ارطغرل غازی، اسلام کے عہدِ عروج کی داستان —- نعیم الرحمٰن

0

ترکی کا ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘ آج ہر جگہ زیر بحث ہے۔ اس ڈرامے نے ایک سو چالیس ممالک میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ترکی کا یہ ڈرامہ اردو ڈبنگ کے ساتھ پی ٹی وی سے بھی دکھایا جارہا ہے، اور اس نے پاکستان میں بھی دھوم مچادی ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کے بانی خلیفہ عثمان خان غازی کے والد ارطغرل کے بارے میں ہمارے تعلیم یافتہ افراد کو بھی زیادہ معلومات حاصل نہیں اورنہ ہی اس میں دلچسپی رہی ہے۔ لیکن ترک ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘ کے نشر ہونے کے بعد اس کردار کے بارے میں جاننے کی جستجو بڑھ گئی ہے۔ اور لوگ اس کے بارے میں مثبت اور منفی گفتگو کرنے لگے ہیں۔ ٹی ڈرامہ میں کہانی اور ڈرامائی تشکیل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سی افسانوی باتیں بھی شامل کرلی جاتی ہیں۔ جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور تاریخی ناول یا ڈرامہ محض ناول یا ڈرامہ ہی بن جاتاہے۔

ڈرامہ ’’ارطغرل‘‘ کی مقبولیت کے پیش نظراس تاریخی کردار کے حوالے سے پاکستان میں ’’خلافتِ عثمانیہ‘‘ اور اس کے بارے میں دیگر کتب کی اشاعت کاسلسلہ شروع ہوا ہے۔ بک کارنر جہلم جو آرٹ پیپر پر رنگین تصاویر کے ساتھ اعلیٰ اور معیاری کتب شائع کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ انہوں نے رَحمت اللہ ترکمن کی تصنیف کردہ ’’ارطغرل غازی‘‘ اپنے اعلیٰ اور بہترین معیار کے ساتھ شائع کی ہے۔ ارطغرل جو کُفار کی بربریت پر قہر بن کے ٹُوٹا۔ اسلام کے عہدِ عروج کی سچی داستان جو تاریخ بھی ہے اور مستقبل کاخواب بھی! عمدہ ترین آرٹ پیپر پر بہترین طباعت کے ساتھ تین سو ستر صفحات کی کتاب میں چالیس رنگین تصاویر نے اس کی خوبصورتی اور اہمیت دوچند کردی ہے۔ کتاب کی تحقیق،تصنیف و تحشیہ رَحمت اللہ ترکمن نے کی ہے۔ تصاویر، تحقیق و تہذیب سلمان خالد کی ہیں۔

ارطغرل غازی کی پیدائش 1188ء میں ہوئی اور انہوں نے 1281ء میں ترانوے برس کی عمرمیں وفات پائی۔ وہ سوغوت کے مقام پر مدفون ہیں۔ مصنف رحمت اللہ ترکمن کے بارے میں کتاب کے بیک پیج پر درج معلومات کے مطابق۔ ’’رَحمت اللہ ترکمن بیک وقت ترک، افغان اور پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ رحمت اللہ پیدائشی طور پر ترکمان ہیں اور ارساری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں،شجرہ ترکوں کے سب سے اہم جدامجد اوغوزخان تک پہنچتاہے، آپ اوغوز کے پوتے سالور بن تاغ کی آل سے ہیں۔ تاہم آپ کے پردادا آباد بابا 1920ء میں ترکمانستان سے اشتراکی انقلاب کے باعث افغانستان ہجرت کر آئے اور فاریاب صوبے کے اندخوی ضلع میں آباد ہوئے۔ بعد ازاں 1979ء میں سوویت۔ افغان جنگ کے باعث ان کے گھرانے کو ایک مرتبہ پھرہجرت کرنا پڑی اور نوے کی دہائی میں رحمت اللہ کے دادا حق نظر اور والد عبداللہ ترکمن پاکستان منتقل ہوگئے۔ یہیں ہری پور، خیبر پختونخواہ میں رحمت اللہ کی پیدائش ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی و ثانوی تعلیم ہری پورمیں ہی حاصل کی۔ بعد ازاں کابل منتقل ہوگئے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے پولیٹیکل سائنس کا انتخاب کیا۔ 2018ء سے افغان پارلیمنٹ کے واحد ترکمان رکن قومی اسمبلی محمد شاکر کریمی کے سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ رحمت اللہ ترکمن کی مادری زبان ترکمنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فارسی، پشتو، اردو، انگریزی، ازبکی، ترکی، آذری، ہندکو اور پنجابی زبانوں پربھی کمال مہارت رکھتے ہیں۔ تاریخ ِ اسلام، بالخصوص ترک تاریخ پر اُردو، فارسی اور ترکی میں کئی مقالات اور تحقیقی مضامین لکھ چکے ہیں جو وقتاً فوقتاً پاکستان و افغانستان کے رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ رحمت اللہ ترکمن اُردو میں عثمانی سلطنت کے جد امجد پر پہلی کتاب ’’ارطغرل غازی‘‘ کے ساتھ ساتھ ترک تاریخ کی اہم کتاب ’’شجرہ تراکمہ‘‘ کو بھی چغتائی زبان سے اُردو میں ترجمہ کرچکے ہیں، جو جلدہی کتابی شکل میں شائقین کے ہاتھوں میں ہوگی۔‘‘

کتاب میں دی گئی تصاویر میں ارطغرل غازی، ان کے مزارکی پینٹنگ، آخری آرام گاہ، مزار کا مرکزی دروازہ، ارطغرل غازی کی اپنے بیٹے کے نام وصیت جو سوغوت میں ان کے مزار کے باہر نصب ہے، ان کی بیوی حلیمہ سلطان کی قبر اور ان سے منسوب مزار، ان کے بیٹوں کی قبور اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان خان غازی کے علاوہ بھی بے شمار رنگین تصاویر شامل ہیں۔ جنہوں نے کتاب کی خوبصورتی، دلچسپی اور اہمیت میں اضافہ کیاہے۔ کتاب کا انتساب ہے۔ ’’عثمان غازی کے نام، جو ارطغرل کا بیٹا، سلطنتِ عثمانیہ کا بانی، اور عظیم مجاہد تھا۔ جس کے بارے میں علامہ اقبال شعردرج ہے۔ ’عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے۔ شِکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی‘۔ اگرچہ اسلام کا آغاز عربوں سے ہوا، لیکن بعدازاں اس کی حفاظت اور اس کو عظمت کی معراج پر پہنچانے کاشرف ترکوں کے نصیب میں آیا۔‘‘

’’یہ مسائل تاریخ‘‘ کے عنوان سے سلمان خالد نے کتاب کاتعارف کراتے ہوئے لکھاہے۔ ’’اہلِ پاکستان اورترک اقوام کاتعلق کوئی نئی اختراع یاباعثِ اچھنبا بات نہیں ہے۔ ماضی قریب میں اس خطے نے ترکوں سے اپنا تعلق تحریکِ خلافت کی صورت میں نبھایا ہے تو ماضی بعید میں یہ تعلق ترک اقوام کی ان علاقوں میں آمد، آبادکاری اور حکمرانی کی صورت میں قائم رہا ہے۔ ارطغرل غازی کی تفصیلی تاریخ،حالات و واقعات تو آپ کتاب میں پڑھیں گے ہی۔ یہاں کچھ ذکر پسِ پردہ مسائل کا ہوجائے۔ ترکوں کے متعلق اُردو میں جو بھی تھوڑا بہت لکھا گیا، ان میں سے بیشترکے ماخذات انگریزی کتب ہیں یا فارسی۔ بہت کم اردومصنفین ترک زبانوں کے شناسا تھے۔ تاہم آپ کے ہاتھوں میں موجود کتاب اس لحاظ سے اہم اور یکتا ہے کہ فاضل مصنف ترک زبان پرمکمل عبور رکھتے ہیں، جو کہ ان کی مادری زبان ہے۔ ترکمنی کے علاوہ رحمت اللہ ترکمن فارسی، انگریزی سے بھی تسلی بخش واقفیت رکھتے ہیں۔ جب کہ ان کی اُردو زبان پر گرفت کا ثبوت خودیہ کتاب ہے! دوسری خاص بات اس کتاب کی یہ ہے کہ اس میں اہم ناموں، مقامات اور واقعات کو اُردو کے ساتھ ساتھ انگریزی یاجدید ٹرکش میں بھی تحقیق کے ساتھ لکھ دیا گیا ہے۔ اس سے دو مقاصد کا حصول ممکن ہوا، اول یہ کہ پڑھنے والوں کاتلفظ درست رکھنے میں مددملی کیونکہ ترک نام پاکستان میں عام مستعمل نہیں۔ مثال کے طور پر ایک نام ہے گوندوغدو۔ اب یہ گوند۔ وغدوبھی پڑھا جاسکتا ہے اور گوندو۔ غدوبھی۔ جب کے اصل میں یہ نام گوندوغدو ہے۔ تلفظ کی درستی کے ساتھ دوسرا مقصد یہ تھا کہ قاری اگرکسی خاص نام، مقام یا واقعہ پر مزید پڑھنے کامتمنی ہو تو باآسانی تحقیق کرسکے کہ فی زمانہ انٹرنیٹ کی غالب زبان انگریزی حروف میں ہی لکھی جاتی ہے۔ جدید ٹرکش زبان لاطینی حروف میں لکھی جاتی ہے اور ان حروف کی تمام آوازیں اسی طرح ادا ہوتی ہیں جس طرح انگریزی میں ہیں، مگر اس میں چند آوازوں کا فرق ہے۔ سب سے بڑا فرق حرف ’سی‘ میں ہے، جو جدید ٹرکش میں ’جے‘ یا اُردو کے ’ج‘ کی آواز دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ٹرکش کا ایک عام لفظ ہے Cami۔ بظاہریہ انگریزی کے زیرِ اثرکامی پڑھا جائے گا جبکہ اصل میں یہ لفظ ’جامی‘ ہے اور جامع مسجد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک اورمسئلہ ہم آواز حروف کے انگریزی، ٹرکش اسپیلنگ کے متعلق درپیش رہا۔ ایسے مسائل میں اُردو الفاظ لکھنے کے لیے عثمانی ترکی کو معیار بنایا گیا ہے۔ اسی بنا پر ارطغرل کی والدہ کو خیمہ آنا لکھا گیا ہے جو کہ قبولِ عام نام حائمہ آنا سے مختلف ہے۔ ‘‘

رحمت اللہ ترکمن نے پیش لفظ میں لکھاہے۔ ’’ترک قوم تاریخِ عالم میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔ ترک قبائل،جن کانسب حضرت نوح ؑ کے بیٹے یافث سے جاملتاہے،قدیم اقوام کی فہرست میں شامل ہیں۔ اسلام سے قبل کے ادوارمیں ترکوں نے وسط ایشیاسے نکل کردُنیاکے اکثر حصوں میں عظیم ریاستیں تشکیل دیں۔ جب ترکوں میں لطفِ خداوندی سے ایمان کا نُور داخل ہوا تو ان میں جسمانی قوت کے ساتھ روحانی و ایمانی طاقت کابھی اضافہ ہوا،جس کے بعد بہت کم عرصے میں انہوں نے خود کو شہرت وعظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور سینکڑوں علما،شعرا، سلاطین اور فاتحین کو جنم دیا۔ ترکوں کی ان عظیم شخصیات میں ایک نام ارطغرل غازی کاسامنے آتاہے جس نے چارسوخیموں کے ساتھ اناطو لیہ کی طرف سفر کرکے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور بہت کم عرصے میں ہزاروں کی تعداد میں غازیانِ اسلام کا لشکر جمع کرکے تاتاریوں اور بازنطینیوں کے خلاف قابل قدرخدمات انجام دیں۔ اگرچہ ارطغرل غازی کانام عثمانی سلاطین اورخلفا میں نہیں آتا، لیکن ارطغرل کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی اولادسے سینتیس سلاطین پیداہوئے اور1299ء سے 1922ء تک تین براعظموں اور سات سمندروں پرحاکم رہے۔ ارطغرل غازی کی اولاد کا برصغیر سے بھی عرصہ دراز تک تعلق رہاہے۔ ارطغرل کی ساتویں نسل سے عثمانی سلطان محمدفاتح کے بھائی شہزادہ یوسف نے جنوبی ہندوستان کے علاقے بیجاپورمیں عادل شاہی ریاست کی بنیاد رکھی،جو دو سو سال تک قائم رہی۔ ظہیرالدین بابر نے جب ہندوستان پریورش کی توعثمانی خلیفہ و سلطان سلیم اول نے کئی مشہورسپہ سالاروں کو توپ اورلشکرکے ساتھ مدد کے لیے روانہ کیا۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ترکی سیریل ’’ارطغرل ‘‘ کے سبب جہاں دُنیا بھر میں ایک فکری انقلاب دیکھنے میں آیا،وہیں پاکستان میں بھی تاریخ کے اس گمنام ہیرو کا نام دوبارہ زندہ ہوا اور ہر خاص وعام میں اس کی حیات اورکارناموں کے متعلق پڑھنے اورجاننے کا شوق پیدا ہونے لگا۔ لیکن اس ڈرامے سے کئی غلط معلومات بھی دیکھنے والوں میں مشہور ہوگئیں اور بڑی تعداد نے ڈرامے کو مکمل طور پرہی حقیقت تصور کرلیا ہے۔ حالانکہ ارطغرل غازی کی حقیقی زندگی اور کتبِ تواریخ میں مذکورحالات بہت الگ ہیں۔ اس کے متعلق ایک باب میں تفصیلی طور پر وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک طبقہ ارطغرل کے خلاف کینہ و بغض میں اس قدرآگے بڑھ گیا ہے کہ اس کی شخصیت و تاریخ پر اعتراض کرکے اوراس کی مسلمانی کے متعلق شکوک و شبہات پیداکرکے سوال اٹھانے لگاہے۔ ان اعتراضات کاجواب بھی کتاب میں لکھ دیا گیا ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے متعلق اُردو زبان میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ ارطغرل غازی پر تو کوئی بھی اُردو مورخ پانچ دس صفحات سے زیادہ نہ لکھ سکا۔ لہٰذا اب اس شخصیت پرعلمی اور تحقیقی کتاب کی اشد ضرورت محسوس ہونے لگی۔ اسی کمی کومدنظررکھتے ہوئے اس کتاب کو سامنے لانے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ کتاب کی تصنیف میں زیادہ تر تُرکی وفارسی اور بعض مقامات پرانگریزی و اُردو ماخذات سے مدد لی گئی ہے تاکہ ایک مستندتاریخ مرتب کی جاسکے۔ مجھے یہ دعویٰ کرنے میں کوئی عارنہیں کہ ارطغرل غازی پر یہ اُردوزبان میں شائع ہونے والی پہلی جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ارطغرل غازی کی زندگی پرجامع کتاب ترتیب دینے کے دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ اس کے متعلق مستند اور غیر مستند مواد کو یکجا کرکے، واقعات میں مبالغہ آرائی سے کام لے کر کتاب لکھی جاتی، جو پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کاباعث تو ہوجاتی لیکن کتاب تاریخ سے زیادہ فرضی داستان اور فکشن کی شکل اختیار کرلیتی۔ دوسرا راستہ یہ تھاکہ معتبرکتب و روایات کی روشنی میں ارطغرل کی حقیقی زندگی، خاندانی پس منظر اوراس زمانے میں ارطغرل سے وابستہ اہم شخصیات اور واقعات کو اساس بنا کر تاریخ بیان کی جائے۔ جس سے ارطغرل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم ہوسکے۔ ہم نے اس کتاب میں دوسرا راستہ اختیار کرنا مناسب سمجھا۔‘‘

کتاب کی ابتدامیں قدیم ترکی کی ضرب المثل ’’بات اُڑجاتی ہے، تحریر باقی رہتی ہے‘‘ دل پراثرکرتی ہے۔ ’’ارطغرل غازی‘‘ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اول ’ترکوں کی سیاسی و معاشرتی تاریخ،قبل ازاسلام و بعد از اسلام ‘‘ ہے۔ جس میں اسلام سے قبل اوربعدمیں ترک تاریخ کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔

پہلے حصے کے عنوانات سے ہی ان کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ جیسے ’’تُرکوں کی ابتدا اور لفظ تُرک کی وجہ تسمیہ‘‘ میں ترک قوم کے بارے میں ابتدائی معلومات دی گئی ہیں۔ جس کے بعدان کی جدامجد ’’اوغوز خان‘‘ ان کی نسل اور بَوزَوق لر اور اُوچَوق لر میں تقسیم کی تفصیل موجود ہے۔ ایک عنوان ’’قبل ازاسلام اہم ترک ریاستیں‘‘ ہے۔ جس میں اسلام سے پہلے ترک ریاستوں کے بارے میں قابل قدر معلوما ت درج ہیں۔ پھران کی الگ الگ تفصیل ’’ہن ریاست‘‘، ’’آق ہن، ہفتالی‘‘ اور ’’گوک ترک‘‘ میں دی گئی ہے۔ ’’اور خَون کتبوں کی اہمیت‘‘، ’’گوک ترکوں میں کیلنڈر کا نظام‘‘، ’’اسلام سے قبل ترکوں کے عقائد اور اجتماعی زندگی‘‘ اور ’’ترکوں کا قبولِ اسلام‘‘ بھی چند معلومات افزا عنوانات ہیں۔ ’’محمدرسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قبولِ اسلام‘‘ میں حضورپاک کے دور میں ترکوں کے اسلام میں داخل ہونے کا تفصیلات ہیں۔ ’’ترکوں کے متعلق احادیث‘‘ بہت اہم عنوان ہے۔ جس میں ترکوں کے بارے میں احادیث مبارکہ کے حوالے ہیں۔ اس کے بعد ’’خلافتِ راشدہ میں قبولِ اسلام‘‘، ’’اُموی خلافت میں قبولِ اسلام‘‘ اور ’’عباسی خلافت میں قبولِ اسلام‘‘ کے عنوان سے اہم معلومات ہیں۔ ’’ترکوں کی پہلی اسلامی ریاست‘‘ کے مطابق ترکوں ابتدائی طور پرآق ہنوں نے اسلام قبول کیا۔ ابتدائی دور میں اشاعت اسلام کا سلسلہ سست روی کاشکار رہا۔ ترک رعایا میں تو اسلام کی کرنیں آچکی تھیں لیکن اب تک حکمران خاندان اپنے قدیم عقائد و مذاہب پر قائم تھے۔ 920ء میں ایتیل بلغارکی ریاست کاحکمران آلمیش خان پہلا شخص تھا جس نے اپنی ریاست کامذہب اسلام قرار دیا اور عباسی خلیفہ المقتدر کو اس ریاست میں مسلمان علما بھیجنے اور مساجد اور قلعوں کی تعمیرکے لیے ماہرین اورمالی امداد روانہ کرنے کی درخواست کی۔ قراخانی حکمران ساتُوق بُغراخان نے اپنانام عبدالکریم رکھا۔ اس کی حکومت کاپایہء تخت کاشغرتھا اورحکومت کی حدود چین اورترکستان میں پھیلی ہوئی تھیں۔

دسویں صدی عیسوی کے اوائل میں اوغوزترکوں میں اسلام تیزی سے فروغ پانے لگاتھا۔ ابن کثیراورتاریخ مختارکے مطابق لفظ ترک ایمان سے نکلاہے،جو رفتہ رفتہ ترکمان اوربالآخرترکمن بنا۔ مسلمان ترکوں کے لیے بہت عرصے تک ترکمن کالفظ استعمال کرتے رہے۔ سلجوقیوں کوبھی ترکمن لکھاگیاہے۔ البیرونی کی تصانیف میں مسلمان اوغوزقبائل کیلیے ترکمن کااطلاق کیاگیا۔

غزنوی سلطنت،سلجوقی حکومت،آلپ ارسلان،ترکوں کی عالمگیرسوچ اورترکوں میں عسکری اورحکومتی القاب بھی کافی دلچسپ اورمعلومات افزاہیں۔

کتاب کے دوسرے حصے کاعنوان ’’ارطغرل غازی‘‘ہے،اوراس میںاسلام کے اس غیرمعروف ہیروکی شخصیت وکارنامے،قائی قبیلے کی سربراہی،خاندان اورسپہ سالار، اولاد،روحانی شخصیات،ابتدائی عثمانی تواریخ میں ارطغرل غازی کاتذکرہ اورسلطنتِ عثمانیہ کے قیام کے بارے میں مستندتفصیلات دی گئی ہیں۔

اس حصے میں عثمانی خلافت کاشجرہ،ارطغرل کی پیدائش اورشخصیت،قائی قبیلے کاابتدائی مسکن اورمستشرقین کی اسلام دشمنی اورسازشین چنداہم عنوانات ہیں۔ ارطغرل کی جدوجہد،ان کی بیوی حلیمہ سلطان کاان کی کامیابیوں میں حصہ،والدہ خیمہ آناکی ہمت افزائی،ارطغرل غازی کی قائی قبیلے کی سربراہی،سلطان علاؤالدین کیقبادسے مکالمہ،قراجہ حصارکی فتح بھی اس حصے اہم عنوانات ہیں۔

ارطغرل غازی کی وفات اورمقبرہ،ان کے بیٹوں صاؤجی بیگ،گوندوآلپ اورسلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کے علاوہ ارطغرل کے جا نثارسپہ سالار اورغازیانِ سلطنت عثمانیہ میں تورغوت آلپ،،اورخان غازی،گیکلی بابا،سامساچاووش، عبدالرحمٰن غازی،سالتوق آلپ،آیقوت آلپ، آقچہ قوجہ، قونورآلپ،حسن آلپ، قراعلی اورکوسہ میحال کے بارے میں بھی کافی تفصیلات دی گئی ہیں۔ ارطغرل کی روحانی شخصیات محی الدین ابن العربی،مولانا جلال الدین رومی، حاجی بکتاش وکی اورشیخ ادیبالی کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔ جبکہ ابتدائی تواریخ میں ارطغرل غازی کاتذکرہ بھی کتاب کاحصہ ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے قیام اوراس دورکی دیگرریاستوں کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔ غرض مجموعی طور پراسلامی تاریخ کی اس اہم اورگمنام شخصیت پر’’ارطغرل غازی‘‘ ایک قابل ِ قدرتصنیف ہے۔ جس میں ان کے بارے میں تمام ضروری معلومات مل سکتی ہیں۔ کتاب کی تحریر پررحمت اللہ ترکمن اوربہترین اشاعت پرامرشاہد اورگگن شاہد کوبھرپورمبارکباد۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20