کیا فیمنسٹ تحریک صنفی مسائل حل کر سکتی ہے؟ —- وحید مراد

0

فطرت، تعمیری اور تخریبی قوتوں کے مجموعے کا نام ہے۔ تعمیری قوتیں انسانی زندگی کے بقا اور تسلسل کا سبب بنتی ہیں اور تخریبی قوتیں موت اور فنا کا باعث۔ انسان کے علاوہ تمام حیات فطرت کے رحم و کرم پر زندگی کے دن پورے کرتی ہے لیکن حضرت انسان کا ظہور جب سے اس کرہ ارض پر ہوا ہے یہ ان فطری قوتوں سے نبردآزما ہے اور بے شمار فطری قوتوں کو تسخیر کرکے اپنے لئے آسائشوں کے سامان پیدا کر چکا ہے لیکن ابھی تک زلزلہ، طوفاں، آتش فشاں، سونامی، خشک سالی، قحط، خطرناک بیماریوں اور کئی دوسری تخریبی قوتوں پر انسان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور فطرت کی ان تخریبی قوتوں سے انسانی زندگی میں مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن ان فطری قوتو ں کے علاوہ انسان کے نفس میں موجود تخریبی قوتوں کی وجہ سے بھی کئی ایسے مسائل پیدا ہوئے ہیں جن کا ابھی تک کوئی خاطر خواہ حل دریافت نہیں ہو سکا ان مسائل میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، غربت، افلاس، ماحول کی آلودگی، نسل پرستی، حسد، بغض، کینہ، لڑائیاں، جنگیں، ذخیرہ اندوزی، استحصال، لوٹ مار، طبقاتی تقسیم اور کئی دوسرے مسائل ہیں۔ یہ مسائل کسی بھی انسان کے ساتھ پیش آسکتے ہیں، ان میں مرد، عورت، بچے، جوان اور بوڑھے کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی لیکن انسانی زندگی میں کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جو کسی خاص رنگ، نسل، وطن، زبان، یا صنف سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں وہ مسائل جنکا سامنا کسی خاص صنف سے تعلق کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے انہیں صنفی مسائل کہا جاتا ہے۔

صنفی حوالے سے مسائل کی درجہ بندی کرنا کوئی آئیڈیل نقطہ نظر نہیں ہے کیونکہ نہ سب مرد ظالم ہوتے ہیں اور نہ ہی سب عورتیں مظلوم۔ کچھ شقی القلب افراد ان مسائل کا باعث بنتے ہیں اور وہ مردوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور عورتوں میں بھی۔ مردوں میں ایسے افراد کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے اور عورتوں میں نسبتاً کم لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عورتوں میں ایسے شقی القلب افراد پائے ہی نہیں جاتے۔ مثلاً 2018 میں متحدہ عرب امارات میں ایک خاتون نے اپنے بوائے فرینڈ کو قتل کرکے اسکے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ایک عرب پکوان میں پکا کر گھر کے قریب ورکرز کو کھلا دیا۔ اسی طرح 2011 میں کراچی میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کی لاش کے سینکڑوں ٹکڑے کرکے سالن میں پکا کر ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔

مارکسسٹ ماہرین، جبر، عدم مساوات اور معاشرتی مسائل کی درجہ بندی طبقاتی تقسیم کے حوالے سے کرتے ہیں اور انکے نزدیک یہ مسائل سرمایہ داری نظام کی طبقاتی حرکیات سے پیدا ہوتے ہیں۔ اورسرمایہ دارانہ معاشروں میں ظلم و جبر کا محور یہ طبقاتی عدم مساوات ہے اوراسکا حل بھی وہ طبقاتی جدوجہد میں ہی تلاش کرتے ہیں لیکن فیمنسٹ ماہرین خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم اور استحصال کو جب معاشرتی تعمیر Social Constructed کہتے ہیں تو یہ تصور مارکسزم سے ہی مستعار لیتے ہیں لیکن وہ اسکا حل طبقاتی جدوجہد کی بجائے صنفی جدوجہد میں تلاش کرتے ہیں۔

فیمنسٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے ساتھ جو بھی امتیازی سلوک ہوتا ہے اور انہیں جبراور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسکی جڑیں صدیوں سے قائم “پدرسری نظام معاشرت” میں قائم ہیں جسکے تحت تمام معاشرتی و اخلاقی اقدار، قانون، علوم، ادب، تہذیب، ثقافت اور رسوم و رواج مردوں کے بنائے ہوئے ہیں اور یہ مردوں کے راج اور جبر کو ہی قائم رکھتے ہیں اور یہ ظالمانہ معاشرتی نظام ہی عورت کے جنسی اور صنفی کردار کا تعین کرتا ہے ورنہ حیاتیاتی اور نفسیاتی طور پر مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ خواتین سے منسوب ان مسائل کے حل کیلئے وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ عورت رد عمل کے طور پر اٹھ کھڑی ہو اور دنیا بھر کی عورتیں متحد ہو کر مردوں کے بنائے ہوئے اس ظالمانہ معاشرتی نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اسے اکھاڑ پھینکیں اور اسکی جگہ “مدر سری نطام معاشرت” قائم کردیں جو انکے خیال میں زمانہ قدیم میں رائج تھا۔ اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کی تنظیمیں بنوائی گئیں جو خواتین کی ایک عالمی تنظیم کے ساتھ الحاق کئے ہوئے ہیں۔ انکے مطابق اس تحریک نے یورپ اور نارتھ امریکہ میں بہت سے مسائل حل کر لئے ہیں اور پچھلی چار، پانچ دہائیوں سے اس تحریک کو حقوق نسواں کی تحریک کی بجائے فیمنسٹ تحریک کا نام دیا جاتا ہے اور اب اس تحریک میں سیاست، نظریہ، فلسفہ، ادب وغیرہ بہت کچھ شامل ہے۔

پاکستان میں بھی خواتین کے حقوق کی بہت سی تنظیمیں ہیں جو قیام پاکستان سے ہی خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ شروع میں انکا کام خواتین کی تعلیم، اور فلاح و بہبود تک ہی محدود تھا لیکن بعد ازاں انہوں نےمختلف حکومتوں پر زور ڈلوا کر خواتین کے حقوق کے حوالے سے قانونی اصلاحات بھی کروائیں۔ اسی اورنوے کی دہائی سے یہ تنظیمیں مجموعی طور پر اپنے آپ کو فیمنسٹ تحریک کا نام دیتی ہیں اور انکے خیال میں پاکستانی معاشرے میں خواتین کے ساتھ جو جبر، تشددیا امتیازی سلوک کیا جاتا ہے یا جو ظالمانہ کاروائیاں ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں: خواتین پر جسمانی تشدد، عزت کے نام پر قتل، کاروکاری، ونی، وٹہ سٹہ، سابقہ خاوند، منگیتر یا مرد دوست کی جانب سے خاتون کے چہرے پر تیزاب وغیرہ پھینکنا، سسرالیوں کی طرف سے تشدد، خاوند کی طرف سے بیوی کا ریپ اور تشدد، اغوا، گینگ ریپ، تعلیمی اداروں اورکام کی جگہوں پر عورتوں کے ساتھ جنسی و نفسیاتی حراسگی، بچپن میں جبری شادی، قرآن کے ساتھ شادی، ، عورت کو جائیداد میں حصہ نہ دینا، گھریلو کام اور بچے پیدا کرنے کا جبر، زراعت کے شعبے میں خواتین سے جبری مشقت، کم اجرت یا بلا معاوضہ کام، عورتوں کی اعلیٰ تعلیم، جاب، کاروبار اورپروفیشن کے انتخاب میں رکاوٹ، کھیلوں اور پسند کی شادی وغیرہ میں رکاوٹ، کچھ علاقوں میں خواتین کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ، مردوں اور عورتوں کی تنخواہوں اور معاوضوں میں فرق، مساوی روزگار کے مواقع میں رکاوٹ، عورت کے لباس، جنسی خواہشات اور ضروریات کا مردوں کی طرف سے تعین، صنفی شناخت (گے، ٹرانس جینڈر، لیسبئین، ہم جنس پرست)  وغیرہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے قوانین کی عدم موجوددگی، سیکس ورکرز اور شوقیہ جنسی عمل سرانجا م دینے والی خواتین کے حقوق و تحفظ کیلئے قوانین کی عدم موجودگی وغیرہ وغیرہ۔

ان مسائل کو اجاگر کرنے، انکے خاتمے کیلئے سیاسی جدوجہد کرنے اورقانونی اصلاحات کروانے کے ساتھ ساتھ ان تنظیموں کے یہ مطالبات بھی ہیں کہ حیاتیاتی اور فطری جنسی شناخت پر قانع نہ رہنے والے افراد کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ مصنوعی طور پر (سرجری وغیرہ کے ذریعے) جنس تبدیل کرا سکیں اوراپنی مرضی کی صنفی شناخت اپنا سکیں۔ امریکہ اور یورپ کی طرح مانع حمل اوراسقاط حمل ادویات اور ذرائع کھلے عام دستیاب ہونے چاہیں اور اگر کوئی خاتون بلا وجہ بھی طلاق اور خلع حاصل کرنا چاہیےتو اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسی طرح کی طلاق اور خلع کے بعد جب اس خاتون کے میکے والوں کی طرف سے سماجی اقدار کے دبائو اور بے عزتی کے خوف کی وجہ سے اس خاتون کا ساتھ نہیں دیا جاتا اور اسے قبول نہیں کیا جاتا تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے متبادل میکے کی سہولیات اور تحفظ فراہم کرے۔

خواتین کے مسائل کے حوالے سے فیمنسٹ تنظیموں کی طرف سے پیش کردہ مذکورہ لسٹ اتنی طویل ہے کہ ان سب مسائل پر کسی ایک مضمون میں سیر حاصل گفتگو نہیں کی جا سکتی اس لئے آج کے اس مضمون میں ہم صرف عزت کے نام پر عورت کےقتل کا جائزہ لیں گے اورآئندہ دیگر مسائل پر گفتگو ہوگی، انشاء اللہ۔ ان مسائل کے حوالے سے کئی اہم سوالات ہیں جنکا جائزہ لیا جانا ضروری ہے مثلاً ان میں سے کونسے مسائل کا تعلق ہماری سوسائٹی سے ہے اور کونسے مسائل امپورٹڈ ہیں اور یورپی استعمار نے انہیں دور غلامی میں مشرقی اقوام کے اوپر جبراً تھوپا ہے، ان مسائل کی تاریخ اور پس منظر کیا ہے؟ کیا یہ مسائل پچھلی دو، چار دہائیوں میں سامنے آئے ہیں یا پہلے بھی انکا وجود تھا؟ عزت اور ناموس کے نام پر قتل کی وارداتیں صرف چند ممالک میں ہوتی یا دنیا کے اکثر ممالک میں؟ یہ مسائل صرف پسماندہ معاشروں میں پائے جاتے ہیں یا پڑھے لکھے اور خوشحال معاشرے بھی اسکا شکار ہیں؟ فیمنسٹ لیڈران اور ماہرین کی طرف سے اسکا کیا حل پیش کیا جاتا ہے اور اب تک اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ کیا ان مسائل کا حل اس طرح کی سیاسی جدوجہد میں ہے جو فیمنسٹ تحریک سر انجام دے رہی ہے اور ان قانونی اصلاحات میں ہے جو فیمنسٹ تحریک کی ایماء پر ہور ہی ہیں ؟ یا ضرورت اس امر کی ہے کہ صورتِ حال کو ٹھنڈے دل سے سوچا اورسمجھا جائے، اور اپنی تہذیب، روائیت، دین اور اقدار کی روشنی میں اس کا حل نکالا جائے؟ ان مسائل کے حوالے سے مذہبی تعلیمات کیا ہیں؟ اور مذہبی شخصیات و اداروں کا اس حوالے سے کیا کردار رہا ہے؟

غیرت یا عزت کے نام پر ہونے والا قتل کسی خاندان کے کسی فرد یا افراد کا قتل ہوتا ہے جو عموماً اسی خاندان کے کسی فرد یا افراد کے ہاتھوں انجام پاتا ہے اورقتل کرنے والے فرد یا افراد کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ مقتول کی کوئی حرکت، خاندان کی بے عزتی یا شرمندگی کا باعث بنی ہے یا اس نے خاندانی روایات سے بغاوت کی ہے۔ اس قتل کی عام طور پر جو وجوہات بتائی جاتی ہیں ان میں طلاق، علیحدگی، جبری شادی سے انکار، خاندان سے باہر شادی کی خواہش، ناجائز جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی، عصمت دری یا جنسی حملے کا نشانہ بننا وغیرہ شامل ہیں۔ اگرچہ مرد اور عورت دونوں ہی غیر ت کے نام پر قتل کا ارتکاب کرتے ہیں اوراس کا شکار بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس جرم کا ارتکاب کرنے والا اور شکار ہونے والا دونوں مرد ہوتے ہیں لیکن چونکہ اس میں متاثرین کی زیادہ تعداد خواتین کی ہوتی ہے اس لئے فیمنسٹ تحریک اور حقوق نسواں کی تنظیموں کی طرف سےیہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب صرف مردوں کی طرف سے عورتوں کے خلاف کیا جاتا ہے اور یہ صنفی امتیاز کا نتیجہ ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشنز فنڈز UNFPA کے ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں کم ازکم 5000 خواتین سالانہ غیر ت و ناموس کے نام پر قتل کی جاتی ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرق وسطیٰ، افریقہ یا جنوبی ایشیا سے ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں بنگلہ دیش، برطانیہ، برازیل، ایکواڈور، مصر، انڈیا، اسرائیل، اٹلی، اردن، پاکستان، مراکش، سویڈن، ترکی، یوگنڈا، ایران، عراق، شام، کویت، لبنان، فلسطین، یمن، افغانستان، یورپ کے کئی ممالک مثلاً البانیا، بلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، ناروے، سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا میں تقریبا ً پچاس سے زائد ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ کنیڈا، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک بھی ان وارداتوں سے محفوظ نہیں ہیں لیکن ان ممالک میں غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کی وارداتوں کا صحیح ریکارڈ بتانا آسان نہیں کیونکہ ان ممالک میں عام قتل اور غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل میں واضح تمیز نہیں کی جاتی اور عام طور پر حکام اسکا الگ ریکارڈ نہیں رکھتے۔ امریکی محکمہ انصاف، جنرل شماریات سے یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ وہاں ہر سیکنڈ میں ایک عورت کو پیٹا جاتا ہے۔ 1992 میں امریکی سرجن جنرل نے 15 سے 44 سال کی خواتین کی جسمانی چوٹوں کی بڑی وجہ انکے شوہروں اور بوائے فرینڈز کی طرف سے پٹائی وغیرہ کو قرار دیا۔ اسی طرح امریکہ میں بے گھر بچوں اور خواتین میں سے پچاس فیصد گھریلو تشدد کی وجہ سے گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ سٹی یونیورسٹی، نیویارک کے کالج آف کریمنل جسٹس کے پروفیسر Ric Curtisکی ایک ریسرچ کے مطابق امریکہ میں ہر سال 23 سے 27 خواتین کا قتل غیر ت کے نام پر ہوتا ہے۔

عورتوں کا قتل صرف غیر ت کے نام پر نہیں ہوتا بلکہ اسکی دوسری وجوہات بھی ہیں جیسے یونائیٹڈ نیشنز کی 2012 کی رپورٹ کے مطابق شمالی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاء میں عورتوں پر جادوگری کا الزام لگا کر انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں غیرت کے نام پر قتل کے علاوہ جہیز کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں کی تعداد دیگر ممالک میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز چلڈرن فنڈز UNICEF کے مطابق ہندوستان میں 5000 دلہنیں ہر سال اس لئے مار دی جاتی ہیں کہ انکا جہیز مکمل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر Widney Brown کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکہ میں اسی جرم کو crime of passion کہا جاتا ہے جسکے وہی محرکات ہوتے ہیں جو ہندوستان میں جہیز کے محرکات ہیں۔ اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں وقوع پذیر ہونے والے اس نوعیت کے واقعات میں گزشتہ برسوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ 1990 کی دہائی میں ہندوستان میں ان جرائم کی تعداد 4834 تھی جبکہ 2009 میں بڑھ کر 8383 ہو گئی۔ حکومت ہندوستان نے جہیز کےلین دین پر پابندی لگا دی اور قاتلوں کو مجرم قرار دیا جانے لگا مگر ان اقدامات کے باوجود ان جرائم کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہ ہو سکی۔ ہندوستان میں ستی کے نام پر بھی ہزاروں عورتوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے۔ مغل بادشاہ اکبر نے اس رسم کو ختم کرنے کیلئے کئی کوششیں کیں لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔ انگریز وائسرائے لارڈ ہسٹگر اور لارڈ بنٹنک نے بھی ہندوئوں کی سیاسی حمایت ختم ہونے اور بغاوت کے ڈر سے ستی کے خلاف شروع میں کوئی سنجیدہ کاروائی نہیں کی۔ لیکن جب انہیں یقین ہو گیا کہ بغاوت کا کوئی خطرہ نہیں تو پھر 1829 میں اسکے خلاف قوانین کا اجراء ہوا۔ ہندوستان میں آج بھی یہ رسم کسی نہ کسی انداز سے موجود ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب اسے اعلانیہ ستی نہیں کہا جاتا بلکہ اسے خودکشی قرار دے دیا جاتا ہے۔

غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی تاریخ کوئی چند سو سالہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔ قدیم رومن زمانے سے ہی غیر ت کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کا نام جاناجاتا ہے۔ رومن سلطنت میں رومن قانون جسے آگست سیزر کے ذریعہ نافذ کیا گیا تھا اسکے تحت گھر کے سربراہ کو اپنی زناکار بیوی اور اسکے آشنا اور ناجائز جنسی تعلقات رکھنے والی غیر شادی شدہ بیٹی اور اسکے عاشق کو قتل کرنے کا حق تھا۔ بلیک اسٹون Blackstone کے مطابق رومن قانون نے عزت، غیر ت اورجنسی تعلقات کے دفاع میں قتل کا جواز فراہم کیا۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں بھی یہ قانون، رومن قانون کاہی تسلسل تھا۔ اس حوالے سے ایک ماہر بشریات پروفیسر کیرولن فلیوہر لبن Carolyn Fluehr Lobban لکھتا ہےکہ جب کسی عورت کا مبینہ ناجائز جنسی عمل کسی ثقافت کے اخلاقی نظام کو ناکام بناتا ہے تو اس عمل سے پیدا ہونے والی شرمندگی کو دور کرنے اور معاشرتی توازن کو بحال کرنے کا واحد راستہ صرف خون خرابہ ہی ہوتا ہے۔ تاہم کچھ دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر ہونے والا قتل ایک بہت ہی پیچیدہ صورتحال ہے اور اسکی وجہ صرف عورت کی طرف سے ہونے والا ناجائز جنسی عمل اور اسکے نتیجے میں خاندان کی متاثر ہونے والی غیرت ہی نہیں بلکہ اس میں اپنے خاندان کے خون اور نطفے کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے اور اپنی نسل کے بقاکے جذبات بھی شامل ہیں۔

عزت، ناموس، غیرت اور شرمندگی کے تصورات اور انہیں تشدد اور قتل کیلئے جواز کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان کسی ایک ثقافت یا کلچر میں نہیں پایا جاتا بلکہ یہ تقریباً دنیا کی تمام ثقافتوں میں پائے جاتے ہیں۔ اور اس طرح کے واقعات کےثبوت نہ صرف اقوام عالم کی تاریخ بلکہ لٹریچر سے بھی مل جاتے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں، زنا کے الزام میں، ہنری ہشتم کی پانچویں بیوی کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ تمام بادشاہوں اور سورمائوں کے اعزازات کی بنیاد بھی عزت، ناموس اور غیرت ہی ہوتی تھی۔ برطانوی لٹریچر میں شیکسپئیر کے ڈیسڈمونا Desdemona کو بے وفائی کے الزامات کے تحت ہلاک کیا گیا تھا، رومیو اور جولیٹ نے ایک قدیم خاندانی جھگڑے کو غیر ت کے نام پر تلاش کیا تھا۔ لاطینی امریکی معاشروں میں بھی اسی طرح کے نظریات اور تصورات پائے جاتے ہیں۔ پیرو کے ابتدائی ادوار میں، انکے قانون کے تحت شوہروں کو اس بات کی اجازت تھی کہ وہ اپنی بیویوں کو زنا کے ارتکاب کی سزا کے طور پر اس وقت تک بھوکا رکھیں جب تک انکی جان نہ نکل جائے۔ اور میکسیکو میں اسی جرم کی سزا کے طور پر عورتوں کا گلا دبا کر انہیں مارا جاتا تھا۔ غیرت اور ناموس کے اسی تصور کے تحت کئی جنگیں ہوئیں جن میں سب سے مشہور جنگ Trojan Warہے جسکے آغاز کی وجہ ہیلن کی ناموس تھی۔ اسکے والد نےتمام سورمائوں کو عزت کی حفاظت کیلئے جمع کرکے Troy پر حملہ کیا۔

اسی طرح نپولین کوڈ کے مطابق خواتین کو بے وفا شوہر کے قتل کی اجازت نہیں تھی لیکن شوہروں کو اجازت تھی کہ وہ بے وفا بیوی اور اسکے آشنا کو قتل کر دیں۔ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک جو فرانس کے زیر اثر رہے انہوں نے 1810 کے پینل کوڈ آرٹیکل 324 کو منظور کیا جو نپولین نے منظور کیا ہواتھا۔ نپولین کے قانون سے ہی متاثر ہو کر اردن کا آرٹیکل 340 پاس ہوا جس میں شوہروں کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ ناجائز جنسی عمل میں ملوث بیوی اور اسکے آشنا کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیں توقتل کر سکتے ہیں۔ فرانس کے 1810 کے تعزیراتی ضابطہ آرٹیکل 324 سے ہی متاثر ہو کر 1858 میں عثمانی تعزیرات کے آرٹیکل 188 بنا، اور دیگر عرب ممالک مثلاً الجزائر، مصر، عراق، اردن ، کویت، شام، تیونس اور لبنان میں بھی اسی آرٹیکل سے متاثر ہو کر قوانین بنائے گئے۔ اسی طرح کی صورتحال پاکستان کے تعزیراتی ضابطے میں بھی پائی جاتی ہے جو نو آبادیاتی ہندوستان پربرطانیہ کی حکمرانی کے لئے برطانیہ سے درآمد کردہ ضابطہ 1860 کے چربے پر مبنی ہے۔ اور اس قانون کے تحت اگر کوئی شخص شدید اور اچانک اشتعال انگیزی کی وجہ سے اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے تو اسے نرم سزا دی جائے گی۔ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے 1990 میں اس قانون میں اصلاح کرنے کیلئے کہا کہ “اسلام کی تعلیمات کے مطابق، اشتعال انگیزی، خواہ وہ کتنی ہی سنگین اور اچانک کیوں نہ ہو وہ قتل کے جرم کی شدت کو کم نہیں کر سکتی اور نہ نرمی کا جواز بن سکتی ہے” لیکن اسکے باوجود انگریز قانون سے متاثر بہت سے ججز آج بھی غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کے سلسلے میں قاتل کو نرم سزا سناتے ہوئے مذکورہ برطانوی قانون کا حوالہ دیتے ہیں اور اسے جائز قرار دیتے ہیں۔

1948 میں نائیجیریا میں برطانوی راج کے دوران، شرعی عدالت میں ایک مقدمہ لایا گیا جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے آشنا کو قتل کر دیا تھا، شرعی عدالت نے مجرم کو سزائے موت سنا دی مگر آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ برطانوی عدالت عظمیٰ نے شرعی عدالت کے اس فیصلہ کو نامنظور قرار دیتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ یہ “جرم برائے محبت” ہے لہذا مجرم کو سزائے موت نہ دی جائے۔ یعنی شرعی عدالت اس جرم برائے محبت سے بالکل متاثر نہ ہوئی البتہ برطانوی عدالت عظمیٰ اس سے ضرور متاثر ہوئی چنانچہ شرعی عدالت کی تجویز کردہ سزائے موت کے فیصلہ پر عمل درآمد نہ کیا جا سکا۔

جو سادہ لوح خواتین این جی اوز کو خواتین کے حقوق کی ضامن سجھتی ہیں وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سول سوسائٹی، کرپٹ حکومتی عہدیداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے کرپٹ عناصر پرمشتمل بدعنوانی کی ایک مثلث بن چکی ہے جو انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے نام پر ایک معاشرتی زلزلے اور دہشت گردی کو جنم دے رہی ہے

پاکستان میں فیمنسٹ تحریک اورحقوق نسواں کی تنظیموں کی ایماء پر اور یورپ و امریکہ اور کئی دیگر بین الاقوامی اداروں کے دبائو کے تحت غیر ت کےنام پر ہونے والے قتل سے متعلق قوانین میں کئی اصلاحات کی گئی ہیں۔ 8 دسمبر 2004 میں پاکستان نے ایک ایسا قانون نافذ کیا کس کے تحت غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کے سلسلے میں سات سال قید کی سزا اور انتہائی مقدمات میں سزائے موت کی سزا دی گئی، لیکن انسانی حقوق اور فیمنسٹ تنظیمیں اس سے خوش نہیں تھیں کیونکہ اس قانون کے تحت اس بات کی اجازت تھی کہ مقتول کے ورثا قاتل سے صلح کر لیں اور معاوضہ (خون بہا) لیکر معاف کردیں اور چونکہ اس معاملے کا قاتل اور مقتول عموماً خاندان کے اندر ہی ہوتے ہیں اس لئے زیادہ تر معاملات میں صلح ہو رہی تھی چنانچہ 2006 میں پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ 2006 میں فوجداری ترمیم کی گئی اور اسکے تحت کسی عورت کو اسکی رضامندی کے بغیر اغوا کرنے یا شادی کیلئے آمادہ کرنے کی صورت میں عمر قید اور جرمانے کی سزا بھی رکھی گئی، اسی قانون میں تیسری ترمیم 2011 میں کرکےعورت کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کرنے کے حوالے سے سزائیں مزید سخت کی گئیں، خواتین کے مزید تحفظ کیلئے پنجاب پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ 2016 منظور کیا گیا جس میں خواتین کو تشدد کے خلاف تحفظ، وکالت کے اخراجات، امداد اور بحالی کا موثر نظام (میکے کا متبادل نظام ) قائم کیا گیا۔ غیر ت کے نام پر جرائم سے متعلق ترمیمی ایکٹ 2016 بھی منظور کیا گیا، جس میں اس جرم کو اسٹیٹ کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے فریقین کے درمیان معاوضہ وغیرہ دے کر صلح کرنے کا قصہ ہی ختم کر دیا اور اس قانون کو اسلامی قانون قصاص و دیت کی عملداری سے بالکل باہر کر دیا گیا لیکن حقوق نسواں اورفیمنسٹ تنظیمین ابھی بھی مطمعن نہیں ہیں۔ اب انکا کہنا ہےکہ قانونی اصلاحات تو ہو گئیں ہیں لیکن عوام دل سے اس جرم کے خلاف نفرت اور مذمت کااظہار نہیں کر رہی اور جب تک عوام اس بات کا عہد نہیں کرے گی تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا لہذا اب ان تنظیموں کے خیال میں اگلا مرحلہ عوام کے دل بدلنے کا ہے۔

عوام کے دل بدلنے کا کام میڈیا سے لیا جا رہا ہے، میڈیا پر ایسے ڈرامے اور فلمیں دکھائے جا رہے ہیں جن کا موضوع صرف عشق و محبت، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ، بغیر نکاح کے جنسی تعلقات، محرمات کے ساتھ جنسی تعلقات، جذباتی و جنسی ہیجان اور Sexual Orientationہیں اور تعلیمی اداروں کو اس عمل کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، عدالتیں اور قانون ان حقوق کی ضامن اور محافظ بنی ہوئی ہیں اور ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے کہ افراد خانہ کی طرف سے معمولی رکاوٹ و مزاحمت کا امکان ہی باقی نہ رہے اور اگر کوئی ایسا کرنے کی جراءت کرے تو وہ المناک سزائوں کا مستحق قرار پائے۔ یعنی بے روی اختیار کرنے والے تو معصوم تصور ہوں اور ان پر معمولی روک ٹوک کرنے والے قانون کی کڑی گرفت میں ہوں۔ اس سلسلے میں حکومتی سیکورٹی اور تفتیشی اداروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے اب زنا کا کیس تو ایس پی اورعدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر درج نہیں ہوتا لیکن اہل خانہ کی طرف سے معمولی مزاحمت یا روک ٹوک کا کیس فوراً درج ہو جاتا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں یہ سب تجربات کئے جا چکے ہیں، مردوں کی اکثریت کو فیمنائزڈ مین بنایا جا چکا ہے لیکن اسکے باوجود جنسی جرائم میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں ان جرائم کو غیرت کے نام پر جرم کی بجائے ڈومیسٹک وائلنس اور جنسی پارٹنر کے ساتھ جرائم intimate partner violence کا نام دیا جاتا ہے اس حوالے سے باربرا کے Barbara Kay ایک مضمون “غیرت کے نام پر قتل پر فیمنزم کی منافقت” میں لکھتی ہیں کہ

“پہلے فیمنسٹ تحریک کے ایکٹوسٹ ہمیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ غیرت کے نام پر قتل، رشتہ داروں کی طرف سے تشدد اور جنسی پارٹنرکے ساتھ جرائم ایک ہی نوعیت کے جرائم ہیں لیکن اب جنسی پارٹنر کے ساتھ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد فیمنسٹ ایکٹوسٹ اپنے سابقہ موقف پر بالکل منافقانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے اس عورت کو بالکل اکیلا چھوڑ دیا ہے جو انکی خواہش پر ترتیب دی گئی ثقافت میں پھنس چکی ہے، اس عورت کو اگر جان کا خطرہ نہیں بھی ہے تو جنسی تشدد کا سامنا تو ہر روز کرنا پڑتا ہے”

باربرا کے Barbara Kay نے جس منافقت کا ذکر یورپ اور امریکہ کے فیمنسٹ ایکٹوسٹس کے حوالے سے کیا ہے اس سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان میں ہے۔ یہاں سول سوسائٹی، این جی اوز اور فیمنسٹ لیڈرز نے پاکستان میں روشن خیالی اور جنسی آزادی عام کرنے اور اسے قانون سازی وغیرہ کے ذریعے تحفظ دینے کے نام پر انٹرنیشنل ڈونرز سے اربوں روپے کے فنڈز لئے اور ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر سارے فنڈز خرد برد کر لئے اور انٹرنیشنل اداروں کو یہ تاثر دیا کہ آپ کی خواہشات کے مطابق ہر طرح کی قانون سازی عمل میں لائی جا چکی ہے لیکن عملی طور پر پاکستانی سماج میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو نظر نہیں آتی، معاشرتی نظام اور اقدار روائیتی طریقے سے ہی چل رہے ہیں اور فیمنسٹ لیڈرز کی باتوں میں آنے والی ماڈرن خواتین اب مزید مشکلات کا شکار ہو گئ ہیں۔ وہ جب بھی کوئی انتہائی قدم اٹھا لیتی ہیں تو انکے خاندان کے لوگ تو روائیتی معاشرتی اقدار اور عزت و ناموس کی خاطر انکا ساتھ نہیں دیتے لیکن فیمنسٹ لیڈرز بھی انکا ساتھ اس وقت تک نہیں دیتے جب تک انکے نام پر کچھ مزید فنڈز وغیرہ ملنے کی توقع نہ ہو۔ ایسی صورتحال میں وہ بیچاری خواتین پولیس اور شیلٹر ہومز کے عملے کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔

اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے

“پاکستان میں غیر ت کے نام پر ہونے والے قتل کی وارداتوں کو نہ روک سکنے کی سب سےبڑی وجہ پاکستان کا بدعنوان پولیٹیکل سسٹم ہے۔ سیاسی، انتظامی، تحقیقاتی اور عدالتی ادارے اس حوالے سے ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے اور مجرموں کو سزائیں دلانے کے سلسلے میں بری طرح ناکام ہیں اور موجودہ سیاسی، انتظامی اور عدالتی نظام کی ناکامی کی وجہ سے ایک بحران کی کیفیت ہے جس میں شہری مجبور ہو کر روائیتی قبائلی نظام، جرگہ اور دوسرے متبادل ماڈلز کی طرف رجوع کرتے ہیں”۔

جو سادہ لوح خواتین این جی اوز کو خواتین کے حقوق کی ضامن سجھتی ہیں وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سول سوسائٹی، کرپٹ حکومتی عہدیداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے کرپٹ عناصر پرمشتمل بدعنوانی کی ایک مثلث بن چکی ہے جو انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے نام پر ایک معاشرتی زلزلے اور دہشت گردی کو جنم دے رہی ہے اور اسکے دورس نتائج برآمد ہونگے۔ این جی اوز فنڈز کے استعمال کی اصل معلومات ظاہر نہیں کرتیں اور جو معلومات انکی ویب سائٹس پر جاری کی جاتی ہیں وہ گمراہ کن ہوتی ہیں ان امور سے متعلقہ پاکستانی حکام جان بوجھ کر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور اس طرح ملی بھگت سے یہ ڈونرز کو بھی دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر مقامی کمیونٹی کی جیبیں بھی خالی کرتے رہتے ہیں۔ KPMG سروے کے مطابق این جی اوز کی دھوکہ دہی سے متعلق 77 فیصد تحقیقات کبھی بھی عوامی سطح پر نہیں پہنچتیں اور 54 فیصد تحقیقتات کے بارے میں تو داخلی طور پر بھی اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔

فیمنسٹ تنظیموں کے وسیع لٹریچر اور بیانات کے تناظر میں عام لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس جرم کا ارتکاب صرف روائیتی مذہبی رجحانات رکھنے والے، مدرسوں کے پڑھے ہوئے، غیر تعلیم یافتہ، پسماندہ ثقافتوں کے نمائندہ لوگ ہی کرتے ہیں لیکن جولائی 2008 میں ترکی کے کرد علاقہ، اناطولیہ میں غیرت کے نام پر ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ڈیکل یونیورسٹی Dicle University کی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس جرم کا تعلق صرف جاگیردارانہ معاشرتی ڈھانچے سے نہیں بلکہ اس میں ایسے مجرم بھی ہیں جو بہت پڑھے لکھے اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق یہ جرم کرنے والوں میں سے 60 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کم ازکم ہائی اسکول یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔

اگر عزت کے نام پرقتل کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اسلام نہ ہی اس قتل کی وجہ ہے اور نہ ہی اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات سے ناآشنائی اور عورتوں پر تشدد کی اصل وجہ کو نہ جاننا بہت سے سنگین نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اول یہ کہ اسلام کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانا مسلمانوں کو غیر ضروری طور پر مشتعل کرنا ہے، بیشتر اسلامی ممالک میں اس پروپیگنڈا کو بنیاد بنا کر انسانی حقوق اور حقوق نسواں کےجھنڈے تلے مغربی ثقافت کو فروغ دیا جارہا ہے دوم یہ کہ یہ الزام اسلام کے سر تھوپنے کے بعد، اس الزام پر یقین کر لینے والے بیشتر افراد اس حقیقت سے انکار کرتے نظر آتے ہیں کہ عورت پر تشدد کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور اسکا حل بھی عالمی سطح پر تلاش کرنا چاہیے۔ اور سوم یہ کہ اسلام پر لگے اس جھوٹے الزام پر یقین رکھنے والے افراد اس حقیقت سے آنکھیں چراتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان گھنائونے جرائم کا انعقاد اسلامی شریعت کے سخت خلاف ہے۔

فیمنسٹ تنظیمیں عام طور پر الزام لگاتی ہیں کہ اسلامی ممالک میں ہونے والے یہ واقعات وہاں کے نرم قوانین کی وجہ سے ہیں۔ خاص طور پر مراکش، کویت، لبنان، شام، یمن، عمان اور متحدہ عرب امارت کے قوانین اس حوالے سے بہت نرم ہیں اور وہ مجرم کو معمولی سزا یا جرمانہ وغیرہ تک ہی محدود ہیں لیکن ان قوانین کی وجہ سے مسلمانوں یا اسلام کو مورد الزام ٹھہرانا قطعی طور پر درست نہیں کیونکہ ان علاقوں میں جابرانہ حکومتیں بھی استعمار کی طرف سے مسلط کی گئی ہیں اور قوانین بھی استعمار کے ہی دئے گئے ہیں۔ ان قوانین کا اسلامی شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام علاقے ایک زمانے میں خلافت عثمانیہ کا حصہ تھے اور 1858 میں خلافت عثمانیہ نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے فرانس کے کریمنل کوڈ 1832 کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کروا کر اسے اپنا لیا۔ اور مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کے آج کے قوانین بھی اسی کریمنل کوڈ کا چربہ ہیں اور یہ قوانین یورپ سے درآمد شدہ ہیں۔

غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے بارے میں اسلامی شرعی قانون کا موقف بہت واضح ہے اور خود رسول کریم ﷺ کا قائم کردہ ہے جسکے مطابق “اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اوراسکے آشنا کو زنا کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ کر قتل کیا تو اسکو قتل ہی مانا جائے گا اور مجرم کو وہی سزا دی جائے گی جو ایک قاتل کو دی جاتی ہے”۔ اس اصول کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث پر قائم ہے: رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شوہر نے اپنی بیوی کو زنا کا ارتکاب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ وہ شخص اپنی بیوی کو قتل نہیں کر سکتا اور مزید یہ کہ کسی کو بھی اس وقت تک قابل سزا نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک چار گواہ نہ پیش کئے جائیں جنہوں نے اس گھنائونے فعل کو اپنی آنکھوں سے ہوتا ہوا دیکھا ہو۔

قرآن مجید ان افراد کیلئے بھی ایک عملی طریقہ پیش کرتا ہے جن کو اپنے شوہر یا بیوی پر بیوفائی کا شک ہوتا ہے یا پھر وہ ان کو رنگے ہاتھوں دھوکا دیتے ہوئے پکڑ لیتے ہیں مگر کوئی گواہ پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کا بتایا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ایسا جوڑا جج کے سامنے پیش ہو۔ الزام لگانے والا پانچ دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس نے جو الزام لگایا ہے وہ درست ہے۔ اگر ملزم میاں یا بیوی بھی پانچ دفعہ اللہ کی قسم کھا کر اپنی معصومیت کا یقین دلا دے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور کوئی فرد بھی قابل سزا نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے قدیم وجدید علماء کا ان تعلیمات کی تعبیر و تشریح پر کوئی اختلاف نہیں۔ انیسویں صدی کے مشہور یمنی عالم دین امام شوکانی تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ جو مرد عورتوں پر غیرت کے نام پر تشدد کرتے ہیں وہ سزائے موت کے اہل ہیں اور وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس قتل کے بدلے ملنے والی سزائوں میں سختی نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کی زندگی تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔ دیگر بڑے علماء جیسے یوسف القرضاوی، عبد اللہ الغماری، محمد حسین فدلالہ، کنیڈا کے علماء، مسلم کونسل آف بریٹن، امریکی امام شیخ زید شاکر، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے بڑے علماء وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔

اسی موضوع پر مزید مضامین کا مطالعہ کیجئے:

1۔پاکستان میں فیمنزم کے کردار کا جائزہ —- وحید مرادفیمنزم کے غیر سائنسی مفروضے اور اعتقاد —- وحید مرادجورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مرادفیمنزم اور مردانگی کا بحران —- وحید مرادفیمنزم : نظریہ، تحریک، اہداف اور کردار —- وحید مراد

References:

1.Hollie McKay (2016), Honor Killing in America: DOJ report Says growing problem is hidden in stats https://www.foxnews.com/us/honor-killing-in-america-doj-report-says-growing-problem-is-hidden-in-stats

2.Singal, Jesse (2017), Here’s What the Research Says About Honor Killings in the U.S.

https://nymag.com/intelligencer/2017/03/heres-what-the-research-says-about-american-honor-killings.html

3.Siddiqui, Samana, Honor Killing of Women in America and Abroad

https://www.soundvision.com/article/honor-killing-of-women-in-america-and-abroad

4.Razzal, Katie & yasminara Khan, (2017)Charities sound the alarm on male ‘honour abuse’

https://www.bbc.com/news/uk-39485348

5.Carolyn Fluehr-Lobban, Cultural Relativism and Universal Rights

https://web.archive.org/web/20120619113253/http://www.neiu.edu/~circill/luedke/anth212/cultu.pdf

6.Onur, Hilal, Aysun Yarali, Customary Killings in Turkey and Tuurkish Modernization

https://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/00263200903009593

7. France Penal Cole of 1810

https://www.napoleon-series.org/research/government/france/penalcode/c_penalcode3b.html

8.Faqir, Fadia, Intra Family Femicide In Defence of Honour: The Case of Jordan,

https://web.archive.org/web/20160410232904/http://www.centerforinquiry.net/isis/articles_and_books/intrafamily_femicide_in_defence_of_honour_the_case_of_jordan/

9.Becknell, Danielle, M., Gender Based Violence in Jordan: Domestic Violence and Honor Crimes,

https://digitalcollections.sit.edu/cgi/viewcontent.cgi?referer=https://en.wikipedia.org/&httpsredir=1&article=1427&context=isp_collection

10.Hossain, Sara, (2013),  Crimes, Paradigms, and Violence Against Women

https://www.google.com/books/edition/Honour/1AdjDgAAQBAJ?hl=en&gbpv=0

11. Pakistan’s honor Killing enjoy high level support, TAIPEI TIMES

http://www.taipeitimes.com/News/world/archives/2004/07/24/2003180222

12. Honour Killings: Pakistan closes loophole allowing killers to go free, BBC News

https://www.bbc.com/news/world-asia-37578111

13. Brown, Jonathan, Dr., Islam is not the Cause of Honor Killings, Its part of solution, Yaqeen Institute for Islamic Research

  1. Kay, Barbara, Feminist hypocrisy on honor killings.

https://nationalpost.com/opinion/barbara-kay-feminist-hypocrisy-on-honour-killings

  1.  Durrani, Khadim, NGO Mafia in Pakistan, Xtribune. https://xtribune.wordpress.com/2010/05/02/ngo-mafia-in-pakistan/
  2. PARHLO, https://www.parhlo.com/aurat-shohr-katal/
  3. Roznama AAg, https://dailyaag.com/phase2/uae-boy-friend-killed-by-girl-friend-and-made-biryani/
  4. Sandbrook, Jeremy, (2015), Corruption: What NGOs don’t want to know,

https://integritas360.org/2015/03/corruption-what-ngos-dont-want-you-to-know/

  1. صحیح مسلم باب القضاء عدۃ المتوفی عنہا زوجہا، رقم 17،صحیح بخاری باب زنا الجوارح دون الفرج،6243
  2. حافظ عبد الرحمن مدنی، کیا غیر ت کے نام پر ہر ہونے والے قتل کی سزا قصاص ہے؟، ماہنامہ محدث، دسمبر 2014
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20