بازدید، اردو کے یادگار خاکوں کا مجموعہ —– نعیم الرحمٰن

0

’’بازدید‘‘ اُردو کے منفرد شاعر، ادیب، مترجم اور دانشور خورشید رضوی کے تحریر کردہ خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جو یادگار شخصیات کے بہترین اُردو خاکوں کا مجموعہ ہے۔ ’’بازدید‘‘ میں چالیس سال کے دوران مصنف کے تحریر کردہ چونتیس شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔ جن سے خورشید رضوی کی ملاقات ہوئی اور وہ ان سے متاثر ہوئے۔ القا پبلیکیشنز نے کتاب بہت خوبصورت اور سلیقے سے شائع کی ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کا شمار ایسے عبقریوں میں ہوتا ہے جو شاعر ہی نہیں ماہرِ لسانیات، محقق اور اعلیٰ پائے کے دانشور بھی ہیں۔ امروہہ میں پیدا ہونے والے خورشید رضوی نے کالج تک تعلیم منٹگمری (موجودہ ساہیوال) میں حاصل کی۔ اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں ایم گولڈ میڈل کے ساتھ کیا اورپنجاب یونیورسٹی سے عربی ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ خورشید رضوی عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور پنجابی میں عمدہ دستگاہ رکھتے ہیں اور اب تک نظم و نثر میں بہت سی کتب و مضامین لکھ چکے ہیں۔ درس و تدریس سے ڈاکٹرصاحب کے تعلق خاص کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر ایمریٹس ہیں اور لاہور یونیورسٹی آف سائنسز سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ 2008ء میں ان کی علمی و ادبی خدمات پر حکومتِ پاکستان نے انہیں ’’ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا۔ اس کے علاوہ خورشید رضوی کو شاعری میں ’’احمد ندیم قاسمی ایوارڈ‘‘ اور ’’احمد فراز لٹریری ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا ہے۔

خورشید رضوی کی شاعری کے چھ مجموعے ’’شاخِ تنہا‘‘، ’’سرابوں کے صدف‘‘، ’’رائگاں‘‘، ’’امکان‘‘، ’’دیریاب‘‘ اور ’’پس نوشت‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ابتدائی چار مجموعوں پر مبنی کلیات ’’یکجا‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ نثرمیں مضامین کی دو کتب ’’تالیف‘‘ اور ’’اطراف‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں۔ ایک اہم کتاب ’’عربی شاعری‘‘ ایک تعارف کے علاوہ ’’تاریخِ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام‘‘ عربی سے ترجمہ ہے۔ خورشید رضوی کا انتہائی اہم اور وقیع کارنامہ ’’عربی ادب قبل ازاسلام‘‘ ہے۔ جو ادبی جریدے ’’سویرا‘‘ میں کئی سال سے قسط وار شائع ہو رہا ہے اور کتابی صورت میں بھی چھپ چکا ہے۔

مرحوم شاعر، افسانہ نگار اور مدیر فنون احمد ندیم قاسمی نے خورشید رضوی کی خاکہ نگاری کے بارے کہا ہے۔ ’’اہل ِ قلم کرداری خاکوں میں اپنے موضوع کے ساتھ عموماً کھُل کھیلتے ہیں۔ مگر خورشید صاحب نے انور مسعود، غلام جیلانی اصغر اور عبد العزیز میمن کے جو کرداری خاکے تحریر کیے ہیں وہ شخصیت نگاری کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ کہیں کہیں مزاح کی ایک آدھ جھلک ضرور ملتی ہے مگر یہ نہایت درجہ شائستہ مزاح ہے۔‘‘

ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کہا۔ ’’بلاشبہ رضوی صاحب کے یہ خاکے جن شخصیتوں کے حوالے سے لکھے گئے، اپنے ادبی محاسن کے علاوہ ان کے بارے میں تاریخی دستاویز کے طور پریاد رکھے جائیں گے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے کہ وہ ایک سنجیدہ، محتاط، طباع، محقق و مفکرہیں یا صاحبِ طرز ادیب۔ وہ یہ سبھی کچھ ہیں۔‘‘

معروف ادیب، دانشور اور محقق ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی رائے ہے۔ ’’شخصیات پر لکھتے ہوئے خورشید اُن کے مثبت پہلو زیادہ توجہ سے دکھاتا ہے جبکہ منفی پہلوؤں کی طرف اشارہ کردیتاہے۔ شخصیت نگاری کے بارے میں اُس کا نقطہء نظریہ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے کا مقصد چمن میں کانٹوں کی تلاش نہیں۔ تاہم اُسے قصیدہ گو بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

یہ جہان ایک تصویر خانہ ہے لیکن تصویروں کو غور سے دیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت ہرکسی میں نہیں ہوتی۔ خورشید رضوی خود شاعر، خوش ذوق، عالم ِ بے بدل اور جوہر شناس ہیں۔ سب سے بڑی خوبی ان میں یہ ہے کہ محبتی ہیں اوردلِ دردمند رکھتے ہیں۔ خاکوں کے اس مجموعے میں انہوں نے جن ادیبوں کو خلوص اورمحبت سے یاد کیا ہے، ان میں سے بعض بہت نامورہیں، جیسے احمدندیم قاسمی، انتظار حسین، منیر نیازی، ناصر کاطمی، مجید امجد، مظفرعلی سید اورشہزاداحمد۔ ان حضرات کا ادب میں جومقام ہے اس کے پیش ِ نظر وہ ادبی منظر نامے سے کبھی غائب نہیں ہوں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خورشید رضوی ان سے ذاتی طور پر واقف رہے۔ آنے والے برسوں میں اہلِ قلم صرف ان کی تحریروں سے لطف اندوز ہوں گے۔ لیکن ان ہستیوں کے علاوہ انہوں نے بعض نادرِ روزگار شخصیتوں کابھی تذکرہ کیا ہے جن کی عظمت سے شایدنئی نسلیں شناسا تک نہ ہوں۔ اس ضمن میں علامہ عبدالعزیز میمن، مولانا اصغر علی روحی، حکیم نیرواسطی، پیر محمد حسن اور سید محمد کاظم کا نام لیا جاسکتا ہے۔ کتاب کے مطالعے سے ایک پورا عہد ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ خاکوں کے اس گلدستے کی شگفتگی اور رنگارنگی دل فریب ہے۔ خورشید رضوی کی نثرکی سلاست اور نفاست نے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

حرفِ اول کے عنوان سے مختصر پیش لفظ میں خورشید رضوی لکھتے ہیں۔

’’عمر بھر کی پریشاں نویسی کو کسی ترتیب میں لانا آسان کام نہیں۔ کچھ یاد آیا، کچھ نہ آیا۔ کچھ ملا، کچھ نہ ملا۔ بالآخر جو کچھ فراہم ہوسکا اُسے کوئی معقول عنوان دینابھی مشکل تھا۔ آخر میں یہ مشورہ صائب معلوم ہوا کہ پہلے وہ تحریریں الگ کرلی جائیں جو کسی اعتبارسے شخصی خاکہ کہی جاسکتی ہیں یا اس کے قریب قریب ہیں۔ یوں اس دفترِ منتشر کو چھانٹ کر ایک سرنامے کے تحت لاناممکن ہوا۔ ان صفحات میں آپ کی ملاقات اُن شخصیات سے ہوگی جن سے کبھی نہ کبھی میرا طویل یا مختصر رابطہ رہا اور انہوں نے میرے دل پر کوئی تاثر چھوڑا۔ تاثر تاثر ہوتا ہے اور خالصتہً ذاتی۔ ایک ہی شخصیت لوگوں کے لیے مختلف ہوسکتی ہے۔ یہاں آپ اِن لوگوں کو میرے روزنِ خیال سے دیکھیں گے۔ اس روزن سے دکھائی دینے والی تصویر، ظاہر ہے، موضوعی ہوگی۔ معروضیت، یوں بھی، معلوم نہیں ممکن ہے بھی یا نہیں۔ ان تصویروں سے گزرنا خود میرے لیے دیکھے ہوئے کو پھر سے دیکھنے کاعمل ہے۔ دید کی بازدید۔ تاہم اس مرقع کے آغاز میں جو تصویر میں نے رکھی ہے وہ ماورائے دید سے تعلق رکھتی ہے۔ آخر اَن دیکھے کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تحریریں چالیس برس کی قلم فرسائی پرمشتمل ہیں اور لکھنے والے کے اپنے ارتقاء کی بھی آئینہ دار۔ تاہم یہاں اِنہیں ترتیبِ زمانی سے مرتب نہیں کیا گیا۔ اِن میں بہت سی کسی فرمائش یا وقتی ضرورت کے تحت بھی لکھی گئیں اور چند ایک میرے مجموعہء مضامین ’تالیف‘ میں شامل بھی ہوچکی ہیں۔ اب اُنہیں بھی اسی شیرازے میں سمو دیا گیا ہے۔‘‘

کتاب کا پہلا خاکہ ’’مولانا روحیؒ۔ ایک نادیدہ شخصیت کا خاکہ‘‘ ہے۔ جن سے خورشید رضوی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ لیکن انہیں مولانا روحی کے فرزند اور علمی جانشین ڈاکٹر صوفی محمد ضیاالحق مرحوم کے شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ڈاکٹر صوفی محمد ضیاالحق سے عربی پڑھتے ہوئے گاہے گاہے مولانا روحی ؒ کا ذکر بھی سنتے رہے۔ اس بارے میں لکھتے ہیں۔

’’انسانی ذہن پیکرِ محسوس کاخُوگرہے۔ چنانچہ جن شخصیات کو کبھی دیکھا نہیں ہوتا ان کے بارے میں صرف سن کریا پڑھ کر ان کے قدوقامت اورخدوخال کی بھی ایک فرضی تصویر ضرور بنا لیتا ہے۔ میرے ذہن میں ایک ایسی تصویر مولانا اصغر علی روحیؒ کی ہے۔ ڈاکٹر صوفی محمد ضیاالحق سے پڑھتے ہوئے اگرچہ کبھی ان کے چہرے مہرے یاشکل صورت پر گفتگو نہ ہوتی تھی، اس کے باوجود ایک دبلے لمبے، گورے چٹے، سفید ریش بزرگ کا نورانی چہرہ ذہن پر مرتسم ہوتا چلا گیا اور آج تک مرتسم ہے۔ مجھے یہ چہرہ بہت عزیز ہے حالانکہ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ محض ایک فرضی تصویر ہے۔ بہت بعد کے زمانے میں جب ڈاکٹر صوفی صاحب سے میری بے تکلفی بڑھ گئی تو ایک باران سے مولانا کے خط و خال پر بات ہوئی۔ انہوں نے فرمایا کہ حافظ عبدالحق (برادرِ بزرگ) میں ان کی شباہت باقی سب بھائیوں سے بڑھ کرہے۔ میراخیال ہے کہ کسی شخصیت کے نام اور اس کی سیرت و کردار کے بارے میں انسان کی شنید اس تصویر کے لیے آب و رنگ مہیا کرتی ہے۔ مولانا روحیؒ کے نام میں روحانیت کا اثر اور اُن کے بارے میں ڈاکٹر صاحب سے سنی ہوئی باتوں کا تاثر، شاید دونوں نے مل کر میرے ذہن میں اس تصویر کے نقش ابھارے۔‘‘

مصنف نے ’’اختر شیرانی۔ چند اوجھل زاویے‘‘ میں شاعرِ رومان کی شخصیت و کردار پر کچھ نئے انداز سے روشنی ڈالی ہے۔

’’اخترشیرانی طویل مدت تک ہندوستان میں شاعرانہ ہر دلعزیزی کی علامت بنے رہے۔ موقر اور مستند ادبی حلقوں میں بھی اُن کابڑا نام اور مقام تھا۔ فیض اور راشد جیسے ابھرتے ہوئے شعراء نے، جو آگے چل کر نہایت قد آور ثابت ہوئے، اپنے ادبی سفرکے آغاز میں اخترشیرانی سے آشیرواد لی اور اُن کے اسلوب سے اثر قبول کیا۔ اُن کے مضبوط عقائد، بھرپور عقیدتیں، بلند آدرش، ملی آرزوئیں، علمی صلاحتیں اور فنی اختراع و تنوع کے پہلو ظاہربیں نگاہوں سے اوجھل رہے۔ اس علاجلانہ سی تحریر میں تفصیلی تجزیے کی تو گنجائش نہیں تاہم چند سرسری اشارات ضرور کیے جاسکتے ہیں۔ اخترشیرانی کے عمومی رومانی تعارف کے زیرِ اثر، بیشتر قارئین کے لیے ’’اسلام کا شکوہ مسلمانوں سے‘‘ اور ’’عورت اور پردہ‘‘ جیسی نظمیں یکسر غیر متوقع ہوں گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اختر کے یہ قومی و ملی جذبات بھی اتنے ہی حقیقی ہیں جتنی اُن کی رومانی سرشاری۔ اختر محض شاعرہی نہ تھے بلکہ ایک محقق بات کے بیٹے ہونے کے ناطے، علمی مزاج بھی رکھتے تھے۔ حافظ محمود شیرانی صاحب کے لیے اختر کی مے نوشی اور لاابالیانہ طرزِ حیات شکستِ خواب اور شکستِ دل کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اختر سے مکمل قطعِ تعلق کرلیا تھا۔ تاہم بیٹے کی علمی استعداد اُن کی نظر میں بھی تھی۔ شنید ہے کہ گاہے گاہے کاغذکے ایک پُرزے پر کوئی تحقیق طلب نکتہ لکھ کر بھجوا دیتے تھے اور اختر سب کام چھوڑ کر مختلف کتابوں سے مواد تلاش کرکے اُن کی خدمت میں ارسال کرتے تھے۔‘‘

اس مختصرخاکے میں خورشید رضوی صاحب نے اخترشیرانی کی شاعری اور شخصیت کے بعض مختلف پہلو عیاں کیے ہیں۔ شاعر، افسانہ نگار اور مدیرفنون احمدندیم قاسمی اورشاعر، ادیب، دانشور اور مدیر اوراق وزیر آغاکے خاکے بھی ’’بازدید‘‘ کی عمدہ تحریروں میں شامل ہیں اوردونوں شخصیات کی زندگی کے گوناگوں واقعات اور علمی و ادبی کمالات کاذکربہت عمدگی سے کیاہے۔ قاسمی صاحب کی شگفتہ مزاجی اور کردار کی پختگی اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود مذہب سے والہانہ لگاؤ بے مثال تھا۔ خطوط کا جواب دینے میں قاسمی صاحب پُرانی وضعداری کا نمونہ تھے۔ برجستہ مکتوب نگاری اُن کی طبیعت کا جزو بن چکی تھی۔ وزیر آغا بڑھتی عمرکے ساتھ نحیف سے نحیف ترہوتے دکھائی دیے۔ لیکن ذہنی طور پر ہمیشہ کی طرح چاک وچوبند رہے۔ ان کا مطالعہ اور تخلیقی و تنقیدی کام آخری ایام تک جاری رہا۔ پروفیسر غلام جیلانی اصغر، عصمت علیگ، انور سدید اور سجاد نقوی بہت باقاعدگی سے وزیرآغا کے ہاں آنے والے تھے۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوجاتا تو نشست مطالعے کے کمرے سے، برآمدے کے دوسرے سرے پر واقع ایک کشادہ کمرے میں منتقل ہوجاتی۔ کھانا ہمیشہ گھر کا ہوتا۔ آغا صاحب کی نثرخاصے کی چیز ہے۔ واضح اور باثروت۔ معاصر علوم کارچاؤ ا س نثرکے پس منظرمیں بولتا ہے مگر قاری کے لیے یہ رواں اور سبک بھی ہے۔ آغا صاحب آخری دم تک معلوم کے آفاق کی توسیع میں منہمک رہے۔ مسلسل مطالعہ ان کی سرشت میں داخل رہا۔ مگر وہ صرف کتاب خواں نہ تھے۔ ان کا حاصل ِ مطالعہ دراصل ان کی اپنی ذہنی جست سے عبارت ہوتا تھا۔ وہ جست جو لکھے ہوئے کے پسِ پردہ اَن لکھے تک جاسکتی تھی۔

حکیم نیر واسطی کے دلچسپ خاکے میں خورشید رضوی لکھتے ہیں۔

’’فمِ معدہ پرہروقت دردنے جینے کا مزا کرکرا کر دیا تھا۔ طرح طرح کے علاج معالجے کے باوجود کچھ افاقہ نہ تھا۔ ایک دوست نے مشورہ دیاکہ حکیم نیر واسطی صاحب سے علاج کراؤ۔ حکیم صاحب کی نباضی کی شہرت میں نے بھی بہت سن رکھی تھی۔ یہاں تک کہا جاتا تھا کہ اُن کے قبضے میں جن ہیں ورنہ نبض پرانگلیاں رکھ کریہ بتاناکہ آنت میں بھنڈی کا ٹکڑا اڑا ہوا ہے، کیونکر ممکن ہے۔ یہ تومجھے معلوم نہیں کہ بھنڈی کے ٹکڑے کی کہانی سچ تھی یابرائے بیت مگر ایسی ہی ایک مثال تو خود میرے مشاہدے سے گزر چکی تھی۔ ایم اے عربی کے طالب علم کی حیثیت سے میں اورینٹل کالج کے وولنر ہاسٹل میں رہائش پذیرتھا۔ دوترک طالب علم عارف بک اور شوکت بُولو بھی یہاں مقیم تھے۔ شوکت بُولو ذرا پختہ عمر کا فربہ اور مضبوط ترکمان، سنجیدہ اورسخت محنتی آدمی تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر دونوں ٹانگیں میز پر پھیلائے مسلسل کئی کئی گھنٹے مطالعے میں غرق رہا کرتا۔ حکیم صاحب دونوں ترک طالب علموں سے ملنے آتے تھے۔ امتحان کے نزدیک شوکت بُولو بیمار پڑ گیا۔ اُسے اسہال کی شکایت ہوئی جس پر ہر طرح کی دواؤں کے باوجود، قابو نہ پایا جاسکا۔ حکیم صاحب نے نبض دیکھ کر کہا کہ میز پر ٹانگیں رکھنے کی جس وضع میں وہ مسلسل بیٹھارہتاہے اُس کے باعث اُس کی ریڑھ کی ہڈی کا ایک مُہرہ اپنی جگہ سے ٹل گیاہے اور وہی اس تکلیف کا باعث ہے۔ ایکس رے کرایا گیا تو حکیم صاحب کی بات درست ثابت ہوئی۔‘‘

اس خاکے میں حکیم صاحب کی طبی مہارت کے علاوہ ان کی علمی اورادبی شخصیت پر بھی بہت کچھ ہے۔ اُردو کے منفرد افسانہ و ناول نگار انتظار حسین کے بارے میں دو تحریریں ہیں۔ پہلی یادیں انتظارصاحب کی‘‘ جس میں انتظار حسین کی آخری فون کال اور ان کے انتقال کا احوال ہے۔ ’’انتظار صاحب۔ ایک پرانا تاثر‘‘ میں انتظار صاحب کا ذکر کس دلچسپ پیرایے میں ہے۔

’’انتظار صاحب کی کہانی سوتے جاگتے کی کہانی ہے۔ جاگتے میں وہ ایک عام سے آدمی ہیں۔ آسانی سے قابو آجانے والے۔ اگرچہ نکل بھاگنے کو برابر کسمساتے رہنے والے۔ در اصل اُنہیں نیند کا انتظار رہتا ہے۔ جو اُن کی طاقت ہے۔ اُن کادل وہیں لگتاہے جہاں اُنہیں کھُلی آنکھوں سو جانے کی مہلت ملے۔ اور سوتے میں ان کازورمت پوچھو۔ اِدھر سوئے اُدھر کھٹاکھٹ ان کے ہاتھ پاؤں، سردھڑ الگ الگ ہونا شروع ہوئے۔ اور پھر اُن کے اندر سے ایک سیمرغ نکلتاہے جو قاف سے قاف تک پنکھ پھیلاتا ہے۔ پورب، پچھم، اُتر، دکھن سب اُس کے سائے میں آجاتے ہیں۔ راجے مہا راجے، ولی قطب، چوراچکے، لٹھ باز، پھکیت، لڑکے بالے، گھر بازار سب اُس کی نظر میں رہتے ہیں۔ اور اُس کی آنکھ کی پتلی جس کوچاہتی ہے زوم اِن اور زوم آؤٹ کرتی رہتی ہے۔ جہاں نیند ٹوٹی، پھر وہی عام سا آدمی جو سب سے بھاگا پھرتا ہے مگر سب کے قابو میں بھی آجاتا ہے۔‘‘

اس خاکے میں انتظارحسین کی کئی دلچسپ یادیں، ان کے افسانوں کاتذکرہ اورتحریرکی خوبیاں بہت عمدگی سے بیان کی گئی ہیں۔ یہ ’’بازدید‘‘ کے چند بہترین خاکوں میں سے ایک ہے۔

کتاب کا ایک اوربہترین خاکہ ’’علامہ عبدالعزیز میمن‘‘ کا ہے۔ علامہ صاحب عالمِ بے بدل اور بحرِ علوم تھے۔ علامہ صاحب سے خورشید رضوی کی پہلی ملاقات وہ جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خان کی کوششوں سے اورینٹل کالج شعبہ عربی کے صدرتھے۔ خوش قسمتی سے میمن صاحب کو سمن آباد میں جو کوٹھی رہائش کے لیے دی گئی وہ خورشید صاحب کے گھر سے قریب تھی۔ علامہ صاحب کی طبیعت کی سادگی و بے تکلفی سے انہیں یہ جرأت ہوئی کہ روز شام کا کھانا کھا کر علامہ صاحب کے گھر پہنچ جاتے اوران کے ساتھ آدھ پون گھنٹہ سیرکی جاتی۔ ان صحبتوں میں کوئی تیسرا شخص حائل نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے خورشید رضوی کے تمام تاثرات ذاتی اورشخصی نوعیت کے ہیں اور علامہ عبدالعزیز میمن کے اس طویل خاکے سے ان بارے میں کئی دلچسپ اورنئی باتوں کا قاری کو علم ہوتا ہے۔

’’بازدید‘‘ کے دیگر خاکوں میں ’’پروفیسر عبدالقیوم صاحب‘‘ پیر محمد حسن کے بارے میں ’’پیرصاحب‘‘، ’’ناصر کاظمی‘‘، ’’منیر نیازی ایک برجستہ تاثر‘‘ مشہور شاعر شہزاد احمد پر دو تحریریں، ’’شہزاداحمد‘‘ اور ’’وہ کیوں گیاہے یہ بھی بتاکرنہیں گیا‘‘ ان کے انتقال پر تاثراتی مضمون ہے۔ مظفر علی سید سے ’’آخری مکالمہ‘‘ اور ’’مشفق خواجہ۔ چندیادیں، چند خطوط‘‘ اُردو کے صاحب طرز ادیب محمد کاظم پر ’’کاظم صاحب کی یاد میں‘‘ بھی کتاب کے چند بہترین خاکے ہیں۔

’’بازدید‘‘ ایک صاحب طرزادیب اور بہترین شاعر کے قلم سے نکلے بہترین خاکوں کامجموعہ ہے۔ عمدہ نثر اور بہترین اسلوب کتاب کی خوبی ہے۔ ’’بازدید‘‘ خورشید رضوی کی چالیس سالہ مساعی کا نتیجہ ہے۔ پھر بھی قارئین کو ان کے قلم سے ایسی مزید تحریروں کا انتظار رہے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20