تنہائی میں اپنے ساتھ گزارے غنیمت لمحے: اسد علی

0

زندگی کے ہنگام میں خود زندگی ہی کھو جاتی ہے,
کبھی تنہائی میسر ہو تو اپنے ساتھ گزارے لمحے غنیمت ہیں۔۔
دن بھر کی مصروفیات انجان منزلوں کا سفر۔۔۔ سماجی زندگی کی ذمہ داریاں ۔۔۔ معاشی بندھن۔۔ سب کچھ بظاہر بہترین ہو تب بھی ایک خلش اور ایک کمی رہتی ہے۔۔۔
ایک خیال , ایک سوال۔۔۔ دائمی کیا ہے؟
میں اس نظامِ حیات میں ایک چھوٹا سا پرزہ ہوں جو عنقریب بدل دیا جاؤں گا, میں کیا میرے سب محبوب رشتے اور وہ سارے ناطے جو مجھ سے جڑے ہیں ان کی جگہ ایک ایک کر کے متبادل آتا جائے گا۔۔۔ اور آسمان کے نیچے زمیں کی سطح پر کسی طرح کا توازن نہیں بگڑے گا۔۔۔ ایک نئی ٹیم آ جائے گی ۔۔۔
مطلب خارجی ماحول کے لئے میری اہمیت صفر ھے۔۔
اور باقی سب جو مجھے فی الوقت اہم ترین لگ رہا ہے, زمان و مکاں کے چارٹ میں دو ٹکے کی وقعت نہیں رکھتا۔۔۔ یہ سب سطحی اور لوکل قسم کی ترجیحات ہیں۔۔
البتہ دل کے نہاں خانے میں جہاں کل کائنات بستی ہے۔۔ ادھر لطافت باقی ہے تو سمجھیں زندگی باقی ہے۔۔
حضور نے ایک نوجوان کو نصیحت فرمائی تھی کہ اے میرے بیٹے اگر تجھ سے ہو سکے تو صبح اور شام اس حال میں کر کہ تیرے دل میں کسی کے لیے کھوٹ نہ ہو, اور اے بیٹے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت رکھے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔
ایسا ہی معاملہ نیتوں کا ہے کہ اعمال کے تاج محل بدنیتی کے آسیب سے گہنا جاتے ہیں۔۔
پھر یہ بھی فرمایا کہ
جس چیز میں نرمی داخل ہوتی ہے وہ خوبصورت ہو جاتی ہے۔۔
بات طویل ہو جائے گی, گزارش یہ تھی کہ دل کی دنیا سے زندگی وابستہ ھے۔۔
اور دل کی دنیا آباد کرنا اور آباد رکھنا۔۔۔ یہ سب سے بڑی ذمہ داری اور جانگسل کام ھے, مگر اسکے بغیر دائمی فنا ھے۔۔۔ کوئی حل نہیں ھے۔۔۔
بقا کی جدوجہد انسان کا پہلا رومانس ہے اور شاید ہمیشہ رہے۔۔۔ اور بقا دل کے باقی رہنے سے ھے۔۔۔۔
عقل و دل کا خوبصورت مکالمہ حضرت اقبال نے لکھا جس میں دل عقل سے مخاطب ہے کہ

ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں میں
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو ، خدا نما ہوں میں
ویسے تو وہ پورا پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے مگر یہ آخری بات ملاحظہ کریے۔۔

تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائر سدرہ آشنا ہوں میں
کس بلندی پہ ہے مقام مرا
عرش رب جلیل کا ہوں میں!
____ دل کا مقام جانیے اور اسے آباد رکھیے۔۔۔ کہ باقی وہی متاع رہے گی جو دل میں گھر کیے ہوئے ھے۔۔ ابدی و سرمدی لطف اسی آبادی میں ھے۔۔مگر المیہ یہ کہ
ہم خود کو بھی میسر نہیں ہیں اور ایسے مصروف کہ زندگی کے ہنگام میں خود زندگی ہی کھو جاتی ہے,
کبھی تنہائی میسر ہو تو اپنے ساتھ گزارے لمحے غنیمت ہیں۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: