چار چراغ —- سمیرا غزل

0

تو جو یہ کہتے ہیں کہ عالم اسلام کے خلاف سازشیں نہیں ہوئیں وہ دیکھیں ذرا اس پیکر شرم و حیا کو جس سے فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔

جو سبائ سازش کا شکار ہوئے اور اس سازش میں محض اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ایک ایسے شخص کو تختہ مشق بنایا گیا۔

جو داماد رسول تھے۔
جو جامع قرآن تھے۔
عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔
جو ذوالنورین قرار پائے۔
جو غنی تھے۔
جو جودو سخا میں نامی تھے۔
جو حیا میں کامل تھے۔
جو قرابت داروں کا حق پہچانتے تھے۔
جنھوں نے مسجد حرام اور مسجد نبوی صہ کی توسیع فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو جنت اور شہادت کی بشارت دی۔
جنھوں نے نہ صرف قفقاز،خراسان، کرمان، سیستان،افریقہ اور قبرص کو فتح کر کے اسلامی سلطنت میں شامل فرمایا بلکہ بازنطینیوں سے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو محفوظ کرنے کے لیے پہلی بحری فوج تشکیل دی۔

جی ہاں وہی عثمان رضہ جب سازش کا شکار بنائے جاتے ہیں تو ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم ہوتی ہے کہ زمین اور آسمان کانپ اٹھتے ہیں۔کیسے ہوئ شہادت عثمان رضہ ذرا دیکھیے!

آپ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں،گھر کا مرکزی دروازہ جلادیا جاتا ہے۔ تاریخ دانتوں تلے انگلی دبا کر گواہ رہے گی عقبی دیوار سے جو شخص کودا،جس نے آپ کی داڑھی پکڑی،میری اپنی انگلیاں لکھتے ہوئے کپکپا رہی ہیں کہ وہ اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق رضہ کا حوالہ سن کر واپس چلاگیاتھا۔

وہ واپس چلا گیا مگر باقیوں نے آپ کو شہید کردیا یہاں تک کہ آپ کی اہلیہ حضرت نائلہ رضہ کی انگلیاں بھی شہید کر دی گئیں۔

اوراق مقدسہ پر گرتا ہوا خون گواہ ہے کہ پانچ دن تک کوئ خلیفہ نہیں تھا۔پھر باغیوں نے قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد کی دھمکی دے کر حضرت علی رضہ سے منصب خلافت قبول کروایا۔

وہ علی رضہ جو بے غرض تھے۔جو حیدر کرار تھے جو ذوالفقار تھے جنھوں نے کم عمری میں آستانہ نبوت پر زانوئے اقدس تہہ کیے تھے۔

پہلے ایک چہیتے صحابی رسول صہ کے خلاف منافقین چال چلتے ہیں اور حضرت علی رضہ کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں۔

پھر دوسرے چہیتے صحابی رسول صہ کا نام استعمال کرتے ہوئے شہادت عثمان رضہ کی مظلومانہ شہادت کو استعمال کرتے ہیں۔

حضرت علی رضہ کو نعوذ باللہ ظالم اور قصاص عثمان سے صرف نظر کرنے والا بنا کر پیش کرتے ہیں وہ علی جو حالات کے تھم جانے کے منتظر ہیں جو امت مسلمہ کو کسی دائمی فتنے سے بچانے کی خاطر باغیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔

آہ کیسی مظلومانہ داستان ہیے؟کیسی مظلومانہ شہادت ہے کیسی گھناونی سازش ہے؟اور کیسا مظلوم خلیفہ ہے جو شہید کردیا گیا۔
کیسا مظلوم خلیفہ ہے جو اب موجود ہے۔

تو جنھیں یہ زعم ہے کہ سازشیں اور ریشہ دوانیوں کی بات کرنا بے وجہ تو جان لیں کہ آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بلی سے پناہ مانگیے۔ چند مٹھی بھر ہی سہی جگانے والے جگاتے رہیں گے۔بتانے والے بتاتے رہیں گے۔کوشش کی جاتی رہے گی کہ ناحق خون نہ بہایا جاسکے یا کبھی نہ کبھی اس کے خلاف بندھ باندھا جاسکے۔

اور اگر آپ حقیقی مسلمان ہیں اور امت مسلمہ کی بقا چاہتے ہیں تو یہ بھی جان لیجیے کہ نہ حضرت عثمان رضہ حضرت علی رضہ کے دشمن تھے نہ حضرت علی رضہ حضرت عثمان رضہ کے۔ یہ ان منافقین کی شرارت تھی جو اول دن ہی سے اسلام کی ابھرتی ہوئ طاقت سے خوفزدہ تھے اور موقع دیکھ کر ضرب لگانا چاہتے تھے۔

ابو بکر و عمر عثمان و علی رضی اللہ عنھما میں سے کوئ کسی کا باغی اور مخالف نہیں تھا یہ چاروں روشن نبی صہ کے روشن چراغ ہیں۔جنھیں اس وقت سے اب تک لوگ اپنے مفاد اور اسلام دشمنی میں استعمال کرتے آئے ہیں۔

اگر آپ حقیقی مسلم ہیں تو ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا اور شخصی مقابلہ کرنا بند کردیجیے کہ یہی خون عثمان کا حق ہے اور مطالبہ بھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20