دہریت اور ہماری صورتحال —- فرحان کامرانی

2

انسان اور خدا کا تعلق بہت ہی عجیب ہے، انسان خدا کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو، خدا سے ”لاتعلق“ نہیں ہو سکتا۔ نٹشے، فرائڈ، مارکس وغیرہ نے خدا کا انکار کیا مگر ان کی تحریروں میں بھی خدا ایک مستقل موضوع ہے۔ جدید مغرب پورا کا پورا ہی انکار خدا اور انکار مذہب پر کھڑا ہے۔ مذاہب نے جن جن تصورات کی تلقین کی، جدید سماج ان تمام ہی تصورات کی تکذیب کے سوا کیا ہے؟ جدید سماج کی بنیاد ہی لالچ، ہوس، خود پرستی اور خود غرضی پر ہے۔

جدید علم بھی تمام ہی محسوس پر مبنی ہے۔ پھر جدید سماجی ادارے، گھر، خاندان، اسکول، کالج، حکومت الغرض سب اپنی نہاد میں ہی لامذہب ہو چکے ہیں۔ ہر تقدس اب بچوں کا کھلونہ بن چکا یا بن رہا ہے۔ برگر اور پزا کھانے والے برکت اور قناعت کا تصور بھول جاتے ہیں۔ Nat Geo اور Discovery دیکھنے والے جنات اور آخرت کے تصورات پر ایک کنفیوژڈ خاموشی میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔

اب ہمارا معاشرہ کسی ایسے جزیرے پر تو قائم ہے نہیں کہ جہاں پر دنیا میں آنے والے فکری انقلابات کے اثرات مرتب نہ ہوتے ہوں اور دوسری بات یہ کہ آج کل تو ساری دنیا ہی ایک معاشرہ بنتی چلی جاتی ہے۔ دہریت کی پوشیدہ صورتیں، یعنی مذہب کے دیے ہوئے اداروں سے انحراف تو ہمارے معاشرے میں بھی پروان چڑھ چکیں مگر اب اس سے اگلی اور “ugly” صورت درپیش ہے، مگر وہ صورت ہے کیا؟

مجھے تناظر تھوڑا ماضی سے بیان کرنا ہو گا۔ میرے ساتھ ایک طالب علم ایسا بھی پڑھتا تھا جو ملک کے ایک دور افتادہ دیہاتی اور قبائلی سماج سے آیا تھا۔ وہ لڑکا ابتداء میں کافی مذہبی خیالات کا حامل تھا اور اپنی سماجی رسوم اور عادات پر بھی بڑی سختی سے کاربند رہتا تھا۔ جب اس نے کراچی میں سات سال میں تعلیم مکمل کی تو اس کی سماجی و معاشی زندگی تو یقینا سنور چکی تھی مگر وہ ذہنی طور پر ایک بہت مبہم فضا میں داخل ہو چکا تھا۔ اب وہ اکثر مجھ سے بحث کیا کرتا کہ ہم جنس پرستی میں کیا خرابی ہے؟ سود کیوں حرام ہے؟ اور اسی نوع کے مذہبی مسلمات پر اس کے دماغ میں سوالات اٹھنے لگے۔ مگر ظاہر ہے کہ وہ دہریہ تو نہیں تھا، بس ہوا اتنا تھا کہ وہ اب ایک ٹوٹے ہوئے شعور کا حامل ایک انسان تھا۔ وہ شعوری طور پر مغرب کی دِہری تہذیب کے تصورات (جیسے جنسی خودمختاری، جمہوریت، سرمایہ داری نظام، سرمایہ پرستی وغیرہ) کو اختیا رکر چکا تھا۔ وہ اپنی فطرت میں سیکیولر ہو چکا تھا۔ اب مذہب ا س کیلئے صرف ایک لیبل تھا مگر اس کا جذباتی تعلق مذہب اور اس کے منسلک تصورات سے بھی تھا۔

آج عوام کا ایک طبقہ اب ایسے ہی افراد پر مشتمل ہے جو جذباتی طور پر مسلمان ہے، شعوری طور پر جدید، جمہوری، سرمایہ داری، سائنسی وغیرہ سب کچھ ہے۔

سلیم احمد کے بقول یہ سب ٹوٹے ہوئے یعنی کسری انسان ہیں۔ یہ دہریت کی پہلی منزل ہے جب انسان دِہری نظاموں میں مکمل طور پر Fit ہو جائے اور بس اُسکا شعور تھوڑا بہت کچھ چیزوں پر کھٹکتا ہو ورنہ اسکے لئے سب ٹھیک ہو۔ یہ شعوری دہریت اور جذباتی مسلمانی کا ملغوبہ دراصل اضداد کا مجموعہ ہے اور ظاہر ہے کہ بہت دیر چل سکتا نہیں۔ اس مجموعہ اضداد سے اگلی نسل جو آتی ہے وہ یا تو ایک طرف ہو جاتی ہے یا دوسری طرف۔

میں نے اپنے طلبہ میں چند دہریے پائے۔ اُن سے کچھ مکالمہ کیا تو باآسانی اندازہ ہو گیا کہ’برگر‘ اور ’پزا‘ اب ہمارے سماج کے حلق اور معدے سے خون بن کر رگوں میں اتر گیا ہے۔ انکار خدا دراصل مافوق الفطرت کا ہی انکار نہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہوتا ہے کہ اب فرد نے اجتماعیت کی سب سے عظیم صورت (یعنی وہ خالق جو ہر شے کا بنانے والا ہے) کا انکار کر دیا۔ غور کیجئے کہ خدا کے انکار کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ خدا (نعوذ باللہ) نہیں ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ”واحد“ نہیں ہے، ”احد“ نہیں ہے (نعوذ باللہ) جب کہ ”واحد“ کو ماننے کا مطلب ہی اصل میں یہ ہے کہ ”واحد“ تو ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یعنی
عالم تمام حلقہ دام خیال ہے

خدا کا انکار دراصل اپنا اثبات ہے، یعنی ”میں ہوں اور اب میری مرضی ہی چلے گی“ جب کہ خدا کے اقرار کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف خدا کی مرضی ہی چلے گی۔ ”میں“ کی نہیں۔

کوئی مذہبی تناظر سے یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ مرضی تو ہر صورت میں صرف خد ا کی ہی ہے۔ چڑیا اس کی مرضی کے بغیر پر نہیں مار سکتی، نمرود الاؤ نہیں جلا سکتا، وحشی برچھا نہیں مارسکتا۔ بات بالکل درست ہے، اہل حق جانتے ہیں کہ اللہ نے دو نظام بنائے، ایک شرعی اور ایک تکوینی۔ اللہ کے تکوینی نظام سے باہر کچھ بھی نہیں مگر شریعت میں صرف مومن داخل ہوتا ہے۔ غور کیجئے کہ اللہ تو بے نیاز ہے تو پھر مومن توحید اور رسالت کی شہادت کس کیلئے دیتے ہیں؟ یہ شہادت دراصل شرعی نظام میں داخل ہونے کا اعلان ہے۔

مگر یہ ”نظام“ ظاہر پرستوں کا سماجی نظام نہیں بلکہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا دین ہے، یہ اویس قرنیؓ کا دین ہے، یہ حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت علیؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت ابوبکرؓ کا دین ہے۔ یہ ایک کُل ہے، جز نہیں۔ ایک اکائی ہے کسر نہیں۔ یہ وہ ہے جس کی مثال بھی آج پوشیدہ ہوگئی ہے۔

قرب قیامت واقعی بڑا خوفناک زمانہ ہے۔ دہریت ان چند بچے کچّوں میں عام نہیں، یہ تو بس ایک طرف ہو گئے ہیں، وگرنہ دہری تو یہ سارا سماج، اسکے ادارے، اسکے علم کے ماخذ، اس کی حکومتیں اپنی روح میں ہو ہی چکے۔ مذہب ایک لیبل، ایک Tag نہیں ایک زندگی ہے۔ زندگی Lip sync نہیں کی جاتی، جی جاتی ہے۔ دہری زندگی جینے والے جب دہرئے ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو دراصل وہ ایک توازن حاصل کر لیتے ہیں۔ دیکھنے میں ایسے دہریوں کو لگتا ہے کہ وہ باغی ہیں مگر اصل میں وہ ”اسٹیٹس کو“ کے سچے ملازم ہیں۔ آج کے ”کَل یُگ“ کا باغی تو وہ ہو گا جو دل، دماغ، شعور، لاشعور، ظاہر و باطن الغرض پورے وجود سے اللہ کی اور اس کے رسولؐ کی شہادت دے گا۔ شہادت ہے ہی سارے عالم سے جنگ کا اعلان۔ مذہب کوئی لیبل نہیں، ایک زندگی ہے۔ ایک ایسی زندگی جو دہریت جتنی آسان نہیں، ایک ایسی حیات کہ جس کا عالم باطل سے کوئی سمجھوتہ نہیں، کوئی معاہدہ نہیں، کوئی میثاق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. میر ا حمد جلال on

    الحاد پر تنقید ضرور کریں لیکن صرف تنقید نہیں مکالمہ بھی ہونا چاہئے۔ اگر آپ الحاد کے مقابلے میں مظبوط مدلل بیانیہ پیش نہیں کر پائیں گے تو نوجوانوں کا الحاد سے متاثر ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔

  2. میر احمد جلال on

    سوال یہ ہے کہ لوگ الحاد سے کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟ اس بات کا جذباتی نہیں علمی تجزیہ ہونا چاہیے۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20