غزالاں تم تو واقف ہو ۔ کراچی کا علمی بحران (آخری حصہ)

0

اس ساری بحث کے بعد اب سوال یہی رہ جاتا ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے کیا کیا جائے؟ میں ایسے شہر کی تقدیر نہیں بدل سکتا جسے احساس زیاں ہی نہ ہو، جس کے باشندے یہ نہیں جانتے کہ چالاکی عیاری کی بہن ہے دانشمندی کی نہیں۔ لیکن وقت بھی تو ایسا آ پہنچا ہے کہ کاغذ پر لکھا صحرا کی خشک اور ساحل کی گیلی ریت پر لکھا برابر ہو چکا۔ چلئے مٹنے کے لئے ہی وہ بات لکھ ڈالیں جو خشک صحرائی ریت پر لکھی جائے تو ہوا کا تھپیڑا اور گیلی ساحلی ریت پر لکھی جائے تو سمندری لہر اسے فورا مٹا دے۔ سب سے پہلے اپنی یہ اکڑ ختم کیجئے کہ آپ کوئی پھنے خاں ہیں، اس اکڑ کے ہوتے آپ کچھ نہیں سیکھ سکتے۔ فٹ پاتھوں پر موٹر سائیکلیں صرف کراچی میں چلتی ہیں۔ پلازوں کے کونوں کھدروں میں پان کی ہزارہا پچکاریاں صرف کراچی میں ملتی ہیں، جاتی ہوئی سڑک پرآتا ہوا ٹریفک صرف کراچی میں نظر آتا ہے، داخلہ کالج میں لے کر تعلیم کوچنگ سینٹر سے صرف کراچی میں لی جاتی ہے، طلبہ کو طلبہ کے شر سے محفوظ رکھنے کی غرض سے رینجرز صرف کراچی کی یونیورسٹیوں میں تعینات نظر آتی ہے، گاڑی اور مکان اپنے نام رجسٹر کرانے پر بھاری بھرکم رشوت صرف کراچی میں دینی پڑتی ہے، مضافاتی علاقے میں اپنے پلاٹ پر مکان کی تعمیر شروع کرنے کے لئے تھانے کو ایک لاکھ روپے کا بھتہ صرف کراچی میں دینا پڑتا ہے، سالوں کا کچرا صرف کراچی کی سڑکوں پر نظر آتا ہے، ایکسیڈنٹ کی صورت میں گاڑی صرف کراچی میں جلائی جاتی ہے، کسی بڑے کے قتل پر عوامی و قومی املاک صرف کراچی میں نذر آتش کی جاتی ہیں، چند ہزار کے موبائل فون کے لئے انسان صرف کراچی میں قتل ہوتے ہیں، گلی کوچوں میں خواتین کے ہاتھوں سے سونے کے کڑے اور کانوں سے بالیاں صرف کراچی میں نوچی جاتی ہیں، پارکوں پر قبضہ کرکے مکانات اور شادی ہال صرف کراچی میں تعمیر ہوتے ہیں، ہسپتالوں (عباسی شہید) کو مقتل صرف کراچی میں بنایا جاتا ہے اور مساجد پر فرقہ وارانہ قبضے صرف کراچی میں ہوتے ہیں۔ سو اے کراچی کے اکڑتے نوجوان ! للہ مجھ کو بتایئے تو یہ اکڑ اور تکبر کس بات کا؟ اگر آپ یہ تکبر ختم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر درج ذیل تجاویز پرانا کراچی لوٹانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اوراگر نہیں کر سکتے تو میں آپ سے وہی کہوں گا جو حضرت عمر ابن عبدالعزیز نے اپنے گورنروں سے کہا تھا “فما انا علی صحبتکم بحریص” (مجھے تمہارے ساتھ جینے کی کوئی حرص نہیں)

والدین کی ذمہ داری
ــــــــــــــــ

(01) اپریل آ رہا ہے، والدین ہر پیپر کے موقع پر کراچی کے تین تین امتحانی مراکز کا محاصرہ کرکے ایسا پرامن ہنگامہ مچادیں کہ پورا ملک ہل جائے اور دنیا کو ایک غیر مبہم پیغام مل جائے کہ آپ اس کمرہ امتحان میں نقل کی کسی صورت اجازت دینے کو تیار نہیں جہاں آپ کا بچہ بھی امتحان دینے کے لئے موجود ہے۔ اس سے آپ میں سے بہت سوں کے بچے بھی فیل ہوجائیں گے جس سے ان کا ایک سال ضائع ہوجائے گا مگر یقین جانیئے ایک سال کا ضیاع عمر کے ضیاع سے ہزار گنا بہتر ہے۔

(02) آپ کے بچے کالجز میں نہیں جا رہے، وہاں انہوں نے صرف داخلہ لے رکھا ہے، ان بچوں کی کلاسز میں خود جا بیٹھیں، ہر کلاس والدین سے بھر جائے تو پرنسپل آپ کے قدموں میں ہوگا۔ اس سے پوچھئے “اس کالج میں پڑھائی کیوں نہیں ہوتی ؟” کالج کے اساتذہ کے گھروں پر پہنچ جایئے اور ان کے گھروں کے سامنے بلند آواز سے پکاریئے کہ “اس گھر میں ایک حرام خور استاذ رہتا ہے جو ہمارے بچوں کو پڑھاتا تو نہیں لیکن تنخواہ پوری پابندی سے لیتا ہے” اسی کے ساتھ ساتھ کالج پرنسپل کو مجبور کیجئے کہ وہ ایک کمیٹی قائم کرے جس میں اساتذہ اور والدین کی برابر نمائندگی ہو اور اس کمیٹی کا ہر ماہ جائزہ اجلاس ہو۔

(03) یونیورسٹی کے ان اساتذہ کا والدین گھیراؤ کریں جن پر علمی سرقے یا جعلی ڈگری کا الزام ہے۔ ان اساتذہ سے بس ایک ہی سوال پوچھیں “کیا آپ کو شرم بالکل ہی نہیں آتی ؟” یہ گھیراؤ روزانہ کی بنیاد پر کیجئے اور اتنی شدت سے کیجئے کہ وہ یونیورسٹی کیا شہر چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔

درج بالا تینوں تجاویز صرف ایک ہفتے کی ایکسرسائز ہے۔ اگر کراچی کے والدین یہ کر گئے تو نقل بھی رک جائے گی اور کالجز میں تعلیم بھی لوٹ آئے گی۔ کیا آپ اپنا تعلیمی نظام بحال کرنے کے لئے ایک ہفتے کی جد و جہد کر سکتے ہیں ؟ یاد رکھیں ! اس پوری تحریک میں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے لیڈر کو قریب بھی پھٹکنے دیں ورنہ آپ کی یہ محنت برباد ہو جائے گی، آپ کی یہ جد و جہد آپ کے ہاتھ سے نکل کر ان کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ ہر کالج کے والدین محض ایک اخباری اشتہار کی مدد سے ایک جگہ جمع ہو کر اپنا لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں۔ مسیحاؤں کا انتظار کرنا ترک کیجئے خود اٹھئے اور اپنے مسائل کا حل اپنے ہاتھ میں لیجئے تب شائد کوئی مسیحا بھی نمودار ہوجائے۔

نوجوانوں کا کردار
ـــــــــــــــــ

(01) نوجوان بلا تاخیر روزانہ کی بنیاد پر غیر نصابی مطالعے کی عادت ڈالیں۔ یہ غیر نصابی مطالعہ آپ کے شعور کو اتنا بلند کردے گا کہ آپ کی شخصیت آپ کی ڈگری پر غالب آجائے گی۔ اور جب یہ ہو گیا تو میں خدائے بزرگ و برتر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سرکار میں تو نہیں لیکن پرائیویٹ اداروں میں آپ کی مانگ کرنے والے آپ سے ڈگری کا پوچھیں گے بھی نہیں۔ آپ کے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنی ڈگری پر غالب آنا ہے اور یہ غلبہ آپ محض 5 سال میں پا سکتے ہیں، بس آپ کو مطالعے کے معاملے میں جنون دکھانا ہوگا۔ اسی غیر نصابی مطالعے کی مدد سے آپ اپنے نصابی تخصص کی کمی کو بھی دور کر سکتے ہیں۔

(02) کراچی کی سب سے شاندار چیز وہاں کا مضبوط ترین سوشل سرکل ہے جو آج بھی قائم ہے۔ فرق بس یہ آیا ہے کہ تیس سال قبل یہ حلقے علمی و ادبی گفتگو کے لئے لگا کرتے تھے جبکہ آج یہ محض کھانے پینے اور اس گفتگو کے لئے آباد ہوتے ہیں کہ “فاروق ستار پی ایس پی میں جائے گا کہ نہیں ؟ مصطفے کمال کے پیچھے کون ہے ؟ الطاف حسین کے بعد کیا ہوگا ؟” آپ روز اس لاحاصل بکواس میں اپنا وقت برباد کرتے ہیں، اپنے موضوعات تبدیل کریں اور اپنے ان حلقوں کو علمی و ادبی حلقوں میں بدلیں۔

(03) مساجد میں بیٹھے اداس بوڑھوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے سیکھنا شروع کریں۔ میں نوجوانی میں ان بوڑھوں کے ساتھ پابندی سے بیٹھتا رہا ہوں اور کمال یہ تھا کہ میں اور برادرم حمایت اللہ چار بوڑھوں کے ایسے حلقے سے وابستہ تھے جن کے ساتھ فجر کے بعد مسجد کے وضو خانے میں گپیں لگاتے اور پھر سات بجے کے لگ بھگ ممتاز کی نہاری کا ناشتہ کرنے چلے جاتے۔ آپ کی اوٹ پٹانگ باتوں پر یہ بوڑھے جی کھول کر ہنسیں گے بھی لیکن آپ کو وہ کچھ سکھاتے جائیں گے جو دنیا کی کوئی بھی درسگاہ نہیں سکھا سکتی۔ ایک بار ان بوڑھوں سے دوستی لگا کر تو دیکھیں، زندگی نہ بدل جائے تو میرا گریبان حاضر ہے۔ یاد رہے کہ میری مراد وہ بوڑھے ہیں جو نماز سے آدھا گھنٹہ قبل مسجد آنا شروع ہوجاتے ہیں اور نماز کے بعد بھی مسجد میں ہی بیٹھے ذکر وغیرہ کر رہے ہوتے ہیں، یہ اپنی پوری زندگی کا نچوڑ آپ کے دل و دماغ پر ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کردیں گے اور آپ تعمیر ہونا شروع ہوجائیں گے۔

(04) کراچی کے اردو بولنے والی کمیونٹی کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ یہ کراچی سے باہر نہیں نکلتی۔ اور جو اکا دکا لوگ نکلتے بھی ہیں تو مری اور سوات وغیرہ گھومنے جاتے ہیں۔ مطالعاتی سفر یہ نہیں کرتے اوراس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا کراچی سے باہر کوئی رشتیدار اورعزیز نہیں ہے۔ یہ کراچی میں بیٹھے بیٹھے یہ تصور کئے بیٹھے ہیں کہ جیسا حال کراچی کا ہے ویسا ہی باقی ملک کا ہے۔ یہ نوجوان ہر حال میں لاہور، پنڈی، اسلام آباد اور پشاور کا ہفتے ہفتے کا ٹور کریں۔ ان شہروں کا بغور جائزہ لیں، وہاں کے لوگوں سے گھل مل کر ان کے مسائل معلوم کریں۔ سرکاری سکولوں میں جا کر کلاسز کا جائزہ لیں۔ گورنمنٹ کالجز میں جا کر دیکھیں کہ طلبہ کی حاضری کتنی ہے اور پڑھائی کا معیار کیا چل رہا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کا بھی وزٹ کریں۔ سب سے اہم یہ کہ کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ کے حلقوں میں بیٹھ کر یہ دیکھیں کہ ان کی گفتگو کے مضوعات کیا ہیں ؟ پھر یہ کہ ان کی گفتگو کی گہرائی و گیرائی کتنی ہے ؟ ٹریفک کا مشاہدہ کریں اور غور کریں کہ کیا موٹر سائیکلیں فٹ پاتھوں پر چڑھتی ہیں ؟ شہروں کی صفائی کا حال دیکھیں اور خود سے یہ سوال پوچھیں کہ اگر راولپنڈی میں ترک کمپنی گھروں سے کچرا اٹھا رہی ہے اور رات 12 بجے کے بعد شہر اور محلے کی سڑکوں کی مشینی ٹرکوں سے صفائی کر رہی ہے تو شہر کا میئر اس پر ناراض کیوں نہیں ہے ؟ اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ جب ایکسیڈنٹ ہوتا ہے تو صرف 2 منٹ میں سرکاری ایمبولینس جائے حادثہ پر کیسے پہنچ جاتی ہے ؟ اس بات پر بھی غور کریں کہ ان شہروں میں گاڑی اور مکان اپنے نام ٹرانسفر کرانے پر صرف سرکاری فیس ہی کیوں دینی پڑتی ہے، رشوت کیوں نہیں ؟ جائز سرکاری کام بغیر رشوت کے کیوں ہوجاتے ہیں ؟ راولپنڈی اور اسلام آباد پاکستان کے سب سے پر امن شہر کیوں ہیں ؟ لوگ فٹ پاتھ پر کان سے ستر ستر ہزار روپے کا موبائل لگائے جا رہے ہوتے ہیں، کوئی ان سے یہ موبائل فون چھینتا کیوں نہیں؟ گورنمنٹ سکولز، کالجز کے پڑھے ہوئے بچے بہت بڑی تعداد میں سخت گیر یونیورسٹیوں میں داخلہ کیسے حاصل کر جاتے ہیں؟ ان شہروں میں کوچنگ سینٹرز اتنے کم کیوں ہیں؟ (جو ہیں وہ کند ذہن اور کام چور سٹوڈنٹس کے لئے ہیں، جو بہت کم ہوتے ہیں) پارک اب تک قائم کیوں ہیں، کسی نے قبضہ کرکے وہاں شادی ہال یا مکانات کیوں نہیں بنا لئے ؟ جب ایک شخص گفتگو کر رہا ہو تو باقی خاموشی سے اس کی بات کیوں سن رہے ہوتے ہیں ؟ وہ بار بار بات کاٹ کیوں نہیں رہے ہوتے ؟ کوئی شخص اپنی بات کے حق میں دلیل پیش کر دیتا ہے تو لوگ اسے تسلیم کیوں کر لیتے ہیں ؟ پڑھے لکھے لوگوں کی مجلسوں میں سیاست کم اور علم زیادہ کیوں زیر بحث ہوتا ہے ؟ نوجوان باادب کیوں ہیں ؟ ان کے سوالات میں جذباتیت کیوں نظر نہیں آتی ؟ جب آپ بچشم خود یہ سب دیکھیں گے تو آپ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہ شہر کوئی پیرس یا جنت نہیں ہیں، مسائل وہاں بھی ہیں لیکن یہ کراچی سے ہر معاملے میں بدرجہا بہتر ہیں اور یہ بہتری ان لوگوں نے کسی زرداری یا نواز شریف سے خیرات میں نہیں لی بلکہ اسے اپنے شعور کی مدد سے حاصل کیا ہے اور یہ شہر دبدن بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ سیاستدان کو ووٹ ہی نہیں دیتے، پریشر بھی دے کر رکھتے ہیں اس لئے حالات وہ نہیں جو کراچی کے ہیں جبکہ آپ کا کل سیاسی شعور “جی بھائی!” پر ختم ہوجاتا ہے۔

آخر میں ایک کام کی بات بتا رہا ہوں سمجھ گئے تو دعائیں دیں گے نہ سمجھ سکے تو تعصب اور کراچی دشمنی کا لیبل تو آپ کی جیب میں ہی ہوتا ہے وہ لگا دیجئے روکتا کون ہے؟ کام کی بات یہ کہ “حقوق کا لولی پاپ” چوسنا بند کیجئے، اسی لولی پاپ نے آپ کو تباہ کیا ہے۔ اسی کراچی شہر میں 40 لاکھ پختون اور کم و بیش اتنے ہی پنجابی رہتے ہیں جو وہاں کے آپ ہی کی طرح مستقل شہری ہیں وہ حقوق کا لولی پاپ نہیں چوس رہے بلکہ خود کو تعلیم اور کار و بار کے میدانوں میں مضبوط کر رہے ہیں۔ تیس سال قبل کراچی میں پڑھے لکھے پختون مشکل سے ملتے تھے، اب بکثرت ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں وہ آج سے چالیس پچاس سال قبل آنے والے ان پختونوں کی اولاد ہیں جو رکشہ ٹیکسی چلاتے تھے، آپ کی کار کے ڈرائیور تھے، آپ کے گھروں اور کار خانوں کے چوکیدار تھے اور آپ ہی کی ملوں میں مزدور تھے۔ سو اس بدتر حالت میں بھی وہ ایک پڑھی لکھی (اگرچہ کمزور) نسل کھڑی کرنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ آپ علی گڑھ کا ہی ورثہ گنوا بیٹھے۔ اپنی زندگی سیاستدانوں کے ہاتھ میں دیں گے تو تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا کیونکہ آپ کے شہر کی سیاست کھڑی ہی تعصب پر ہے جو ایک مہلک زہر ہے۔ سندھ کے پنجاب سے پیچھے رہ جانے کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ دیہی سندھ بھٹو اور شہری سندھ الطاف حسین کا اسیر ہوگیا اور ملا دونوں کو ہی کچھ نہیں ! (ختم شد)

 

اس تحریر کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: