قائداعظم سے منسوب جملہ “پاکستان میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی” کی تحقیق — عارف گل

0

مصنف: عارف گل

میرے نزدیک مطالعہ کتب اور کتاب دوستی ایک قابل قدر مشغلہ ہے۔ مگر بعض لوگ کتابیں اکٹھی کرنے اور انہیں پڑھنے میں ایسے بے احتیاط ہوتے ہیں کہ جلد بدہضمی کا شکار ہو کر ابکائیاں کرنے لگتے ہیں۔

پاکستان, نظریہ پاکستان اور قائداعظم سے نفرت میں مبتلا کچھ دانشور اگرچہ مطالعہ پاکستان کا طعنہ دیتے نظر آئیں گے، جیسے ان کتب میں من گھڑت اور فرضی تاریخ لکھی ہو، مگر خود پاکستان مخالف ہر بے سروپا اور مجہول روایت کو بلاتحقیق آگے پھیلانا اپنے زعم علم کا کمال تصور کرتے ہیں۔

چند روز قبل پاکستان اور قائداعظم سے نفرت میں مبتلا ایک دانشور کی ایک پوسٹ سے اندازہ ہوا کہ ان صاحب کے ہتھے ایک کتاب چڑھی ہے جس کی ایک غیر ثقہ روایت کا عکس لے کر وہ فیس بک پر اسے لہرا لہرا کر رقص میں ایسے والہانہ جھومے کہ گھنگرو توڑ دیے۔ اپنی مذکورہ پوسٹ میں اپنے بغض کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

“پاکستان میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ جناح”

اگر اتنی بڑی اور متنازعہ بات میں وزن یا سچائی نہیں تھی تو مصنف نے ذکر کیوں کی؟ اور اگر جناح نے واقعی ایسا کہا ہے تو اس کے خلاف بعد از مرگ غداری کا مقدمہ چلانا چاہیے۔

“بابائے پنجاب نے مزید فرمایا ہے کہ “اب اگر موقع ملے تو دہلی جا کر جواہر لال نہرو کو بتاتا ہوں کہ ماضی کی حماقت کو بھول جائیں۔” دیکھیں “قائداعظم” نے مملکت خداداد اور اسلام کے قلعے کو حماقت کہا۔ لیکن ایک سنجیدہ سوال یہ کہ واپسی کا راستہ کیا ہوتا؟ کیا جناح پاکستان کو واپس انڈیا میں شامل کرنے کا سوچ سکتا تھا؟ کیا کنفڈریشن کی طرف جاتا؟ یا مضبوط دوستانہ تعلقات ہی قائم کرتا؟”

“تاہم اپنے قائداعظم کی خواہش کی تکمیل کے لیے اگر خان صاحب مودی جی کو جناح کی طرف سے معزرت کرے تو کوئی بری بات نہیں”۔

ایک غیر محقق بات پر قائداعظم کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے خواہش مند یہ بغض کے ماروں کا تحقیق کا معیار یہی ہے۔ اسے وہ مستند تاریخ منوانا چاہتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ ایسا حوالہ آگیا ہے جو ہر کسی کے لیے قابل قبول اور ناقابل تردید ہے۔

آئیے ذرا مذکورہ کتاب میں مندرج مجہول الفاظ اور ان کے غیر ثقہ و فرضی حوالوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔

دانشور موصوف نے اپنی پوسٹ کی بنیاد برطانوی سکالر و مورخ ایلیکس وان تنزلمان صاحبہ کتاب
Indian Summer: The Secret History of the End of an Empire
میں موجود چند جملوں پر رکھی گئی ہے۔ دانشور نے کتاب کے جملے لے کر پوسٹ تو بنا دی مگر اسے کتاب کے حوالوں کی تحقیق و چھان پھٹک کرنے کی توفیق نہ ہو سکی۔ ویسے بھی تاریخی واقعات کی جانچ پڑتال ایک دقت طلب کام ہے ان دانشوروں کو تحقیق سے کیا لینا دینا۔ مصنفہ نے لکھا۔

“According to his doctor, Jinnah saw Liaqat and told him that Pakistan was the biggest blunder of my life. Further yet, he declared, “If I get an opportunity I will go to Delhi and tell Jawaherlal to forget the follies of the past and become friends again. 23”

“اس کے ڈاکٹر کے مطابق جناح نے لیاقت کو دیکھا اور کہا پاکستان میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ مزید اس نے واضح کیا کہ اب اگر مجھے موقع ملے تو میں دہلی جاؤں گا اور جواہرلال سے کہوں گا کہ ماضی کی غلطیوں کو بھول کر پھر سے دوست بن جائیں۔”23

مذکورہ کتاب کا ٹائیٹل, جملوں والا صفحہ اور حوالہ نمبر 23 والے صفحے کا عکس منسلک ہے۔

ایک بات تو طے ہے کہ مصنفہ نے مذکورہ جملے خود کسی سے نہیں سنے بلکہ حوالہ نمبر 23 پر دو کتب کے صفحات کا ذکر کردیا ہے جہاں سے اس نے یہ جملے اخذ کیے۔

اس سے پہلے کہ میں حوالہ جاتی کتب پر بات کروں, قارئین کی توجہ مذکورہ بالا کتاب کے قائداعظم سے متعلق جملوں کے فورا” بعد والے جملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو اوپر دیے گئے عکس میں بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ مصنفہ لکھتی ہیں۔

“It is impossible to prove whether Jinnah actually said these words or not”
“یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ آیا جناح نے یہ الفاظ کہے بھی تھے یا نہیں۔ ”

جن جملوں کو ثابت کرنا مذکورہ کتاب کی مصنفہ کے لیے ناممکن ہے انہی جملوں کو لے کر بغض قائداعظم میں مبتلا دانشور نہ جانے کیا کیا اول فول بول رہے۔

فاضل مصنفہ نے جن دو کتب کے حوالے درج کیے ہیں ان میں سے پہلی کتاب ایم جے اکبر کی ہے جو انہوں نے نہرو پر لکھی۔ ایم جے (مبشر جاوید) اکبر ہندوستانی صحافی, مصنف اور سیاستدان ہیں۔ جنہوں نے اپنا سیاسی کیرئیر کانگریس سے شروع اور پھر بی جے پی کا حصہ بنے۔ 16 سے 18 مودی کی گورنمنٹ میں وزیر رہے۔ کئی بار اسمبلی کے رکن بنے۔ پکے قوم پرست اور دوقومی نظریہ کے شدید ناقد ہیں۔ ایم جے اکبر

اپنی کتاب (کتاب کے ٹائیٹل اور مذکورہ صفحے کا عکس منسلک ہے) Nehru: The Making of India کے صفحہ 433 پر لکھتے ہیں:

“Jinnah’s personnel physician during his last days, Colonel Ilahi Bukhsh has recorded that once Jinnah on his death bed, blew up on Liaqat Ali Khan, who has come to see him and described Pakistan as “the biggest blunder of my life.” The story was printed in Peshawar’s Frontier Post on November 1987 and quotes Jinnah as saying “If now I get an opportunity I will go to Delhi and tell Jawaherlal to forget the follies of the past and become friends again.”

“جناح کے آخری دنوں کے ذاتی معالج کرنل الہی بخش ریکارڈ پر ہیں کہ جناح اپنے بستر مرگ پر لیاقت علی خان پر برس پڑے جب وہ انہیں دیکھنے آئے تھے۔ اور پاکستان کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔ کہانی نومبر 1987 میں پشاور کے اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جناح نے کہا کہ اب اگر مجھے موقع ملا تو میں دہلی جاؤں گا اور جواہرلال سے کہوں گا کہ ماضی کی غلطیوں کو بھول جائیں اور پھر سے دوست بن جائیں”۔

اس سے پہلے کہ فرنٹیئر پوسٹ کی کہانی پر بات کی جائے۔ میں قارئین کی توجہ ایم جے اکبر کے اوپر دیے گئے جملوں کے فورا” بعد کے جملے کی طرف مبذول کراؤں گا۔ وہ لکھتے ہیں۔

“It might be only fancy”
“ہوسکتا ہے یہ صرف ایک غلط فہمی یا مغالطہ یا تصوراتی بات ہو۔”

ایلیکس وان تنزلمان کی طرح M. J. Akbar ایم جے اکبر یعنی Alex Von Tunzelmann کو بھی اس کہانی پر یقین نہیں ہے۔ مگر کمال ہے ہمارے فیس بکی دانشور کی جو ایسی دور کی کوڑی پر اپنے ایمان کی بنیاد استوار کرنا چاہتے ہیں۔

فرنٹیئر پوسٹ کی یہ کہانی اس لیے بھی قابل اعتناء نہیں کہ 87 میں واقعے کے مذکورہ کرداروں میں سے کوئی بھی حیات نہیں تھا۔ کہانی کرنل الہی بخش کے نام سے بیان کی جا رہی ہے جو کہ 1960 میں فوت ہوچکے تھے۔ ان کے فوت ہونے کے 27 سال بعد ان کے نام سے یہ کہانی کس نے گھڑی اور کہاں سے سنی یہ تو نہ سمجھ آنے والی بات ہے۔ جبکہ قائداعظم پر ان کی کتاب With the Quaid-i-Azam During His Last Days کا پہلا ایڈیشن سنا ہے 49 میں چھپا تھا۔ بعد میں یہ کتاب آکسفورڈ نے شائع کی اور آج تک چھپ رہی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی “قائداعظم کے آخری ایام” کے نام چھپ رہا ہے۔ اس کتاب میں ایسی کسی کہانی کا کوئی ذکر تو کیا ہلکا سا اشارہ تک نہیں ملتا۔ اپنی زندگی میں کسی جگہ انہوں نے ایسی بات نہیں کہی۔ تو پھر ان سے منسوب اس کہانی کی حیثیت ایک گھڑی ہوئی اور فرضی روایت سے زیادہ نہیں ہے۔ جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ قائداعظم کی ذات کو بدنام کیا جائے اور ان کی جدوجہد اور قیام پاکستان جیسے عظیم کارنامے کو بے وقعت ثابت کیا جائے۔

دوسری کتاب جسے ایلیکس وان تنزلمان نے حوالہ بنایا ہے وہ نریندر سنگھ ساریلا Narendra Singh Sarila کی کتاب
The Shadow of the Great Game: The Untold Story of India’s Partition
ہے۔ کتاب کے ٹائیٹل, مذکورہ صفحے اور حوالے والے صفحہ کا عکس منسلک ہے۔

اس کتاب کے صفحہ 94 پر نریندر سنگھ ساریلا لکھتے ہیں۔

“If Colonel Ilahi Bukhsh, the doctor who attended on Jinnah during the last phase of his illness in August-September 1948 at Ziarat neat Quetta, is to be believed, he heard his patient say: “I have made it (Pakistan) but I am convinced that I have committed the greatest blunder of my life.” And around the same period, Liaqat Ali Khan, the Prime Minister of Pakistan, upon emerging one day from the sick man’s room after receiving a tongue-lashing was heard to murmur: “The old man has now discovered his mistake.” Was this Jinnah’s final metamorphosis. 28″

“اگر ڈاکٹر کرنل الہی بخش, جو جناح کی بیماری کے آخری دنوں اگست تا ستمبر 1948 میں کویٹہ کے نزدیک زیادت میں ان کی دیکھ بھال پر معمور تھا, کا یقین کیا جائے کہ اس نے اپنے مریض سے سنا کہ “میں نے پاکستان بنایا مگر اب مجھے لگتا ہے کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ” اور اسی زمانے کے آس پاس پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان, جو مرض میں مبتلا شخص سے ملامت سننے کے بعد اس کے کمرے سے باہر آتے ہوئے یہ بڑبڑاتے پائے گئے کہ “بوڑھے کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔” کیا یہ جناح کی آخری قلب ماہیت تھی۔ “

جب ہم حوالہ نمبر 28 کو صفحہ 96 پر دیکھتے ہیں تو لکھا ہے۔

  1. Member of the Parliament Dr. M. Hashim Kidwai’s letter, printed in The Times of India, 27 July 1988, on the basis of the report published in Frontier Post, Peshawar and Muslin India, New Delhi.

یعنی اس حوالے کا دارومدار بھی فرنٹیئر پوسٹ کی کہانی پر ہے جس ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ مگر یہاں مندرج کہانی تھوڑا سا فرق ہے کہ لیاقت علی خان کی زبان سے بھی سناگیا کہ بڈھے کو غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت لیاقت علی خان کی بڑبڑاہٹ سننے والے کون تھے اور انہوں یہ کہانی کب, کس سے بیان کی۔ پھر 48 کی یہ سٹوری 39 سال بعد 87 میں منظر پر کیسے آئی۔

مطالعہ پاکستان کا طعنہ دینے والے جب اس طرح کے کسی پروپیگنڈے کو حقیقت سمجھ لیں۔ اور پھر خود اسی کو پروپیگنڈے کا ذریعہ بنا کر قائداعظم کی ذات کو ہرزہ سرائی اور بہتان ترازی کا ذریعہ بناتے ہوئے یہاں تک جرآت کرلیں کہ پاکستان میں بیٹھ کر بانی پاکستان پر غداری کے مقدمے چلانے کے بھونڈے اور مجنونانہ مطالبے کریں تو پاکستان اور قائداعظم سے محبت کرنے والوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ نہ صرف ان کے جھوٹ اور الزام تراشیوں کا تاریخی حقائق کی روشنی میں پردہ چاک کریں بلکہ انہیں اپنی حد میں رہنے پر مجبور کریں۔

اس طرح کی بے ہودہ اور لایعنی پوسٹوں سے قائداعظم کی ذات اور ان کی عظمت کو تو کم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ چاند کا تھوکا اپنے منہ پر آتا ہے مگر ان کی پاکستان اور قائداعظم سے نفرت اور ان کا بغض سب عیاں ہو رہا ہے۔ کس طرح تحقیق کے نام پر جہالت اور تحقیق کے نام پر لاعلمی پھیلائی جارہی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20