اقبال اور منیر نیازی کے تصور کا پاکستان — ڈاکٹر غلام شبیر

1

خشونت سنگھ نے کہا تھا تقسیم سے قبل مسلمان ایک قوم تھے جنہیں ایک ریاست کی تلاش تھی، آج پاکستان کے نام سے ریاست تو موجود ہے، مگر اسے ایک قوم کی تلاش ہے۔ پھر ایک لایزال جملہ کہا کہ مسلمانو! تم یہاں اس لیے جوتے کھا رہے ہو کہ تم کہتے ہو ہم مسلمان ہیں اور آخرت میں اس لیے جوتے کھائو گے کہ تم مسلمان نہیں تھے۔

قومیں آزادی کے بعد پھلتی پھولتی ہیں، مگر پاکستان ہے کہ پھپھوندتا چلا جارہا ہے۔ سات عشرے کسی آزاد قوم کا قبلہ درست ہونے کیلئے کافی ہوتے ہیں، ایک ہم ہیں کہ الجھتے جارہے ہیں اس عورت کی طرح جس نے عمر بھر کاتا اور بڑھاپے میں ادھیڑ نے بیٹھ گئی۔ ہم نے جو کچھ تحریک آزادی کے دوران کاتا تھا آزادی کے بعد رقیب کی نذر کرتے چلے گئے۔ آج تک یہ نہیں طے کرسکے کہ اقبال اور جناح کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ سیکولر یا اسلامی؟ جدید جمہوری ریاست یا کسی طالع آزما کا اکھاڑہ؟ قرآن و پیمبر کا نظام عدل یا سیکولر قانون کا بے ہنگم سا کیک جس پر تھوڑی سی اسلام کی کریم چھڑکی ہوئی ہو۔ اپنی زبان، تاریخ، اقدار، کلچر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی پالیسی یا غیر سے مستعار سیکولر نظام تعلیم۔

جہاں تک ہمارے قومی نصاب تعلیم کا تعلق ہے اس کا مرکز و محور (nucleus) ہندو دشمنی ہے۔ ہمارا گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ جسے نصاب سے ہٹ کر پڑھنے یا سمجھنے کی کبھی توفیق نہ ہوئی ہو اس بات کو جزو ایمان سمھتا ہے کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندو اکثریت مسلمانوں کو دبوچنے کے درپے تھی تا آنکہ اقبال نے ایک آزاد مسلم ریاست کا خواب دیکھا جسے جناح نے تعبیر کیا اور ہم ڈائنوسارز کی طرح مخدوش ہونے سے بچ گئے۔ یہی حال اسکول اساتذہ اور جامعات کی فیکلٹی کا ہے۔ ذرا سوچئے کہ قومی نصاب تعلیم کا یہ “بیانیہ” کس کے مفادات کا محافظ ہے، پھر اس بیانیے کو اقبال اور قائد اعظم کے سیاق و سباق سے محروم بیانات داغ کر مضبوط بنایا جاتا ہے۔ جون صاحب یاد آئے جنہوں نے اپنی موت کو تصور میں لاکر کہا تھا “آج وہ مرگیا جو تھاہی نہیں”۔ سلجوقوں، صفویوں اور عثمانیوں کے نظام و نصاب تعلیم کا مطالعہ کیجئے اول و آخر مقتدر قوتوں کے مفادات کا تحفظ نظر آئے گا۔ یہی کیا آپ دوسری، تیسری اور چوتھی صدی ہجری یعنی چار صدیوں کی محنت شاقہ سے ترتیب پانے والا ہمارا علم الٰہیات، فقہ، تفسیر، شریعہ، تمدن چغلی کھا رہا ہے کہ ان میں قرآن و پیغمبر کے حقیقی مدعا کو مقتدر طبقے کے مفادات پر قربان کیا گیا ہے۔ تو بھلا اقبال اور جناح کی کیوں نہ تراش خراش ہوتی۔

نثر سے تو نہیں البتہ اقبال کی شاعری سے یہ پیغام کشید کیا جاتا ہے کہ تلوار لیکر نکلو اور پوری دنیا پرچھا جائو! ہم نے چاہا کہ اقبال کے تصور پاکستان کا حقیقی مدعا آپ کے سامنے رکھا جائے جو ان کے فلسفہ شرق و غرب کے مطالعے کا نچوڑ ہے اور یہی گہرائی و گیرائی اور رعنائی منیر نیازی کے ہاں ملتی ہے۔ 1921 میں اسرار خودی کے مترجم ڈاکٹر نکلسن کو اقبال ایک خط میں لکھتے ہیں:

“مجھے یقین کامل ہے کہ کشور کشائی اسلام کے حقیقی نصب العین کا حصہ نہ تھی، درحقیقت علاقائی فتوحات اور ملک گیری نے اسلام کو نقصان پہنچایا۔ کشور کشائی کے اس دھن کے باعث سوسائٹی کی اقتصادی اور جمہوری تنظیم کے وہ اصول بروئے کار نہ آسکے جو قرآن کریم اور احادیث نبوی میں یہاں وہاں روشن ہیں۔ بلاشبہ فتوحات کی بدولت مسلمان ایک عظیم سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر ساتھ ہی ان کے سیاسی نظریات بڑی حد تک جاہلیت کے سانچوں میں ڈھل گئے اور ان کی نگاہیں اسلام کے اہم ترین امکانات سے ہٹ گئیں”

اقبال کہتے ہیں کہ اسلام میں ملوکیت در آنے سے الارض للہ، حرف قل العفوا، لاقیصر ولا کسریٰ اور قاہری و درویشی کی یکجائی کے بنیادی عناصراس کے nucleus سے چرا لیے گئے، یوں اسلام تو رخصت ہوا رہ گئی عرب استعماریت (Arabian imperialism) جسے مودودی صاحب جاہلیت خالصہ کہتے ہیں۔ اقبال اس پس منظر میں ایک آزاد مسلم ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں

“اس لیے میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہوں جو بھارت اور اسلام دونوں کے بہترین مفاد میں ہے۔ اس سے بھارت کو اندرونی طور پر طاقت کے توازن سے سلامتی اور امن نصیب ہوگا، اور اسلام کو اس کے حقیقی قانون، تعلیم اور کلچر کی آبیاری سے عرب استعماریت کی چھاپ سے نجات ملے گی اور یہ اپنی حقیقی روح کی طرف لوٹ سکے گاـ”

اقبال کا یہ یقین کامل تھا کہ اسلام کو اگرخاص خطے میں اپنے حقیقی نفاذ کا موقع ملے تو اسے جہاد تو کیا شاید تبلیغی سرگرمیوں کی ضرورت بھی نہ پڑے۔

کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار انتظار حسین کیساتھ انٹرویو میں منیر نیازی نے کیا۔

“بعض لوگ کہتے ہیں ہم نے ہندو کے خوف سے پاکستان بنایا۔ ہرگز نہیں۔ ہم برصغیر میں ایک مثالی شہر بسانا چاہتے تھے۔ ایسا کہ اس کی خوشبو پورے برصغیر میں پھیلے۔ میں کسی سے نفرت نہیں کرتا۔ میں ان لوگوں سے بھی نفرت نہیں کرتا جن کے ہاتھوں تقسیم ہند کے وقت میرا خاندان زخمی ہوا۔۔۔ ہم نے غیر سے جو نفرت پالی تھی اس کی ادھر نکاسی نہیں ہوئی۔ اب خود پر خرچ ہو رہی ہے”۔

اپنی شاعری میں جابجا تنہائی کے کرب میں ایک نیا شہر بسانے کی خواہش کیوں کرتے ہو؟ منیر نیازی نے جواب دیا

“سارے تنہا آدمی بہت رونق چاہتے تھے، تنہا آدمی کا یہی تو المیہ ہے کہ وہ کان نمک میں جا کر نمک نہیں بن سکتا۔ وہ آبادی کیلئے، رونق کیلئے روتا ہے، پھر وہ کسی برگد کے تلے، کسی غارمیں بیٹھ کر سوچتا ہے کہ رونق کیسے پیدا کی جائے، کیسی بستی بنائی جائے”۔۔۔ مجھ میں نیا شہر بسانے کی خواہش پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوئی۔ شہر کو چھوڑا تو ایک نیا شہر آباد کرنے کا خیال آیا اور ایک خدا پرست معاشرے میں شہرکے تصور کی حدیں آسمان سے ملتی ہیں میرے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان ایک خوبصورت دین کی طرح پھیلے گاـ”

اپنا تصور آدمیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں

“میں چنگیز خاں (ڈکٹیٹر) کی طرح کا آدمی نہیں چاہتا، ایسے خدا پرست لوگ دیکھنا چاہتا ہوں جن کے ہاں جمال اتنا ہو کہ خبیث قوتیں اس کے رعب میں آجائیں۔ میں شیلے کی طرح اپنی شاعری سے ایسے لوگ اسمبلیوں میں بھیجنا چاہتا ہوں جو ظالمانہ قوانین بنا ہی نہ سکیں۔

اقبال کو جب ایسا شہریا بستی بستی دکھائی نہ دی تو کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دینے کی بات کرتے ہیں، جس سے کسان کو روزی میسر نہ ہو اس کے ہر خوشہ گندم کو جلا دینے کی بات کرتے ہیں، خالق و مخلوق کے درمیان حائل پردوں کو ہٹانے کیلئے پیران کلیسا کو کلیسا سے باہرنکال پھینکنے کی بات کرتے ہوئے دیروحرم کے چراغ بجھا دینے کا مشورہ دیتے ہیں اور سنگ مرمرکی سلوں سے بیزار ہوکر مٹی کا حرم بنانے کی بات کرتے ہیں، ہر نقش کہن کو مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ مگر منیر نیازی کو جب اپنے خوابوں کا شہر (پاکستان) بستا دکھائی نہیں دیتا تو اس کا غصہ اقبال سے بھی بڑھ جاتاہے، ظالمانہ معاشرت سے نفرت کا یہ عالم ہو جاتا ہے تو لکھتے ہیں

اس شہر سنگدل کو جلادینا چاہئے
پھراس کی خاک کو بھی اڑادینا چاہئے
ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمیں پراٹھا دینا چاہئے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. فیصل معروف on

    بہت ہی منفرد اور نئے زاویے سی حقیقی روح کو کھنگالا آپ نے. اور سب سے بہترین کہ آپ نے فقہ کو بھی دیکھا اس میں کہ ہم نے مذہب کو بھی مفادات کے لیے استعمال کیا اور جو بڑے لوگ ایک فلاحی ریاست کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے اور عرب امپیریلازم سے نکال کر اسلام کی حقیقی روح کو پروان چڑھتا دیکھنا چاہتے تھے وہ بھی اس جاہلیت سے کتنا مایوس یوئے.
    بہت اعلی کاوش. اللہ پاک قلم کو اور طاقت بخشے

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20