علمِ بیان اور قرآنِ مجید — حافظ محمد زوہیب حنیف

0

خالقِ کائنات نے حضرت محمدﷺ کے ذریعہ اپنے تمام بندوں کی ہدایت کے لیے علم و عمل‘ حکمت و دانائی کی جو روشنی عطا فرمائی ہے اس کا نام ’’القرآن‘‘ ہے۔یہ قرآن سلسلۂ وحی کی آخری کڑی ہے۔ اس کے الفاظ اور جملوں کی ترتیب توقیفی ہے۔ باری تعالیٰ نے اس کتاب کو جن الفاظ میں نازل فرمایا بعینہٖ ان ہی الفاظ میں یہ کتاب لکھی ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج دنیا میں صرف یہی ایک کتاب ہے کہ یہ اپنی اصلی زبان (عربی) میں محفوظ ہے۔ اس کتاب کی زبان آج بھی علمی و کاروباری حیثیت سے کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں رائج ہے۔ قرآن ِمجید فصاحت اور بلاغت کی اعلیٰ ترین کتاب ہے۔یہ نہ شاعری ہے نہ نثر ہے بلکہ اِن دونوں سے کہیں اوپر ایک معجزاتی کتاب ہے۔ دینی علوم ہو ں یا عصری، یہ کتاب تمام علوم کا سرچشمہ ہے۔ پیشِ نظر موضوع ’’علم بیان اور قرآن‘‘ اسی فصاحت و بلاغت کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ علمِ بیان سے متعلق بے شمار کتب موجود ہیں۔ لیکن یہاں اردو دانوں کے لیے جو خاص اردو زبان سے شغف رکھتے ہیں، بہ طورِ خاص قرآن کی روشنی میں علمِ بیان کو واضح کرنا ہے تاکہ اس علم سے متعلق قرآنی آیات سے اردو دان بھی آشنا ہوسکیں۔

علم بیان سے مراد ’وہ علم ہے جس کے ذریعے ایک مفہوم کو مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا ڈھنگ معلوم ہو‘ (معین البلاغہ مع امثلہ قراٰنیہ، مؤلف محمد مرشد قاسمی، حسبِ ارشاد مولانا حذیفہ صاحب وستانوی، ص، ۴۹، جامعہ اسلام اشاعت العلوم اکل کوا، ضلع نندور بار، مہارا شٹر، انڈیا) ہیں۔ یہ علم کسی بھی تحریر کی نگارش میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس علم کی بدولت کسی بھی تحریر میں فصاحت اور بلاغت کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کا موضوع ’’لفظ‘‘ ہے جسے دو طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک حقیقی اور دوسرا مجازی۔

حقیقی :

لفظ حقیقت میں کبھی ”لغوی“ کبھی ”شرعی“ کبھی ”عرفی“ ہوتا ہے۔

لغوی: یعنی کوئی لفظ اُن معنوں کیلئے وضع کیا گیا ہو جن کےلے اسکو بنا یا ہو۔جیسے سورج، چاند وغیرہ وغیرہ۔

شرعی: یعنی کوئی لفظ اپنے شرعی معنی میں استعمال کیا گیاہو۔ یعنی شارع نے اس لفظ سے مراد شرعی معنی لیے ہوں جیسے۔ صوم، زکوٰۃ، حج، وغیرہ۔

عرفییعنی کوئی لفظ اپنی عرفی معنی میں استعمال کیا جائے۔ خواہ یہ عرف عام ہو یا خاص۔ جیسے لفظ سیارہ، عرف عام میں اس کا اطلاق گاڑی پر ہوتاہے۔ اسی طرح لفظ ”دابۃ“ کا اطلاق چوپایہ پر ہوتاہے۔

حقیقت کا حکم: حقیقت کا حکم یہ ہے کہ لفظ جس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو وہ معنی اس کے ثابت ہوں، اور اس سے ہٹ کر نہ ہوں۔اور حکم بھی اس کے ساتھ متعلق ہو۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّبِالحَق(۱۷:۳۳)۔ اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، اُسے قتل نہ کرو الا یہ کہ تمہیں (شرعا) اس کا حق پہنچتا ہو۔(ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)۔ قتل کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اتنی اذیت دی جائے کہ اس کی روح نکل جائے اور وہ مرجائے۔

مجاز:

مجاز وہ لفظ ہے جو ان معنوں میں مستعمل ہوجن کیلئے وہ وضع نہیں کیا گیا اوریہ استعمال حقیقی ومجازی معنی کے درمیان کسی تعلق کی بنا پر ہو اور کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو یہ بتلائے کہ اس لفظ کے حقیقی معنی مراد نہیں۔جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنکُم مِّنَ الْغَاءِط (۴:۳۴) یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو۔یہاں ”غائط“ سے حدث اصغر مرادہے، لیکن آیت ِ بالا میں اس کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں۔ اس کے حقیقی معنی نشیبی زمین کے ہیں۔ حکم اسی کے ساتھ متعلق ہوگا یعنی جب آدمی نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اور پانی میسر نہ تو وہ تیمم کرے۔ لفظ کی بحث سمیٹنے کے بعد علم ِبیان کی اقسام کو دیکھا جائے تو اس کی چار اہم اقسام ہیں، جن میں: تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجاز مرسل شامل ہیں۔یہاں ان چاروں کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے گا۔

تشبیہ

تشبیہ کا لفظ “شبہ” سے نکلا ہے جس کے معنی ’مماثل ہونا‘ کے ہیں۔ علم بیان کی رو سے جب کسی ایک چیز کو کسی خاص صفت کے اعتبار سے یا مشترک خصوصیت کی بنا پر دوسری کی مانند قرار دے دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔جیسے ’احمد شیر کی طرح بہادر ہے‘

تشبیہ ازروئے قرآن :

مثال نمبر ۱:

وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ اٰمِنُـوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْآ اَنُؤْمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ۗ اَ لَآ اِنَّـهُـمْ هُـمُ السُّفَهَآءُ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ۔(۱۳:۲)

ترجمہ: اورجب اُن سے کہاجاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں، تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جیسے بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟ خوب اچھی طرح سن لو کہ یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن وہ یہ بات جانہیں جانتے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں منافقین سے کہا جارہا ہے کہ ایما ن لاؤ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان اس طرح لائیں جس طرح بے وقوف (اہلِ ایمان) لائے ہیں۔یہاں کلمۂ تشبیہ کے لیے جو لفظ آیا ہے وہ ہے۔’ کَمَا‘ (جس طرح)۔

مثال نمبر ۲:

اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْاَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۗ وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ۔ (۱۰۸:۲)

کیا تم یہ چہاتے ہو کہ اپنے رسول سے اسی قسم کے سوال کرو جیسے پہلے موسیٰ سے کیے جاچکے ہیں؟ اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے وہ یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

یہاں اصلاً امتِ محمدی کو بے جا سوالات اور مطالبات کرنے سے منع کیا جارہاہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ بہ طورِ مثال بنی اسرائیل کے رویے کے بارے میں بتا رہا ہے کہ تم اسی طرح سوالات کررہے ہو جس طرح حضرت موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے کیے۔یہاں کلمۂ تشبیہ کے لیے جو لفظ آیاہے وہ ’ کَمَا‘ (جس طرح) (جیسے)۔

مثال نمبر ۳:

اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُوْنَہٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُـمْ ۖ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْـهُـمْ لَيَكْـتُمُوْنَ الْحَقَّ وَهُـمْ يَعْلَمُوْنَ۔(۱۴۶:۲)

جنھیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹو ں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں۔ (ترجمہ مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب (یہود) کے بارے میں یہ حقیقت بیان کر رہاہے کہ حضور ﷺ کو اس طرح جانتے ہیں جیسے اپنی اولادوں کو، مگر حقیقت میں یہ لوگ سچائی سے منہ موڑنے والے ہیں۔یہاں کلمہ تشبیہ ’ کَمَا‘ (جس طرح) (ایسے) ہے۔

مثال نمبر ۴:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (۱۸۳:۲)

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔ (ترجمہ، اعلیٰ حضرت، احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں روزے کی فرضیت کے بارے میں یہ واضح کیا جارہاہے کہ اس کی فرضیت اسی طرح ہے جس طرح پچھلی امتوں پر تھی۔یہاں کلمۂ تشبیہ کَمَا (جیسے)۔

استعارہ

یہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس میں کسی شخص کو ہو بہو دوسرا کہہ دیا جاتا ہے یعنی ایک شے کو بعینہ دوسری شے قرار دے دیا جائےاور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کر دئیے جائیں، اسے استعارہ کہتے ہیں۔ جیسے: زید ایک شیر ہے۔ یہاں ’شیر‘ استعارہ ہے۔

استعارہ از روئے قرآن :

مثال نمبر ۱۔

اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ اشْتَـرَوُا الضَّلَالَـةَ بِالْـهُـدٰى۔ (۱۶:۲)
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے۔ (ترجمہ، مودودی)

یہاں ’اشتریٰ‘ (خریدنا) کا لفظ مستعار لیا گیا ہے اور پھر اُس کو اُ سی کے حسبِ حال امورِ ربح اور تجارت سے مقترن کیا۔(الاتقان فی علوم القرآن، تالیف، جلال الدین سیوطی، جلد دوم (اردو) ص، ۱۱۵، ادارہ اسلامیات، لاہور، سن اشاعت، ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ، اگست، ۱۹۸۲ء)

مثال نمبر ۲۔

مَسَّتْهُـمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا۔(۲۱۴:۲)
اُن پرسختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ امت محمدی کو یہ باورکرا رہا ہے کہ پہلے کی امتوں سے سخت امتحان لیا گیا۔ استعارہ کو سمجھنے سے پہلے آیت کا مکمل ترجمہ ضروری ہے، ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے:

(مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلاڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اوران کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ ’’ اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘ یاد رکھو! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس جگہ لفظ ’مس‘ (چھونا) مستعار لیا گیا حالانکہ اس کا حقیقی استعمال اجسام میں ہوتاہے نہ کہ غیر مجسم چیزوں میں، لیکن یہاں مستعار لینے کی وجہ ہوئی کہ تکلیف کو برداشت کرنے کے لحاظ سے محسوس ہی مان لیا۔ (حوالہ محولہ، ص، ۱۱۵)

مثال نمبر ۳:

ضُرِبَتْ عَلَيْـهِـمُ الـذِّلَّـةُ اَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّـٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ۔(۱۱۲:۳)
وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کاٹھپہ لگادیا گیا ہے، الا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہوجائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں حبل (رسی) جو کہ ایک محسوس شے ہے، عہد (اقرار) کے لیے جو کہ معقول چیز ہے مستعار لی گئی ہے۔(حوالہ محولہ، ص، ۱۱۵)

مثال نمبر ۴:

وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ۔(۱۸:۸۱)
اور صبح کی جب دم لے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس سورۃ میں ’پو پھٹنے کے وقت افق مشرق سے روشنی اور سپیدہ سحری کے رفتہ رفتہ آشکار ہونے جانے کےواسطے سانس کا تھم تھم کر نکلنا مستعار لیا گیا ہے۔۔۔ (حوالہ محولہ، ص، ۱۱۶)

کنایہ

علم بیان کی رو سے یہ وہ کلمہ ہے، جس کے معنی مبہم اور پوشیدہ ہوں اور ان کا سمجھنا کسی قرینے کا محتاج ہو، وہ اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال ہوا ہو کہ اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہوں۔ یعنی بولنے والا ایک لفظ بول کر اس کے مجازی معنوں کی طرف اشارہ کر دے گا، لیکن اس کے حقیقی معنی مراد لینا بھی غلط نہ ہو گا۔ مثلاً: ’’بال سفید ہو گئے لیکن عادتیں نہ بدلیں۔‘‘یہاں مجازی معنوں میں بال سفید ہونے سے مراد بڑھاپا ہے لیکن حقیقی معنوں میں بال سفید ہونا بھی درست ہے۔

کنایہ ازروئے قرآن :

مثال نمبر ۱:

هُوَ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ۔(۱۸۹:۷)
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں نفسِ واحدہ ’حضرت آدمؑ‘ کی طرف کنایہ ہے۔ (الاتقان فی علوم القرآن، تالیف، جلال الدین سیوطی، جلد دوم (اردو) ص، ۱۲۴، ادارہ اسلامیات، لاہور، سن اشاعت، ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ، اگست، ۱۹۸۲ء) کیوں کہ سیدنا آدم ؑ سے ہی انسان کی ابتدا ہوئی ہے۔

مثال نمبر ۲:

اِنَّ هٰذَآ اَخِيۚ لَـهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِـىَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ۔(۲۳:۳۸)
بیشک یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اورمیرے پاس ایک دُنبی ہے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

یہاں ’نعجہ‘ (بھیڑ) کے ساتھ عورت کی طرف کنایہ کیا گیا کیوں کہ اس بارہ میں اہل عرب کی عادت ایسی پائی گئی ہے اور عورتوں کا ذکر تصریحی طور پر ذکر نہ کرنا زیادہ اچھا شمار ہوتاہے اسی وجہ سے قرآن میں فصیح لوگوں کے لیے دستور سے خلاف کسی عورت کا ذکر اس کے نام ساتھ نہیں کیا گیاہے اور اس میں اچھا نکتہ یہ ہے کہ بادشاہ اور معزز لوگ عام جلسوں میں اپنی بیویوں کا ذکر نہیں کیا کرتے اور ان کا نام نہیں اچھالتے بلکہ بیوی کا ذکر منظور ہو تو کنایتاً فرش۔ اور۔ عیال یا اس طرح کے الفاظ استعمال کیا کرتے ہیں۔ (حوالہ محولہ، ص، ۱۲۵)

مثال نمبر ۳:

بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوْطَتَانِ۔(۶۴:۵)
ورنہ اللہ کے دونوں ہاتھ پوری طرح کُشادہ ہیں۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں باری تعالیٰ کے دونوں ہاتھ مراد نہیں ہیں بلکہ یہاں ’خداوند کریم کے جو دو کرم کی بے نہایت وسعت سے کنایہ ہے۔ (حوالہ محولہ، ص، ۱۲۵)

مثال نمبر ۴:

هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُـمْ لِبَاسٌ لَّـهُنَّ۔(۱۸۷:۲)
وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کی لباس۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں میاں بیوی کے زن و شو کے تعلق کے لیے، جماع یا بغلگیر ہونے کے لیے لباس کے لفظ سے کنایہ فرمایا ہے۔ (حوالہ محولہ ص، ۱۲۵)

مجازِ مرسل

یہ علمِ بیان کی ایک اہم قسم ہے۔ جب لفظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں اسطرح استعمال ہو کہ ان کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہ ہو بلکہ اس میں کوئی اور ہی تعلق پایا جائے اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ مثلاً: ’’الحمد‘‘ پڑھنے سے مراد پوری سورۃ الفاتحہ ہے۔

مجاز مرسل ازروئے قرآن:

مجازِ مرسل کی معروف اقسام میں سے چند یہ ہیں :

سببیت (سبب بول کر مسسب مراد لینا):

وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ۔(۶:۳۹)
اور تمہارے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے تھے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں لفظ اَنْزَلَ۔ خَلَقَ (تخلیق) کے معنی میں آیا ہے۔ (معین البلاغہ مع امثلہ قراٰنیہ، مؤلف محمد مرشد قاسمی، حسبِ ارشاد مولانا حذیفہ صاحب وستانوی، ص، ۵۶، جامعہ اسلام اشاعت العلوم اکل کوا، ضلع نندور بار، مہارا شٹر، انڈیا، س ن)

مسببیت (مسسب بول کر سبب مراد لینا):

وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ رِزْقًا۔(غافر۴۰: ۱۳)
اور تمہارے لیے آسمان سے رزق نازل کرتاہے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

یہاں رزق سے مراد بارش ہے۔ (حوالہ محولہ، ص، ۵۶)

کلیت(کل بول کر جزو مراد لینا) :

يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُـمْ فِىٓ اٰذَانِـهِـمْ۔ (۱۹:۲)
اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیتے ہیں۔ (ترجمہ مولانا احمد رضا خان بریلوی)

اس آیت میں مجازِ مرسل کو سمجھنے سے پہلے آیت کا مکمل ترجمہ قلم بند کیا جاتاہے تاکہ آیت کا پورا مفہوم سامنے آجائے۔

یا پھر ان منافقوں کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے برستی ایک بارش ہو، جس میں اندھیریاں بھی ہوں اور گرج بھی اورچمک بھی۔ وہ کڑکوں کی آواز پر موت کے خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیتے ہیں۔ اور اللہ نے کافروں کو گھیرے میں لے رکھاہے۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضا خان بریلوی)

یہاں اصابع (انگلیاں) سے انامل یعنی پور مرادہے۔(حوالہ محولہ، ص، ۵۶)

جزئیت (جزو بول کر کل مرادلینا):

فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا۔(۸۹: ۴)
تو اُن کے ذمے ایک غلام آزاد کرناہے، قبل اس کے کہ وہ (میاں بیوی) ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ (ترجمہ، مولانا احمد رضاخان بریلوی)

یہاں رَقَبَۃ یعنی گردن سے پورا غلام مراد ہے۔ (حوالہ محولہ، ص، ۵۶)

حالیت (حال بول کر محل مراد لینا)

اِنَّ الْاَبْـرَارَ لَفِىْ نَعِـيْمٍ۔(۱۳:۸۲)
یقین رکھو نیک لوگ یقیناً بڑی نعمتوں میں ہوں گے۔

اس آیت میں نعمت سے محل نعمت یعنی جنت۔ (حوالہ محولہ، ص، ۵۷)

حرفِ آخر:

یقیناً تمام علوم کا خزینہ قرآن مجید ہے۔ اہل ِ علم نے اپنی اپنی بساط کے مطابق قرآن مجید سے مختلف علوم و فنون اخذ کیے۔ زیرِ موضوع ’علمِ بیان اور قرآن‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20