اردو افسانہ: مسائل اور پیش رفت —- صغیر ملال

0

کہانی کہنے کا فن انسان کے وجود جتنا قدیم ہےسوائے اس مختصر سے عبوری دور کے جب انسان اشاروں کی زبان میں گفتگو کر رہا تھا۔ بچوں نے ہمیشہ کہانی سننے میں دل چسپی ظاہر کی ہے۔ بچپن کا یہ شوق عمر کے ہر حصے میں قائم رہتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بلوغت میں آدمی کہانی میں مبالغہ آرائی کم اور گہرائی زیادہ پسند کرتا ہے۔

دنیا کی جدید کہانی نے “ایڈگر ایلن پو” کے ساتھ امریکہ میں جنم لیا اور فرانس کے موپساں اور روس کے چیخوف کے ساتھ جوانی کی منزلیں طے کیں۔ بیسویں صدی کی ابتداء ہی میں اس صنف سخن کو “او ہنری” جیسا فنکار ملا جس نے اس کی بیرونی آرائش کو درجہ کمال تک پہنچایا اور تقریباََ اُسی زمانے میں چیکو سلواکیہ کے ایک جرمن بولنے والے یہودی “فرانز کافکا” نے اس فن کو وجودی گہرائیوں سے آشنا کیا۔

اردو زبان کو فارسی میں لکھی جانے والی “ایک ہزار ایک” کہانیوں کا ترجمہ عربی کی “الف لیلہ” کی صورت میں ورثے میں ملا تھا۔ اس لیے اردو دانوں کو داستانوں سے افسانے کی جانب منتقل ہونے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی۔ منشی پریم چند نے میدان ہموار کیا اور سعادت حسن منٹو نے اس میدان میں ایک عالی شان عمارت کی بنیاد رکھ دی۔ کرشن چندر کا “کچرا بابا”، قاسمی صاحب کا “کنجری”، اشفاق احمد کا “گڈریا”، اسد محمد خاں کا “ترلوچن”، سریندر پرکاش کا “بجوکا”، احمد ہمیش کا “مکھی”، انور سجاد کے “سازشی” اور “گائے”، خالدہ حسین کی “پیار کہانی” اور عبداللہ حسین کی کہانیاں اردو افسانے کی عمارت کا رنگ و روغن ہیں۔ یہ تمام افسانے شاہکار افسانے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
امریکہ اور روس میں شاہکار افسانوں کی فہرستیں بھی کوئی بہت زیادہ طویل نہیں ہیں جبکہ وہاں افسانے کا فن اپنی دو سو سال کی کہانی سناتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس عرصے میں لکھی جانے والی شاہکار غزلوں کی تعداد افسانوں سے زیادہ ہے مگر اردو غزل کو فارسی کا ورثہ ملا تھا جو اردو میں بعینہ منتقل کیا جا سکتا تھاجس سے اردو غزل کے عظیم استادوں غالب، میرتقی میر اور اقبال نے بہت فائدہ اٹھایا تھا۔ تقسیم کے بعد یہ ساری دولت براہ راست پاکستان کے ادیبوں کو منتقل ہو گئی تھی۔ اس لحاظ سے پاکستان کا غزل گو بہت امیر تھاجبکہ افسانہ نگار کے پاس صرف پریم چند کے “کفن” کی قیمت تھی۔

“بوئے گل”، “نالہ دل”، دودِ چراغِ محفل”، “کوئے ملامت” اور “منت ایں و آں” کو مصرعے میں چست کیا اور شعر میں بلاغت پیدا کر لی۔ رنگ چوکھا آنے کی تو ضمانت موجود ہے۔ فرض کیا کہ نوجوان غزل گو کہتا ہے کہ
نگاہ یار سے پوچھو نگاہ یار کا مطلب
تو اس سے پہلے کہ کوئی اس سے مصرعے کا مطلب معلوم کرے وہ “سلاست” کا اعتبار تو قائم کر ہی چکا ہے۔ آخر نگاہ یار سلامت، ہزار مے خانے۔۔۔ بھی تو داد پا چکا ہے۔ یہ “تن آسانی” کی صورتِ حال اردو افسانہ نگار کو حاصل نہیں تھی۔ اس کا فن مغرب سے آرہا تھااور مغربی زبانیں اردو کی بہنیں نہیں ہیں۔ آپ سات سو سال کے عرصے پر محیط فارسی غزل کا مطالعہ کیجیے اور پھر دوبارہ غور سے اردو شاعری پر نظر ڈالیے۔ بتائیے میر تقی میر کے علاوہ کس نے اکابرین پارس کے بنے بنائے سانچوں سے انحراف کیا۔ محتسب اور پیر مغاں کی چپقلش اور شیخ صاحب کی ریاکاری سے رندِ مست حال کی جرات مندانہ گھتم گھتا میں تو سینکڑوں سال کی روایت نے ایسی کشش پیدا کر دی تھی کہ کبھی کبھی تو میرتقی میر جیسا خالص ہندوستانی غزل گو بھی بات میں لطف پیدا کر نے کے لیے شیخ اور شیطان پر احتلام کی روداد سناتا تھا۔ ہر چند کہ شیطان جیسی صورت پر احتلام ہونا یوں بھی خلافِ واقعہ اور بے مزا بات ہے مگر شاعر نے ہزاروں مرتبہ “زہد وریا” کو بے نقاب کرنے کا کرتب تو دکھایا ہے۔ پھر یوں بھی تھا کہ قدیم صنف سخن ہونے کے باعث غزل کا کھر اکھوٹا معلوم کرنے کے لیے غیر مرئی آلات موجود تھے۔ “غیر متوقع” قافیے کی داد دی جاسکتی تھی اور “ایطائے جلی” پر منہ پھیرا جاسکتا تھا۔ بندش کی چستی، مضمون کی کمزوری کی تلافی کر سکتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ضرورتِ “شعری” کا سمندر سطح کی گندگی سمیٹ کر بھی صاف رہتا تھا۔ علامہ اقبال نے جب دل مسلم کے لیے بھی ایسی زندہ تمنا طلب کی جو قلب و روح کو تڑپا سکتی تو اعتراض کیا گیا اور “تڑپا دے” میں دم کے پہلو کی نشان دہی کی گئی۔ علامہ نے تقطیع کے مروجہ اصولوں کے تحت مصرعے کو پاش پاش کیا اور “تڑپا” کو الگ اور “دے” کو جدا جداحصہ ثابت کیا۔ معترضین کے پاس شعر کو جانچنے کے ہزار زاویے تھےاور شاعر لفطوں کی چومکھی لڑنے کا سات سو سال کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس کے برعکس اردو افسانہ نگارباریک بین قدر دانوں کے علاوہ عیوب شناس نگاہوں سے بھی محروم تھا۔ ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس کے اعصاب پر عورت سوار تھی لیکن ان تینوں میں سے شاعر عورت کے قریب تر تھا۔ صورت گر اور افسانہ نویس تو بمشکل تمام ابھی یورپ کی عورت کی سمجھ میں آرہے تھے۔

یہ درست ہےکہ یورپ اور امریکہ سے گونا گوں افسانوں کا ایک سیلاب امڈا چلا آرہا تھا لیکن کتنے فیصد ادیبوں کی براہ راست اس تک رسائی تھی؟ اور جن یورپی افسانہ نگاروں تک اردو ادیبوں کی رسائی ہوئی تھی ان کے قدو قامت خود اُن کے اپنے معاشروں میں کیا تھے؟ اردو کے ابتدائی افسانہ نگاروں اور نقادوں نے جست لگائی بھی تو آسکر وائلڈ تک پہنچے اور آسکر وائلڈ کالج کے لڑکوں کی طرح حُسن کو خدا ماننے اور منوانے کے علاوہ کیا کرتا تھا سوائے جیل سے تحریر کردہ اس خچ کے جس میں وہ اپنے “نوخیز” دوست کی بے وفائی پر ماتم کنا ں ہوا۔ آسکر وائلڈ کی کسی تحریر میں گہرائی کی جھلک بھی نہیں ہے۔ (بذلہ سنجی کے میدان میں جھنڈے گاڑنا عظیم ادیبوں کے شایان ِ شان نہیں ہو تا۔ کم ازکم وہ حاضر جواب ہونے کی شعوری کوشش نہیں کرتے) انگلینڈ کے مجاز لکھنوی نے یہاں کے پطرس بخاری اور نیاز فتح پوری جیسے ذہنوں کو متاثر کیا۔ اردو نثر کی دوشیزہ ازالہ بکارت کے لیے غلط مرد کے سپرد ہوئی۔

جیمز جوائس، سارتر اور کافکا دنیا کے جدید نثری ادب کی معراج ہیں۔ ان تک نگاہیں دیر میں پہنچیں لیکن ان اونچے میناروں تک رسائی حاصل کرنے کے باوجود انھیں “جوں کا توں” اردو میں ڈھالنا ممکن نہ تھا۔ شاعری ایک نہایت موضوعی صنف ہے اور نزدیک تر زبان فارسی کے پیراہن کے سبب سے اسے بعینہ اپنا یا جا سکتا تھا۔ اردو کی جدید غزل کا ایک خوب صورت شعر ہے
ہم تجھے بھول کے خوش بیٹھے ہیں
ہم سا بے درد کوئی کیا ہوگا
اسی شکل و صورت کا شعر قدیم زمانے سے فارسی شاعری میں موجود ہے۔  ذی علم حضرات جانتے ہیں لیکن اردو کے شعر کو چربہ قرار دینے میں انھیں تامل ہوگا۔ موضوعی صنف سخن میں “توارد” دور ازکار چیزمعلوم نہیں ہوتی مگر نثر سی معروضیت کی حامل شے کو یہ فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کسی انسان کا کیڑے میں تبدیل ہوجانا تبت کے بدھ بھکشو کے لیے عام موضوع ہوگا مگر اب یہ بات تاقیامت کافکا کے افسانے سے منسوب رہے گی اور جو اس وادی میں قدم رکھے گا سارق کہلائے گا۔

سو یوں تھا کہ یورپ کی زبانیں ساخت میں نہایت مختلف تھیں اور نثر کی معروضی نوعیت کے باعث یورپ کے عظیم ادیبوں سے متاثر ہونا ممکن تھا مگر ان سے کچھ ادھار مانگنا فوری شرمندگی کا سبب بنتا تھا۔ اردو افسانہ نویس اور ناول نگار کے مقابلے میں پاکستان کے غزل گو اور نظم نگاروں کے لیے موسم بہت خوش گوار تھا۔ وہ اس خوش نصیب بونے کی طرح تھے جسے جِن کے کندھوں پر سوار ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ انھیں فارسی اور عربی شاعری کی جناتی روایتوں کی حمایت اور مدد حاصل تھی۔ یہ پشت پناہی براہ راست تھی جبکہ افسانہ نگاروں کے لیے پہنچنے والی یورپی امداد کے راستے میں دو چار بہت سخت مقام آتے تھے۔
شہزادی تجھے کون بتائے تیرے خواب کدے تک
کتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں

پہلی دشواری تو اصطلاحات کی تھی۔ ایبسٹریکشن Abstraction کیا ہے؟ ایبسر ڈٹی Abdsurdity کسے کہتے ہیں؟ انجیل مقدس میں حضرت عیسیٰؑ کی بیان کردہ پیرا بلز Parables اور سمبولک کہانیاں Symbolic Tales میں کیا فرق روا رکھا جا سکتا ہے؟پھر ان سارے جھمیلوں کے بعد ہی بنیادی سوال کہ ہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جدا یا عین ِذات؟

“تعقید لفظی” اور “اکراہِ صوت” پر خیال انگیز گفتگو کرنے و الے اساتذہ موجود تھے۔ غیر مردف غزل کی مدح اور مذمت میں پُر مغز مقالے تحریر کیے جاسکتے تھے۔ “حشو و زوائد” پر ٹھیک نشانے لگانا تو سامنے کی بات تھی، “ضعفِ اختتام” جیسی باریک کمزوریوں کے نبض شناسوں کی بھی کمی نہ تھی۔ مگر اردو افسانہ نگار کو ایک بھی ایسا نقاد میسر نہ تھا جو اُسے Abstraction اور Absurdity کے معنی بتاسکے۔ یوں تو کوئی بھی کرمِ کتابی ان لفظوں پر بصیرت افروزی فرما سکتا تھا اور بہت سے ایسے بھی تھے جو مغرب سے درآمد کردہ ادبی لغات میں درج ان الفاظ کے معنوں کا ترجمہ کرتے اور اپنے تئیں بری الذمہ سمجھتے۔ لیکن میں سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ اُردو کے کسی نقاد نے افسانہ نگاروں کے ذہنوں سے مکڑی کے یہ جالے صاف کرنے کی کوشش سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ پروفیسری کی حد تک تو ایک ہجوم اس میدان میں سعی کر رہا تھا مگر پروفیسری میں کچھ کچھ اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں:

“تجرید” عربی زبان کا ایک مونث ہے۔ تجرید کہتے ہیں مجرد کرنے کو اور مجرد وہ چیز ہوتی ہے جس میں تجرد ہوتا ہے اور تجرد کہتے ہیں تنہا ہونے کو، اکیلے ہونے کو، جس کا کوئی جوڑ نہ ہو وہ تجرد کا حامل ہوتا ہے۔ جو شخص شادی نہ کرے اور ہمیشہ کنوارا رہنے کا ارادہ کر لے وہ تجرد کا شکار کہلاتا ہے۔ یعنی فلاں فلاں شخص دنیا سے مجرد گزر گیا۔ تجریدی آرٹ وہ آرٹ ہوتا ہے جس میں ترکیب و تناسب کا لحاظ نہ رکھا جائے اور چیزوں کوان کی عریانی کی حالت میں دکھایا جائے۔”

بتائیے اس گفتگو سے آپ Abstraction کے بارے میں کیا سمجھ پائے؟ قصہ یہ ہے کہ کسی پروفیسر نے ابتدا ء میں Abstract کا ترجمہ “تجرید” کر دیا اور پھر بقیہ تمام اساتذہ کرام لفظ”تجرید” کی گہرائیوں میں اُتر گئے۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ سطح پر اُبھرنے والوں میں سے کوئی مردِ دانا پکارتا کہ انگریزی اصطلاح کا Abstract کا ترجمہ “تجرید” نہیں ہے اور یہ بنیادی غلطی بہت سے سنجیدہ ذہنوں کو لے ڈوبے گی مگر ایسا نہ ہوا اور ہمارے دانش ور اس بنیادی غلطی کی زیریں لہروں میں مسلسل غوطے کھاتے رہے۔ اردو ادب میں حسن عسکری صاحب ایک ایسے نقاد تھے جو ایسی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کی قدرت اور صلاحیت رکھتے تھے مگر ان کے چھوٹے سے بدن پر رکھا ہوا بڑا سا دماغ انھیں اس وادی کی جانب لے گیا جہاں قدو گیسو واقعتاََ قیس و کوہ کن کے مشغلے معلوم ہوتے ہیں اور آدمی کو یقین ہو جاتا ہے کہ بڑی منزلیں دارورسن کی آزمائشوں سے گزرنے پر ہی ہاتھ آتی ہیں۔ حسن عسکری کے علاوہ جتنے علوم ِ مغربی کے شناور تھے وہ قدو گیسوکی حدود میں رہنے کے باوجودغزل کے روایتی استاد جتنی استعداد بھی پیدا نہ کر سکے جو “ایمائیت و رمزیت” اور “ایہام و ابہام” کے مفاہیم درست بیان کرتا ہے اور ان کی وضاحت کے لیے ایسے اشعار پڑھتا ہے جو تمام نشانیاں کھول کر رکھ دیتے ہیں۔

Abstraction کسے کہتے ہیں؟
نہایت سادہ سا جواب ہے، ٹھوس اشیاء کی خصوصیت Abstraction کہلاتی ہے۔ خوب صورت لڑکی ایک ٹھوس چیز ہے لیکن اس کی خوب صورتی Abstraction ہے۔ بہادر آدمی ٹھوس حقیقت ہے مگر اس کی خصوصیت بہادری ایک Abstract چیز ہے۔ “سامنے پاگلو ں کا ایک ہجوم کھڑا تھا” یہ ٹھوس جملہ ہےمگر “سامنے پاگل پن کا انبار پڑا تھا” ایک Abstract بات ہےکیوں کہ پاگل پن ایک پاگل شخص کی خصوصیت ہوتی ہے۔ پاگل پن کوئی چیز نہیں کہ کسی پاگل کے دماغ سے آپریشن کے ذریعے نکال کر اسے سامنے میز پر رکھ دیا جائے۔ “میدان میں پانچ لڑکے تھے” ٹھوس جملہ ہے مگر “میدان میں پانچ تھے” سو فیصد Abstractہے۔ اس لیے کہ پانچ محض ایک تصور ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں بتائیں گے کہ اس تصور کا تعلق کسی ٹھوس چیز سے ہے یہ Abstract رہے گا۔ اگر میدان میں پانچ لڑکے ہوں یا پانچ درخت ہوں، پانچ کھمبے ہوں تو عدد پانچ ان ٹھوس اشیاء سے مل کر Abstraction کی حدود سے نکل کر ٹھوس ہو جائے گا۔

خوب صورت لڑکی کی خوب صورتی، بہادر آدمی کی بہادری، پاگلوں اور جنونیوں کا پاگل پن اور جنون اور پانچ لڑکوں، درختوں یا کھمبوں کا “پانچ پن” ان کی خصوصیات ہیں اس لیے Abstract ہیں۔ خصوصیات کا تصور کیا جاسکتا ہے لیکن انھیں دکھانا یا بتانا مقصود ہو تو انھیں ٹھوس اشیاء سے وابستہ کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ تمام ٹھوس اشیاء کی خصوصیات اور ریاضی کے اعداد ہمارے تصورات ہیں۔ اگر ہم انھیں براہِ راست بیان کریں گے تو یہ کوشش Abstraction کو جنم دے گی۔ مثلاََ” میں نے جنون کی سطح پر پتھر پھینکا تو دور دور تک پاگل پن کی لہریں دائرہ وار پھیلتی چلتی گئیں” ناصر کاظمی مرحوم کا نہایت اثر انگیز شعر ہے
ہمارے گھر کی دیواروں پر ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

اداسی دراصل اداس آدمی کی خصوصیت ہے۔ ہم اداس آدمی کو دیکھ سکتے ہیں لیکن اس کی اداسی کا محض تصور ممکن ہے۔ ناصر کاظمی نے ٹھوس گھر کی ٹھوس دیواروں پر کسی اداس مرد یا عورت کو محوِ خواب نہیں دکھایا بلکہ خود اداسی کے بکھرتے محسوس کیے۔ شعر کے دوسرے مصرعے میں Abstraction کی طاقت کار فرما ہے۔

میں نے اب تک لفظ Abstract ہی استعمال کیا ہے۔ مجھے Abstract کا ترجمہ تجرید کرنے میں تامل ہے۔ گو کہ Abstract کا ایک پہلو اکیلا ہونا بھی ہے کہ اس میں تصور کسی ٹھوس شے کی مدد کے بغیر تنِ تنہا نمودار ہوتا ہے مگر محض ایک پہلو مکمل ترجمے کا حق ادا نہیں کرتا۔ میرے نزدیک Abstract کا ترجمہ “محسوساتی” ہونا چاہیے۔ یعنی Abstract Art کو اردو میں تجریدی آرٹ نہیں بلکہ محسوساتی آرٹ” پکارنا چاہیے (ٹھوس چیز کی خصوصیت جسے سوائے انسان کے کوئی بھی حیوان (چاہے اس کا جبلی عمل کتنا ہی حیران کن ہو) محسوس نہیں کر سکتا)۔ اگر ابتدا ءہی میں Abstraction کے درست معنی سمجھ لیے جاتے تو اردو افسانہ نویسوں اور ناول نگاروں کی ان گنت الجھنیں دور ہو سکتی تھیں۔

تو بات یہاں تک پہنچی کہ کسی ٹھوس چیز کی صفت یا خصوصیت کے احساس کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش سے Abstract Art یا محسوساتی آرٹ جنم لیتا ہے۔ کیا اب میں آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ اردو میں اب تک کتنے Abstract افسانے تحریر کیے گئے ہیں؟ شاید ایک بھی نہیں! ہر چند کہ رفتگاں کے مقالوں میں آپ نے متعدد بار پڑھا ہوگا کہ فلاں بنتِ فلاں نہایت خوب صورت تجریدی افسانے بھی لکھتی رہی ہیں جو پاک و ہند کے باذوق قارئین سے خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں
جلوتیاں مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوق
اردو ادب تو اب دور کی بات ہے، مغربی ادب میں بھی بہت کم افسانوں اور فلسفیانہ مقالوں خالص محسوساتی جملے پائے جاتے ہیں۔ البتہ محسوساتی آرٹ نے مصوری کے چمن کو آشیاں سازی کے لیے بہت موزوں پایا۔ چیختے سرخ، شوخ سبز اور سنجیدہ آسمانی رنگوںنے محسوسات کی دنیا میں خوب دھومیں مچائیں۔ موسیقی تو فی نفسہ محسوساتی فن ہے۔ “سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، سا” کی ادائیگی کے ساتھ ہی خالص احساسات کی دنیا رقص میں آجاتی ہے۔ ادب کا معاملہ مختلف ہے
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

اس میں “کہی” اور “ان کہی”، “فہم” اور “بعید از فہم” ‘یعنیت” اور “لا یعنیت” کا انتہائی دشوار رِشتہ نہایت متناسب خطوط پر استوار کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کا سنجیدہ ترین اور موضوعیت کی انتہائیں چھونے والا ادیب بھی محض اپنی ذاتی تسکین کے لیے کچھ نہیں لکھتا۔ ممکن ہے کہ اسے عوام سے کوئی واسطہ نہ ہو مگر وہ بہر حال اپنے جیسے چند لوگوں کو اپنے تجربے میں شریک کرنا چاہتا ہےجو اس کے خیال میں کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ضرور وجود رکھتے ہیں۔ ویران جزیرے میں رہ جانے والا شخص اپنی تحریر کو غرقاب ہوتے دیکھ کر لکھنا بند کردے گا مگر وہ مرتے دم تک گنگنانے اور (اگر رنگ میسر ہوں) تصویریں بناتے رہنے کو وقت گزاری کا بہترین ذریعہ سمجھے گا۔ ادیب کچھ بتانا بھی چاہتا ہے، کچھ سمجھانا بھی چاہتا ہے۔ مغنی اور مصور محض محسوس کرنا اور کرانا چاہتے ہیں۔ لطف لینا اور دلانا چاہتے ہیں۔ ادیب کی آخری منزل پیغمبری کی حدوں کو چھو لیتی ہے۔ مغنی اور مصور اپنی انتہا پر پہنچ کر بھی نغمہ و عکس تک محدود رہتے ہیں۔ ویران جزیرے میں رہ جانے والا ادیب اپنے عمل کو لا یعنی سمجھ کر ترک کر دے گا مگر گائیک اپنے گانے سے خود لطف اندوز ہوتا رہے گا۔

تو ثابت ہوا کہ Abstract Art کا اردو ترجمہ محسوساتی آرٹ ہے۔ اولین نقادوں نے اسے “تجریدی” کہ کر ہمارے بزرگ افسانہ نگاروں کو بہت بھٹکایا، بہکا یا اور الجھایا۔ نئی نسل کے نثر نگاروں نے ذاتی طور پر انگریزی میں کچھ استعداد پیدا کی تو Little Knowledge والے مسئلے کا دردناک شکار بنتے پائے گئے۔

مغربی اصطلاح Absurdity بھی اردو میں ایسی ہی مضحکہ خیز صورتِ حال سے دوچار ہوئی۔ Absurdity کو بھی “لایعنیت” کا مترادف سمجھ کر “بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ” کو Absurdity کے افسانے قرار دیا گیا۔ حیرت ہے کہ اردو میں لفظ Absurdity کا مترادف لفظ موجود ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ Abstract کے بر عکس Absurdity کی اصطلاح خصوصی طور پر ادب سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا موسیقی اور مصوری سے کوئی علاقہ نہیں۔ اس لحاظ سے اس کا درست مفہوم اردو میں منتقل نہ کرنا اردو افسانہ نگاروں کے ساتھ ظلم تھا۔ ہمارے ہاں کی روزمرہ والی ستم ظریفی کو مغرب والے Absurdity کہتے ہیں۔ Absurd Situation میں ستم اس کے ساتھ ہوتا ہے جو اس سچوئیشن کا شکار ہو اور ظرافت کا پہلو تماشائیوں کے لیے مخصوص ہے۔

میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یوں
غالب کے ساتھ ستم ہوا اور ہمیں ہنسی آگئی۔ یہ مرزا غالب کی Absurd Situation ہے۔
وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذتِ آزار دیکھ کر

اردو شاعری میں غالب Absurd Situation تخلیق کرنے میں درجہ کمال کا حامل ہے۔ یہ اور بات ہے کہ غالب میں ستم کا عنصر کم اور ظرافت کا پہلو زیادہ ہے۔ میر تقی میر کا مزاج نسبتاََ زیادہ سنجیدہ اور غم انگیز ہے اس لیے ان کی Absurd Situation بھی نسبتاََ زیادہ سنجیدہ ہے (ستم ظریفی یا Absurdity اپنی انتہا پر پہنچ کر ہول ناک بن جاتی ہے)۔
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میر صاحب بے چارے کس قدر Absurd Situation کا شکار ہوگئے ہیں۔

مغربی ادب میں کافکا نے Absurdity یا “قدرت کی ستم ظریفی” سے ہول ناک شاہکار تخلیق کیے۔ قرۃ العین حیدر کا ناولٹ “سیتا ہرن” اردو کا واحد ناول ہے جو زندگی کی Absurdity سے مکمل ٹریجڈی اخذ کرتا ہے۔ منٹو کبھی کبھی نہایت مہارت سے اپنے کچھ کرداروں کو زندگی کی ستم ظریفی کا شکار ہوتے دکھاتا ہے۔ انور سجاد اور احمد ہمیش کی تحریروں میں Absurd Situations کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ جو ادیب اپنے شعبے کی اصطلاحات سے آشنائی نہ رکھتا ہو وہ نمایاں ادبی تخلیقات پیش کرنے سے بھی قاصر رہے۔ اگر وہ ان سے قطعی بے گانہ ہو تو اس کی جبلی طاقت کھرے کھوٹے کی بہترین پہچان بن جاتی ہےلیکن اگر وہ اپنے پیشے کے رہ نما اصولوں کا مطلب غلط سمجھ کر میدان میں اُترا تو
اسی ہجوم میں اک بے شمار “وہ” بھی تھا

دنیا کا عظیم ترین متکلم “سقراط” اپنے مخاطب سے یہ ضرور کہتا تھا کہ “Define your terms” یعنی اپنی اصطلاحات کی وضاحت فرمائیے۔ اصطلاحات کی وضاحت نہ ہو تو آدمی تمام عمر گلیوں میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر بیٹھنے والے کو “مجذوب” پکارتا ہے۔ بات یہیں تک محدود رہے تو برداشت ہے مگر آخر میں وہ اسے مجذوب سمجھنے بھی لگتا ہے۔ آپ شوق سے کسی مائل بہ فر بہی شخص کو “پہلوان” پکاریں لیکن اس مرحلے سے گزر کر اگر آپ نے محض اس کے موٹاپے کی بنا پر اسے حقیقی پہلوان سمجھ لیا تو یہ غلطی کسی موقع پر آپ کی اور اس کی شرمندگی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

البرٹ کامیو نے ایک جگہ نہایت دل چسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص مچھلیاں پکڑنے کی ڈور اور کانٹا غسل خانے کے ٹب میں ڈال کر محوِ انتظار ہُوا۔ کسی ملاقاتی نے پوچھا “کوئی پکڑی یا نہیں”
“تمھاری حماقت مجھے حیران کر دیتی ہے” موصوف اطمینان سے بولے ‘”تم سمجھتے ہو کہ غسل خانے کے ٹب سے مچھلی پکڑی جاسکتی ہے؟”

اگر شخص مذکور مچھلی پکڑنے بیٹھا ہوتا توہم اُسے پاگل قرار دیتے اور اپنی راہ لگتے لیکن اس کے جواب نے بتایا کہ وہ پاگل نہیں ہے اور اب وہ تماشائیوں کے لیے ایک انتہائی Absurd Situation کا شکار ہے۔

اردو نقاد مغربی اصطلاحوں کا درست ترجمہ نہ کر سکے اور نتیجتاََ ہمارا جدید افسانہ نگار بذاتِ خود قدرت کی ستم ظریفی کا شکار ہو گیا یعنی جو Absurd Situation تخلیق کرنے کا دعویٰ کررہا تھا وہ خود نقاد کی نادانستہ ظرافت کا نشانہ تھا۔ اس بنیادی مغالطے کا نتیجہ یہ نکلا کہ “لایعنیت” کو جدید آرٹ کا مرجع و منبع مان لیا گیا۔ نئے نئے ایم اے انگریزی کرنے والے ادیب گلیوں میں چیخ پڑے کہ “دیکھیے صاحب ہم سے نہ الجھیے گاکہ ہماری Ambiguity تک رسائی ہے جو عوام کے بس سے باہر ہے”۔ کاش اُسی وقت گلیوں میں سنے جانے والے استاد داغ دہلوی زندہ ہوتے اور ان سے “ابہام” کے حسن و قبح پر گفتگو کرتے یا صرف غالب اور بیدل کی پسندیدہ بات ہی دہرا دیتے کہ شعرِ خوب معنی نہ دارد
اگر ایسا ہوجاتا تو جدید نثر نگاروں کو احساس ہو جاتا کہ ہماری روایتوں میں یہ سب کچھ بھی موجود رہا ہےاور روایت میں ہونے کے باعث ہم اس سے درست طور پر آشنا ہو سکتے ہیں۔ مگر جدید افسانہ نگار بے چارا تو مغرب اپنانا چاہتا تھا اور ہمارے نقادوں نے مغربی اصطلاحوں کا بخیہ ادھیڑ دیا تھا۔ جدید اردو افسانہ نگار ایسی کنفیوژن میں مبتلا ہوا کہ اس کے پاس سوائے “لایعنیت” کی سمت دوڑنے کے کوئی چارا نہ رہا۔ لایعنیت ہی Abstraction کہلائی۔ لایعنیت ہی کو Absurd کہا گیا۔ لایعنیت ہی Stream of Consciousness کے نام سے مشہور ہوئی اور ظاہر ہے کہ لایعنیت کو Ambiguity سے ملا دینا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ثابت ہوا۔

اناڑی ڈرائیور ٹریفک کے ہجوم میں پھنس جائے اور چاروں سمت سے آنے والی ہدایتوں کے سیلاب میں ڈوبنے لگےتو گھبرا کر یک دم رفتار بڑھا دیتا ہے۔ گاڑی سامنے والی دیوار سے ٹکرا کر کھڑی ہو جاتی ہے اور اس کی مصیبتیں اختتام کو پہنچتی ہیں۔ وہ باہر نکل کر نقصانات کا اندازہ لگائے گا مگر اب اسے کم از کم یہ اطمینان ہے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ لیکن لایعنیت کی دیوار سے ٹکرانے پر اردو افسانہ نگاروں کو کچھ اندرونی چوٹی بھی آئیںجو وہ فوراََ محسوس نہیں کر سکے۔ یہ ان کی ٹریجڈی تھی
کہاں کے دیر و حرم گھر کا راستہ نہ ملا
اور بیرونی سطح پر منطقی عمل جاری ہو گیا۔ یعنی لا یعنیت سے لا یعنیت جنم لیتی رہی۔ اس لحاظ سے میں سعادت حسن منٹو کے شاہکار افسانے “پھندنے” اور اس کی بہترین تحریر “تین گولے” کو مجرم گردانتا ہوں کہ انھوں نے اپنے “متاثرین” کی کھیپ تیار کر لی جو اسی نوعیت کی تحریروں کو فکشن کی معراج سمجھنے لگے (اور یہاں تک ان کا موقف درست بھی تھا) مگر بعد میں وہ ایسی تحریروں کی سعی بھی کرنے لگےاور یہ ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔

ان نادانوں کو کسی نے نہیں بتایا کہ منٹو مقدس پاگل پن کا شکار تو تھا لیکن اس کی دماغی حالت آخری وقت تک درست تھی۔ پکے گانے کا ماہر استاد کبھی دل لگی کے لیے ہلکی پھلکی غزل گنگنا دے تو اسے نہایت غور سے سنا جاتا ہے۔ اس لیے کہ عام مصرعوں میں وہ بھی استادی کی جھلک دکھا دیتا ہےلیکن اگر بازار کا “گلے باز” راگ مالکونس کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنا قد بڑھانا چاہے تو وہ گھٹنوں پر چلنے والا طفل بھی ثابت ہوگا اور سرِمحفل منہ کی بھی کھائی گا۔
فنون میں ابہام یا Ambiguity کا ایک بہت بڑا درجہ ہےاور یہ درجہ برسوں کے جان توڑ “ریاض” کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ بچہ ہوش سنبھالتا ہے تو مبہم باتیں کرتا ہےلیکن بچے کی بے معنی آوازوں اور اپنی ذات میں ڈوب جانے والے کی “ایمائیت” میں جہانوں کا فرق ہے۔
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے تو کس کا قصور ہے؟
دیکھنے والے کا؟
ممکن ہے!
دکھانے والے کا؟
ہو سکتا ہے!
دونوں کا؟
زیادہ امکان اسی بات کا ہے!
لیکن اردو افسانے کے بارے میں مکالمے کی یہ صورت نہیں ہوگی۔ یہاں قصور سراسر اُس کا ہے جس نے دجلہ دکھانے والے کو گمراہ کیا اور دیکھنے والے کو بھٹکایا مگر میں اسُے گردن زدنی قرار نہیں دوں گا کہ بہرحال وہ نیک نیتی سے کچھ کرنا چاہتا تھا۔

آپ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کارکن کو ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں مگر اس کی تنخواہ نہیں کاٹ سکتے، اُسے سزا نہیں دے سکتے۔ اُس نے بہر طور کوئی جرم نہیں کیا ہے جسے آپ اُس کا قصور کہ رہے ہیں وہ دراصل اس کی Inefficiency ہے اور Inefficiency is not an offence.
تو اردو افسانے کی عمارت میں، جس کی خشتِ اول ہی میں فاضل نقاد کے ہاتھوں کجی آگئی تھی، اگر آپ کو دس سے زیادہ اور بیس سے کم درجہ کمال کو پہنچے افسانے ملتے ہیں تو یہ بھی بلند اقبالی ہے۔ یہ چودہ پندرہ افسانے پچاس اچھی غزلوں پرفوقیت رکھتے ہیں۔ ذرا مکڑی کے جالے چھٹ جائیں، اصطلاحوں کی درست وضاحت ہو جائے۔ اردو نثر کی مٹی بھی اس کی شاعری کی طرح بہت زرخیز ثابت ہوگی۔

اس مضمون کی دستیابی کے لئے ادارہ جناب محمد فیصل، مرتب کلیات صغیر ملال کا مشکور ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20