چینی سکینڈل کے تناظر میں معاشی اصلاحات کی ضرورت —- محمد ندیم سرور

0

پچھلے مالی سال، تقریبا ایک دہائی کے بعد، پاکستانی عوام کو یکے بعد دیگرے چینی اور گندم کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے منتخب شوگر ملوں کے فرانزک آڈٹ کے بعد انکوائری کمیشن اور فرانزک آڈٹ دونوں کی رپورٹوں کو عوام کے سامنے پیش کیا، جو کہ بلاشبہ ملکی منظرنامے میں ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ چینی پیدا کرنے والوں کی طرف سے دائر درخواستوں کو رد کرتے ہوئے، عدالت عالیہ نے حکومت کو اس بحران کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ سماجی، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ان تحقیقاتی رپورٹس پر بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔ تاہم، ایسے بحران اور اسکے حل کی معاشیات پر بہت کم بات کی گئی ہے۔

پاکستان میں چینی کی پوری سپلائی چین باقاعدہ حکومتی نظم و نسق کے زیر اثر ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وفاقی یا صوبائی دارالحکومتوں میں بیٹھے بیوروکریٹس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف علاقوں میں زمین کی زرخیزی، کاشت کی صورتحال، فصلوں کی پیداوار اور منافع کے امکان کے بارے میں ان کسانوں سے زیادہ سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں جو خود نسلوں سے فصلوں کی کاشت کر رہے ہیں۔ اسی لیے ہمارے ہاں بیوروکریٹس نے کپاس کی کاشت والے اور گنے کی کاشت والے علاقوں کی تقسیم بنا رکھی ہے۔ اگرچہ کپاس کی پیداوار کے لیے مخصوص علاقوں میں بھی کسان گنا اگا سکتے ہیں تاہم ان علاقوں میں شوگر ملیں لگانے پر قانونی پابندیاں عائد ہیں۔ اس لیے جو کسان ان علاقوں میں گنا کاشت کرتے ہیں انہیں نقل و حمل کی اضافی لاگت جھیلنا پڑتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ یوں اس تقسیم سے کسانوں کے لیے فصلوں کی کاشت کے انتخاب کو محدود کردیا گیا ہے۔

اسی طرح، ایک سرمایہ کار جو شوگر مل لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، اسے فیکٹری لگانے سے پہلے ضروری قواعد و ضوابط کی ایک لمبی فہرست پر عمل کرنا، متعدد اجازتیں اور لائسنس لینے کے مراحل سے گزرنے کے ساتھ ساتھ، مختلف طرح کی دستاویزات کے پلندے جمع کروانے پڑتے ہیں۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کے بعد بھی، مالک کو گاہے بگاہے مختلف محکموں کو تقریبا ایک ہی طرح کی معلومات، ریکارڈ اور دستاویزات پیش کرنا پڑتی ہیں جہاں زیادہ تر یہ مختلف الماریوں کی زینت بنتی ہے اور شاید ہی کبھی ان کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جاتا ہو۔ بظاہر ان اقدامات کا مقصد چینی کی صنعت کو کنٹرول (Regulate) کرکے گنا اگانے والے کسان اور چینی کے صارفین کو مل مالکان کی ملی بھگت سے تحفظ فراہم کرنا ہے تاہم، چینی کے ملوں کے مالکان کی فہرست کو دیکھیں تو ہمارا سامنے ایک بالکل ہی مختلف حقیقت سے ہوتا ہے کہ یہ سب سیاسی اشرافیہ کے بڑوں کے مفاد کو تحفظ فراہم کرنے کا آلہ کار ہے اور بدقسمتی سے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی صفِ اول کی قیادت اس کاروبار میں شریک ہے۔ اسی طرح حکومت کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے مقصد سے گنے کی کم سے کم قیمت بھی طے کرتی ہے۔ تاہم، یہ حقیقتاً کسانوں کے مفاد کا تحفظ ہے یا محض ایک سیاسی چال (Political Stunt)۔ ۔ ۔ ۔ حقائق تحقیق طلب ہیں۔

گنے اور خود چینی کے اہم ان پٹس، جیسے مختلف طرح کے ذرائع توانائی، کھاد، وغیرہ کی قیمتیں حکومت کے زیرِ اثر ہیں۔ اسی طرح درآمدی اور برآمدی فیصلے بھی حکومت باقاعدہ کنٹرول کرتی ہے۔ حقیقت میں ان سارے انتظامات کے ذریعے، پالیسی سازوں نے مارکیٹ کو مضبوطی سے باندھ رکھا ہے اور اسے قیمتوں کے تعین میں اپنا اہم ترین کردار ادا کرنے کی کبھی اجازت نہیں دی۔ یوں تمام فیصلے مقابلہ بازی اور مارکیٹ کی صورتحال کی بجائے حکومتی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ یہ تمام فیصلے نہ صرف قیمتوں بلکہ زمین، سرمائے اور دیگر وسائل کی مختلف پیداوری عوامل میں بہترتقسیم پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بہتر معاشی نمو کے لیے پیداوری وسائل کی بہتر تقسیم (Efficient Allocation of Resources) کا کردار کلیدی ہے اور یہ تب ممکن ہوسکتی ہے جب تمام فیصلے معاشی نظام بنا کسی کے مفاد کو پیشِ نظر رکھے، مارکیٹ خودکار طریقے سے سرانجام دے۔

مزید یہ کہ مارکیٹ پر مبنی قیمتیں سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے اور معمول سے زیادہ منافع کمانے کی خاطر کم لاگت میں اشیاء تیار کرنے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس کے برعکس کنٹرولڈ اور ریگولیٹڈ مارکیٹیں طاقتور لوگوں کی حمایت سے کارٹلوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور بدعنوانی کے جملہ طریقوں کو فروغ ملتا ہے۔ ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب ملک کا سیاسی، عدالتی، انتظامی اور عسکری ادارے طاقتور لوگوں کے زیرِ اثر ہوں جیسا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں ہے۔ اس سارے نظام سے معیشت میں پیدا ہونے والے بگاڑ اور اداروں کی نا اہلی کی قیمت بالآخرغریب صارفین ہی لاعلمی میں برداشت کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ریاستی ادارے جیسے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، جو مارکیٹ کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے اور شہریوں کو کمپنیوں کی کارٹیلائزیشن سے بچانے کے ذمہ دار ہیں، نہ صرف بری طرح سیاسی مداخلت کا شکار ہیں بلکہ ان اداروں اور انکے ملازمین کی اہلیت پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں۔ مزید براں یہ کہ ایسے اداروں کے سربراہوں کی تقرری کی ذمہ داری بھی حکومت کے کاندھوں پر ہے اور بدقسمتی سے، گذشتہ کئی دہائیوں سے، ہر حکومت اور ہر بڑی سیاسی پارٹی میں اہم عہدوں پر شوگر انڈسٹری کے بڑے بڑے عہدے دار براجمان ہیں۔ لہذا وہ ایسے اداروں میں افسروں کی تقرری کرتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ ان اداروں کا بجٹ، خودمختاری اور اختیارات بھی محدود ہیں۔ اس لیے وہ مفاد پرست عناصر کے خلاف بروقت جارحانہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔

ان بحرانوں کا قلیل مدتی حل غلط کاموں میں ملوث افراد کو سزا دینے، اداروں کو مضبوط بنانے، ان کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو بڑھانے اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے دینے میں مضمر ہے۔ تاہم، مستقل اور ٹھوس حل کے لیے یہ اقدامات کافی ثابت نہیں ہوں گے۔ اس مسئلے کا پائیدار حل مارکیٹ کوغیر ضروری کنٹرول سے آزاد کرنے، صنعتوں کے قیام پر لائسنس، اجازت ناموں اور دیگر ناموں سے رکارٹوں کو ختم کرنے اور مالیاتی شعبے کو ترقی دینے میں مضمر ہے، تاکہ عام لوگوں کے لیے کاروباری فنڈز کا حصول اور ملیں لگانا آسان ہو۔ وہ جہاں مناسب سمجھیں، جس شے کی فیکٹری لگانا چاہیں اور وہ چیز جتنی مقدار میں پیدا کرنا چاہیں، کریں اور اپنے ان تمام فیصلوں کے فوائد و نقصانات بھی خود برداشت کریں۔ الغرض، لوگوں یعنی کسانوں اور سرمایہ کاروں کو اپنے بہترین مفادات میں فیصلے کرنے دیں تاکہ وہ اپنے اچھے فیصلوں کے ثمرات سے لطف اندوز ہوں یا ناقص انتخاب کی قیمت خود ادا کریں۔

اسی طرح، ہمیں معیشت کو تجارت کے لیے کھولنا چاہیئے اور تاجروں کو بغیر کسی پابندی کے سامان درآمد اور برآمد کرنے دینا چاہئے۔ اس سے مارکیٹ میں خود بخود توازن پیدا ہوجائے گا اور قیمتوں میں بہتری کے بہت کم امکانات کے ساتھ استحکام آجائے گا۔ معاشی امور میں ریاست کے کردار کو محدود رکھنے سے وسائل کا ایک خاص حصہ بچ جائے گا، جسے زرعی تحقیق خصوصا زراعتزیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کرنے، کاشتکاروں کو کاشت کے طریقوں کے بارے میں تعلیم دینے اور زرعی خام مال یعنی کھاد، بیج اور کیڑے مار ادویات کے معیار کو چیک کرنے کی جدید لیبارٹریاں بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مارکیٹ قوتوں کے ساتھ، جدید سائنسی تحقیق میں اس طرح کے اخراجات زراعت اوراشیاء کی پیداوار(مینوفیکچرنگ) کے شعبوں کی پیداوری کو بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

جی ہاں! دنیا میں کم پیداواری لاگت کے پیش نظر، معیشت کو کھولنے سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم، اس کا حل انہیں سبسڈیوں یا تجارتی پابندیوں کی صورت میں تحفظ فراہم کرنے میں نہیں بلکہ توانائی کے شعبے اور ٹیکس کے نظام میں انہی بنیادوں پر اصلاحات کا آغاز کرنے میں ہے۔ ایک بار جب یہ کام ہوجائے تو، یہ مکمل طور پر فرموں پر منحصر ہوگا کہ وہ مقامی اور عالمی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں، ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگائیں، اپنے ملازمین کی بہتر ٹریننگ کریں، اپنی پیداوری کو بڑھا دیں اور ترقی کریں گی۔ جو فرمز ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی، مارکیٹ انہیں خود بخود باہر نکال دے گی۔ لہذا، مارکیٹ کو کام کرنے دیں، اسے آزادانہ طور پر کام کرنے دیں، یہ خود ذخیرہ اندوزوں اور مافیا کے ساتھ بہت بہترین انداز میں نمٹ لے گی۔

مصنف آئی بی اے کراچی میں معاشیات میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

اس مضمون کا (انگلش) لنک۔
https://tribune.com.pk/story/2253484/sugar-probe-and-need-for-reforms

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20