ہمارے جذبات کے پھیلتے ہوئے دائرے— ملک آفتاب اعوان

0

آجکل وطن عزیز میں جذبات کو مجروح اور مضروب ہونے سے بچانے کے لیئے قانون سازی اور مقدموں کا دور دورہ ہے۔ اِدھر کسی کی منہ سے کوئی بات نکلی نہیں اور اُدھر کسی مسلک یا کسی عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کے جذبات مجروح ہوئے نہیں اور فٹ سے مقدمہ درج۔ ایسے میں ہمارے قانون سازوں نے بھی سوچا کہ وہ کیوں پیچھے رہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بھی آئے روز لوگوں کے جذبات کے تحفظ کے لیئے نت نئی قراردادیں پیش بھی ہوتی ہیں اور منظور بھی۔

جذبات کی اس فراوانی اور ارزانی نے مجھ سمیت کئی سخت کھال والے حضرات، جن کے جذبات بہت ڈھیٹ ہیں اور آسانی سے مجروح نہیں ہوتے، کو پریشان ہی کر دیا ہے کہ آخر آجکل کے جذبات کو ہو کیا گیا ہے کہ اتنا جلدی مجروح ہو جاتے ہیں – پرانے زمانے میں تو یہ جذبات کافی سخت جان ہوتے تھے اور یوں آسانی سے مجروح بھی نہیں ہوتے تھے چاہے جتنی بھی سخت ضربیں لگائی جائیں۔ آخر ان جذبات میں پروٹینز کی کمی ہے یا وٹامنز کی جو یہ نگوڑے ہر وقت بستر پر پڑے ہائے ہائے کرتے رہتے ہیں۔ ذرا غور کرنے پر انکشاف ہوا کہ جذبات کی حساسیت اور وسعت کا معاشرے میں پائی جانے والی ایک اور چیز سے بالعکس تناسب ہے۔ اور وہ ہے دلیل۔ جتنا کسی معاشرے میں دلیل مضبوط اور اس کا دائرہ وسیع ہو گا اتنا ہی اس معاشرے میں جذبات کی حساسیت کم اور ان کا دائرہ محدود ہو گا۔ مگر جیسے جیسے دلیل کمزور اور اس کے دائرے کا قطر جتنا کم ہو گا اتنا ہی اس معاشرے میں جذبات کی حساسیت بھی زیادہ ہو گی اور ان کا دائرہ بھی وسیع ہو گا۔

اب بد قسمتی سے دلیل کو تو ہم نے ویسے ہی وطنِ عزیز میں پچھلے چالیس پچاس سالوں سے فاقہ کشی کا شکار رکھا ہوا ہے۔ دلیل طاقت پکڑتی ہے کتابوں، درسگاہوں اور یونیورسٹیوں میں۔ ہم نے ان تمام مقامات سے اُسے دیس نکالا دیا ہوا ہے۔ جو بھی کمبخت ان مقامات میں اس کا پرچار کرتا ہے، بیک بینی و دو گوش اسے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ اس لیئے یہاں تو نقاہت کے مارے اس پر غشی طاری ہے اور بظاہر دمِ واپسیں کا وقت لگتا ہے۔ لہٰذا دلیل کا اس وقت معاشرے میں دائرہ اب نہ ہونے کے برابر بلکہ معدوم ہے۔ لا محالہ اس وقت جذبات کی حساسیت عروج پرہے اور ان کا دائرہ بلکہ دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ میری اور آپ کی سوچ بھی اب اسی دائرے کے اندر مقید ہے۔ ہمیں اور آپ کو اب اجازت نہیں کہ جذبات کے دائرے سے نکل کر سوچ سکیں۔ کیوں کہ جیسے ہی ہم جذبات کے دائرے سے نکل کر سوچنے کی کوشش کریں گے، کسی نہ کسی صاحب کے جذبات کے آبگینوں کو ٹھیس لگ جائے گی اور ہم پر فتوے۔

حضور، اگر معاشرے کو پنپنے کی کوئی گنجائش دینی ہے تو اپنے بھپرتے امنڈتے جذبات کو ذرا قابو میں رکھیں۔ یہ مجروح جذبات بڑی دو دھاری تلوار ہیں، دونوں طرف سے کاٹ کرتے ہیں۔ اپنے محترم ڈاکٹر اشرف جلالی صاحب کو ہی دیکھیں۔ ابھی ایک دن یہی تلوار لہراتے دوسروں پر حملہ آور تھے، اگلے ہی دن معلوم ہوا کہ غنیم نے اسی تلوار سے ان کے ہی گوڈے قلم کر دیئے۔ پہلے وڈیو بنا کر اپنے مؤقف سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ اب جیل میں بیٹھے اپنی بے گناہی کے راگ الاپ رہے ہیں۔ جو بھی آج دوسروں کی دلیل کے سامنے اپنے جذبات کے مجروح ہونے کا ناٹک رچا رہے ہیں یاد رکھیں، کل آپ کی دلیلیں بھی دوسروں کے جذبات سے کھلواڑ کے مترادف سمجھی جائیں گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دلیل اور جذبات کے استحصال کے فرق کو سمجھیں اور اس کا پرچار بھی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم توہین کرنے اور عزت نہ کرنے کے فرق کو بھی سمجھیں۔ ان دونوں میں فرق کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کریں ہندو حضرات کے نزدیک رام ایک بہت مقدس ہستی ہیں۔ وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ ان کو بھگوان کا اوتار مانتے ہیں بلکہ یہ مانتے ہیں کہ بھگوان رام کی شکل میں دنیا میں آئے تھے۔ دوسری طرف ایک بندہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بھگوان ہے ہی نہیں۔ اب اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ بھگوان ہے نہیں تو نہ وہ دنیا میں خود آ سکتا ہے اور نہ ہی رام کی شکل اوتار بھیج سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہےکہ اس کے نزدیک یہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ اب اگر وہ یہ کہتا ہے کہ رام اوتار ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ بھگوان ہے نہیں تو وہ محض اپنے عقیدے کا اظہار کر رہا ہے۔ کوئی توہین نہیں کر رہا۔ اب دوسری بات یہ کہ اس کے نزدیک اگر رام نے ایسا کوئی دعویٰ کیا تو وہ بھی سچائی پر مبنی نہیں۔ اس لیئے وہ رام کی عزت کیسے کر سکتا ہے۔ ہندو زیادہ سے زیادہ یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ بندہ رام کو ان کے سامنے برا بھلا نہ کہے۔ اس کا مذاق نہ اڑائے، کوئی ایسا مواد نہ بنائے جس میں تضحیک کا عنصر ہو۔ مگر وہ اس کو دلائل سے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش سے نہیں روک سکتے۔ وہ اگر کہیں کہ وہ ایتھیسٹ ایسے دلائل نہ دے کہ اس سے ان کی بات غلط ثابت ہوتی ہو تو یہ مطالبہ درست نہیں ہو گا۔ اگر وہ ملحد دلائل کے تحت وہ یہ ثابت کرنے کوشش کرے کہ رام کا قصہ من گھڑت ہے۔ مگر اس میں کوئی بد تمیزی نہ کرے تو اسے توہین نہیں گنا جا سکتا۔ یہی صورتِ حال ہم مسلمانوں کی بھی ہے۔ ہم کسی سے یہ مطالبہ تو کر سکتے ہیں کہ وہ ہمارے مقدسات کی تضحیک نہ کرے مگر یہ ہم مطالبہ کرنے میں ہر گز حق بجانب نہیں کہ وہ مارے مقدسات کے بارے میں اپنے خیالات رکھے ہی نہیں یا وہی خیالات رکھے جو ہمارے ہیں اور انہیں اسی تقدیس کی نظر سے دیکھے۔

اگر ہم نے نام نہاد جذبات کی یہ من گھڑت توہین روکنے کی کاوشوں کا یہ سلسلہ بند نہیں کیا تو ہم اپنے معاشرے میں خون ریزی کی ایسی بنیاد رکھ رہے ہیں جسے روکنا پھر کسی کے لیئے بھی ممکن نہیں ہو گا۔ پھر ہماری اور کتنی بری حالت ہو گی۔ اس کا تصور بھی محال ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20