تبلیغی حضرات اور فہم دین: ڈاکٹر عرفان شہزاد

1
  • 5
    Shares

گزشتہ دنوں لاہور سے گوجرانوالہ لوکل ٹراسپورٹ میں آنا ہوا۔ ایک تبلیغی صاحب بھی ساتھ میں سوار ہوئے۔ محترم نے موقع بنا کر گوجرانوالہ کی ٹھیٹ پنجابی میں دعوت و تبلیغ کا آغاز فرما دیا۔ زبان پر ان کا عبور قابل داد تھا۔ محترم کا دردِ دل بھی قابلِ تحسین تھا، تاہم، محترم کی یہ تقریر پورے سفر کو محیط ہو گئی، موصوف مسلسل ایک گھنٹہ کلام فرماتے رہے۔ ان کی تقریرِ دل پذیر اور اس میں سنائے جانے والے دلچسپ قصوں کے باوجود آدھے گھنٹے کے بعد کچھ لوگوں اونگھنے لگے اور کچھ نے کانوں میں ہیڈ فون لگا لیے۔ میں البتہ ان کی تقریر کے دوران یہ تجزیہ کرتا رہا کہ جو تنقید میں نے تبلیغی جماعت پر تحریر کی تھی وہ کس حد تک درست تھی۔ آج اس کا فیصلہ آپ بھی میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔

ان کی تقریرِ مسلسل کے چیدہ نکات یہ تھے:

داڑھی کے بارے میں حدیث سنائی کہ جو داڑھی منڈوائے وہ میری امت میں سے نہیں، اور کس کی جرات ہے جو کسی داڑھی منڈے کو میری امت میں شامل کر سکے!

سورہ الملک زبانی یاد کریں عذاب قبر سے بچ جائیں گے۔ ایک شخص نے یاد کی تھی، پھر مر گیا۔ یہ سورت اس کی قبر میں انسانی روپ میں اس کی داد رسی کو آئی۔ اس کا قرض رہتا تھا۔ اس کی بیوی کو خواب میں بتایا کہ قرض ادا کرو تاکہ اس کی نجات ہو سکے۔

ایک مسلمان سپہ سالار تھا، جس کا نام جدون تھا۔ اس کے لشکر میں ایک کم سن یتیم لڑکا شامل ہونے آیا، جس کی ایک بوڑھی والدہ اور ایک چھوٹی بہن تھی۔ لڑکے نے جھوٹ بولا کہ اسے لڑنا آتا ہے۔ جدون نے اس کی زبان پر بھروسہ کیا اور لشکر میں شامل کر لیا۔ رات کو دیکھا وہ سوتے میں ہنس رہا ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ خواب میں ایک حور آئی تھی اور کہ رہی تھی کہ صبح روزہ رکھ کر جہاد میں جانا اور افطار میرے پاس آ کر کرنا۔ اگلے دن جنگ شروع ہوئی۔ جدون کو یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ لڑکے کو تو تلوار بھی پکڑنی نہیں آتی تھی۔ جنگ کے بعد لڑکے کی لاش ملی، اس نے اپنی بیوہ والدہ اور چھوٹی بہن کے لیے پیغام دیا کہ میرے لیے رونا نہیں، رونے سے مردوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ میں وہاں بہت خوش رہوں گا۔ میری حور میرا انتظار کررہی ہے۔

عورتوں کی بے پردگی کی وجہ سے آفتیں آتی ہیں۔ ہماری تباہی اور خدا کی ہم سے ناراضی یہ وجہ یہی یہی ہے۔

بچوں کو ڈاکٹر انجینئر بنا کر انہیں دنیا دار بنا رہے ہو انہیں دین پر لگاؤ۔ یہ دنیا کام نہیں آئے گی۔

یہ ہے تبلیغی جماعت کی عام پراڈکٹ جو نوے سال سے تبلیغ کا نظام چلانے کے بعد تیارہوئی ہے۔ یہ ہے وہ اخلاص اور یہ ہے وہ فہم دین جس کا ابلاغ فرض کے درجے میں ہر جگہ، ہر وقت کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات نہ کیجیے کہ ان کے اہل علم ایسا بیان نہیں دیتے۔ اول تو ان کے اہل علم بھی یہی کچھ کرتے ہیں، مولانا طارق جمیل کے بیانات کی کافی ہیں اس ثبوت کے لیے۔ وہ گدھے والی روایت کو معروف ہے جس میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے درمیان قاصد کا کام ایک گدھے سے لیے جانا کا دلچسپ واقعہ مولانا نے سنایا تھا، دوسرا یہ کہ جو عام تبلیغی تیار ہو رہا ہے وہ تو اسی قسم کا تیار ہو رہا ہے۔ سماج کو جو عام افراد آپ مہیا کر رہے ہیں وہ اسی معیار کے ہیں۔ اس لیے ان کی ذمہ داری سے آپ بری نہیں ہو سکتے۔

آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ میرے ہم سفر تبلیغی حضرت کے اس بیان میں وہ دین جس کا درست تصور خدا نے دینے کا پابند کیا ہوا، اور جس کے حفاظت کے لیے قرآن کو محفوظ کیا گیا تھا، اس کی دھجیاں اڑا دی گئیں ہیں۔ 

داڑھی سے متعلق یہ روایت کہاں سے سنی اس نے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ سورہ الملک  سے عذاب قبر سے بچنے کی روایت نہایت درجے ضعیف مانی جاتی ہے۔ آخرت کی نجات کا انحصار اعمال پر رکھا گیا ہے، نہ کہ کسی سورت کو محض یاد کر لینا اس عظیم حساب سے نجات کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ دین میں کوئی شارٹ کٹ  نہیں بتایا گیا۔ مگر ہمارے ہاں ہر طبقے نے  خدا کو نعوذ باللہ چکمہ دینے کے لیے شارٹ کٹ بنا رکھے ہیں۔ بریلویوں نے عشق رسول، تبلیغیوں نے مخصوص طرز کی دعوت و تبلیغ،  جہادیوں نے جہاد اور شھادت کے شارٹ کٹس متعارف کروا کر، دین کے ادھورے تصور کو کل بنا کر دین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ ان شارٹ کٹس کو اختیار کر لینے کے بعد، اپنے خاندانی، کاروباری، تجارتی اور سماجی معاملات میں پھر جو بھی طرزِ عمل اختیار کر لیا جائے کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ عید میلاد النبی کے جلسے میں اگر لڑائی ہو جائےتو عشق رسول میں ڈوبے پروانے ایسی ایسی مغلظات منہ سے نکالتے ہیں کہ شرم وحیا منہ چھپا کر کہیں دبک جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کٹر تبلیغی اپنے شریکوں کی جائیدادیں دبانے، اور اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے حصے کھا جانے میں بھی باک محسوس نہیں کرتے، اور یہی وجہ ہے کہ اپنے گھر بار کی ذمہ داریوں کو پڑوسیوں کے حوالے کر لوگ تبلیغ اور جہاد پر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

تبلیغی جماعت میں مخصوص حلیے کے بغیر دین داری معتبر نہیں ہے ۔ جب تک داڑھی، پگڑی، کرتا شلوار نہ آ جائے، اس وقت تک سمجھا ہی نہیں جاتا کہ دین اور تبلیغ دل میں رچ بس گئی ہوگی۔ چاہے آدمی کتنا ہی متقی کیوں نہ ہو، جب تک مخصوص حلیہ اختیار نہیں کیا جاتا، دین داری متحقق نہیں ہوتی۔ ان بھائی صاحب نے تو داڑھی کا تذکرہ پہلے کر دیا، ورنہ مولانا طارق جمیل جیسے سمجھدار حضرات ٹھنڈے توے پر روٹی نہیں ڈالتے، داڑھی تب رکھواتے ہیں جب ‘توا خوب گرم ہو جاتا ہے۔’ (یہ تبیغی حضرات کی اصطلاح ہے۔)

جدون والے بے بنیاد قصے میں دیکھیے دین کے بنیادی  تصورات کیسے پامال ہوئے ہیں۔ نوعمر لڑکا جھوٹ بول کرجہاد میں شامل ہوا، جدون صاحب نے بھی آزمائے بغیرہی اسے جنگ کی اجازت دے گی۔ لڑکا حور کے چکر میں روزہ رکھ کر جہاد کرنے کے لیے تیار تھا، حالانکہ فرض روزہ بھی سفر میں چھوڑا جا سکتا ہے، لیکن لڑکا حور  کا کہنا کیسے ٹال سکتا تھا، چنانچہ نفلی روزہ رکھ کر لڑنے چل پڑا۔  اپنی بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا، ماں اور بہن کی ذمہ داری چھوڑ کر جہاد کرنے نکل کھڑا ہوا اور وہ بھی ایک حور کے ورغلانے پر۔ پھر شریعت کی بجائے خواب معتبر ہو گیا، جس نے خلاف شریعت لڑکے سے جہاد کروا کر اسے شھادت کے درجے پر فائز کرا دیا۔

مردے پر رونے سے مردے کو پر عذاب ہوتا ہے، یہ وہ غلط فہمی ہے جو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے ہوئی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس کی درستگی بھی فرما دی تھی کہ قرآن کے مطابق کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ عبداللہ بن عمر سے رسول اللہﷺ کی مراد سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ حضور نے یہ اس موقع پر کہا تھا جب ایک یہودی، رسول کا انکار کرنے کی حالت میں مر گیا تھا اور اس کی عورتیں رو رہی تھیں اور رسول نے فرمایا تھا کہ یہ رو رہی ہیں اور مردے پر عذاب ہو رہا ہے۔ یہ دو الگ باتین تھیں جن کو عبد اللہ بن عمر نے ایک کو شرط اور دوسری کو جزا سمجھ لیا تھا۔ یہ غلط فہمی دور اول میں ہی دور کر دی گئی تھی، لیکن عوام میں اب تک چلی آ رہی ہے۔

بچوں کی دنیاوی تعلیم کو اتنی حقارت سے بیان کرے کا کیا مطلب ہے؟ یہ دین و دنیا کو الگ کرنے کی وہی روش نہیں جو رہبانیت کا خاصہ ہے؟ مجھے معلوم ہے جب ان حضرات سے اس پر باز پرس کی جائے تو کہتے ہیں کہ ہم اس سے منع نہیں کرتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ان معاملات کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ عام آدمی یہی سمجھتا ہے وہ دنیا کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور بچوں کی تعلیم وغیرہ پر خرچ کر کے خدا کی ناراضی مول لے رہا ہے۔ درست طریقہ بس یہ ہے کہ بچوں کو مدرسے بھیج کر حفظ کروا دے اور داڑھی رکھوا کر تبلیغ پر بھیج دے۔

عورتوں کے پردے سے مراد بھی ان کے ہاں پردے کے مخصوص لباس ہیں، جن میں برقع، عبایا اور منہ ڈھانپنا اسی طرح لازم ہے جس طرح مردوں کے لیے کرتہ شلوار، ٹوپی، پگڑی اور داڑھی ضروری سمجھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم اسی فکر سے متاثر تھے، تو ہم نے ایک بار کسی غیر ملک کی نوجوان مسلمان خواتین کو دیکھا جنھوں نے جینز کی ڈھیلی ڈھالی پنٹ پر کرتا پہن رکھا تھا اور سر پر سکارف باندھا ہوا تھا۔ باوجود مکمل پردے کے ہمیں وہ ہمارے معیار کے پردے کے مطابق باپردہ محسوس نہیں ہو رہی تھیں۔ اعتراض کرنے کو جی چاہ رہا تھا مگر یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اعتراض کس چیز پر کیا جائے۔

بعض ذرا سمجھ دارتبلیغی اہل علم حضرات ایک کام بڑی ہوشیاری کا یہ کرتے ہیں کہ ایسے قصے سنا سنا کر شوق  کو پہلے خوب ابھار دیتے ہیں پھر اس  کے بعد ،دین و شریعت کی شرائط اور ضوابط اور احتیاطیں بھی ہلکے سے انداز میں بتا دیتے ہیں۔ بے چارے عام آدمی کا شوق اب اتنا عروج پر پہنچ چکا ہوتا ہے کہ وہ ان سمجھداری کی باتوں اور دین کی شرائط وغیرہ سب نظر انداز کر دیتا ہے، اور اپنے غیر شرعی طرزِ عمل کو عزیمت سمجھ کر گھر بار کی زمہ داریاں تج کر، اس کم سن لڑکے کی طرح اللہ کے راستے میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔

تبلیغی جماعت نے انبیا کے طریقے کے برعکس مختصر دعوت دینے کی بجائے طویل خطبات کا نہج متعارف کرایا ہے جو دل و دماغ کے ماؤف ہونے تک جاری رہتا ہے۔ انسانی نفسیات کے علی الرغم یہ بولتے چلے جاتے ہیں چاہے مخاطبین جمائیاں لیتے رہیں، کروٹیں بدلتے رہیں، بار بار گھڑی دیکھتے رہیں،  یہ تبلیغی بات مختصر نہیں کرتے۔ تبلیغی

اجتماعات میں دو سے تین گھنٹے تک  کے بیان معمول کی بات ہے، اور اس کو بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ اتنا طویل خطاب کیا گیا، جب کہ حالت یہ ہوتی ہے کہ سامعین بیٹھے بیٹھے سو رہے ہوتے ہیں، دوسرے لوگ انہیں ٹہوکے دے کر جگاتے ہیں، اور سنی ہوئی باتیں سننے پر مجبور کرتے ہیں۔ مخاطبین کی اس حالت کو یہ مجاہدہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ حالانکہ مجاہدہ تو کسی عمل میں ہوتا ہے۔ دعوت کا تعلق تو دل و دماغ سے ہے، دعوت سے کسی کو قائل کرنا ہوتا ہے، کسی کو کسی کام پر ابھارنا ہوتا ہے۔ دعوت کا مقصد مجاہدہ کرانا نہیں ہوتا، مجاہدہ بعد میں ہوتا ہے، دعوت کا مقصد تو کوئی بات سمجھانا ہوتا ہے۔ اس کے لیے مخاطب کی توجہ درکا ر ہوتی ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق آدمی بیس منٹ سے زیادہ کوئی چیز توجہ سے سن نہیں پاتا۔ بیس منٹ کے بعد اس کی توجہ کا ارتکاز ختم ہونے لگتا ہے۔ لیکن یہاں ان باتوں کی پرواہ نہیں کی جاتی۔

ہم سفر تبلیغی بھائی صاحب قرآن کی کوئی ایک آیت معنی اور مفہوم کی صورت میں بھی بیان نہ کر سکے۔ کیوں؟ اس لیے کہ قرآن ان کے ہاں بیان میں کم ہی کہیں آتا ہے۔ کنتم خیر امۃ اور ادعوا الی سبیل ربک والی ایک  دو آیات کے علاوہ ان کے کوئی دوسری آیت کم ہی سننے میں آتی ہے۔

ہم رمضان کے مہینے میں ایک مسجد میں تراویح کے بعد خلاصہ قرآن کے درس میں بیٹھا کرتے تھے۔ ایک تبلیغی دوست بھی تھا، جسے درس میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ایک دن جب کنتم خیر امۃ والی آیت آئی تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا، آج ہماری آیت آئی ہے۔

تبلیغ، بغیر علم اور بغیر فہم دین کے جب کی جائے گی تو یہی کچھ نکلے گا۔ اسی لیے خدا نے قرآن مجید میں جب تبلیغ کا بیان فرمایا تو پہلے لیتفقھوا فی الدین  یعنی دین میں اچھی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کا کہا اور پھر کہا کہ اب جا کر لوگوں کو تبلیغ کریں:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (سورہ التوبہ، 9:122)

یہ تو ممکن نہیں تھا کہ مسلمان، سب کے سب نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکلتے تاکہ دین میں بصیرت پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو (اُن کے اِن رویوں پر) خبردار کرتے، جب اُن کی طرف لوٹتے، اِس لیے کہ وہ بچتے۔

لیکن یہاں بغیر علم کے، بغیر تیاری کے تبلیغ کے محاذ پر بھیج دیا جاتا ہے جس سے دینی تصورات کا چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ دین کے ساتھ نادان دوستی ہے۔ اتنے بہت سے تبلیغی پیدا کرنے کی بجائے درست فہم دین پیدا کیا گیا ہوتا تو لوگوں کو قائل کرنے کے لیے اتنے طویل خطبے اور نت نئی کہانیاں گھڑنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ قرآن کی تاثیر ہی بہت کافی تھی۔ کاش کہ تبلیغ قرآن سے  کی جاتی۔

یہ عدم تفکر کی روش انسان کے لیے خدا کے مقصد تخلیق کی نفی ہے۔ ایک ذی شعور اور ذی ارادہ مخلق پیدا کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ وہ اس نیکی بدی کی آزمائش میں اپنے علم و عقل سے کام لے۔ اس کا مواخذہ ہی عقل و فہم کی میزان پر ہونا طے کیا گیا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت میں تفکر اور تعقل کو مذموم سمجھا جاتا ہے۔ آپ چند سوالات کر کے دیکھ لیجیے، نئے اور پرانے تبلیغی حضرات سے کیا جواب ملتا ہے۔ ایک ہی جواب کہ یہ سوالات نہیں، وساوس ہیں، ان کے جواب علما سے پوچھئے، علما سے بھی ہو جو تبلیغی ہوں، غیر تبلیغی عالم ان کے نزدیک معتبر نہیں۔ اور جب تبلیغی عالم سے پوچھا جائے تو وہ بھی سوچنے سے زیادہ عمل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ کہتے ہیں جب آپ عمل کرنے لگتے ہیں تو سوال خود ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ روش کسی فوجی تربیت کے لیے مناسب ہو سکتی ہے، لیکن خدا کے دین کے لیے نہیں، جہاں بلا سوچے سمجھے نماز ادا کرنے والے کی نماز بھی گندے کپڑے میں لپیٹ کر اس کے منہ پر مار دی جائے گی۔ کہا جاتا کہ آنکھیں بند کر اللہ کے راستے میں نکل کھڑے ہوں، جواب خود مل جائیں گے۔ اگر اسی طرح ہوتا ہے تو برسوں تبلیغ میں گزارنے والے جواب کیوں نہیں دے پاتے، ان کو کیوں نہ ملے؟ ہوتا ہے یہ ہے کہ اتنے برسوں تبلیغ میں چلنے کی وجہ سے سوال ہی مر جاتے ہیں، ایسا نہیں کہ کسی بھی مرحلے پر ان کے جواب دیے جاتے ہیں۔

اگر  تبلیغ کا منبر صرف مستند اہل علم کے لیے مخصوص رہتا، عام لوگوں کو خطبے دینے پر نہ لگا دیا جاتا، تب بھی دین کی اتنی تباہی نہ ہوتی جو مشاہدے میں آتی ہے۔  عام آدمی کا کام محض اتنا ہونا چاہیے تھا کہ لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتا، یہ نہیں کہ  من گھڑت اور من چاہی حدیث و روایات سے استشھاد پیش کرتا۔ افسوس یہ ہے کہ دین سے زیادہ دعوتِ دین اہم ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں لوگوں کو دین دار بنانے کے باوجود سماج میں دین نظر نہیں آتا۔

جب تک امت میں فہم دین کی ترغیب نہیں دی جائے گی، جب تک علم سے خوف ختم نہیں ہوتا، یہ معاشرہ درست طور پر  دین دار ہو سکتا ہے نہ ڈھنگ سے دنیا دار۔

اورتم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: