ادب کا فدوی : اعجاز رضوی —– محمد سلیم طاہر

0

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ اعجاز رضوی کب میرے حلقہ احباب میں شامل ہوا__
کیسے میرے قریب ہوا اور کیسے عنقریب _  میں چل رہا ہوتا تھا، تو مجھے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں کہیں نہ کہیں اس کی موجودگی کا احساس ہو جاتا تھا_ میں اپنی ذات کے خول میں سمٹ کر رہنے والا کیڑا تھا_ جیومیٹری کی کسی تشکیلاتی الجھن کی طرح خود پر بھی آشکار نہیں ہوتا تھا، مگر میں اعجاز رضوی پر کیسے کھل گیا!

میں نے سُن رکھا تھا اور پڑھ بھی رکھا تھا کہ خاموشی دانائی کا مظہر ہوتی ہے_ مکالمہ اگر چاندی ہے_ تو خاموشی سونا ہے_ یہ مجھے سنیارا سمجھ کر میرے پاس آیا ہو گا کہ اس کے اندر کے سونے کو میں پہچان لوں گا_ مگر اسے کیا خبر کہ میں نے سنیاروں کا کام صرف اسی لئے نہیں کیا کہ سنیارا__ جب کبھی اپنے گھر والوں کا زیور بھی بناتا ہے تو اس میں کھوٹ ڈال دیتا ہے_ بہت سوں نے مجھے کھوٹا سکّہ سمجھا ہو گا کیونکہ مجھے اپنے Talent کو Exploit کرنے کا ہنر خود آج تک نہیں آیا اور نہ ہی مجھے کسی نے آج تک یہ احساس دلایا کہ تم وہ ہرن ہو جو اپنے بطن میں مشک چھپائے ہوئے بے خبری میں قلانچیں بھرتا پھرتا ہے_ ساری عمر لوگوں نے مجھے سنبھلنے ہی نہیں دیا بلکہ جو جگہ میرے لیے بنتی تھی وہاں بھی کھڑے نہیں ہونے دیا۔ روٹی کھلنے کے انتظار میں ہی رکھا اور کہتے رہے ’’حالے بیبیاں نے نئیں کھادا‘‘__ ’’سائڈ تے ہو جائو‘‘_ کِنّی واری پچھیا وی، اچھا دس تے دیو پکیا کیہ اے _ جوجواب آیا میں یہاں لکھ نہیں سکتا۔ میری اُس وقت بھوک اُڑ گئی تھی اُس جواب کو سُن کر _آپ کی بھوک تو کیا شاید نیند بھی اُڑ جائے۔

حضرت علیؓ کا فرمان ہے: ’’بولو کہ پہچان لیے جائو‘‘ یہ بھی سنا ہے کہ زیادہ باتیں کرنے والا عقل مند نہیں ہوتا_ نصیحتیں سن سن کر عام فہم بندہ کنفیوز ہو جاتا ہے کہ میں بولوں گا نہیں تو شاید مدعا دوسرے تک نہ پہنچے_ چپ رہوں گا تو شاید بہت سی باتوں سے محروم کر دیا جائوں_ کچھ لوگ ایک اور فارمولے پر بھی عمل کرتے ہیں کہ بولنے اور گنگنانے کی جگہیں تبدیل کر دیتے ہیں جب چپ رہنا ہو تو بولتے ہیں اور جب رودادِ ہجر سنانی ہو تو گنگناتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں_ عقل کے اندھوں کو اندھیرے میں تو کیا سفید دن میں بھی بہت دور کی سوجھتی ہے اور اس افراتفری میں بہت سی نزدیک کی چیزوں کو بھی وہ خود سے اتنا دور کر لیتے ہیں کہ اُن کی پہچان دھندلا جاتی ہے۔

اعجاز رضوی_ ہے تو بہت سیدھا سادا مگر سامنے والا ڈرتے ڈرتے اس پر ہاتھ ڈالتا ہے_ اس کے ماتھے پر جلی حروف میں لکھا ہے_ Highly Inflammable لکھا ہوا پڑھا بھی جاسکتا ہے آسانی سے _ اعجاز رضوی مسکراتا کم ہے اور اس کی اس پریکٹس سے اس کے چہرے کے نقوش بگڑتے، پھیلتے اور سکڑتے کم ہیں _ اسی لیے Highly Inflammable حرف بہ حرف اس کے چہرے پر آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے _ اس کے بعد ساری ذمہ داری سواری پر آ جاتی ہے کہ سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے _ اس کی خاموشی کو کچھ لوگ Over Confident ہوکر اس کی کمزوری سمجھنے لگتے ہیں اور اپنی بہادری کے زعم میں اس کے بالکل سامنے کچھ الٹا سیدھا بک دیتے ہیں__ وہ پھر بھگتتے بھی ہیں اور مستقبل قریب میں اُس کے قریب تو کیا قرب و جوار میں بھی قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے تمام بدتمیزوں کو بھی علاج سے زیادہ پرہیز تجویز کرتے ہیں _ ذرا سی بداحتیاطی پر ایک منہ پھٹ کے ایک گال پر ہفتوں پانچ انگلیوں کے واضح نشانات دیکھے جاسکتے تھے اعجاز رضوی کے اُس تھپڑ کی گونج تو اب تک ایوانِ ادب کی غلام گردشوں میں بھٹکتی سنائی دیتی ہے۔

ایک اور احتیاط اعجاز رضوی کی پُشت پر بھی درج ہیں:
ُFragile _ Handle with Care اس کا اردو میں سادہ ترجمہ بنتا ہے کہ ’’ٹوٹ سکتا ہے _ اسے چھوتے ہوئے احتیاط لازمی شرط ہے۔‘‘
اعجاز رضوی شکل سے بہت مضبوط اور ٹھوس لگتا ہے_ لگتا ہے یہ Caution اُس کی پشت پر وار کرنے کا ارادہ رکھنے والوںکو صرف ڈرانے اور فاصلے پر رکھنے کے لیے لکھا گیا ہے، مگر جو اسے قریب سے جانتے ہیں وہ اسے پہچانتے ہیں کہ اندر سے کتنا نرم اور گداز ہے، یہ جو غصہ اُس کے چہرے پر دکھائی دیتا ہے وہ ایک راز ہے _ یہ آہنی پیکر تو صرف کمپنی کی مشہوری کے لیے ہے_

ایسی تمام اشیاء جن پر Fragile لکھا ہوتا ہے۔ کسی بداحتیاط کے ہاتھ سے زمین پر گر کر ٹوٹتی ہیں تو پھیتی پھیتی ہوکر زمین پر بکھر جاتی ہیں_ دیکھنے والی آنکھ حیرت میں گم ہو جاتی کہ جس چیز کے ٹوٹنے کا شائبہ بھی گمان میں نہیں تھا_ ٹوٹی ہے تو اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر بکھر گئی ہے کہ شمار سے باہر ہے۔

خالد احمد بیمار ہوئے_ تو گویا شہر کو چپ لگ گئی_ اپنے پرائے فکرمند ہو گئے اور لگے بچوں کی طرح رونے_ جیسے کوئی معصوم بچہ اپنے چابی والے کھلونے کے سیل ختم ہوجانے پر رو پڑتا ہے اور بار بار کوشش کرتا ہے کھلونے کو ہلا جُلا کر کہ کھلونا پھر سے چلنے لگ جائے، باتیں کرنے لگ جائے اور دوستی کا سلسلہ پھر سے بحال ہو جائے جہاں سے ٹوٹا تھا _ چابی والے اور سیل والے کھلونے تو چابی دینے اور نئے سیل ڈالنے سے اپنا کردار پھر سے نبھانے لگ جاتے ہیں لیکن بڑے بچے جو بولنے والے کھلونوں سے مانوس ہوتے ہیں جب اُن کو کھلونوں کے چھن جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ تو دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں بچوں کی طرح زندگی کی بے ثباتی سمجھ میں آنے لگتی ہے اور پھر وہ اپنے زندہ ہونے کا جواز بھی ڈھونڈنے لگتے ہیں_ میں نے پہاڑوں کو روتے دیکھا ہے _ اور پہاڑوں ہی سے چشمے پھوٹتے ہیں_ مگر بے اختیاری میں اور بے بسی میں۔

غرور سے تنی ہوئی گردن اک طرف ڈھلک جاتی ہے اور پھر وہ ایسے گرتے ہیں جیسے سایہ دیوار پہ دیوار گرتی ہے اور پھر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں _
ساری قدآوریاں اُس اکیلے قد آور کے سامنے آکر ہیچ ہو جاتی ہیں_ اللہ اکبر _ اللہ اکبر۔

خالد احمد صاحب کا علاج ڈاکٹر شہریار کے محفوظ ہاتھوں میں ہو رہا تھا_ خالد احمد صاحب کے ہمراہ جہاں اور دعاگو اُن کے ساتھ علاج کے لیے سرجی میڈ ہسپتال جاتے تھے اعجاز رضوی بھی اپنے آپ کو بڑے حوصلے کے ساتھ یکجاکرکے ساتھ جاتا تھا _ وہی ایک ذریعہ تھا خالد صاحب کی بیماری سے آگاہی کا اور علاج کے ساتھ ساتھ کیفیت کے جاننے کا، مگر ایک دن تو وہ مطمئن لہجے میں خالد احمد صاحب کی بیماری کا بتاتے بتاتے پِھس پڑا_ لگتا تھا کہ اتنا بوجھ ہے غم کا_ کہ مشکل سے خود کو سمیٹ کر بیٹھا ہوا ہے_ پھر اعجاز رضوی جب رویا ہے تو بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا ہے _
اُس کی آنکھوں سے بہتے آنسو اُس کا کوئی مکمل جملہ ادا ہی نہیں ہونے دیتے تھے۔

لگتا تھا کہ اُس وقت دنیا میں اس سے زیادہ بے بس اور مجبور شخص کوئی اورنہیں ہے _ اس کا فکر مند لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ ہر اُس درپر جاکر صدا لگانا چاہ رہا ہے، جو خالد احمد کی تقدیر بدل دے، زمین والوں سے اُس کی فریاد اس طرح کی تھی تو نہ جانے اوپر والے سے کس لہجے میں اپیلیں کر رہا تھا _
’’تب مجھے اعجاز رضوی کی پشت پر لکھا ہوا Fragile سمجھ میں آیا۔‘‘

اعجاز رضوی کو AG __ OFFICE میں نوکری آسانی سے مل گئی کہ یہ ’’اے سے جی‘‘ تک انگریزی بے تکان بولتا تھا جیسے سارا انگلستان بولتا تھا۔ ڈگری کوئی نہ کوئی تو ہو گی اُس کے پاس ورنہ اپاٹمنٹ کی فائل کا پیٹ کیسے بھرتا _ تنخواہ سے اس کا پیٹ تو شاید بھرتا ہو گا مگر بیوی بچوں کے ساتھ بھی تو پیٹ لگے ہوئے ہیں انھیں بھی تو بھرنا تھا زندہ رہنے کے لیے _ ایک جمعہ کو کرشن نگر کی ایک مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا وہاں واعظ نے سورۃ الجمعہ کی تفسیر اس طرح سمجھائی کہ اس کے بعد سے ہر جمعہ کی نماز کے بعد زمین پر پھیل جاتا ہے اور اللہ کا زمین پر اتارا ہوا رزق تلاش کرتا پھرتا ہے _ منہ سے مدعا بیان نہیں کرتا اپنے دونوں ہاتھ اپنی ٹرائوزر کی دونوں جیبوں میں رکھ کر بھول جاتا ہے_ عقیدے کا بہت پختہ ہے سامنے والا اگر کچھ دینے پر آمادہ بھی نظر آئے تو اپنی جیب سے ہاتھ باہر نہیں نکالتا۔ صدقہ، خیرات پر تو ویسے بھی اس کا ایمان نہیں ہے کیونکہ سیّد ہے اور ایسا رزق اپنے اوپر حرام سمجھتا ہے، مگر محبت، خلوص، پیار اس کو اگر کہیں گرا پڑا بھی مل جائے، تو اپنا حق سمجھ کر اسے زمین سے اُٹھا لیتا ہے اور جھاڑ، پونچھ کر اپنے استعمال میں لے آتا ہے اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پورا پورا عمل کرتا ہے کہ اگر زمین پر رزق یا کھانے کی کسی چیز کا کوئی ٹکڑا گرا پڑا مل جائے تو مومن کو چاہیے کہ اُسے اُٹھائے، صاف کرے اور اپنے استعمال میں لے آئے۔‘‘

اعجاز رضوی بڑوں میں کھڑا ہو تو بولتا نہیں کہ کہیں بڑے اُس کی دانائی ظاہر ہونے پر احساس کمتری کا شکار نہ ہو جائیں اور چھوٹوں میں کھڑا ہو تو چھوٹوں کو نہیں بولتے دیتا۔
بار بار اُنھیں احساس دلاتا ہے کہ تم ابھی چھوٹے ہو _ بڑے ہو جائو توتب بولنا۔
Hit the Iron when it’s Hot
بے وقت کی راگنی کا کچھ فائدہ نہیں۔
میں سوچتا ہوں میں اگر چھوٹا ہوتا اور منہ پھٹ بھی ہوتا تو یقینا ایسی روک ٹوک پر جھلاکر کہہ اُٹھتا۔

آپ بھی تو چھوٹے ہیں ہماری طرح آپ نے بھی تو اپنے قد کو ً5/4 سے آگے نہیں بڑھنے دیا_ اپنے کاندھوں پر چھوٹے بڑے ادیبوں کی پروموشن کی ذمہ داری جو اُٹھا رکھی ہے آپ نے وہ سب آپ کے کندھوں پر چڑھ کر قدآور دکھائی دیتے ہیں حالانکہ وہ اتنے قدآور ہیں نہیں، اُن کے ظاہری قد میں ً5/4 آپ کے بھی شامل ہیں، میں سوچتا ہوں اعجاز رضوی کو اگر کسی روز اپنے کندھے جھٹکنے کا خیال آگیا تو کیا منظر ہو گا
ادبی بونوں کی قدآوری کا__

اعجاز رضوی بہت ذمہ دار شخص ہے۔ ذمہ داری کا مطلب اس نے لغت کو باقاعدہ کھول کر پڑھ کر سمجھا ہے راہ چلتی ذمہ داری کا بازو پکڑ لیتا ہے چاہے اس نے بدن پر تیل ہی کیوں نہ ملا ہوا ہو، اُسے کھردرے ہاتھوں سے پھسلنے نہیں دیتا اور ہاتھ آئی ذمہ داری کو مٹھیوں میں سنبھال کر رکھتا ہے کسی قسم کی درخواست پر ’’ناں‘‘ نہیں کرتا، ہاں مگر کسی کی ’’نان و نفقہ‘‘ کی ذمہ داری نہیں اُٹھاتا، بلکہ فوراً اپنے ہاتھ اُٹھا دیتا ہے اور اپنی بکل ہٹاکر مقابل کو دکھا دیتا ہے کہ ایک کاندھے پر اس کی بیوی اور دوسرے کاندھے پر اُس کے دونوں بیٹے بیٹھے ہیں اور ’’ذمہ داری پھر اس کے ہاتھوں میں کسمساتی بھی نہیں چپ چاپ پڑی رہتی ہے۔ پوری ہونے کے انتظار میں۔‘‘

اعجاز رضوی انسانوں میں رہتا ہے اس لیے غلطیاں کرتا رہتا ہے _ صابر ہے سمندر کی طرح جو کچھ اس میں ڈال دیا جائے اپنے اندر ہی رکھتا ہے بھرتا چلا جاتا ہے کبھی چھلکتا نہیں، مگر جب کوئی اس کے اندرپتھر پھینک کر ہلچل پیدا کردے تو اچھل کر کناروں سے باہر بھی نکل آتا ہے میں نے ایک دو جزیرے اس کے اشتعال پر زیر آب آتے ہوئے اپنی آنکھوں سے خود دیکھے ہیں۔

ایک وقت میں ایک سے زیادہ کی بے عزتی نہیں کرتا اور نہ ہی اپنی کسی اور سے کرواتا ہے_ اس کا متحارب چونکہ مستقل مزاج ہے_ اس لیے یہ بھی محاذ پر ڈٹا ہوا ہے_ سمجھ دار ہے جانتا ہے کہ لڑائی ہی کرنی ہے تو سب سے کیوں یہی ایک کام مستقل مزاجی سے برسوں سے ایک کے ساتھ ہی کرتا چلا آ رہا ہے اس کے پاس لڑائی تھوڑی ہے اور محبت زیادہ ہے _ جانتا ہے کہ اس کی محبت زیادہ لوگوں کو چاہیے اس لیے ہر لحظہ قحط زدوں اور محبت کے پیاسوں کو تلاش کرکے شمار کرتا رہتا ہے اور اپنے کاندھے پر لٹکے فتراک میں ڈال دیتا ہے۔

وہ فتراک نشینوں کا کبھی دم نہیں گھٹنے دیتا _ انھیں نڈھال نہیں ہونے دیتا کیونکہ وہ لوگوں کو فتراک میں شمار کرکے ڈالتا ہے شکار کرکے نہیں اور پھر غالب نے یہ گلہ اعجازرضوی سے نہیں کیا:
تو اگر بھول گیا ہے تو پتہ بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

ابھی کچھ دن پہلے ہم ایک تقریب میں بیٹھے تھے کہ اعجاز رضوی کے فون کی بیل بجی۔ اُس نے موبائل فون اُٹھا کر دیکھا اور پھر Call Attend کی__
دھیمے لہجے میں سلام دعا کی__ ایک آدھ جملہ بول کر بات کرتے کرتے میرے قریب سے اُٹھ کر سامنے والے صوفے پر جاکر بیٹھ گیا، میں متجسس تو نہیں تھا _ اُس فون کے بارے میں لیکن لگتا تھا کہ کچھ کوڈ ورڈز میں بات ہو رہی ہے یا تو فون کے دوسری طرف کوئی ایسا شخص تھا، جو اعجاز رضوی کا بزرگ تھا یا کوئی اور ایسا جس کا احترام اعجاز رضوی پر واجب تھا_ زیادہ واجب ہوتا تو شاید کھڑے ہوکر بات کرتا جیسے ہم پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے یا قومی ترانہ سننے کی تاکید سن کر احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں_ یہاں مجھے خیال آیا کہ پاکستانی قوم واجب یا وجوب کا خیال اُسی وقت کرتی ہے جب قومی ترانہ بجایا جاتا ہے_ آگے پیچھے ہر کوئی اپنی چلاتا ہے۔ صرف سٹیرنگ پر ہاتھ ہونا چاہیے۔

بات اعجاز رضوی کے ٹیلی فون سننے سے شروع ہوئی تھی_ پھر ایسے لگا کہ اعجاز رضوی نے کسی کو کوڈ ورڈز میں ہدایات جاری کیں ہیں اور فون کا سلسلہ بند ہو گیا _میں نے پوچھا ’’اِس وقت کس کا فون تھا _‘‘ اُس نے نام تو نہیں بتایا مگر کہنے لگا کہ اس طرح کے فون تو ساری رات آتے رہتے ہیں _ میں نے زیادہ انکوائری مناسب نہیں سمجھی _ کیونکہ ایک مرتبہ میں نے اس کے ایک سلسلے میں دلچسپی لی تھی اور ایک آدھ سوال ہمدردی میں پوچھ بیٹھا تھا کہ ’’پھر یونس بٹ نے کیا کہا‘‘ یہ ایک دم مجھ سے تلخ ہو گیا تھا کہنے لگا اب آپ مجھ سے یہ بھی پوچھیں گے کہ اس کے بعد یونس بٹ نے کیا کہا_ اُس وقت میں نے اس کے موڈ کو دیکھ کر اپنی ہمدردی واپس اپنی جیب میں رکھ لی تھی_ اس وقت مجھے شدت سے احساس ہوا کہ دوسروں کے معاملات میں اتنی ہی دلچسپی لو جتنی وہ اجازت دیں_ ہر ایک کا ماما بننے کی ضرورت نہیں۔

اس کے بعد سے میں دوستوں کے معاملات میں دلچسپی تو لیتا ہوں مگر زیادہ کریدتا نہیں۔
راکھ کو کریدیں تو راکھ ہی نکلتی ہے مگر کبھی کبھی راکھ میں چھپی کوئی چنگاری ہاتھ کی انگلیاں بھی جلا دیتی ہے _ ویسے بھی اپنے پیٹ سے کپڑا کون ہٹانے دیتا ہے پیٹ ننگا ہو جاتا ہے_

بات ہو رہی تھی اعجاز رضوی کے فون پر کوڈ ورڈز میں گفتگو کی جو ہمیں تو شاید سمجھ نہ آئی ہو مگر فون سننے والوں کو ضرور آتی ہو گی اور وہ اپنے معاملات کو اعجاز رضوی کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق ترتیب دے لیتے ہوں گے_ مجھے لگا کہ اعجاز رضوی ہمارا تو نہیں مگر کچھ پریشان حال لوگوں کا پیر ضرور ہے_ یہاں مجھے لگا کہ ضروری نہیں کہ آپ اپنے پیر ہونے کا اعلان ہی کریں تو بیعت کا سلسلہ شروع ہو _ لوگ دل ہی دل میں کسی کے مرید ہو جاتے ہیں _ اُن کو پریشانیوں میں کوئی حرفِ تسلی درکار ہوتا ہے وہ رونے کے لیے کوئی کندھا تلاش کر رہے ہوتے ہیں _ جیسے اُڑتی ہوئی دھول کو بارش کی پھوار زمین کے سینے کے ساتھ لگاکر پرسکون کر دیتی ہے۔ جیسے لُو اور حبس کے موسم میں ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بے چینی کو رفع کر دیتا ہے جیسے زمین پر گرے ہوئے کو کوئی اعتماد بخشنے والا مضبوط ہاتھ پکڑ کر، اُٹھاکر کھڑا کر دیتا ہے_ یہ سارے ایسے اعجاز رضوی کہیں نہ کہیں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں_ نبھا ہی نہیں رہے ہوتے بلکہ اندھیرے میں روشنی کا پتہ بتا بھی رہے ہوتے ہیں_ مجھے اس کے ٹیلی فون سے اندازہ ہوا کہ اعجاز رضوی کس منصب پہ فائز ہے _وہ یقینا ان پریشان حال دوستوں میں آسانیاں تقسیم کرتا ہو گا اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا Easy Loadکروا کر بھیجتا ہو گا_ جس سے اُن کے ٹیلی فون کا رابطہ دوسروں کے ٹیلی فون سے نہیں ٹوٹتا ہو گا۔

میں کوئی نیا شعر کہتا ہوں تو شہر میں جن دوستوں کو سنانے کی خواہش دل میں رکھتا ہوں ان میں سرفہرست اب اعجاز رضوی ہے_ پہلے یہ اعزاز حاصل تھا حفیظ تائب صاحب کو وہ اب حیات نہیں رہے_ خدا اُنھیں غریقِ رحمت فرمائے_ سبحان اللہ ایک انتہائی عاجز مداحِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس نے ہم جیسے اور بہت سوں کو نعت کہنے کی طرف راغب کیا، متحرک کیا۔ مشرف بہ اسلام تو تھے ہی مگر مشرف با نعت کیا اور ادب گاہ رسالت میں احترام کا سلیقہ بھی سکھایا اور شعور بھی دیا_ میں بات کر رہا تھا _ اعجاز رضوی کو اپنے نئے لکھے ہوئے شعر سنانے کی _ سن لیتا ہے واہ واہ بھی کرتا بلکہ سنتا کم ہے واہ واہ زیادہ کرتا ہے _ وہ اشرف جاوید کی طرح اصلاح کرنے نہیں بیٹھ جاتا _ اس میں شک نہیں کہ اشرف جاوید کے ہاں تخلیقی سے زیادہ تنقیدی شعور کا وفور ہے _ بلکہ اپنے عروضیے ہونے پر اس کو غرور ہے _ آپ اشرف جاوید کو کوئی غزل سنانے کی کوشش کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ابھی مطلع کو ہی بار بار کھنگال رہا ہے اور آپ شاید اپنی پوری غزل سنا چکے ہوں _ یہ رویہ نقادوں کا درست نہیں لگتا _نقاد کو چاہیے کہ وہ ضرورت مند شاعر کی غزل تحمل سے سُن لے اور یہ یقین کر لے کہ غزل اُس شاعر نے کہی ہے _ اچھی ہے یا بُری ہے اس لئے آپ پہ اس کی کسی خرابی کا الزام نہیں آئے گا_

کبھی کبھی بندے کو محتسب کے منصب سے اُتر بھی جانا چاہیے لوگ تو آپ سے باتیں اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں آپ سے بات کرنا اچھا لگتا ہے انھیں آپ کو شعر سنانا اچھا لگتا ہے_ تو میں بات کر رہا تھا اعجاز رضوی کی کہ میری غزلیں، میرے اشعار سن لیتا ہے تحمل سے کبھی مین میخ اُن میں نہیں نکالتا اور نہ یہ کبھی مجھے اُن کی اصلاح کا مشورہ دیتا ہے مگر حیرت ہے خود شاعر ہونے کے باوجود اُس نے کبھی مجھے اپنی کوئی غزل، نظم یا شعر نہیں سنایا۔

شاید وہ مجھے اس قابل نہیں سمجھتا ہو گا یا اپنے آپ کو بڑا شاعر سمجھتا ہو گا_ میں اپنے آپ کو بڑا شاعر تو نہیں سمجھتا صرف شاعر سمجھتا ہوں_ اور ہر تخلیق کارکی نفسیات کی طرح اپنے لکھے ہوئے مصرعہ کا Impact دیکھنا چاہتا ہوں_ تائید چاہتا ہوں_ تصدیق چاہتا ہوں کہ میں نے جو کہا ہے کیا وہ میننگ فُل بھی ہے یا نہیں_ لوگ شاید یہ تردد نہ کرتے ہوں اور اپنی لکھی ہوئی ہر لائن کو حرفِ آخر سمجھتے ہوںمگر میں اپنے فطری انکسار کی وجہ سے سناتا ہوں کہ نگارخانے میں کیا طوطی کی آواز بھی سنی جاسکتی ہے یا نہیں_

بات ہو رہی تھی اعجاز رضوی کی کہ وہ مجھ سے مرے شعر تحمل سے سنتا ہے مگر پلٹ کر اپنی کوئی چیز نہیں سناتا_ یہ بات مجھے اعجاز رضوی کی بہت کَھلتی ہے کہ کیا وہ مجھے اس قابل نہیں سمجھتا کہ میں اس کی تخلیق سے مستفید ہو سکوں یا اُس کی تخلیق اتنی معیاری ہے کہ میرے سر کے اوپر سے گزر جائے گی اور وہ سنانے کی اذیت سے گزرے گا_ بندہ شاعر ہو اُسے کوئی دوسرا شاعر شعر سنا رہا ہو اور وہ پلٹ کر فوراً اپنا شعر نہ سنائے یہ ہو ہی نہیں سکتا_ یہ بات شاعر کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتی_ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بندہ شاعر ہو اور آپ کی شاعری سن کر آپ کو جواب میں کچھ نہ سنائے_ حیران نہیں تو کم از کم پریشان کر دینے والی بات ضرور ہے۔

سال د وسال کے بعد جب اعجاز رضوی کی شاعری کی کوئی نئی کتاب مارکیٹ میں آ جاتی ہے_ تو بندہ شک میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ایک ایسا بندہ جس نے نہ باقاعدہ اعلان محبت کیا ہو نہ ہی شادی کا ڈھول پیٹا ہو مگر جب کچھ عرصہ بعد منظرعام پر آئے تو گود میں ایک خوب صورت سا بچہ اُٹھایا ہوا ہو اوراُس بچے کے وراثتی اشٹام پیپر پر ولدیت کے خانے میں اعجاز رضوی لکھا ہوا ہو_

اعجاز رضوی مشاعروں میں پڑھتا ہے_ داد وصول کرتا ہے_ اکثر جب مشاعرے کے منتظمین وقت کم ہونے کی وجہ سے مشاعرہ سمیٹ رہے ہوتے ہیں اور بقیہ شاعروں کو ایک ایک دو شعر پڑھنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں اُس وقت اعجاز رضوی کو ایک شعر پر اتنی زیادہ داد وصول کرتے ہوئے دیکھا ہے جوداد اچھے بھلے شاعروں کو پوری پوری غزل سنانے پر بھی نہیں ملتی_ اُس وقت میرا اس بات پر یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ داد صرف اچھے مصرع پر ہی ملتی ہے_ لمبی لمبی غزلوں پر اور بڑے بڑے ناموں کی وجہ سے نہیں ملتی وہ مصرعہ ہی ہے جس نے شاعر کو اور اُس کی شاعری کو بعد میں بھی زندہ رکھنا ہوتا ہے_

الحمراء ادبی بیٹھک میں داخلے پر میں نے اکثر لوگوں کو اسے بازو سے پکڑ کر کسی کونے کی طرف لے جاتے ہوئے دیکھا ہے_ سر جوڑ کر کچھ گفتگو ہوتی ہے ا ور پھر بازو سے پکڑ کر الگ لے جانے والا_ اس کا بازو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے پیروں پر ہی استغراق میں چلا جاتا ہے اوراعجاز رضوی کو کوئی اور ضرورت مند دھکیل کر کسی اور کونے میں لے جاتا ہے _ یہ واردات بڑی خاموشی سے ہوتی ہے_ منہ سے زیادہ اشارے بول رہے ہوتے ہیں_ ہاتھوں کی حرکات و سکنات سمجھی اور سمجھائی جا رہی ہوتی ہیں_ آواز نہیں آ رہی ہوتی تصویر آ رہی ہوتی ہے۔ حالانکہ وہاں سگنل کی کوئی پرابلم کبھی نہیں ہوئی موبائل فونز کی گھنٹیاں بج رہی ہوتی ہیں_ سب اپنی اپنی بات چیت کررہے ہوتے ہیں _ بس یہی کونے میں جاکر گفتگو کرنے والے کسی مخصوص کو ڈز میں گفتگو کرتے ہیں کچھ اشارے ہوتے ہیں کوئی سرگوشی ہوتی ہے یا حرکات و سکنات۔

اس ساری ڈرِل کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کونوں کھدروں میں ہونے والی بات چیت اور یہ دیواروں سے لگ کرہونے والے رازو نیاز _ میں کوئی خفیہ پیغام ضرور ہوتا ہے تبھی تو یہ احتیاط ہوتی ہے کہ کوئی تیسرا نہ سُن لے _ میں ترس ہی گیا ہوں کہ بیٹھک میں میرے داخلے پر کوئی فوراً اپنی نشست سے اُٹھے، مجھے بازو سے پکڑے اور کسی کونے میں لے جائے، مگر حیف کہ میری یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہوئی اور لگتا ہے کبھی پوری ہو گی بھی نہیں_

اعجاز رضوی ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے کا قائل ہے_ چائے پینے کے ساتھ ساتھ بسکٹ یا کوئی Snacks بھی لے لیتا ہے اور چائے پینے سے پہلے پانی پینا نہیں بھولتا _ بہت اچھا پلانر ہے کہیں کھانے پر مدعو ہو تو ہاتھ گھر سے ہی دھوکر جاتا ہے اور احتیاط سے دوچار کھلے ٹشو اپنی دائیں جیب میں اُڑس لیتا ہے_ کھانے کے بعد اگر پانی میسر نہ ہو ہاتھ دھونے کے لیے تو دائیں جیب میں رکھے ٹشوز سے مدد لی جاسکتی ہے ہاتھ صاف کرنے کے لئے ایک آدھ ٹشو بائیں جیب میں بھی رکھ لیتا ہے_ کبھی ایمرجنسی میں ناک صاف کرنا بھی پڑ سکتی ہے_ ناک صاف کرکے پوری یادداشت کے ساتھ استعمال شدہ ٹشو بائیں جیب میں ہی رکھتا ہے اور اگر رش زیادہ ہو اور کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو کسی میز یا کرسی کے نیچے گوگلی کرکے پھینک دیتا ہے اور کام پورا ہو جانے کے بعد ایسے ٹھنڈی سانس بھرتا ہے کہ کوئی اہم ذمہ داری تھی جو پوری ایمانداری سے ادا کر دی ہو۔

AG Office کی نوکری کے ساتھ ساتھ دفتر فنون کے کچھ معاملات اس کی ذمہ داریوں میں آتے تھے یونس بٹ کے ٹی وی پروگرام ’’ہم سب امید سے ہیں‘‘ میں خاکے لکھنے کی بھی کچھ مزدوری ملتی تھی مگر Viewers کو پتا نہیں چلتا تھا کہ یونس بٹ کا لکھا ہوا ہے خاکہ کون سا ہے اور اعجاز رضوی کا کون سا۔

ٹی وی پروگرام ’’میں اور آپ‘‘ سے بھی تھوڑا عرصہ منسلک رہا_ بہرحال ہلال روزی پر ایمان رکھتا ہے_ لاہور جیسے مہنگے شہر میں مکان کے کرائے کی ادائیگی اپنی اور بچوں کی روٹی کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے_ اب بھی یہ ایک سے زیادہ کام کر رہا ہے_ ’’فنون‘‘ کا دفتر تو قاسمی صاحب کے بعد نہیں رہا، یونس بٹ کا پروگرام بھی وائنڈ اپ ہو گیا_ ٹی وی پر کوئی کام نہیں مگر اب اس نے اپنی مصروفیت کے بہانے تلاش کر لیے ہوئے ہیں یہ ’’بیاض‘‘ کی ادارت سے بھی منسلک ہے اور اُس میںلکھنے والوں کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے_ شیخ نثار صاحب حیات نہیں رہے لیکن U4U.com ویب سائٹ سے ابھی بھی منسلک ہے_ فرحت پروین کو اس کی پبلک ریلیشنگ سروسز کی خدمات کا چونکہ اعتراف ہے_ اُن کی پاکستان سے عدم موجودگی میں اُن کے خیراتی دفتر کی کچھ ذمہ داریاں نبھاتا ہے_ فرحت پروین صاحبہ کچھ بھوک کے ستائے لکھنے والوں کو گاہے گاہے اپنے دسترخوان پر اکٹھا کرلیتی ہیں_ ملک ریاض بحریہ ٹائون والے کے لیول پر تو نہیں یہ اہتمام ہوتا مگر اُن کے فنکشن کی شہر میں انعقاد کے بعد کافی دنوں تک گونج رہتی ہے اور شہر والوں کو یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ فرحت پروین آجکل پاکستان میں ہیں۔

مشاہدہ بڑی باریک بینی سے کرتا ہے_ جلد نتیجے پر پہنچنے کے لیے انکوائری کا اس کا اپنا ایک سوال و جواب کا طریقِ کار ہے_ دوسرا جب تک اپنے جوابات پر نظر دوڑا رہا ہوتا ہے یہ نتیجہ اخذ کر چکا ہوتا ہے_ شیخ نثار صاحب کے دفتر میں نوکری کرتے ہوئے شیخ صاحب اور عملے میں بے تکلفی کے تعلقات کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے شیخ صاحب سے عملے کی ایک خاتون رکن کو ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر پوچھ بیٹھا کہ شیخ صاحب وہ آپ کی بیٹی بڑی ہونہار ہے_ شیخ صاحب کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھ بیٹھے بیٹی؟ کون سی بیٹی اس نے اشارتاً اس خاتون رکن کا حوالہ دے دیا_ شیخ صاحب نے پوچھا آپ سے کس نے کہا کہ وہ میری بیٹی ہے_ اس نے کہا کہ آپ کی اُس سے بے تکلفی دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ کوئی رشتہ_ دفتری رشتے کے علاوہ بھی ہے دونوں کے مابین_ دونوں کی عمروں میں تفاوت نے مجھے اشارہ دیا کہ باپ بیٹی کا رشتہ ہو سکتا ہے_ شیخ صاحب فوراً بھڑک اُٹھے اعجاز رضوی صاحب اپنے کام سے کام رکھا کریں دفتر میں _ اس ٹوہ میں نہ رہا کریں کہ کون کیا کر رہا ہے_ اپنی طرف سے ہی رشتے جوڑتے رہتے ہیں اور آپ اتنے سمجھ دار کب سے ہو گئے کہ رشتوں کی نوعیت کو سمجھنے لگیں _ صرف وہی کام کریں، جس کے لیے دفتر نے آپ کو ملازم رکھا ہوا ہے _ جاسوسی نہ کیا کریں_

مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی تھی خالد احمد جیسا سیانا بھی اعجاز رضوی کی الحمرا ادبی بیٹھک میں پہلی جھلک دیکھ کر عجلت کے ساتھ اُس کی جانب لپکتا تھا خالد احمد کی Body Language سے لگتا تھا کہ اُس کے اندر کہیں یہ ڈر یقینا چھپا ہوا ہے کہ کوئی اور اُس سے پہلے اعجاز رضوی کو راستے میں سے نہ اُچک لے اور بھی ہوں گے اعجاز رضوی کی آمد کے بہت سے منتظر مگر سب اپنی اپنی باریاں خالد احمد کے حق میں Surrender کر دیتے تھے _ پھر دونوں میں راز و نیاز شروع ہوتے _ لگتا تھا _ خالد احمد ایک عقیدت مند ہے اور اپنے پیر کے سامنے باادب بیٹھا ہے_ مجھے خود بھی یہ مشکوک حرکات و سکنات کا حامل اعجاز رضوی کوئی پہنچا ہوا لگتا ہے بلکہ کہیں پہنچا ہوا لگتا ہے_ اعجاز رضوی زیادہ عمر کا تو نہیںہے _ خالد احمد تو عمر میں اس سے بڑے تھے۔ میں سوچتا ہوں چھوٹی عمر میں بھی تو ولایت مل سکتی ہے _ ہو سکتا ہے اوپر سے اعجاز رضوی کو یہ منصب عطا کر دیا گیا ہو_ پیر نہیں تو منگل _ منگل نہیں_ تو بدھ_ تو ضرورہو گا۔

منگل ہندوئوں کا بعض حوالوں سے متبرک دن ہے ہاں یہ بدھ ہو سکتا ہے۔
بدھ کم سُدھ_ اس کے حلقہ ارادت کی وسعت پر نظر دوڑائی جائے تو یقینا یہ ’’بدھ‘‘ ہی لگتا ہے بلکہ مہاتما بدھ_ میرا یقین اور پختہ ہو جاتا تھا جب میں خالد احمد جیسے پیروں کے پیر کو اعجاز رضوی کے سامنے دم بخود بیٹھے ہوئے دیکھتا تھا_
واللہ ا علم باالصواب

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20