اظہار تشکر کا ایک خط: بل اور میلنڈا کے نام —— نعیم صادق

0

پیارے بل اور میلنڈا،

بہت سے عالمی واقعات اور معاملات میں آپ کی انسان دوستی کے تعاون کا شکریہ۔
مجھے آپ کی سخاوت کا اس حد تک ادراک اس وقت تک نہیں ہوا، جب تک کہ مجھے حال ہی میں عالمی آبادی کے عالمی دن کے موقع پر ایک ویبنار میں شرکت کے لئے بل اور میلنڈا فاؤنڈیشن کی طرف سے اسپانسر کردہ ایک چیک وصول کرنے کو کہا گیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ رقم کتنی ہے، لیکن بہت سی تنظیموں، بینکوں اور تبادلوں کی شرحوں کے ذریعے سفر کرتے ہوئے آخر کار کسی انجان اور عام تیسری دنیا کے شہری کا دروازہ کھٹکھٹانے والی اس رقم نے بیک وقت مجھے مسرور شاداں کردیا۔

مجھے یہ سمجھنے میں کچھ لمحے لگے کہ میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیرونی امداد کے خلاف آواز اٹھانے میں لگایا ہے، اور آج میں اسی غیر ملکی گرانٹ سے مستفید ہونے جارہا ہوں۔ لہذا میں نے اس فراخ دلانا پیش کش قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے، نرمی سے جواب دیا۔ یہ کہانی، واقعات کے بہت سارے سلسلے میں ذاتی اور غیر اہم ہے۔ تاہم، پاکستان کے لئے اور اس صدی کے معروف مخیر حضرات اور کاروباری افراد کے لئے یہ بات اہم اور غور کرنے کی ہو، کہ کن وجوہات نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

میں اس کی آسان وجوہات سے بات شروع کرتا ہوں، اس ویبنار میں ایک ایسے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا جو پاکستان کے عوام اور فلاح و بہبود کے لئے اہم ہے۔ اس کے شرکاء میں،کسی بھی معاوضے کے لئے نہیں بلکہ رضاکارانہ طور پر حصہ لینے والے شہری شامل ہیں۔ ان کا تعلق معاشرے کے مراعات یافتہ طبقے سے تھا جس کو اس ملک نے بہت کچھ نوازا ہے۔ ان کی جانب سے، یہ وقت رضاکارانہ طور پر دیا گیا تھا۔ لہذا، کسی غیر ملکی مخیر تنظیم کی جانب سے اس چھوٹے سے واقعہ کی سرپرستی میں چیک اور پیسوں کی پیش کش سے ان افراد کی خود اعتمادی اور ذاتی شرف کو مجروح کیا۔ جو ویبینار کے لیے جمع ہوئے تھے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک معقول اور اچھے ملک کو غیر ملکی امداد کی تلاش کیوں نہیں کرنی چاہئے۔ پاکستان وافر وسائل اور دولت سے مالا مال ہے۔ صرف صوبہ سندھ میں 25،000 سے زیادہ سرکاری کاریں موجود ہیں، بہت سے اعلی عہدے داروں کے پاس تین سے چار سرکاری لگژری گاڑیاں موجود ہیں جو 24 گھنٹے ان کے تصرف میں رہتی ہیں۔ جن کا زیادہ تر امیر ممالک کے عہدیدار تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لہذا آپ کی فراخدلی اور نیک نیتی گرانٹ کسی بھی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ ایک مخصوص لالچ اور لت کو پورا کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ آپ کے “گرانٹ” کیپسول کا سب سے برا ضمنی اثر مریض کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کرتاہے۔ مریض بے بسی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور غیر ملکی گرانٹ سے کے بغیر چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی نہیں کرسکتا ہے۔ ایک بلینر Billionaire کے لئے بل اور میلنڈا کی حمایت حاصل کرنا صرف اس کی ایک مثال ہوسکتی ہے۔

اس طرح ہم ‘فیملی پلاننگ’، ‘بچوں کی حفاظت’، ‘تعلیم’ یا کوئی اور شعبہ ہو، ہم جتنا زیادہ امداد پر انحصار کرتے ہیں (اپنے نیوران اور وسائل کے بجائے)، ہم بدترین انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ ‘خاندانی منصوبہ بندی’ کے تناظر میں، ہماری آبادی کی شرح افزائش اب بھی 3.6 کی ایک خطرناک سطح پر ہے، جبکہ یہ تائیوان، کوریا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور ایران جیسے ممالک کے نقش قدم پر آسانی سے چل سکتی تھی جنھوں نے اپنی افزائش کی شرح کو کامیابی کے ساتھ 2 یا اس سے کم کردیا۔ آپ ہمیں جو کم سے کم بہتر مدد دے سکتے تھے وہ یہ تھا کہ پاکستان کو بتائیں کہ وہ دوسروں کے کام کے بارے میں سوچے اور وہ کام کرے جو انھوں نے کیا ہے۔

اس کا اندازہ صوبہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں چلڈرن پروٹیکشن سرگرمیوں سے کیا جاسکتا ہے، جہاں غیر ملکی فنڈز کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ ہمارے لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہونے کے باوجود، چائلڈ لیبر کی حیثیت سے ملازمت اور مستقل بدسلوکی کا نشانہ بننے کے باوجود، کے پی کے میں ایک بھی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ گذشتہ 2 سالوں سے کام نہیں کررہا ہے۔ یونیسف کے ذریعہ 2018 میں مالی امداد سے چلنے والی 12 یونٹ کچھ مہینوں تک چلے، اور پھر غیر ملکی فنڈز ختم ہونے کے ساتھ ہی گتے کے گھر کی طرح ٹوٹ پھوٹ گئے۔

لہذا یہ بہتر ہوسکتا ہے کہ اگر آپ (ہمارے شدید مسائل کے علامات کے باوجود) تمام گرانٹس اور معاون پروگراموں کو ایک مختصر پیغام ‘ یہ کام خود ہی کریں’ سے تبدیل کریں۔ جو قوم جوہری بم بناسکتی ہے وہ اپنے بچوں کی حفاظت، اپنی آبادی پر قابو پانے اور اپنے ویب بینرز چلانے کے لئے بھی ایک راہ تلاش کرلےگی۔

ایک بار پھر شکریہ.
نعیم صادق

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20