شاہِ کراچی: عبداللہ شاہ غازی کو شہرِ کراچی کا سلام —- نادیہ ندیم

0

اللہ پاک نے انسان کو قبیلوں اور خاندانوں میں پیدا فرمایا یوں حسب نسب پہچان بنا پھر انسان نے اپنی طبیعت و میلان کے مطابق نسبتیں اختیار کی۔ نسبتیں جہاں انسان کی پہچان کا سبب ہیں وہیں معتبر ہونے کا ذریعہ بھی بشرط یہ کہ انسان جس سے خود کو منسوب کرے اس پر تفاخر کے بجاۓ اس کے کردار و تعلیمات کو من وعن تسلیم کرتے ہوٸے باعمل رہے تاکہ نسبت کا حق ادا ہو اور اعتبار بنا رہے۔

انسان کی طرح ملکوں شہروں کی بھی اپنی بنیاد اور پہچان اور نسبت ہے پاکستان کو مدینہ ثانی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ ریاست ہے جس کی بنیاد دینِ اسلام سے جُڑی ہے اسی طرح شہرِ کراچی ان خوش قسمت شہروں میں سے ہے جس کا چمن خانوادہ رسالت کے گلاب سے ١٢٩٠ سال سے مہک رہا ہے اور جس شہر کے سر پر قصرِ مدینہ کا مقدس نور بخش فانوس آج بھی روشن ہے یہ وہ ہستی ہیں جنہیں ہم ”شاہِ کراچی حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ“ کے نام سے جانتے ہیں۔

آج آپ کا یومِ وصال ہے اس سلسلے میں آپ کا تذکرہ اہلِ محبت کی نذر ہے۔

عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ، امام حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حسن مثنی کے پوتے امام محمد نفس الزکیہ کے صاحب زادے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ابو محمد عبد اللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض بن حسن مثنی بن امام حسن بن علی بن ابی طالب ہے۔

حضرت حسن مثنی کی شادی فاطمہ کبری بنت امام حسین ابن علی سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

720ء 98ھ میں مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی۔ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد حضرت سید محمد نفس ذکیہ نے کی۔ حضرت نفس ذکیہ کا شمار محدثین میں ہوتا ہے۔ ابھی حضرت عبداللہ شاہ غازی تعلیم حاصل کر ہی رہے تھے کہ بنو امیہ کی حکومت کا وقتِ زوال آگیا پورا ملک انتشار کا شکار ہوگیا۔ تب خلافت عباسی کا دور شروع ہوا۔ حضرت نفس ذکیہ نے 138ھ میں عباسیوں کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور اپنی دعوتِ خلافت تحریک مدینہ منورہ سے شروع کی۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے بھی آپ کی تحریک کا بھرپور ساتھ دیا، حضرت سید محمد نفس ذکیہ نے اپنے بھائی ابراہیم کو بصرہ جب کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی کو سندھ جانے کا حکم دیا۔

آپ خلیفہ منصور کے دور میں 760ء 138ھ سندھ تشریف لائے۔ شیخ ابو تراب نے اپنی تصنیف تحفتہ الکریم میں سندھ میں أپ کی موجودگی خلیفہ ہارون رشید کے دور سے منسوب کی ہے۔

آپ کی سندھ آمد کے باب میں درج ہے کہ آپ تبلیغ اسلام کیلئے علوم خلافت کے نقیب کی حیثیت سےتاجر کے روپ میں آئے۔ تاجر اس لئے کہا گیا کہ آپ جب سندھ آئے تو اپنے ساتھ کثیر تعداد میں گھوڑے بھی لائے تھے۔ آپ نے یہ گھوڑے اپنے کم و بیش بیس مریدوں کے ہمراہ کوفہ اور عراق سے خریدے تھے۔ آپ کی آمد پر یہاں کے مقامی لوگوں نے آپ کو خوش آمدید کہا اور خاندانِ سادات کی ایک شخصیت کو اپنے درمیان پاکر بہت عزت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور عقیدت کا اظہار کیا۔ آپ بارہ برس تک اسلام کی تبلیغ میں سرگرداں رہے اور مقامی آبادی کے سینکڑوں لوگوں کو مشرف با اسلام کیا۔

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے سندھ قیام کے دوران خلافت عبا سیہ کے دور 145ھ میں آپ کے والد حضرت سید محمد نفس ذکیہ 15 رمضان المبارک کو مدینہ منورہ میں اور اسی سال آپ کے چچا حضرت ابراہیم بن عبداللہ 25 ذیقعد کو بصرہ میں شہید کردیئے گئے۔

ان کی شہادت کے بعد عباسی خلیفہ منصور نے آپ کی گرفتاری کے احکامات بھی صادر کئے۔ حضرت حفص بن عمر گورنر سندھ آپ کی گرفتاری کے معاملے کو مسلسل ٹالتے رہے۔

گورنر سندھ حضرت حفص نے اپنی محبت، عقیدت اور سادات سے لگاؤ اور بیعت کرلینے کے بعد آپ کو بحفاظت ایک ساحلی ریاست بھیج کر وہاں کے ہندو راجہ کو آپ کی میزبانی عطا کی۔ یہ راجہ اسلامی حکومت کا اطاعت گزار تھا۔ اس نے آپ کی آمد پر آپ کو انتہائی محبت و عقیدت کے جذبے سے خوش آمدید کہا۔ آپ چار سال ہندو راجہ کے مہمان رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے پہلے کی طرح اسلام کی تبلیغ جاری رکھی اور سینکڑوں لوگوں کو اسلام سے روشناس کرایا ہندو راجہ نے بھی آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کردی۔ جن سے آپ کے ایک صاحبزادے ہوئے جن کا نام محمد ابوالحسن مشہور ہے۔ آپ نے ساری زندگی دین متین کی خدمت کی۔ لاتعداد عقیدت مندوں نے مریدین بن کر آپ کی معیت اختیار کی۔ سندھ کی بنجر زمین میں سب سے پہلے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ نے ہی دینِ اسلام کا بیج بویا اس کی آبیاری کی اور محبت، اخوت، بردباری اور ایمان کی زرخیزی بخشی۔

خلیفہ منصور حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے روز بروز بڑھتے ہوئے معتقدین کے سبب انہیں خلافت عباسیہ کے لئے ایک خطرہ سمجھ رہا تھا۔ لہذا اُس نے 151ھ میں عمر بن حفض کو سندھ کی گورنری سے ہٹا کر اُن کی جگہ ہشام بن عمر کو گورنر مقرر کردیا اور نئے گورنر کو حکم دیا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کو گرفتار کرکے بغداد بھیجے۔ نئے گورنر نے بھی سادات کی محبت کے سبب پس و پیش سے کام لیا، لہذا اُس نے بھی گرفتاری سے اجتناب برتا۔

آپ کا وصال باکمال 20 ذوالحجہ150 ہجری میں ہوا ایک قول کے مطابق آپ کو خلیفہ منصور نے شہید کروایا۔

آپ کے ساتھیوں نے سمندر کے نزدیک پہاڑی پر آپ کی تدفین کی آپ کا مزار۱۲۹۰ سال سے مرجع خلائق ہے جہاں آج بھی آپ کا فیض جاری ہے۔ اور ہر سال ۲۰۔ ۲۱۔ ۲۲ ذی الحج کو آپ کا عرس انتہائی عقیدت و محبت سے منایا جاتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20