وجود، احساسِ وجود اور مقصدِ حیات: سائنس، فلسفہ اور مذہب کا تناظر — سلمان احمد شیخ

0

ہم اس کائنات کی اربوں کہکشاؤں میں سے ایک کہکشاں کے ایک نظام شمسی کے سیارے زمین پر رہتے ہیں۔ زمین پر ہماری زندگی کئی مادی قوتوں کے بہت باریک توازن پر قائم ہے۔ اپنی زندگی میں ہم کئی حقائق حواس خمسہ کے ذریعے جانتے ہیں اور کئی کو ہم استنباط کے ذریعے جانتے ہیں۔ یعنی ہم محسوس سے غیر محسوس حقائق کو استنباط کے ذریعے جانتے ہیں۔

ہم اپنے وجود اور ضمیر سے خود واقف ہوتے ہیں۔ ہم اپنے حواس اور استنباط کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس بات سے واقف ہیں کہ بے جان مادہ اور تمام جاندار اپنے وجود کی توجیہ خود کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ اپنے ہی خالق نہیں ہوسکتے۔ مادہ خود اپنا خالق نہیں۔ انسانی زندگی اپنی پیچیدہ شکل میں بھی اس بات کو نہیں منواسکتی کہ وہ اپنے آپ وجود میں آگئی ہو۔ مادہ ہمارے ہاتھ میں، ہماری مرضی سے،ہم جیسا چاہیں شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ہم مادہ کو لے کر ہوائی جہاز، سمندری جہاز، اونچی عمارتیں اور اہرام بناسکتے ہیں اور بناتے ہیں۔ سائنسی صلاحیتوں کے ساتھ انسان اب یہ سوچ رہا ہے کہ کیا وہ موسم اور آب و ہوا پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ انسان، جو یہ صلاحیت رکھتا ہے اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہ ہمیشہ سے نہیں ہے۔ اس دنیا میں انسان کی زندگی کا آغاز اس جسمانی قالب میں آج سے محض دو لاکھ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ چنانچہ بے جان مادہ اور جاندار زندگی اپنے وجود کی توجیہ خود اپنے ارادہ اور وجود سے کرنے سے قاصر ہے۔ انسانی زندگی ارادہ رکھتی ہے مگر اس کا کائنات میں آغازِ وجود کائنات کی کل تاریخ کے تناظر میں ماضیِ قریب کی بات ہے۔ بے پناہ ترقی اور مصنوعی ذہانت ایجاد کرنے کے باوجود ہم اپنے وجود کو محض اپنے ارادہ سے نہیں سمجھاسکتے۔ بے جان مادہ سے زندگی اور احساسِ وجود کس طرح محض اتفاق سے پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر یہ کائنات محض مادہ کا ڈھیر ہے اور احساسِ وجود کچھ نہیں تو ہم یہ سوال ہی کیوں کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں، کس طرح وجود میں آئے اور ہمارا مقصدِحیات کیا ہے۔

سائنس کے ذریعے ہم جانتے ہیں کہ اس کائنات کا آغاز بگ بینگ سے تقریباً ساڑھے ۳۱ارب سال پہلے ہوا۔ Self-Replicating Molecule کے ذریعے زندگی کا ارتقاء بہت بعد میں شروع ہوا۔ مگر سائنس کا تعلق ارادہ یا وہ شخص جس سے ارادہ کا صدور ہو، نہیں ہوتا۔ اگر اس کائنات کا آغاز ہوا ہے تو یہ اپنے وجود کی توجیہ اپنے ہی اندر موجود قوتوں، قوانین، بے جان اور جاندار مادہ سے نہیں کرسکتی۔ کیونکہ ان تمام اجزائے کائنات کا بھی ایک آغاز ہوگا جو اس کائنات کے آغاز سے وابستہ ہے۔ بیشتر سائنس دان جو کسی الہامی مذہب پر نہیں بھی یقین رکھتے ان کے خیال میں بھی ایسا ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ اس کائنات کاآغاز کسی ہستی کے ارادہ سے ہوا ہو۔ کچھ اس ہستی کو گھڑی ساز سے تشبیہ دیتے ہیں۔ گھڑی ساز گھڑی تو بنادیتا ہے مگر پھر گھڑی بغیر گھڑی ساز کے سہارے اور دخل کے چلتی رہتی ہے۔ پروفیسر رچرڈ ڈاکنز نے خدا کی اس کائنات سے عدم دلچسپی کو اندھا گھڑی ساز سے تشبیہ دی۔ کچھ اور نے خدا کو ریاضی دان سے تشبیہ دی جو مادی قوانین کو وجود میں لاتا ہے اور جو اس میں پھیلی ریاضی کا سرچشمہ ہے۔ یہ اور اس جیسے تبصرے خواہشوں کا اظہار تو ہوسکتے ہیں مگر ان کا نہ کوئی سائنسی مقام ہے نہ علمی اور نہ ہی یہ کائنات اور مقصدِ وجودِ انسان کی کوئی توجیہ کرپاتے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب کے لیے سائنس ہماری اس حد تک ہی مدد کرسکتی ہے۔ کچھ موجودہ سائنس دان یہاں رک جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سائنس کے بغیر کوئی علم نہیں حاصل کیا جاسکتا۔ چنانچہ ایسے سوال ہی غیر اہم ہیں جو سائنس کی دسترس میں نہ آسکیں۔ اس لیے اس کائنات کا خالق کون ہے، یہ کیوں وجود میں آئی، انسانی زندگی کی کیا حقیقت ہے اور اس کاکیا مقصد ہے، یہ تمام سوال اُن سائنس دانوں کے نزدیک غیر اہم ہیں کیونکہ سائنس ایسے سوالوں کا کوئی حتمی جواب نہیں دے سکتی۔

مگر انسانی عقل اور تجسس کی صفت یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان ان اہم اور بنیادی سوالات کا جواب تلاش کرے، اگر محض سائنس پر انحصار کرکے نہیں تو پھر عقل اور محسوس سے غیر محسوس کا استنباط کرکے۔ ہم انسانی عقل اور معلوم انسانی تاریخ کو بھی بروئے کار لاکر کئی ایک حقائق کے بارے میں علم حاصل کرپاتے ہیں۔ اگر خدا ہے تو کیا ہم اس سے خود بھی کائنات اور زندگی کے بنیادی سوالات کا جواب پاسکتے ہیں۔

خدا پر ایمان صرف ایک تصوراتی عمل نہیں ہے۔ انسان کی معلوم تاریخ کا ایک بنیادی عقیدہ خدا پر ایمان ہے۔ اس کی بنیاد معاشرت یا روایات نہیں بلکہ وجودیا ت کا علم ہے۔ جن سوالوں کو اٹھا کر اس کائنات کا خالق ہونا چاہیے، تسلیم کرایا جاسکتا ہے اس کے لیے معاشرتی روایات کے سہارے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وجودیت کے بنیادی سوالات اس کائنات کے پہلے شخص کے لیے بھی اسی طرح اہم ہیں جیسے ہمارے لیے۔ انسان اگر خدا پر یقین رکھتے ہیں تو معاشرہ میں ایک مذہبی روایت قائم ہوتی ہے، مگر معاشرتی علم اور اس کی تاریخ صرف مذہبی روایت یا معاشرہ کی عکاسی کرسکتی ہے۔ خدا کا عقیدہ معاشرہ میں پایا جاتا ہے، مگر معاشرہ خود کسی عقیدہ کو جنم نہیں دیتا۔ مذہبی عقیدہ کسی آلہ یا ذریعہ کی طرح نہیں کہ جسے محض کسی مادی ضرورت کے تحت استعمال کیا جائے جیسے کھیتی باڑی یا پھر زر۔ ہم زر کو استعمال کرکے کسی چیز کی قیمت ادا کرتے ہیں اور کھیتی باڑی کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ الہامی مذاہب میں توحید کا عقیدہ ایک ایسے خدا کا تصور ہے جو کائنات اور زمان ومکان سے ماوراہے۔ آخرت کا عقیدہ اس دنیا کے بعد آنے والی زندگی میں خدا کے سامنے جواب دہی کا تصور ہے۔ ان دو بنیادی تصورات کا تعلق مادی دنیا اورمادی امور سے ایک آلہ یا ذریعہ کے طور پر نہیں ہے۔قومِ ِشعیب کا اپنے پیغمبر سے مکالمہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ مذہبی اخلاقیات بے قید اور خود غرضانہ معاشی عمل میں رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ اسی لیے قومِ شعیب اور کسی حد تک عرب کے اولین مخاطبین بھی مذہب کی دعوت پرایمان نہیں لائے اور اپنے معاشی مفادات کو ترجیح دی۔ خدا کا تصور محض خوف کی بنیاد پر بھی نہیں۔ انسان اپنی تاریخ میں جب مادہ کے استعمال اور تصرف میں کم صلاحیت رکھتا تھا اور قدرتی آفات، حوادث اور بیماریوں کے سامنے زیادہ بے بس تھا،اسی وقت وہ ایک خدا کے عقیدہ سے زیادہ دور تھا۔ نوح ؑ اور ابراہیم ؑ پر انکی زندگی میں چند لوگ ایمان لائے اور توحید کی دعوت کو قبول کیا۔ آخری دورسولوں پر زیادہ تعداد میں لوگ ایمان لائے۔ پچھلی پانچ صدیوں میں عیسایئت یا اسلام پر لوگ زیادہ تعداد میں ایمان لائے۔ چنانچہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خدا پر ایمان کی بنیاد خوف، علم کی کمی یا قدرتی آفا ت اورحو ادث کے سامنے بے بسی رہی ہے۔

ایک خدا کے تصور کو بگ بینگ کے نظریہ سے بھی دیکھا جائے تو کائنات کا ایک اکائی سے وجود میں آنا ایک خدا ہی کے تصور سے ممکن العمل ہے۔ شرک خدا کو ماننے کے بعد لوگوں کا خود ساختہ عقیدہ ہے کہ ایک خدا نے ہی اپنے شریک بنارکھے ہیں۔ یہ دراصل خدا پر جھوٹ باندھنا ہے جب کہ اس کی شہادت کسی الہامی کتاب میں نہیں ملتی۔کائنات میں جو توازن، قوتیں، مادی قوانین اور ریاضی موجود ہے،اس کی مدد سے ہم بگ بینگ کے ایک سیکنڈ بعد سے کائنات کا پھیلاؤ، اس کے اجزاء کی ترکیب اور مادی عوامل آ ج تک اور آج کے بعد مستقبلِ بعید میں بھی جان سکتے اور بیان کرسکتے ہیں۔یہ توازن اور ریاضیاتی ہم آہنگی ممکن نہیں اگر بہت ساری عاقل اور طاقتور ہستیاں اپنا خود ارادہ رکھتی ہوں اور اپنے وجود کی بقاء اور ارادہ کی عمل پذیری میں کسی کی محتاج نہ ہوں۔ چنانچہ شرک عقل، سائنسی حقائق اور الہامی ہدایت سے متصادم ہے۔

اس ایک خدا نے ہمیں ہمارا وجود، احساسِ وجود، عقل اور ضمیر عطا کیا ہے جس سے ہمیں اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی صلاحیت ملی ہے۔ اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال کرکے ہم خدا کی ذات کا اقرار کر پاتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ کس طرح پتہ چلے گا کہ خدا ہم سے کیا چاہتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خدا نے پیغمبر بھیجے۔ انہوں نے اس ہدایت کی یاددہانی کرائی جو ہمارے وجدان میں موجود ہے۔ ایک خدا کا تصور اور آخرت میں جواب دہی کا تصور تمام الہامی مذاہب کی مشترکہ تعلیم رہی ہے۔ آخری دو رسولوں کی دعوت مشترکہ انسانی معلوم تاریخ کا ورثہ ہے۔ قرآن آخری الہامی ہدایت ہے۔ یہ زمین پر خدا کے آخری الفاظ ہیں۔ قرآن کا ایک ایک حرف محفوظ ہے اور آج ہمارے سامنے اسی اصلی حالت میں موجود ہے جن الفاظ میں یہ پہلی دفعہ اس دنیا میں محمدﷺ پر نازل ہوا۔ مسلمان تمام نبیوں اور الہامی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ قرآن خود ان پر ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔ چونکہ محمدﷺ کی زندگی اور ان پر نازل ہوا آخری الہامی کلام ہی ہمارے پاس خدا کی آخری ہدایت ہے، اس لیے اب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں جو دوسری الہامی کتابوں کے لیے بھی میزان یا مھیمن ہے اور اسی کی روشنی میں دوسری الہامی کتابوں کی باتوں کی تصدیق ہوسکتی ہے کیونکہ دیگر الہامی کتابیں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکیں۔ قرآن کی الہامی حیثیت کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اس میں بیان ہوئے تاریخی حقائق، مستقبل کی پیشن گوئیاں اور آفاق و انفس کے بارے میں حقائق معلوم تاریخ اور موجودہ سائنسی حقائق سے کسی طرح متصادم نہیں بلکہ اس وقت کے محدود علم میں ان حقائق کا بیان ہو جانا ایک ایسے شخص کی زبان سے جس نے ان علوم کی باقائدہ تعلیم نہ حاصل کی ہو، یہ گواہی دیتا ہے کہ قرآن الہامی کتاب ہے اور محمدﷺ اﷲ کے رسول ہیں۔

Reflections on the Origins in the Post COVID-19 World کتاب مذہب کے بنیادی استدلال کا عصری تناظر میں خلاصہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔ اس کتاب میں مذہب کے بنیادی استدلال کو خود خداہی کے اس دنیا میں آخری پیغام سے بعینیہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مذہب کی اخلاقی تعلیمات کا بھی خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور ان تعلیمات کی موجودہ دور میں اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملحدین کی جانب سے مذہبِ اسلام پر اٹھائے گئے کئی سوالات کا بھی جواب دیا گیا ہے۔

اس کتاب میں اس بات کی خاص کوشش کی گئی ہے کہ علمی رویہ اختیار کیا جائے۔ وہ اصحابِ فکر جو مذہبی استدلال سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں ان کی بات کو ان کے اپنے الفاظ میں ہو بہو بیان کیا جائے اور ہر منسوب بات کا بنیادی ماخذ اور حوالہ دیا جائے۔ اس کتاب میں مذہب کے بالمقابل فکر کو اس فکر کے پیش کرنے والوں کے اپنے الفاظ میں ہی بیان کیا گیا ہے اور پھر اس پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ اس موجودہ صدی کے آغاز سے لے کر جو کتابیں لکھی گئیں ہیں ان کو موضوعِ بحث لایا جائے۔ چنانچہ کتاب میں پروفیسراسٹیفن ہاکنگز، پروفیسر رچرڈ ڈاکنز، پروفیسر لارینس کراس، پروفیسر میشیو کاکو، پروفیسر برائن گرین، پروفیسرنیل ٹائسن اور دیگر سائنس دانوں کے حوالے کئی جگہ دیے گئے ہیں۔ کتاب میں البرٹ آئن سٹائن، اسٹیون وینبرگ، کارل پوپر، نورمن کیمپبل اور رچرڈ فینمن کے بھی حوالے موجود ہیں جو علم کو جاننے اورپرکھنے کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ مذہبی روایت، مذہبی معاشرت اور مذہب کے سیاست اور سائنس میں عمل دخل کے ناقدین کے خیالات بھی اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں جیسے کہ میکس ویبر، سیم ہیرس، سیمیو ئل ہنٹنگٹن اور پروفیسر امیر علی ہودبھائی۔ اس کے علاوہ کئی فلسفیوں کی مختلف آراء کو بھی شامل کیا گیا ہے جیسے کہ پلاٹو، ایمانیول کانٹ، ولیم پالے، والٹئیر، رینی دیسکارت، جان لاک اور ڈینیل ڈینیٹ۔

یہ کتاب ہر عمر کے لوگوں کے لیے ایک اچھا مطالعہ ثابت ہوگی خاص طور پر نوجونوں کے لیے۔ زمین ہمارا مشترکہ مسکن ہے اور یہاں کئی خیالات کے لوگ رہتے ہیں۔ ان خیالات کا جاننا، سمجھنا اور ان کا علمی جائزہ لینا ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ایک مفید مطالعہ ہوسکتا ہے۔ یہ کتاب اسی ضمن میں ایک کاوش ہے۔ کتاب کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20