ادبیات، اُردوناول ڈیڑھ صدی کاقصہ —– نعیم الرحمٰن

0

دوہزاربیس کوعالمی ادب میں ناول کاسال قراردیاگیاہے۔ اردو زبان کاپہلا ناول ڈپٹی نذیراحمد کا ناول ’’مراۃ العروس‘‘ 1869ء میں شائع ہواتھا۔ اس طرح 2019ء میں اردو ناول کو ڈیڑھ سوسال بھی مکمل ہوگئے۔ اسی وجہ سے رواں برس ادبی جرائدبھی ناول نمبرشائع کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میںاولیت ناول نمبرشائع کرکے چھوٹے شہر سے نکلنے والے ’’آبشار‘‘ نے حاصل کرلی۔ اکادمی ادبیات کے سہ ماہی ادبی جریدے’’ادبیات‘‘ نے بھی دو ضخیم جلدوں پرمبنی خصوصی شمارہ’’ اُردو ناول ڈیڑھ صدی کاقصہ‘‘ شائع کیاہے۔ یہ اکادمی ادبیات کے نئے چیئر مین ڈاکٹر یوسف خشک کی زیرِ نگرانی ادبیات کا پہلا خاص نمبر ہے۔ جس کے مدیر ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ اور ’’جندر‘‘ جیسے ناولوں کے تخلیق کار اختر رضا سلیمی ہیں۔ اختر رضا سلیمی نے اردو ناول پر یہ ضخیم نمبرشائع کرکے اپنی ادارت کالوہا بھی منوالیا ہے۔ دیگر جرائد کے ناول نمبر کرونا کی پابندیوں کی وجہ سے تاخیرکاشکارہوگئے ہیں۔ مبین مرزا کا ادبی جریدہ ’’مکالمہ‘‘ کا گولڈن جوبلی نمبر بھی ’’ناول نمبر‘‘ کے طور پرشائع ہورہاہے۔ ممتازشیخ کا ’’لوح‘‘ دیکھتے ہی دیکھتے ادبی منظر پر چھا گیا ہے۔ لوح کا اگلا شمارہ بھی ’’ناول اورافسانہ نمبر‘‘ ہوگا۔

بڑے سائز پرشائع ہونے والے ’’ادبیات‘‘ کے ناول پرخصوصی شمارے کی دونوں جلدیں تقریباً بارہ سوصفحات پرمشتمل ہیں۔ جن کی قیمت بارہ سو روپے مناسب ہے۔ لیکن سرکاری وسائل سے چھپنے والے ادبیات کی قیمت اب تک کافی کم رہی ہے۔ خصوصی شمارے بھی تین سو روپے سے زیادہ کے نہیں آئے۔ موجودہ خاص نمبر پردرج ہے سالانہ ممبران کے لیے قیمت چھ سوروپے اورعام قارئین کے لیے بارہ سو روپے ہے۔ میرے خیال میں یہ عام قاری کی حوصلہ شکنی مترادف ہے۔ ممبران کوپرچہ رجسٹری ڈاک سے بھیجاجاتاہے۔ اس پربھی ادارے کے سودوسو روپے خرچ ہوتے ہیں۔ بارہ سوروپے قیمت زیادہ نہیں۔ سالانہ ممبران کوتو یہ ویسے ہی رکنیت کی بنیاد پربھیجاجائے گا۔ اس پر قیمت بارہ سو روپے ہی درج ہوناچاہیے۔

اس خصوصی شمارے کے دونوں ٹائٹل نامورمصوروصی حیدرنے بنائے ہیں۔ وصی حیدراورکراچی کے چند اورمصوروں کے فن کوخراجِ تحسین معروف شاعر وادیب خالدمعین نے اپنی کتاب’’مصوران ِ خوش خیال‘‘ میں پیش کیاہے۔ وصی حیدرنے کم عمری ہی میں 1971ء کی جنگ کے مناظرکوواٹرکلر میں پیش کرکے اپنی مصوری کے جوہردکھانا شروع کردیے تھے۔ پھرسول ڈرافٹ مین کورس کی تکمیل کرکے باقاعدہ مصوری کاآغازکیا۔ ان کا مصورانہ خطاطی، آئل پینٹنگز اورکولاج کاکام شاندار ہے۔ 1989ء میں ان کی پہلی سولونمائش ہوئی۔ وصی حیدر کی اب تک بائیس سولونمائشیں ہوچکی ہیں۔ جب کہ ڈھائی سوسے زائداجتماعی نمائشوں میں شرکت کرکے دنیابھرمیں اپنے فن کے فروغ میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے ادبی کتب کے ٹائٹلز بھی بنائے۔ اختررضاسلیمی کے ناول ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ کے لیے وصی حیدرنے ایک ہزارایک اوریجنل ٹائٹل بناکرایک ایساریکارڈ قائم کیاجوشاید وہ خود بھی نہ توڑ سکیں۔ وصی حیدرمصوری پرسوسے زائد مضامین لکھ چکے ہیں اوران دنوں مصوری کی نئی سیریز پرکام کرنے کے ساتھ اپنی سوانح عمری بھی تحریر کررہے ہیں۔

ڈاکٹر یوسف خشک نے اداریہ میں تحریر کیا۔ ’’ناول اس وقت دنیاکی سب سے مقبول صنف ہے جس کا اندازہ پچھلے پچاس برس میں ادب کے نوبل انعام یافتگان کی فہرست سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ کہانی کافن بنیادی طور پر مشرقی ہے۔ دنیا کی قدیم ترین کہانیاں قدیم مصراور ہندو ستان میں لکھی گئیں۔ یہاں تک کہ دنیا کا پہلا ناول بھی آج سے کم و بیش ایک ہزار سال پہلے جاپان میں لکھا گیا لیکن یہ تسلیم کیے بغیرچارہ نہیں کہ جدید ناول کافن مغرب ہی میں پروان چڑھا اور وہیں سے دنیاکی دوسری زبانوں میں منتقل ہوا۔ اردو ناول میں تخلیقی سطح پرتوبہت کام ہواہے لیکن تنقیدی اور تحقیقی سطح اتنا کام نہیں ہوسکا، جتنا دوسری ادبی اصناف میں ہواہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کے باقاعدہ نقاد پیش کرنے کے لیے ہمارے پاس چند ہی نام ہیں۔ ادبی جرائدکی طرف سے بھی ناول عموماً نظرانداز رہاہے۔ اکادمی ادبیات کی طرف سے شائع ہونے والا، اردو ناول پریہ پہلا ضخیم نمبرہے، جس میں کوشش کی گئی ہے کہ ناول کے تمام پہلووں کا احاطہ کیاجائے۔ پہلی جلدمیں ہم نے اردو ناول کے آغازسے لے کربیسویں صدی کے آخرتک اردو ناول کا احاطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ دوسری جلد میں معاصر اردو ناول یعنی اکیس ویں صدی کے ابتدائی بیس برسوں میں شائع ہونے والے ناولوں کو فوکس کرنے کی کوشش کی ہے۔ اکیس ویں صدی کی گذشتہ دو دہائیوں میں اردو ناول میں ہیئت، اسلوب اور تیکنیک کے جوتجربے ہوئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اردو ناول میں موضوعات کا اتنا تنوع بھی اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا، جس سے اردو ناول کے پھلنے پھولنے کے امکانات مزید روشن ہوگئے۔ عام رائے پائی جاتی ہے کہ اردومیں ناول بہت کم لکھا گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں۔ ناول نمبر کے آخری میں اردو میں شائع ہونے والے ساڑھے تین ہزارکے قریب ناولوں کی ایک فہرست شامل کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے یہ فہرست نامکمل ہے اوراس میں اضافے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ سویہ کہاجاسکتاہے کہ ناول کی تخلیق کے حوالے سے بھی ہم کسی سے پیچھے نہیں۔ جہاں تک معیار کا تعلق ہے تو اردو میں بے شمارایسے ناول موجود ہیں جنہیں دنیاکی کسی بھی زبان کے مقابلے میں رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم نے بحیثیت مجموعی اردو ناول کو انگریزی اور دنیاکی دوسری زبانوں میں ترجمہ کرانے کی بھرپور کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے ناول کے عالمی میدان میں ہماری باقاعدہ رسائی نہ ہوسکی۔ ناول نمبر میں پاکستانی اور ہندو ستا نی جامعات میں اردو ناول پرہونے والے تحقیقی کام (ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں) کی ایک ناتمام فہرست اور اردو ناول پرشائع ہونے والی تنقیدی کتابوں کی بھی ایک ناتمام فہرست مرتب کی ہے۔ جس سے اردو ناول پرکام کرنے والے محققین، اساتذہ اور طالب علم مستفید ہوسکیں گے۔‘‘

ناول نمبرکی پہلی جلدکا آغاز ’’اُردو ناول، کچھ نئے ابعاد‘‘ سے ہوتاہے۔ جسے اٹھارہ نامور ادیبوں شمیم حنفی، ڈاکٹراحسان اکبر، ڈاکٹر آصف فرخی، پروفیسرعلی احمد فاطمی، محمد عاصم بٹ، ڈاکٹر صلاح الدین درویش، زاہد حسن، ڈاکٹر طارق ہاشمی، زیف سید، ڈاکٹر ناہید قمر، ڈاکٹر شبیر احمد قادری، قاسم یعقوب، ڈاکٹر محمد اشرف کمال، دردانہ نوشین خان، ڈاکٹر منزہ مبین، امان اللہ محسن اور نعمان نذیرکے مضامین سے آراستہ کیاگیا ہے۔ ان مضامین میں ناول کے مختلف پہلووں کا تفصیلی جائزہ لیاگیا ہے۔ بھارت کے معروف ادیب، نقاد اورخاکہ نگار شمیم حنفی نے ’’ناول کی تاریخ اور تخلیقی تجزیہ‘‘ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر احسان اکبر کے مضمون کے عنوان ’’اُردوناول، ہیئت، اسلوب اور امکان‘‘ سے ہی اس کا موضوع عیاں ہے۔ حال ہی میں انتقال کرنے والے ادیب اور مدیر دنیازاد ڈاکٹر آصف فرخی نے’’ناول اورہمارے تہذیبی رویے‘‘ کے موضوع پرقلم اٹھایا ہے۔ بھارت کے شاعر، نقاد اورمدیرپروفیسرعلی احمد فاطمی نے ’’تاریخی ناول، فن اوراصول‘‘ کے نام سے بہت عمدہ مضمون تحریرکیاہے۔ ناول وافسانہ نگار اور مترجم محمد عاصم بٹ نے ’’اُردو ناول نگاری کی روایات، چند معروضات‘‘ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹرطارق ہاشمی نے مضمون ’’تین ناول۔ تین گذارشات‘‘ میں تین قدرے غیر معروف ناولوں کو قارئین سے متعارف کرایا ہے۔ جس میں نامورناول نگار عبداللہ حسین کا ناولٹ ’’واپسی کاسفر‘‘، بنگالی ادیب ربی شنکربال کے ناول ’’دوزخ نامہ‘‘ جس کا ترجمہ معروف شاعرانعام ندیم نے کیا اور اسے عکس پبلشرز نے شائع کیاہے۔ ناول میں اٹھارویں صدی کے شاعر اسداللہ غالب اور انیسویں صدی کے افسانہ نگارسعادت حسن منٹو کی بعد ازمرگ قبر میں ملاقات کو پیش کیا گیاہے۔ انگریزی ادیب مارک ٹوئن کاکہناہے۔ ’’موسم کا لطف اٹھانا ہو تو جنت میں جائیے لیکن کسی کی رفاقت کا مزہ لینا ہو تو دوزخ ایک بہتر مقام ہوسکتا ہے۔‘‘ اور بھارت کے ابھرتے ہوئے ناول نگارعزیز اعجازکے ناول ’’پشیمان چاہتیں‘‘ کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ زیف سید نے ’’ناول کی سائنس‘‘ کو موضوع بنایاہے۔ نعمان نذیر نے ’’اردو ناول میں تانیثی شعور کا مختصرجائزہ ‘‘کے زیرِعنوان اچھا مضمون پیش کیاہے۔ اس حصے کے دیگرمضامین میں بھی اردو ناول کے ڈیڑھ سو سالہ سفر کا عمدگی سے احاطہ کیا گیا ہے۔

دوسرے حصے ’’اُردو ناول پس منظر اور پیش منظر‘‘ میں مرحوم ڈاکٹر سلیم اخترکا اسی موضوع پر مضمون شامل کیا گیا ہے۔ بھارتی ناول وافسانہ نگار مشرف عالم ذوقی نے ’’1980ء کے بعدکے اردو ناول، تعارف اورنئے موضوعات، جائزہ‘‘ پر قلم فرسائی کی ہے۔ نورالحسین نے’’اُردو ناول کی ایک صدی‘‘ پرمحاکمہ کیاہے۔ جبکہ خورشید ربانی نے ’’اُردو کے اہم ناول، اجمالی جائزہ ‘‘میں پہلے ناول ’’مراۃ العروس ‘‘سے ایک صدی کے دوران اُردو ناول کی پیش رفت کو بہت خوبی سے پیش کیاہے۔ جس میں پہلے ناول اورسرشارکے’’ فسانہ آزاد‘‘ کو ناول قراردینے نہ دینے کی بحث کے ساتھ مرزاہادی رسوا کے ’’امراؤجان ادا‘‘ سے پہلے شائع شدہ سرفرازحسین عزمی کے ناول’’شاہدِ رعنا‘‘ سے اس کی مماثلت اورناقدین کی جانب سے ’’شاہد رعنا‘‘ کو نظر انداز کرنے کی معلومات افزاتفصیل بھی دی گئی ہے۔ عبدالحلیم شرر کے ’’فردوسِ بریں‘‘ سجادحسین کے’’نشتر‘‘ منشی پریم چند کے ’’بازارِ حسن‘‘، ’’چوگانِ ہستی‘‘، ’’گئودان‘‘، ’’میدانِ عمل‘‘ اور ’’بیوہ‘‘ سجادظہیرکے مختصرناولٹ’’لندن کی ایک رات‘‘ عزیز احمدکے ’’ایسی بلندی، ایسی پستی‘‘ اور’’گریز‘‘ سے لے کرقرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین شوکت صدیقی، ممتازمفتی سے لے کرگذشتہ بیس برس میں شائع ہونے والے ناولوں پربھی مختصراً نظرڈالی ہے۔
تیسرے حصے’’اُردوناول آزادی سے پہلے‘‘میں آل احمدسرورنے ’’اُردوناول کاارتقا‘‘ کوموضوع بنایاہے۔ نیلم فرزانہ نے’’خواتین میں ناول نگاری کارحجان اورابتدا‘‘ پرعمدہ مضمون لکھاہے۔ ایم خالدفیاض نے ’’اُردوناولء1900سے 1947ء تک‘‘پربھرپورتجزیاتی تحریر پیش کی ہے۔ محمدفیصل نے بھی’’اُردوناول کانگارخانہ آغازسے 1947ء تک‘‘کوموضوع بنایاہے۔ علی عباس حسینی’’مرزامحمدہادی اوررسوا‘‘ پیام شاہ جہاں پوری’’شرراورناول نگاری‘‘ ڈاکٹرحمیرہ اشفاق ’’محمدی بیگم، نوآبادیاتی ہندوستان میں جدیدنسائی رویوں کی اولین نقیب‘‘ شازیہ اکبر’’فسانہ آزاد، داستان اورناول کی درمیان کڑی‘‘شبیرابن عادل’’اُردوناول کے بانی، ڈپٹی نذیراحمد‘‘ کے ساتھ اس محفل میں شامل ہیں۔ علی عباس حسینی نے’منشی پریم چندکے’میدانِ عمل‘‘ محمدعاطف علیم نے عزیز احمدکے ناول پر’’آگ ایک جنت نظیرجہنم کی روداد‘‘ اور اسلم سحاب قریشی نے ’’لندن کی ایک رات میں ردِ استعماریت کے عناصر‘‘ میں سجاد ظہیرکے مختصرناولٹ کاتجزیہ کیاہے۔
چوتھا حصہ’’اردوناول آزادی کے بعد‘‘ میں پروفیسرعبدالسلام نے’’تقسیم کے بعداُردوناول‘‘ شہزادمنظر نے ’’پاکستان میں اُردوناول‘‘ اور ڈاکٹرامجدطفیل نے’’پاکستانی اردوناول 1947ء سے1999ء تک‘‘ مضامین پیش کیے ہیں۔ اسی حصے میں ’’قرۃ العین، ایک مطالعہ‘‘، ’’اکرام اللہ کاگرگ ِ شب‘‘، ’’خدیجہ مستورکے ناولوں ہیروکاتصور‘‘، ’’محمدخالداخترکی ناول نگاری‘‘اوردیگرکئی دلچسپ اورمعلومات سے بھرپور تحریریں بھی شامل ہیں۔ پہلی جلد کا آخری حصہ’’ خیبرپختونخوااوربلوچستان میں اُردوناول‘‘ہے۔ ان دونوں صوبوں میں ناول کی صورتحال کاجائزہ لیاگیاہے۔

دوسری جلدکا پہلا حصہ’’اردوناول اکیسویں صدی میں‘‘ کے نام سے ہے۔ معروف بھارتی افسانہ وناول نگارانیس اشفاق نے ’’معاصر اردو ناول، نئے تنقیدی تناظر‘‘ ہندوستانی ناول نگاروں اوران کی تخلیقات کاایک عمدہ تجزیہ کیاہے۔ ادیب، نقاداورافسانہ نگارمحمد حمید شاہد نے مضمون ’’گذشتہ چند برس اوراُردوناول ‘‘ حالیہ برسوں میں شائع ہونے والے ناولوں کامختصر جائزہ لیاہے۔ خالدجاوید نے ناموربھارتی ادیب، شاعر، نقاد اورمدیرشمس الرحمٰن فاروقی کے مختصرناول ’’قبض زماں‘‘ کی تفہیم ’’کچھ قبض زماں کے بارے میں‘‘ میں کی ہے۔ ڈاکٹر فخر الکریم کے معلوماتی مضمون ’’اکیسویں صدی میں اردوناول، چندمباحث‘‘کے نام سے ہے، اورعنوان سے ہی اس کے مندرجات کااندازہ کیاجاسکتاہے۔ مشہورشاعر، افسانہ نگار، نقاد اورمدیرمکالمہ مبین مرزا نے ’’اکیسویں صدی کے دوعشروں میں اردوناول پراجمالی نظر‘‘ مضمون تحریرکیاہے۔ عرفان احمدعرفی نے عاصم بٹ کے دوناولوں ’’ناتمام‘‘اور’’بھید‘‘ کے بارے میں تاثرات پیش کیے ہیں۔ افسانہ نگاراورمدیر استعارہ ڈاکٹرامجدطفیل نے ’’اردوناول، اکیسویں صدی میں‘‘ کے نام سے عمدہ مضمون لکھاہے۔ ڈاکٹر شاہدنوازنے ’’اکیسویں صدی کے اردوناول میں مقامیت کی دل آویزتشکیل ‘‘ پرقلم اٹھایاہے۔ ڈاکٹربی بی امینہ نے’’اکیسویں صدی کے پاکستانی ناولوں میں سماجی واقتصادی عدم مساوات ‘‘ کاموضوع اپنے لیے چناہے۔ ان تمام مضامین سے اردوناول کی حالیہ پیش رفت کابخوبی اندازہ کیاجاسکتاہے۔
اس باب کے دوسرے حصے میں اردوکے نئے ناولوں اورناول نگاروں کے فن کوموضوع بنایاگیاہے۔ نقاد، مترجم، شاعر اورمدیر سویرامحمدسلیم الرحمٰن نے مرزا اطہربیگ کے ناول’’حسن کی صورت حال‘‘ کاجائزہ ’’گلاب جامن، شیمپئن اورمعانی مچولی‘‘ کے دلچسپ عنوان سے لیا ہے۔ ناول وافسانہ نگارخالدفتح محمد نے ہم عصرافسانہ وناول نگاراورمترجم نجم الدین احمدکے تین بے مثال ناولز’’مدفن‘‘، ’’کھوج‘‘ اور’’سہیم‘‘ کے ذریعے ان کے فن پرسیرحاصل گفتگوکی ہے۔ اظہرحسین نے مضمون’’خالدفتح محمدکافکشن‘‘میں مصنف کی ناول نگاری کی تفہیم کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹرجمیل حیات نے’’ محمدالیاس کے ناولوں میں مزاحمت کے جلوہ ہائے رنگ رنگ‘‘کے نام سے افسانہ وناول نگارکی تحریروں کوایک نئی جہت سے پرکھاہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ ڈاکٹرمرزاحامدبیگ’’خوشبوکی ہجرت کااسلوب بیان‘‘ محمدحمید شاہد’’خالدہ حسین کاناول کاغذی گھاٹ‘‘ ڈاکٹرشہنازشورو’’نیلی بار، میرادیس نیلوں نیل‘‘زیف سید’’پانی مررہاہے، اُردوناول کی نئی جہت‘‘ فرخ ندیم ’’تفریق، تقسیم اورساسا‘‘ اورناصرشمسی’’تکون کی چوتھی جہت، چھوٹے کینوس کابڑاناول ‘‘ جیسے مضامین شامل ہیں۔ جن میں آزادی کے بعد شائع ہونے والے ناولوں کاعمدگی سے جائزہ لیاگیاہے۔

خصوصی مطالعے میں ’’مستنصرحسین تارڑ‘‘ ناول نگاری پرڈاکٹرسعادت سعید، ڈاکٹرفریدحسینی، ڈاکٹرمحمدشعیب خان نعمان نذیراوریوسف نون کے مضامین اورمحمدعاصم بٹ کامستنصرحسین تارڑکاانٹرویوشامل ہے۔ ’’حسن منظر‘‘ کے فن پراقبال خورشید کامضمون اوررفاقت حیات اور شیخ نوید کاانٹرویوشامل ہے۔ مرزااطہربیگ سے محمدعاصم بٹ نے مکالمہ کیااورڈاکٹراقبال آفاقی نے ان کے ناول ’’غلام باغ ‘‘ کاجائزہ لیاہے۔ خصوصی تجزیے کے زیرِعنوان حنیف باوا ’’ڈاکٹررینوبہل‘‘ ذوالفقاراحسن ’’غلام الثقلین نقوی کے ناول میراگاؤں‘‘ منیرفیاض ’’ عالمی افسانوی بیانیے کااجمالی ارتقا اورانواسی‘‘ اور’’گردباد، ایک جائزہ ‘‘ محمدفیصل’’سیدمحمداشرف، نمبردارکے نیلاسے آخری سواریاں تک‘‘ ڈاکٹر سبینہ اویس اعوان ’’طاؤس فقط رنگ‘‘ اوروسیم جبران ’’ناول آخری شب کے ہم سفرکاجائزہ‘‘ کے ساتھ ناول نمبرمیں شریک ہیں۔ اُردو ناول تحقیق وتنقیدکے عنوان سے نیئرمسعود اورخالدمحمود کاایک ایک اورمحمدعباس کے دومضامین شامل ہیں۔ اُردوناول کی ناتمام فہرست، پاکستانی اوربھارتی جامعات میں ناولوں پرتحقیق اوراُردوناول پرتنقیدی کتب کی فہرست بھی دوسری جلدکاحصہ ہیں۔ جبکہ آخری حصے’’ناول اور ناول نگار‘‘ محمدالیاس’’میں اورمیراتخلیقی عمل‘‘ ڈاکٹرروش ندیم اورڈاکٹرصنوبرالطاف کا اُردوناول کی تنقید پرمکالمہ، بانوقدسیہ سے یادگار ملاقات، ناول کی تخلیق پردومذاکرے شامل ہیں۔

مجموعی طور پرادبیات کاخصوصی شمارہ’’اُردوناول ڈیڑھ صدی کاقصہ‘‘اپنے موضوع پرایک قابلِ قدرنمبرہے۔ جس میں ڈیڑھ سوسال کے دوران اُردوناول کی پیش رفت، ترقی اورارتقا کے کم وبیش ہرپہلوکااحاطہ کیاگیاہے۔ اختررضاسلیمی نے اگلا شمارہ دوجلدوں پرمبنی’’پاکستانی زبانوں کاادب نمبر‘‘ شائع کرنے کااعلان کیاہے۔ جس کی پہلی جلد نثر اوردوسری نظم وغزل پرمشتمل ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20