احتساب کا ایجنڈا ناکام کیوں ہے؟ —- سلمان عابد

0

پاکستان کی سیاسی یا فوجی حکمرانی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اس میں احتساب کا عمل ہمیشہ سے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ریاست اور حکمران طبقہ اس احتساب کے نعرہ کو بنیاد بنا کر نہ صرف اپنے اقتدار کے کھیل کو مضبوط کرتا رہا بلکہ اسے ہتھیار کو عملی طور پر سیاسی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں احتساب کی شدید ضرورت کے باوجود احتساب کا عمل اپنی سیاسی ساکھ اور شفافیت کے عمل کو برقرار نہی رکھ سکا۔ حالیہ دنوں میں نیب پر شدید تنقید ہورہی ہے اور اس حز ب اختلاف کی سیاسی جماعتوں سمیت میڈیا میں موجود اہل دانش کی بھی ایک بڑی تعداد نیب کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کے بقول نیب اپنی شفافیت ختم کرچکا ہے اور اس کی موجودگی احتساب سے زیادہ سیاسی انتقام پر ہے۔

نیب کی ساکھ، صلاحیت اور کارکردگی پر یقینی طور پر سخت سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ نیب کی کارکردگی وہ کارکردگی نہیں جو قوم عملی طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ جنرل مشرف کا دور ہو یا زرداری یا نواز شریف کا دور ہے تمام سیاسی اور فوجی ادوار میں نیب کو یقینی طور پر نہ صرف کمزور رکھا گیا بلکہ اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ آج کی موجودہ حزب اختلاف نیب کو حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا باہمی گٹھ جوڑ کے طور پر دیکھتی ہے۔ ایک سیاسی نعرہ باربار نیب اور عمران نیازی گٹھ جوڑ کا لگایا جاتا ہے۔ الزام یہ ہے کہ اس وقت حزب اختلاف کے جو لوگ بھی نیب کے حوالے سے زیر عتاب ہیں اس کی وجہ عمران خان کی سیاسی دشمنی کا ایجنڈا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ سب کچھ عمران خان کی حمایت یا ایما کے ساتھ ہورہا ہے تو کیونکر سیاسی مخالفین کے خلاف احتساب کا عمل مکمل نہیں ہو رہا۔ کیونکہ بیشتر لوگ تو عدلیہ کی مدد سے اپنے خلاف نیب کے مقدمات میں ضمانتوں کی صورت میں ریلیف لے چکے ہیں یا نیب کسی کے خلاف بھی کوئی بڑا واضح احتساب کا عمل کو ممکن نہیں بناسکی۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میثاق جمہوریت میں اپنے وعدے کے باوجود نہ تو نیب کو ختم کرسکی اور نہ ہی کوئی متبادل احتساب کا نظام پیش کرسکی۔ بدقسمتی سے دونوں جماعتوں نے عملی طو رپر احتساب پر سیاسی سمجھوتہ کیا اور چیرمین نیب کی تقرری کے معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ سازباز کرکے احتساب کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی ددس سالہ حکومت میں کوئی بھی ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے کے باوجود کسی بھی شکل میں احتساب کے عمل کو ممکن نہیں بناسکی۔ اسی طرح ان دونوں جماعتوں نے نیب کے معاملات میں کوئی ایسی ترمیم کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جو اس ادارے میں موجود خامیوں کو کم کرنے یا ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتی۔

موجودہ تحریک انصاف کی حکومت کا بھی احتساب کے پرزور نعرے یاسمجھوتہ نہ کرنے کے دعووں کے باوجود ابھی تک احتساب کے عمل میں وہ کچھ نہ کرسکی جس کا دعوی کیا جاتا تھا۔ تحریک انصاف میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو روائتی سیاست کے حامی ہیں۔ یہ طبقہ عمران خان کو یہ ہی مشورہ دیتا ہے کہ ہمیں احتساب کے عمل کو وقتی طور پر بھول جانا چاہیے۔ کیونکہ اس عمل سے ایک تو ان کی اپنی جماعت سمیت اتحادی بھی ناراض ہونگے اور دوسرا عددی تعداد میں کمی کی وجہ سے ان کی حکومت کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس لیے مسئلہ حزب اختلاف کی جماعتیں ہی نہیں بلکہ حکومت کے اندر بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کا احتساب بھی متنازعہ بن گیا ہے۔ خاص طو رپر جب حکومت میں شامل لوگوں کا احتساب نہیں ہوگا تو اس کا فائدہ حزب اختلاف اٹھائے گی۔ یہ بیانیہ تقویت حاصل کرے گا کہ عمران خان حکومت کا احتساب کا عمل بھی محض سیاسی مخالفین تک ہی محدود ہے۔

مسئلہ نیب کا نہیں بلکہ احتساب کے نظام سے ہی فراریت کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیب سے پہلے کون سا اس ملک میں احتساب ہورہا تھا جو ہم نیب کو ہی بحران کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اصل میں ہماری سیاسی ترجیحات میں ہی احتساب نہیں۔ یہاں احتساب کے حوالہ سے کئی سیاسی سمیت انتظامی اور قانونی مغالطے موجود ہیں۔ کوئی جمہوریت کا سہارا لیتا ہے تو کوئی عدالتی نظام کا رونا روتا ہے۔ اسی طرح کہیں معیشت کی بربادی کو بنیاد بنایا جاتا ہے اور کہیں سیاسی استحکا م کو رونا رو کر احتساب کے عمل سے ڈرایا جاتا ہے۔ مسئلہ نیب کا نہیں آپ نیب کو آج ختم کردیں مگر کیا واقعی ہم متبادل کے طور پر ایک مضبوط اور خود مختار احتساب کا نظام بنانے کے لیے تیار ہیں تو جوا ب اس کا نفی میں ملتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادتیں یا ریاستی ادارے احتساب کے لیے تیار ہی نہیں۔ وہ سیاست اور کاروبار جس میں عدم احتساب ہو کو جوڑ کر چلانا چاہتے ہیں جو تباہی کی اصل وجہ بنتے ہیں۔

آج بھی اگر نیب میں کچھ مسائل ہیں تو حکومت اور حزب اختلاف دیگر فریقین کی مشاورت سے اس نظام کو زیادہ شفاف اور خود مختار بناسکتی ہے۔ لیکن کوئی بھی ترمیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سارا کھیل الزام تراشیوں، جھوٹ پر مبنی سیاست اور ایک دوسرے کے دفاع میں خرچ ہورہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ایسے لوگوں کے بارے میں جو نیب کو مطلوب ہیں ایسی صفائیاں پیش کرتا ہے اور قسمیں کھاتا ہے جیسے ان کو ہی سب کچھ پتا ہے کہ یہ لوگ کرپٹ اور چور نہیں ہوسکتے۔ اگر واقعی یہاں جو نیب کو مطلوب ہیں انہوں نے کرپشن نہیں کی تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرپشن کس نے کی ہے اور کیوں وہ لوگ سامنے نہیں آتے۔ دراصل یہاں جمہوریت اور دیگر سیاسی نعروں کو بنیاد بنا کر ہم کرپشن کا دفاع کرتے ہیں یا جمہوریت کی چھتری کے نیچے بیٹھ کو اپنی کرپشن کو چھپانا چاہتے ہیں۔ سیاست دان ہوں، بیوروکریٹ ہوں یا ریٹائر ڈ ججز یا فوجی افسران یا سرمائے دار کاروباری طبقہ ہو جو بھی کرپٹ ہے اسے اگر اس نظام نے کسی بھی بنیاد پر تحفظ دینا ہے تو پھر کرپشن کو ختم کرنے کا نعرہ بہت پیچھے چلاجاتا ہے۔

ایک مسئلہ اس کرپٹ اور فرسودہ نظام کا بھی ہے۔ جہاں وائٹ کالر جرائم کو پکڑنے میں خود ہمارے ادار ے اور نظام ہی رکاوٹ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ طاقت ور اداروں کے درمیان ایک ایسا مافیا یا گٹھ جوڑ بن گیا ہے جو کسی بھی صورت میں احتساب کو یقینی بنانے کی بجائے اس میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب تک اس نظام میں بے لاگ قسم کی اصلاحات یا کڑوی گولیاں نہیں لائی جائیں گی مسئلہ کا حل ممکن نہیں۔ یہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دو سالہ حکومتی کارکردگی اور احتساب کے عمل پر اپنی سیاسی پوزیشن واضح کریں۔ اس میں جو بھی چیلنجز سامنے آئے ہیں یا رکاوٹیں ہیں ان کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ اسی طرح اگر عمران خان کی حکومت نے بھی وہی سیاسی سمجھوتے کرنے ہیں احتساب کے حوالے سے جو ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں تو پھر یہ ماضی کا ہی کھیل ہوگا اور کچھ نہیں تبدیل ہوگا۔ وزیر اعظم کی تبدیلی کا نعرہ بنیادی طور پر مضبوط معیشت، اچھی حکمرانی اور کڑے احتساب کے ساتھ جڑا ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت کی بحالی بھی اس فرسودہ نظام میں کڑے احتساب کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20