وہ کہاں گئے —– نعیم الرحمٰن

0

’’وہ کہاں گئے‘‘ دانشور، محقق، شاعر اور ماہر تعلیم مظہر محمود شیرانی کی آخری کتاب ہے۔ مظہر محمود شیرانی اردو ادب کے ایک عظیم ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے شخصی خاکوں کی یہ آخری کتاب ’’زندہ کتابیں‘‘ کے راشد اشرف اور ڈاکٹر پرویز حیدر نے لکھوائی۔ افسوس کتاب کی اشاعت مظہر محمود شیرانی کی زندگی میں نہ ہوسکی۔ وہ بارہ جون دو ہزار بیس کو جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو کوچ کرگئے۔ ’’وہ کہاں گئے ‘‘ میں گیارہ عظیم شخصیات کی قلمی تصویریں بہت خوبصورتی سے پیش کی گئی ہیں۔ اس سے قبل مظہر محمود شیرانی کے شخصی خاکوں کے دو مجموعے ’’بے نشانوں کانشاں‘‘ اور ’’کہاں سے لاؤں انہیں‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔

حافظ محمود شیرانی اور اختر شیرانی کے ناموں سے اردو ادب سے معمولی دلچسپی رکھنے والا کون واقف نہیں ہے۔ والدنے تحقیق کو اپنا اوڑھنا بنایا تو بیٹے نے شاعری کو بچھونا۔ شرافت، خلوص، عزم دونوں ہی کی مشترک صفات رہیں۔ بظاہر دیکھنے میں دونوں الگ الگ دنیاؤں کے مسافر معلوم ہوتے ہیں مگرحقیقت میں دونوں ریت پر ہوا سے مٹ چکے نشانوں کے متلاشی رہے۔ دونوں کی صفات کا پرتو مظہر محمود شیرانی کو وراثت میں ملا۔ دادا حافظ محمود شیرانی کی طرح نا صرف محققانہ طبیعت پائی بلکہ شاعر اختر شیرانی کی شیریں بیانی کا اعجازبھی ان کے حصے میں آیا۔ تاریخ اور فارسی سے لگاؤ کی وجہ سے وہ اجداد سے منتقل ہونے والے علمی، فکری و ادبی تسلسل کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے۔

مظہر محمود شیرانی 9اکتوبر1935ء کو ریاست جودھ پورکے گاؤں شیرانی آباد میں پیداہوئے۔ تاریخ سے دلچسپی انہیں ورثے میں ملی تھی۔ تاریخ میں ایم اے کرنے کے بعد ان کامسکن گورنمنٹ کالج لاہور ٹھہرا۔ اورینٹل کالج سے ان کے خانوادے کاتعلق کاایک زمانہ گواہ ہے۔ انہوں نے اسی ادارے سے فارسی میں ایم اے کیا۔ پہلے گورنمنٹ کالج مظفرگڑھ اور پھر 1963ء میں شیخوپورہ کالج میں آگئے جہاں فارسی پڑھاتے رہے۔ شیخوپورہ میں بیٹھ کر اپنے داداحافظ محمود شیرانی پر پی ایچ ڈی بھی مکمل کرلی اور تحقیق و تالیف کا کام بھی کرتے رہے۔ 1995 ء میں شیخوپورہ کالج سے ہی ریٹائرمنٹ ہوئے۔ 2003ء میں سے اکیاون جلدوں پرمشتمل فارسی لغت کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کشش انہیں دوبارہ گورنمنٹ کالج لاہور کھینچ لائی اور چھہتر سال کی عمرمیں ہفتہ اتوار کے علاوہ ہر روز شیخوپورہ سے لاہور آتے رہے۔ ان کی مطبوعہ کتب میں مقالاتِ حافظ محمود شیرانی کی دس جلدیں، حافظ محمود شیرانی کی علمی و ادبی خدمات دوجلدیں، مکاتیب حافظ محمود شیرانی، حکیم محمود احمد برکاتی کے خاکوں کا مجموعہ ’’جادہء نسیاں‘‘ اور ان کی کتاب ’’مشاہدات فرنگ‘‘ بھی مرتب کی۔ ان سب کے علاوہ مظہر محمود شیرانی بے شمار تحقیقی مقالے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔

شخصی خا کے تحریرکرنے کے بارے میں مظہرمحمود شیرانی کا کہنا ہے۔ ’’مختلف شخصیات پر میری تحریروں کا آغاز محض اتفاقیہ ہوا تھا۔ احمد عقیل روبی شیخوپورہ کالج میں تھے۔ کالج کا رسالہ ’مرغزار‘ ان کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ ان کی فرمائش پر والد مرحوم پرایک مختصر مضمون ’’بھاء جی‘‘ کے عنوان سے سپرد قلم کیا۔ جو کتاب ’’کہاں سے لاؤں انہیں‘‘ میں ’’شعلہء مستعجل‘‘ کے نام سے زیادہ مفصل لکھا۔ پھریہ سلسلہ چل نکلا اور کالج کی ملازمت سے فارغ ہونے والے ساتھی تختہ مشق بنتے رہے۔ پھر دھیان ایسے لوگوں کی طرف گیا جن سے زندگی میں میرا واسطہ رہا اور میں ان سے متاثر ہوا۔ ان میں میرے اساتذہ بھی ہیں اور محسن بھی، مشفق و مہربان بھی ہیں اور دوست بھی۔ ان کی یادیں میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ گمنام لوگوں پر خاکوں کا مجموعہ ’’بے نشانوں کانشاں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ’’کہاں سے لاؤں انہیں ‘‘ میں بارہ معروف شخصیات کے خاکے ہیں۔

انسان اپنی زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملتا ہے، ان میں سے کچھ اپنی گوناگوں صفات یاکسی ایک حدسے بڑھی ہوئی صلاحیت کے باوصف انسانی زندگی میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ہم سب اپنے حلقہ ء اثر میں ایسے لوگوں کاتذکرہ کبھی انتہائی عزت واحترام اور کبھی غم وغصہ سے کرتے ہیں۔ یہی لوگ جب ایک منجھے ہوئے قلم کارکی زندگی میں آتے ہیں تووہ اُن کی جہت درجہت زندگیاں، اُن کی رنگارنگی، خوبیاں، خامیاں، کچھ اس طرح صفحہء قرطاس پر رقم کرتا ہے کہ قاری انہیں بار بار پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ مظہر محمود شیرانی ایک ایسے ہی منجھے ہوئے قلم کارہیں۔ اکابر کے خانوادے کے علمی ورثے سے مالا مال وہ اپنی ذات میں ایسی کتنی ہی رنگینیاں سمیٹے ہوئے ہیں۔

خاکہ نگاری کسی کی آپ بیتی کے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا نام ہے۔ یہ ہرایک کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے اچھے خاکے کم لکھے گئے۔ یہ تصور بھی بالعموم خاکہ نگاروں کے ذہن پر چھایا رہتا ہے کہ خاکہ لکھنے کے لیے ایسے افراد کو چننا چاہئے جو مشہور اور ممتاز ہوں۔ اس طرح کے چناؤ سے کام آسان ہوجاتا ہے۔ مظہر محمود شیرانی، پامال راستوں پرچلنے کے قائل نہیں۔ چنانچہ انہوں نے پہلا مجموعہ ’’بے نشانوں کا نشاں‘‘ میں خاکے لکھے بھی تو ایسے لوگوں کے جو بالکل مشہور نہیں بلکہ اس قدر معمولی ہیں کہ بھیڑ میں شناخت نہ ہوسکیں۔ اس کے لیے جو باریک بینی، ہم دردی اور احترام ِ انسانیت درکار ہے، وہ آج کل نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ اپنے قلم کے جادو سے مظہر محمود شیرانی نے ان بظاہر عام آدمیوں کو اتنا جیتا جاگتا بنادیا ہے کہ جی چاہتاہے کاش ہمیں بھی ان سے ملنے کاشرف حاصل ہوتا۔ مصنف کی شستہ نثر سے، جس میں کہیں کہیں شوخی جھلکتی ہے، یہ خاکے جگمگا اٹھے ہیں۔ انہیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہرانسان، اپنی اپنی جگہ، ایک اسرار ہے جس کے جوہر تک رسائی اسی کی ہوسکتی ہے جو مظہر محمود شیرانی کی نظر رکھتا ہو۔

مظہر محمود شیرانی کے خاکوں کا دوسرے مجموعے’’کہاں سے لاؤں انہیں‘‘ میں بیسویں صدی کی بارہ اہم شخصیات کی حیات کے مختلف اور رنگا رنگ پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب خاکہ در خاکہ گذشتہ صدی کی علمی و فکری تسلسل کی داستان ہے۔ ان تحریروں کو پڑھتے ہوئے قاری جان سکتاہے کہ گذشتہ صدی میں ہمارے ہاں ادبی، سیاسی، تعلیمی اور دانشورانہ سطح پر ہر ہر میدان میں مکالمہ کیسے جاری تھا اور اسے یہ بھی علم ہوگا کہ اس دھرتی نے ایسے ایسے لعل و گہر پیدا کیے جنہیں اختلافات کے ساتھ نباہ کرنا ہی نہیں آتا تھا بلکہ وہ نمودونمائش سے بھی الگ ہی رہے۔

’’وہ کہاں گئے‘‘ میں ’’چند باتیں‘‘ میں راشداشرف بتاتے ہیں۔ ’’ 2018ء میں راقم کی مرتبہ کتاب ’’اردوکے نایاب و کمیاب شخصی خاکے‘‘ دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ میں خاکوں کی تلاش میں مختلف لائبریریوں کی خاک چھان رہا تھا، ہندوستان سے بھی احباب سے کتب و رسائل منگوائے تھے۔ انہی دنوں شیرانی صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے ایک خاکہ ڈاک سے بھیج رہاہوں، دیکھ لیجیے گا، شاید آپ کے کام کا ہو۔ اس سے قبل میں ان کا حکیم نیر واسطی پر لکھا نہایت عمدہ اور معلوماتی خاکہ جلد دوم میں شامل کرچکا تھا جبکہ ڈاکٹر غلام مصطفی خان مرحوم و مغفور پر ان کا خاکہ ’’حیرت کدہ‘‘ میں شامل ہوا تھا۔ شیرانی صاحب کا ارسال کردہ خاکہ پڑھا تو دم بخود رہ گیا۔ جی ہاں، اسے پڑھ کرطبیعت پرکچھ ایسا ہی اثر ہوا تھا۔ اور وہ اثرآج تک قائم ہے۔ خاکہ نگار ابوتمیم فریدآبادی (برادر سید مُطلبی فریدآبادی) تھے اور مذکورہ خاکہ ان کے چھوٹے ماموں نواب ضمیرالدین احمدخاں کا تھا۔ یہ خاکہ جلداول میں شامل ہے۔ راقم کی خواہش تھی کہ شیرانی صاحب کی کوئی کتاب ’’زندہ کتابیں‘‘ شائع ہو۔ نگاہ انتخاب ان کی کتاب ’’کہاں سے لاؤں انہیں‘‘ پر پڑی۔ وہ راضی ہوگئے مگر اسی دوران ان کو اطلاع ملی کہ کتاب کے سابقہ ناشر اس کی اشاعت ثانی کی تیاری کر رہے ہیں۔ بات ختم ہوگئی مگر خواہش ختم نہ ہوئی۔ خیال تھا کہ بطور تبرک چندتازہ خاکے ان سے لکھوائے جائیں۔ خوش قسمتی سے شیرانی صاحب اس پر رضامند ہوگئے۔ اسی دوران راقم، ڈاکٹر پرویز حیدر کا رابطہ شیرانی صاحب سے کروا چکا تھا۔ شیرانی صاحب نے چند خاکے لکھے۔ 2019ء میں وہ حسبِ سابق سوات چلے گئے اور وہاں انہوں نے بقیہ خاکے لکھ کر کام مکمل کردیا اور یوں سوا برس کی محنت کے بعد یہ کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ افسوس 12جون کو ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی انتقال کرگئے۔ کتاب اشاعت کے لیے بالکل تیار تھی، صرف ڈاکٹر صاحب کے ایک صفحے پر مشتمل تعارفی مضمون کا انتظار تھا۔ میری شدید خواہش تھی کہ یہ کتاب ان کی زند گی میں شائع ہوتی۔ کتاب تو آگئی مگر دل کی کلی جواس موقع پر کھلنی تھی، وہ نہ کھلی۔‘‘

’’وہ کہاں گئے‘‘ میں صرف گیارہ خاکے ہیں۔ لیکن ایک سے بڑھ کر ایک۔ کتنے صاف دل لوگ تھے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحب کو خط ڈال دیا تو انہوں نے ان کو کریکٹر سرٹیفیکٹ بھیج دیا۔ اب ایک سول جج صاحب سے بھی اگر رابطہ کر دیں تو کریکٹر سرٹیفیکٹ تو نہیں لیکن توہین عدالت کا نوٹس آجائے گا۔ کتاب کا نام خورشید رضوی کے اشعارسے لیا گیا ہے۔

وہ جو لوگ اہلِ کمال تھے وہ کہاں گئے وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے
مرے دل میں رہ گئی صرف حیرت آئینہ وہ جونقش تھے خدوخال تھے وہ کہاں گئے
گری آسماں سے توخاک خاک میںآملی کبھی خاک میں پر وپال تھے وہ کہاں گئے

کتاب کاپہلا خاکہ ’’فرد فرید‘‘ انڈین سول سروس کے انتہائی اہم افسر شیخ محمد اکرام مرحوم کی ذات گرامی کے بارے میں ہے۔ جن کی انتظامی صلاحیتوں سے پاکستان کو بھی بہت فائدہ پہنچا۔ اکرام صاحب نے تحقیق و تالیف پر بھی کماحقہ توجہ دی۔ انہوں نے برعظیم کی تاریخ، معاشرت، جغرافیہ، لسانیات اور اہم شخصیات کے موضوعات پر قابل قدر تالیفات یادگار چھوڑیں۔ مسلمانان ہند کی معاشرت اور تمدن پر ان کی تین کتابیں ’’آبِ کوثر‘‘، ’’رودِ کوثر‘‘ اور ’’موجِ کوثر‘‘ ہر دور میں بیسٹ سیلر رہیں اور اپنے موضوع پرحرف ِ آخر کا مقام رکھتی ہیں۔ ان کی دو اور کتابیں ’’شبلی نامہ‘‘ اور ’’غالب نامہ‘‘ کابھی اپنامقام ہے۔ اکرام صاحب کو اردو، انگریزی اور فارسی زبانوں پر پورا عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اپنی تحقیقات کے بیشترنتائج اردومیں پیش کیے۔ متعدد علمی شخصیات کے ثقافتِ پاکستان کے موضوع پر انگریزی مضامین کا مجموعہ، پروفیسرپرسیول اسپنسرکے اشتراک سے کتاب ’’کلچرل ہیریٹیج آف پاکستان‘‘ برعظیم کے فارسی شعرا کے کلام کا عمدہ انتخاب’’ارمغان پاک‘‘ کے نام سے منظر عام پرآیا۔ شیخ محمداکرام صاحب جس پائے کی شخصیت تھے، حیران کن طور پران کے بارے میں بہت کم لکھا گیا۔ یہ خاکہ ان کے بارے میں بہت سی معلومات فراہم کرتا ہے۔

مظہر محمود شیرانی کو قطعہ تاریخ وفات کہنے پربھی عبور حاصل ہے۔ ان کے بیشتر خاکوں کا اختتام مذکورہ شخصیت کے قطعہ تاریخ وفات پر ہوا ہے۔

جسٹس ایس اے رحمٰن کے خاکے کا عنوان ’’عمیم الاحسان‘‘ ہے۔ ’’ہماری عدلیہ کے اعلیٰ مراتب پر فائز افراد میں دو اشخاص شعروادب کے دائرے میں بھی معروف ہوئے۔ میری مراد جسٹس ایم آرکیانی اور جسٹس ایس اے رحمٰن سے ہے۔ کیانی صاحب نثر بالخصوص طنزومزاح کے مردِ میدان تھے اور رحمان صاحب سخن سرائی کے دلدادہ۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ان دونوں نے اپنی قلمی کاوشوں کا آغاز، اختر شیرانی کے زیرِادارت نکلنے والے رسالے ’’رومان ‘‘ سے کیا تھا۔ کیانی صاحب کا پہلا مضمون ’’لاھل کے متعلق گف شف‘‘ رومان کے اگست 1937کے پرچے میں چھپا تھا۔ لاھل، ضلع کانگڑہ کی تحصیل میں ایک علاقے کانام ہے۔ اس کے مقابلے میں رحمان صاحب کی اردواور فارسی منظومات نیز انگریزی نظموں کے منظوم اردو تراجم تو رومان کے اکثر پرچوں میں دکھائی دیتے تھے۔ بلکہ رومان بند ہونے کے بعد جب اختر شیرانی ’’شاہکار‘‘ کے مدیر ہوئے تویہ سلسلہ اس میں بھی جاری رہا۔ تحریک پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے سے گزرنے اور پھر اس نئی مملکت کے قیام کے نتیجے میں رحمان صاحب نے روایتی شاعری سے دستکش ہوکر اپنی توجہ قومی شاعری کی طرف مبذول کرلی تھی۔‘‘

اس دلچسپ اورچشم کشاخاکے سے جسٹس ایس اے رحمٰن کے بارے میں کئی نئے اورچونکادینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ ’’پیر صاحب‘‘پیرحسام الدین راشدی کاخاکہ ہے۔ جوسندھ کے معروف سیاستدان پیرعلی محمدراشدی کے چھوٹے بھائی تھے۔ پیرحسام الدین راشدی کے گاؤں کانام بہمن تھا، یہ خاندان اپنے جداعلیٰ پیرمحمدراشدشاہ کی نسبت سے راشدی کہلاتا ہے۔ بہمن میں ان کی وسیع وعریض ارا ضی اورآبائی کتب خانہ تھا۔ ان کے والدسیدحامد شاہ راشدی کو مطالعہ کاذوق تھا۔ یہی ذوق پیرحسام الدین کوورثہ میں ملا۔ ان کی تعلیم اگلے دور کے شرفا کے دستورکے مطابق متعدد اساتذہ کے ذریعے گھرپرہوئیتھی۔ کسی تعلیمی ادارے سے انہوں نے کوئی کاغذی سند حاصل نہیں کی تھی۔ لیکن بھرپور مطالعہ کی بدولت قلم تھام کراتناعلمی، ادبی، تاریخی اورتہذیبی کام انجام دیاکہ آج بزم علم وفضل میں ان کانام ماہِ منیر کی طرح تاباں ہے۔ قلمی زندگی کاآغازانہوں نے برادرِ بزرگ علی محمدراشدی کی معیت میں صحافت سے کیاتھا۔ پھربڑے بھائی سیاست کے خارزار میں نکل گئے اوریہ تحقیق کے بیستون میں تیشہ زنی کرنے لگے۔ فارسی سے انہیں خاص شغف تھا اورسندھ کی تاریخ اورآثارِقدیمہ ان کے پسند یدہ موضوعات تھے۔ اس کنج کاوی میں کے نتیجے میں ان کی کوئی دو درجن فارسی، درجن بھرسندھی اورچنداردوکتابیں منظرعام پرآئیں۔ سینکڑوں سندھی، اردو اورفارسی مضامین اس پر مسترادہیں۔ یہی نہیں وہ بیسویں علمی، ادبی اورسماجی اداروں کے بانی، عہدیداریارکن بھی تھے۔

’’وہ کہاں گئے‘‘میں ایک عمدہ خاکہ ’’دریتیم‘‘ مظہر محمود شیرانی کے رشتے کے چچا جمیل الرحمٰن خاں شیرانی کاہے۔ ’’جمیل چچا میرے داداجان کے سوتیلے بھانجے تھے۔ ان کے والد سراج الرحمٰن شیرانی جوابی میں وفات پاگئے اور یہ اپنے والد کی وفات کے دو ماہ بعد پیداہوئے تھے ان کے دو بڑے بھائی فضل الرحمٰن اور عزیرالرحمٰن اور ایک بہن تھیں۔ جمیل چچا کی ولادت عید میلادالنبی کے دن ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم ٹونک ہی میں پائی۔ پھر بڑے بھائی فضل الرحمٰن کے پاس آگئے جو محکمہ تعلیم پنجاب میں اورینٹل ٹیچر تھے۔ وہ ایک ہونہار طالب علم ہونے کے ساتھ ایک بذلہ سنج اور خوش مزاج نوجوان تھے۔ امپیریل فارسٹ کالج سے فاریسٹ آفیسرکی ڈگری لینے کے بعد مختصر عرصہ انہوں نے ٹونک کے محکمہ جنگلات میں کام کیا اور پھر انہیں جوناگڑھ میں رینج فاریسٹ آفیسرکی ملازمت مل گئی۔ جمیل چچا اپنی فرض شناسی، دیانت داری اور ملن ساری کی بنا پر جونا گڑھ میں بڑے مقبول اور نیک نام تھے۔ جلدہی ترقی کرکے ڈویژنل فاریسٹ آفیسر ہوگئے۔ قیام پاکستان کے وقت وہ ڈپٹی چیف فاریسٹ آفیسرکے عہدے پر متعین تھے۔ آزادی کا اعلان ہونے کے بعد پاکستان آگئے۔ یہاں انٹرویو میں پوچھا گیا کہ وہ پاکستان کے کس علاقے میں ملازمت کرنا پسندکریں گے؟ تو انہوں نے بلوچستان کا نام لیا۔ سبب پوچھا گیا تو جواب دیا کہ ہمارا قبیلہ شیرانی شمالی بلوچستان کے ضلع ژوب میں آبادہے۔ چنانچہ ان کا تقرر بطور سینئر ڈویژنل فاریسٹ آفیسر، بلوچستان میں کردیا گیا۔‘‘

خورشید احمد خان یوسفی کے خاکے کو مظہر محمود شیرانی نے ’’ہر فن مولا‘‘ کا نام دیا ہے۔ ’’پاکستان اور قائداعظم کے پروانے تو بہت ہیں لیکن خور شید احمد خان جیسے سوختہ جاں کم ہوں گے۔ یہ محبت ان کا جزو ایمان تھی۔ اپنے بچوں سے ہر شخص محبت کرتاہے اور وہ مرحوم بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھے یہاں تک کہ اپنی بعض کتابیں بھی بچوں کے نام معنون کیں لیکن ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ دورانِ گفتگو میری موجودگی میں ان کے ایک فرزند کی زبان سے قائداعظم کے بارے میں ذرا غیر محتاط الفاظ نکل گئے۔ ان کے چہرے کارنگ ایک دم بدل گیا۔ روہانسے ہوگئے۔ مجھ سے مخاطب ہوکربڑے کرب کے ساتھ کہا ’اسے روک لیجئے ورنہ میں اسے ماربیٹھوں گا۔‘ تحریکِ پاکستان میں اسلامیہ کالج لاہور کا کردار بھی بڑا اہم رہا ہے۔ پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیادبھی اسی کالج کے طلبا نے رکھی تھی۔ اس کے بانی ارکان میں عبدالستارنیازی، حمید نظامی، عبدالسلام خورشید، میاں محمد شفیع، شیخ انوارالحق اور ذکی الدین پال کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی کا تعلق بھی اسی کالج سے رہا ہے۔ خورشید صاحب بھی اسی کالج کے سرگرم طالب علم رہے۔ 1945-46ء کے الیکشن میں خورشید احمدخان نے الیکشن ڈائریکٹوریٹ کے آفس انچارج کے فرائض انجام دیے۔‘‘

کتاب کے دیگر خاکے بھی انتہائی دلچسپ اور معلومات افزاہیں۔ جن میں سید منظورالحسن برکاتی کا خاکہ ’’داستاں سرائے عہد گل ‘‘سردار عبد ا لحمیدنکئی’’ سیاست میں شرافت کی علامت‘‘ ڈاکٹر عبدالشکور احسن ’’ میاں صاحب‘‘ حکیم سید محمود احمد برکاتی ’’تہذیبِ مجسم‘‘ اور ابوالامتیاز ع سن مسلم کے خاکے کا عنوان ’’اسم بامسمیٰ‘‘ ہے۔ اوران عنوانات سے ہی مذکورہ شخصیت کے خدوخال واضح ہوجاتے ہیں۔ مظہر محمود شیرانی کا شمار تحقیق اور ماہر تعلیم کے ساتھ اردو کے اہم خاکہ نگاروں میں کیا جائے گا اور ان کے خاکوں کی تینوں کتابیں ہمیشہ سراہی جائیں گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20