ریاست کے جدید مالی طریقہ ہائے کار اور تفہیمِ نصوص: ٹیکس و زکوۃ کی بحث — طیب عثمانی

0

نصوص اسلامیہ میں دو طرح کا مواد موجود ہے:
1. واضح تفصیلی احکام جیسا بنیادی عقائد کا ڈھانچہ
2. تفصیل طلب احکامات

پہلی طرح کے احکام کا مسئلہ ہی نہیں رہا تھا (لیکن اب کاسمولوجیکل چینج خیر اس کے اصول نہیں بلکہ جزئیات میں تبدیلی کا متقاضی ہے. اس پر شاید لکھا بھی اور مزید پھر کبھی سہی) دوسرے طرح کے احکام پھر دو طرح کے ہیں؛

1. قرآن کریم نے مختلف مقام پر ان موضوعات پر بات کی. اور مزید کے بارے میں اشارہ دیا کہ من جملہ ایسے احکام کی تفصیل کرنے کو کہا گیا؛
سورہ النحل آیت نمبر 44
بِالۡبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ ؕ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۴﴾
ترجمہ:
ان پیغمبروں کو روشن دلائل اور آسمانی کتابیں دے کر بھیجا گیا تھا۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کر دو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غوروفکر سے کام لیں۔

دوسری جانب ایسی باتوں کی تفصیلات دینے کا بھی حکم ہوا تاکہ اختلافی صورت میں پراسس کا طریقہ سمجھا دیا گیا کہ کیسے نصوص کی ضمنی تفصیلات کی تعیین ممکن ہو گی:
سورہ النحل آیت نمبر 64
وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶۴﴾
ترجمہ:
اور ہم نے تم پر یہ کتاب اسی لیے اتاری ہے تاکہ تم ان کے سامنے وہ باتیں کھول کھول کر بیان کردو جن میں انہوں نے مختلف راستے اپنائے ہوئے ہیں، اور تاکہ یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہو۔

مزید جب تفصیلات نبوی موجود نہ ہوں اور یقینا نہ ہونے کی تصدیق حدیث معاذ سے ہوتی ہے تو علاقائی اجتہاد (ضروری مسائل کے حل کا مقامی تناظر میں حل) کے ذریعے سے پراسیسنگ کی جائے گی، حدیث ہے:
سنن الترمذي
1327 عن رجال من أصحاب معاذ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذا إلى اليمن، فقال : “كيف تقضي؟” فقال: أقضي بما في كتاب الله. قال: “فإن لم يكن في كتاب الله؟” قال: فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: “فإن لم يكن في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟” قال: أجتهد رأيي. قال: “الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم”.

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو (قاضی بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر (اس کا حکم) اللہ کی کتاب (قرآن) میں موجود نہ ہو تو؟“ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی (اس کا حکم) موجود نہ ہو تو؟“، معاذ نے کہا: (تب) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو (صواب کی) توفیق بخشی“۔

بدلتی و ارتقائی صورتیں بھی وہی ہیں جو سنت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانی یا علاقائی دونوں تناظر میں نہ ہونے کو کہتے ہیں سو آج کے زمان و مکان کی تبدیلی اور ریاست کے مالی معاملات بھی ہونگے… لہذا اس صورت میں مالیات سے متعلقہ سوالات ہونگے:

1. زکوۃ سمیت دیگر مالیاتی احکام و صور کیا اصل کیا ہے؟
2. یہ مالیاتی ذمہ داریاں صورتیں مقصود ہیں یا علاقائی و سماجی ضرورتوں کا پورا کرنا ہے؟
3. اگر صورتیں عین ہی تھی تو جناب عمر رضی اللہ عنہ نے مالیات کے ڈھانچے میں تبدیلی بالخصوص تالیف والی صورت کے نسخ اور امراء سے زکوۃ کی فیصدی شرح میں اضافہ کیوں کیا؟
4. ریاست جناب عمر رضی اللہ عنہ وما بعد اہل کی تفہیمِ مالیات کو بنیاد بنا کر ریاست مالیاتی ناموں میں تبدیلی کر سکتی ہے جیسا کہ تامرگ خلیفہ کی جگہ پانچ سالہ وزیر اعظم یا صدر کی اصلاح متبادل ہو گئی ہے؟
5. مالیاتی ذمہ داریوں میں اضافہ یعنی زکوۃ 2.5 فیصد سے بڑھ کر زکوۃ کے نام پر یا نئے نام سے ریاست وصول کر سکتی ہے؟
6. مالیاتی ذمہ داریوں میں جدید نظم اصطلاحاتی اور ڈھانچے کی تبدیلی میں نصوصی ڈھانچے میں تبدیلی کر سکتا ہے؟
ہمیں معاصر مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا…

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20