیؒ، ابن عربیؒ، شیخ احمد سرہندیؒ، شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ خاص طور پر قابل زکر ہیں۔ صدیوں تک صوفیانہ طرز فکر نے نہ صرف علمی و فکری منظرنامے پر بلکہ مسلم اذہان و قلوب پر بھی حکمرانی کی ہے۔ مگر جب سے مغربی افکار و نظریات نے ہمیں اپنے تہذیبی ورثے کا تنقیدی جائزہ لینے اور اپنے زوال کا تجزیہ کرنے کی راہ سجھائی ہے، تب سے انکار تصوف جدید تعلیم یافتہ روشن خیال علماء کے لئے ایک علمی شوق اور فیشنیبل مشغلہ بن چکا ہے۔ ہماری علمی تاریخ میں تصوف کے شدید ناقدین جیسے علامہ ابن تیمیہؒ، علامہ ابن القیم ؒ اور علامہ ابن جوزیؒ بھی محمود و مذموم اور اسلامی و غیر اسلامی تصوف کے درمیان حد فاصل کھینچتے ہیں مگر بد قسمتی سے موجودہ دور کے کچھ ناقدین اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ تصوف کو ’ایک متوازی دین‘(۱) اور ’اجنبی پودا‘(۲) قرار دے کر اسکی بنیادیں ہی کھودنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تصوف پر یلغار موڈرن کہلانے والے مغربی افکار کے غلاموں میں ایک عام سی بات ہو چلی ہے۔ ، وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی مسلسل سفر ہے، زندگی پیہم رواں دواں ہے، زندگی جہدِ مسلسل ہے اور تصوف زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے، عائلی اور معاشرتی پرورش سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے، عصری تقاضوں سے گریزاں ہے، فکری مرض ہے، نفسیاتی نشہ ہے اور قلبی سفسطہ۔ اور ظاہر ہے کہ ان مزموم افکار کی تعین میں بے سند کتابوں کے غیر معروف واقعات اور جاہل صوفیاء کا ہاتھ ہے۔ اگر ہمارے محققین، علماء اور دانشوران نے تصوف کے رموز و نکات، مضمرات، اہمیت و ضرورت، ھرکیت و فعالیت اور شرعی حدود پر وافر تعداد میں کتابیں لکھی ہوتیں تو شائد نہ اہل خانقاہ تصوف کے نام پر کاروبار کرتے اور نہ ہی زندگی کے باالمقابل تصوف پر جمود اور تعطل کا الزام عائد کیا جاتا، مگر ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تصوف پر لکھنے والے ہمارے مصنفین کا قلمی دائرہ شخصیات اور انکی کرامتوں سے آگے نہیں بڑھتا۔ اس سنگین صورت حال میں علامہ انور شاہ کشمیری ؒ جیسی کثیر الجہات شخصیات کی بازیافت کی زبردست ضرورت و حاجت ہے جو اکابرین کے سلوک و تصوف کا نہ صرف ایک عملی نمونہ تھے بلکہ جنہوں نے اپنی قلمی نگارشات سے صوفیانہ افکار و نظریات کو دور حاضر کے عین مطابق ڈھالنے کی محققانہ اور مدلل کاوشیں کی ہیں۔

علامہ کشمیری کی روحانی شخصیت : ملک کشمیر کی قدیم و جدید اسلامی تاریخ میں علم و عمل، دعوت و عزیمت اور احوال و اخلاق کے اعتبار سے کچھ ہی گنی چنی دینی شخصیات ہیں جن میں علوم معقول و منقول کے اعتبار سے زبردست جامعیت پائی جاتی ہے اور ان میں محدث العصر، بیہقی وقت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت سر فہرست ہے۔ آپ علم حدیث، علم فقہ اور علم تصوف وعرفان میں یکساں عبور رکھتے تھے اور ان علوم میں ید طولی’ رکھنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ صاحب انوار انوری کے الفاظ میں ‘حضرت شاہ صاحب کے پورے علوم کا احاطہ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔۔۔ آپ خود فرمایا کرتے تھے ہمیں مدت العمر کوئی صحیح مخاطب نہیں ملا’ (۳)

اکثر تصوف و عرفان کو علوم فقہ و حدیث سے بالکل مختلف اور کبھی کبھار متوازی سمجھا جاتا ہے، تاریخ اسلام میں بہت کم ایسی شخصیات گزری ہیں جو ان تمام میدانوں میں اعلیٰ دسترس بیک وقت رکھتے تھے۔ مگر آپ علامہ کشمیری کی کسی بھی تصنیف کو ہاتھ میں اٹھائیں، یہ تینوں شانیں ان کی تحریروں میں زوفشانی کرتی نظر آتی ہیں۔ احادیث کی کتابیں تقریباً ان کی بر نوک زبان تھیں، ایک طرف تحقیق طلب علمی و فکری مسائل کی جستجو اور تحقیق میں انہوں نے اپنی عمر گزار دی تو دوسری طرف آپ زھد و ورع کے پیکر تھے۔ مولانا قاری محمد طیب صاحب کے الفاظ میں ‘حضرت کا علم اگر متقدمین کی یاد تازہ کرتا تھا تو ان کا عمل سلف صالحین کو زندہ کئے ہوئے تھا اور اسوہ سلف کے لئے نمونہ ساز تھا۔۔۔ علم، حافظہ، تقوی’ و طہارت، اور زھد و قناعت مثالی تھی۔۔۔ ان کے روشن چہرہ پر ایمان کی چمک اس طرح نمایاں تھی کہ غیر مسلم بھی دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے تھے کہ اگر اسلام مجسم صورت میں آتا تو وہ علامہ انور شاہ ؒکی صورت میں ہوتا۔ (۴)

علامہ کشمیری ؒ کے شب و روز کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ایک عالم بے بدل تھے بلکہ ایک صاحب بیعت، صاحب نسبت اور صاحب کشف وکرامات بزرگ بھی۔ ’حیات انور‘ کے مطابق ’مولانا محمد انور شاہ صاحب اپنے تقویٰ کے لحاظ سے جنید وقت، اور باطنی علوم بیان کرنے میں وقت کے شیخ اکبر تھے۔‘

علامہ کشمیری کا خاندان صلحاء و عرفاء کا خاندان تھا لہذا علم و فہم کے ساتھ ساتھ نور عرفان ان کو وراثت میں ملا۔ ان کے جد بزرگوار حضرت شاہ مسعود نرو ریؒ اپنے وقت کے بلند پایہ شیخ طریقت تھے اور شیخ سید احمد کرمانی ؒ کے فیوضات بھی اس خاندان کی خمیر باطنی میں موجود تھے۔ مولانا احمد رضا بجنوری ؒکے مطابق آپ اپنے والد محترم مولانا معظم شاہ ؒسے سلسلہ سہروردیہ میں بیعت تھے۔ (۵)

آپ شیخ رشید احمد گنگوہی سے بھی منسلک ہوئے اور علوم ظاہری و باطنی کا وافر حصہ ان سے اخذ کیا، ڈاکٹر شیخ محمد اکرام کے الفاظ میں ‘مولانا رشید احمد۔ ۔ ۔ حدیث کا درس بھی دیتے تھے اور تعلیم باطنی بھی، چناچہ مولانا انور شاہ محدث نے یہ دونوں باتیں ان سے حاصل کیں۔ ‘ (۶)

علامہ کشمیریؒ بچپن سے ہی ذکر و اذکار کے لیے وقت نکالا کرتے تھے اور من کی دنیا میں مستغرق ہوجاتے تھے۔ حیات انور میں مولانا عبد القادر رائے پوری کی علامہ کشمیری ؒکے ساتھ ملاقات کا تذکرہ ہے، مولانا رائے پوری فرماتے ہیں: میں ملاقات کے لئے سنہری مسجد میں گیا، دیکھا، ایک حجرے میں دروازہ بند کرکے اندھیرے میں حضرت شاہ صاحب ذکر دو ضربی جہر کے ساتھ کہ رہے تھے اللہُ اللہُ اللہُ اللہُ دیر تک اسم ذات کا ذکر کرتے رہے۔ اس وقت عمر شریف اکیس بائیس سال کی ہوگی’ (۷)

اگرچہ علامہ کشمیری ؒنے علمی منزلیں طے کر نے کے ساتھ ساتھ بے شمار روحانی مراحل بھی ا ستقامت کے ساتھ طے کر لئے تھے مگر وہ باطنی احوال و کمالات کو مخفی رکھتے تھے۔ ان کے لیل و نہار درویشانہ انداز سے بسر ہوتے تھے، اخفاء و خمول کا ان پر بے حد غلبہ تھا اور وہ اپنے باطنی علو اور روحانی فضل و کمال کو مستور رکھنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاریؒ اپنی تصنیف ــ ’ علاّمہ محمد انور شاہ کشمیری: شخصیت اور علمی کمالات‘ میں انکے ورود کشمیر کا ایک واقع تحریر کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت شاہ صاحبؒ نے حضرت شیخ حمزہ مخدوم ؒ کے مزار پر انوار پر فاتحہ پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ چونکہ وہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ مزار پر پہنچے مگر شاہ صاحبؒ نے دور ہی سے جوتے اتار دیئے اور جلدی جلدی قدم اٹھانے لگے۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ـ ” اگر آپ کی آنکھیں بند ہیں تو ہونے دو، میں تو اندھا نہیں ہوں۔ ”

ـ’ایک مرتبہ نماز پڑھنے کے لئے مسجد شریف کی طرف نکلے، پہلی صف میں نماز پڑھی اور جلدی جلدی سلام پھیر کر مسجد کی ایک دیوار کی طرف دوڑے اور کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی، فاتحہ سے فارغ ہو کر ایک بزرگ سے پوچھا۔ اس دیوار کے نیچے کوئی بزرگ مدفون تو نہیں ہے، انہوں نے کہا جی ہاں! یہیں تو حضرت میر میرک اندرابی علیہ رحمہ کا مدفن ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا: ’ہاں!انکی روح نے مجھے اپنی طرف سخت کشش کی۔(۸)

آگے آپ تحریر کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے کراماتی طور پر رات کی تاریکی میں شاہ صاحبؒ کے دائیں بائیں دو قندیلیں روشن ہوتی دیکھیں۔ صبح جب شاہ صاحب سے اس کا تذکرہ کیا تو وہ یہ جواب دے کر ٹال گئے: “تم ڈر گئے ہو” (۹)

اسی طرح کا ایک اور واقعہ آپ بیان کرتے ہیں کہ: ’ایک مرتبہ شاہ صاحب دیوبند سے کشمیر آئے تھے، ہزاروں لوگ فرش راہ تھے۔ انہی ایام میں ایک دن فجر کی نماز کیلئے مسجد شریف میں پہنچے تھے۔ سرینگر کے ایک نامور بزرگ مولانا محمد فاضل منطقی بھی مسجد میں تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں مسجد میں پہلی صف میں موجود تھا، نماز ادا کرنے کے بعد اوراد و ازکار شروع ہوئے، حضرت شاہ صاحب نے مجھے قریب آنے کی طرف اشارہ کیا، میں نے حکم کی تعمیل کی، میں نے اپنے بائیں طرف دیکھا تو ایک نورانی صورت دیکھی جو خوش رو اور خوش پوش تھی، میں کچھ ڈر سا گیا اور مجھ پر سخت رقت طاری ہوگئی، رونے کا اتنا غلبہ ہوا کہ حضرت شاہ صاحب کو متوجہ ہونا پڑا، میری حالت دیکھ کر پوچھنے لگے، چرا؟میں نے اپنی بائیں طرف پھر دیکھا تو یہ صورت ہی غائب! میں نے عرض کیا، حضرت یہاں ایسی ایسی وضع و صورت کا آدمی بیٹھا تھا اور اب غائب ہوگیا ہے۔ اس پر بڑے اطمنان کے ساتھ فرمانے لگے: شائد مولانا رومی مے باشد! یعنی شائد مولانا رومیؒ ہوں!(۱۰)

دراصل شاہ صاحبؒ روحانی واردات و مقامات کو نجی زندگی کا جز قرار دیتے تھے، وہ اپنی شخصیت کو مرکز عقیدت بننے سے بچانے کی کوشش کرتے تھے جس سے کبھی ریا کاری اور علمی زوال کے واقع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ وہ باطنی احوال کو علمی و فکری معاملات میں داخل کرنے سے گریز کرتے تھے۔ کچھ علماء پر باطنی احوال کا کبھی اتنا غلبہ ہوجاتا ہے کہ وہ علمی اور عرفانی رجحانات میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتے جس سے معاملات صحیح سمت میں نہیں جاتے اور وہ اپنے منصب کے ساتھ انصاف نہیں کرپاتے، شاہ صاحبؒ اس معاملے میں بڑے حساس تھے، جب حدیث کی بات ہوتی تھی تو بطور محدث اپنی بات رکھتے تھے، جب فقہ کے مسائل کا تذکرہ ہوتا تھا تو ایک تجربہ کار فقیہ کے انداز میں گفتگو کرتے تھے اور جب روحانی احوال و مقامات کا ذکر ہوتا تھا تو دامن بچا کر نکل جاتے تھے۔

تفہیم دین میں صوفیاء سے استفادہ: شاہ صاحب ؒ اہل تصوف کی آراء کو شرعی احکام و مسائل کی تفہیم کے باب میں بہت ہی اہم سمجھتے ہیں۔ وہ اہل تصوف کو ایک مخصوص فن کے ماہرین کی حیثیت دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس میں صحیح مفہوم نہ سمجھنے کا گہرا امکان موجود ہوتا ہے اور جس سے فکری و عملی گمراہیاں پھیلنے کا بھی ا ندیشہ رہتا ہے۔ علامہ کشمیریؒ کو مشہور صوفیاء کرام جیسے ابن عربیؒ، مولانا رومیؒ، مجدد الف ثانی رحمہم اللہ اور دیگر اولیاء اللہ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی اور وہ ان کے علوم پر گہری نظر رکھتے تھے جس کا اثر تقریباً ان کی تمام تصانیف میں پایا جا سکتا ہے۔ فیض الباری میں وہ احادیث نبویہ کی شرح کرتے ہوئے، ان گنت مقامات پر صوفیانہ افکار و نظریات سے استدلال کرتے ہیں۔ اکابر صوفیاء سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی باطنی اور فکری علوم میں گھس کر نادر و نفیس معلومات پیش کرتے ہیں اس کے لئے فیض الباری کے ساتھ ساتھ مرقاۃ الطارم علی حدوث العالم اور خاتم النبیین دیکھنے کے قابل ہیں۔ چونکہ انوار الباری میں صلوٰۃ کسوف کے بارے میں ایک حدیث کی شرح میں شاہ صاحب ؒ آسمانوں سے کسی چیز کے اترنے کے باب میں ابن عربیؒ کا قول پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’ حضرت شیخ اکبر ؒ نے لکھا ایک چیز جب عرش الٰہی سے اترتی ہے تو وہ جس جگہ سے گزرتی رہتی ہے اسی کے خواص و اثرات لیتی رہتی ہے اور جو چیز بھی زمین پر اترتی رہتی ہے اس کے اترنے سے ایک سال قبل اس کا وجود آسمان دنیا پر ہوتا ہے۔ ـ‘ (۱۱)

صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو ضرف علم کے یاد کر لئے، ایک کو میں نے پھیلا دیا اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاوں تو میرا نرخرا کاٹ دیا جائے‘ اسکی شرح میں شاہ صاحب حافظ عینی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’متصوفہ کہتے ہیں کہ اول سے مراد علم احکام و اخلاق ہیں اور دوسرے سے مراد علم اسرار ہے، جو علماء عارفین کے ساتھ خاص ہے، دوسرے لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔‘(۱۲)

وہ نہ صرف ان جید صوفیاء کے معتقد تھے بلکہ روحانی تعبیرات میں انکی آراء سے استفادہ کرنے کی اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے تھے، فیض الباری میں ایک جگہ فقہ کے ساتھ ساتھ اہل تصوف کے علوم و معارف سے مستفید ہونے کی وکالت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “۔ ۔ ۔ اس طرح کی ابحاث اور مسائل دیکھنے کے لیے عرفاء کی کتابیں دیکھنی چاہیے۔ وہی اس موضوع میں ماہر اور باخبر ہوتے ہیں، ہر فن کے لئے آدمی مخصوص ہوتے ہیں”(۱۳)

دور جدید میں خدا پرستی اور دین داری کی جگہ مادہ پرستی اور مفاد پرستی کا دوردورہ ہے۔ فکری ارتداد دن بہ دن جڑ پکڑ تا نظر آتا ہے۔ ایسے میں شاہ صاحب جیسے صاحب استقامت امت کے لئے ایک روشن مشعل راہ کا کام انجام دے سکتے ہیں۔

شاہ صاحب اخلاص و للہیت کے پیکر بن کر دین کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں وقف کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شاہ صاحب فقر و استغنا کی زندگی بسر کرتے رہے اور دینی اقدار کی اقامت کیلئے اپنے ذاتی معاملات کو کم اہمیت دیتے رہے۔ آپ علامہ اقبال کے اس شعر کی زندہ مثال تھے۔ ۔ ۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
آپ ریا و نام و نمود سے پاک تھے، فرماتے تھے ‘ جو شخص قرآن وحدیث اور دوسرے دینی علوم کو محض شکم پروری کے لیے پڑھتا ہے، وہ بازار سے قیمتی شال اس لئے خرید کر لاتا ہے کہ اس سے اپنے جوتے صاف کرے۔(۱۴)

شاہ صاحب ؒکے نزدیک اصل تصو ف: تصوف کے بارے میں شاہ صاحب بیک وقت ایک حامی اور مصلح کی زباں میں بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق نہ تو تصوف کے نام پر کی جانے والی ہر قسم کی بدعات و خرافات سے آنکھ بند کی جاسکتی ہے اور نہ ہی تصوف و سلوک کی اہمیت و افادیت سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک طرف تو اسلامی تصوف کے مداح ہیں تو دوسری طرف غیر اسلامی تصوف کے شدید نقاد۔ دراصل تصوف اور خانقاہی نظام نے ایک طرف تو اسلام کے عروج و ارتقاء میں زبردست کردار ادا کیا ہے لیکن دوسری طرف امت کے زوال پزیر ہونے میں بھی اس کا اثر رہا ہے۔ اکثر اہل علم صوفیانہ افکار و نظریات کے مطالعہ کے دوران ایک فکری دلدل میں پھنس کر رہ جاتے ہیں، یا تو تصوف کا مطلقاً انکار کردیتے ہیں یا کچھ متنازع نظریات و واقعات کی غیر علمی تاویل کرکے دامن چھڑاتے ہیں۔ ایسے میں شاہ صاحبؒ ایک مصلح کی طرح تصوف کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: عملی تصوف یا احسان اور باطنی علوم یا نظری تصوف۔ وہ تصوف کی اصطلاح کے بجائے لفظ ‘احسان’ استعمال کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، وہ عملی تصوف کو روح دین سمجھتے ہیں اور حدیث جبریل سے استدلال کرتے ہوئے دین میں اس کے اہم مقام کا تعین کرتے ہیں۔ شاہ صاحب ؒکے نزدیک اصل تصوف عملی تصوف ہے جو اسوہ سلف کے زیادہ قریب ہے اور قرآن و سنّت سے فکری توانائی حاصل کرتا ہے۔ ان کے ہاں عملی تصوف اور شریعت میں کوئی فرق نہیں ہے، شریعت، طریقت اور حقیقت باہم مربوط و منسلک ہیں۔ وہ اوامر و نواہی اور وعدے اور وعید جو ہم تک پہنچے ہیں شریعت کے نام سے موسوم ہیں۔ اسی سانچے میں اپنا وجود ڈھالنے کا نام طریقت ہے۔ اس کے نتیجے میں جو عظیم الشان مقصد حاصل کیا جاتا ہے، حقیقت کہلاتا ہے۔ منکرین تصوف اکثر علمی یا نظری تصوف کو زیر بحث لا کر پورے صوفیانہ نظام فکر کے خلاف محاذ کھول دیتے ہیں اور اسکے نقائص نمایاں کر کے لوگوں کو اس سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاہ صاحبؒ علمی و نظریاتی تصوف کے بارے میں توقف کرتے ہیں اور اسے ایک technical علمی میدان سمجھتے ہیں جس کے نشیب و فراز کو اس فن کے ماہرین ہی سمجھ سکتے ہیں اور عام لوگوں کو ان معاملات میں نہ پڑنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ شاہ صاحب اسلامی احسان و تصوف کو قرآن و سنت کے سنہرے اصولوں اور ضوابط کے تابع رکھنے کی وکالت کرتے ہیں۔ تصوف کے متعلق ان کے افادات کو اگر دھیان میں رکھا جائے تو بہت سی بے اعتدالیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق بخاری لکھتے ہیں:

‘ان کے ہاں عملی تصوف (احسان) ہر مسلمان کے لیے لازمی ہے جبکہ باطنی علوم ( علم تصوف) ایک مستقل علم ہونے کی وجہ سے مخصوص لوگوں سے خاص ہے اور اس کا حصول ایک مسلمان کے لئے لازمی نہیں۔ (۱۵) شاہ صاحب ؒفرماتے ہیں:
‘ جاننا چاہئے کہ احسان تمام قسم کی نیکیوں از قبیل ازکار، اشغال وغیرہ پر حاوی ہے’۔(۱۶)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی طرح علامہ کشمیریؒ بھی شرعی امور و معاملات میں پنہاں اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لئے اور اسلامی نظام عبادت کی روحانی تعبیرات کے لئے افکار صوفیاء و اولیاء سے بھر پور استفادہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق بخاری لکھتے ہیں:

ـ ” حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے نمازی کے سامنے سے گدھے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جانے کا جواز بیان کیا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ حضرت مولانا انور شاہ صاحبؒ کی یہ تحقیق مطمئن کرتی ہے ‘ چونکہ گدھا اور کتا کبھی خدا کی پاکیزگی بیان ہی نہیں کرتے (جو کائنات کی عمومی عادت کی خلاف ورزی ہے) اس لیے ان کے آگے سے گزرنے سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔'(۱۷)

تاہم وہ اسرار و احکام کا زیادہ کھوج بھی نہیں لگاتے شائد اس لئے کہ یہ مشغلہ اپنانے سے دین اور دین کے فرائض و احکام عقل کا کھلونا نہ بن جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وہی اسرار بیان کرتے ہیں جن کی احادیث و آثار سے تائید ہوتی ہے۔ دراصل شاہ صاحب ہر علم کے حدود اور ان کے نتائج سے واقف ہونے کی وجہ سے دین میں حسب ضرورت ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ باطنی علوم اور نظری تصوف کے ان نقصان دہ نظریات سے پوری طرح آگاہ ہیں جنہوں نے بے شمار گمراہیوں کو جنم دیا ہے۔ صوفیاء کے کچھ مخصوص نظریات جیسے وحدۃ الوجود، روئیت باری، الہام، حقیقت فنا و بقا، مسئلہ خیر و شر، حقیقت روح، وغیرہ کو وہ علمی یا نظریاتی تصوف کا جز قرار دیتے ہیں، جن کی حقیقت اہل عرفان ہی سمجھ سکتے ہیں اور عام لوگوں کو ان گہرائیوں میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں فائدے سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ اگر اس تجویز کردہ احتیاط کو ملحوظ نظر رکھا جائے تو ایک طرف ہم اسلاف کے تصوف و احسان کی تجدید و احیا ء کر سکتے ہیں اور دوسری طرف ان منفی عوامل سے نجات پا سکتے ہیں جنہوں نے اس چشمہ صافی کو گدلا کر دیا ہے۔

حوالہ جات
(۱) البرہان : ص۱۸۱ : جاوید احمد غامدی
(۲)ادراک زوال امت: ص۴۴۲: راشد شاز
(۳)انوار انوری:ص۳ :محمد انوری
(۴)مقدمہ جمال انور:ص۱۵:عبد القیوم حقانی
(۵)ملفوظات محدث کشمیری :ص: ۲۶۱: احمد رضا بجنوری
(۶)موج کوثر:ص۱۰۱:شیخ محمد اکرام
(۷)حیات انور :ص۵۰: مولانا عبد القادر رائے پوری
(۸) علاّمہ محمد انور شاہ کشمیری: شخصیت اور علمی کمالات :ص، ۸۶، ۸۵:ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاری
(۹)علاّمہ محمد انور شاہ کشمیری: شخصیت اور علمی کمالات :ص۸۱:ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاری
(۱۰)علاّمہ محمد انور شاہ کشمیری: شخصیت اور علمی کمالات :ص۸۳:ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاری
(۱۱)انوار الباری : ۱۴۱:۵: احمد رضا بجنوری
(۱۲)انوار الباری : ۲۵۹:۶:احمد رضا بجنوری
(۱۳)علاّمہ محمد انور شاہ کشمیری: شخصیت اور علمی کمالات :ص۳۵۳:ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاری
(۱۴)جمال انور:ص۶۸:عبد القیوم حقانی
(۱۵)علاّمہ محمد انور شاہ کشمیری: شخصیت اور علمی کمالات :ص :۳۴۸:ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاری
(۱۶) فیض الباری ۱:۱۴۹: بدر عالم میرٹھی
(۱۷) فیض الباری: ۱:۳۱۱: بدر عالم میرٹھی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20