رہنمائے تعلیم پنڈی گھیب: ایک صدی کا قصہ —- محمد حمید شاہد

0

ارشد سیماب ملک کا نیا کارنامہ

ہمارے دادا سن سینتالیس کےآس پاس اپنے خانوادے کو اپنے گائوں چکی سے لے پنڈی گھیب منتقل ہو گئے تھے اور اس نئے شہر میں رچ بس گئے۔ خیر شہر تو بہت قدیم تھا دادا اور ان کا خاندان یہاں نئے تھے، دادا بھی اور ان کے بیوی بچے بھی۔ یہ خاندان تب سے اب تک “چکی والا” کہلاتاہے۔ میرے ابا اور ان کے دونوں چھوٹے بھائیوں نے اپنی اپنی زندگیوں کا دائرہ پنڈی گھیب ہی میں مکمل کیا۔ اسی شہر کے قدیمی قبرستان میں دادا، دادی کے ساتھ ان کی قبریں بن گئیں۔ ہمارے دادا جی جب چکی سے اٹھ کر اس شہر میں آئے تھے، محلہ ملکاں میں ایک حویلی خرید لی تھی، اسی میں حویلی میں ہم پیدا ہوئے، ہوش سنبھالا، پلے بڑھے۔ اور اسی حویلی کے صحن کی فراخی میں کھڑی دوپہروں اور تاروں بھری راتوں میں خوب کھیلے کودے۔ جب خاندان اتنا بڑھا کہ ایک حویلی میں نہ سماتا تھا تو منجھلے چچا نے ایک الگ گھر بنا لیا۔ بات ہماری ہماری پیڑھی تک پہنچنے تک ہم چکی والوں کے پنڈی گھیب میں کئی گھر ہو چکے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ہم بہن بھائی تعلیم اور بعد ازاں روزگار کے “واورولے” میں پنڈی گھیب سے نکلے اور شہر شہر گھومتے گھماتے اسلام آباد میں بس گئے۔ پنڈی گھیب پیچھے رہ گیا۔ اب بھی شادی موت پر جانا ضرور ہوتا ہے، موقع نکلے تو آگے چکی بھی ہو آتے ہیں مگر اندر ایک پیاس ہے جو بجھتی ہی نہیں کہ وہ شہر کیا چھوٹا ہے اندر سے جیسے پورا ایک گوشہ خالی ہو گیا ہے۔ ایسے میں جب اُدھر سےکوئی خبر آتی ہے یا کوئی خود آجاتا ہے، جی چاہتا ہے سب مصروفیتیں تیاگ کر اسی کی طرف متوجہ رہیں۔ ایسے میں ایسے لوگوں پر رشک ہی کیا جاسکتا ہے جو اپنی زمین سے وابستہ ہیں اور بہت مزے سے اپنے پیاروں کے ساتھ صبح و شام رابطے میں رہتے ہیں، ان کے بارے میں سوچتے ہیں اور جب چاہیں ان سے مل لیتے ہیں۔ ایسے خوش بخت لوگوں میں ارشد سیماب ملک بھی ہیں۔

جی، ارشد سیماب ملک جو ادھر کیمبل پور، اٹک میں رہتے ہیں اور اپنے علاقے کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی روایت سے نہ صرف جڑے ہوئے ہیں، معاصر ادب کو اپنے رسالے “ذوق” میں چھاپ چھاپ کر محفوظ بناتے رہتے ہیں اور بہت پیچھے ماضی میں جاکر، اس کی گھپائوں میں پڑے خزانے ڈھونڈ کر نئی نسل کے شعور کا حصہ بنا ڈالتے ہیں۔ “”تذکرہ شعراء اٹک” اُن کی پہلی کتاب تھی اور اس کام کی نوعیت کا اندازہ اس کتاب کے نام سے ہی ہوجاتا ہےتاہم دوسری کتاب جو”دستاویز” کے نام سے آئی اس میں انہوں نےکیمبل پور، اٹک کے افسانہ نگاروں کے تعارف اور منتخب افسانوں کو شامل کر دیا تھا۔ اس کتاب میں نئے پرانے پینتالیس افسانہ نگاروں کا تذکرہ تھا اور کتاب دیکھنے پر اندازہ گیا تھا کہ انہیں اس باب کی معلومات اکٹھی کرنے میں کیا کیا جتن نہ کرنے پڑے ہوں گے۔ شاعروں اور افسانہ نگاروں کے ان تذکروں کے بعد انہوں نے ماضی کے پانیوں میں ایک اور غوطہ لگایا اور اس بار جو موتی ان کے ہاتھ لگا وہ ایک سو پندرہ سال پرانا ایک تعلیمی ماہنامہ تھا۔ اس ضمن کی تحقیقی کتاب ضخامت میں کم سہی مگر ہے بہت قیمتی۔ جوں ہی مجھے “راہنمائے تعلیم پنڈی گھیب۔ ایک صدی کا قصہ” نامی کتابچہ ملا، میں پڑھنے بیٹھ گیا اور ارشد سیماب ملک کے لیے دل سے دعا نکلی کہ وہ میرے شہر کے حوالے سے کتنی اہم معلومات ہم تک منتقل کر رہے تھے۔ ان کی تحقیق کے مطابق:

1۔ ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کا نقشہ ماضی میں کچھ اور تھا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ ریاست پنڈی گھیب کہلاتا تھا جس کا شمال میں پھیلائو کالا چٹا پہاڑ تک، مشرق میں چونترہ تک تھا جب کہ اس میں جنوب مشرق کے بہ شمول کلر کہار، بلکسر، تلہ گنگ اورچکوال کے بیشتر علاقے اس میں شامل تھے۔

2۔ پنڈی گھیب قدیم تہذیب کا وارث ہے یہاں سے ملنے والے پتھر کے زمانے کا انسانی ڈھانچہ فرانس سے ملنے والے ہزاروں سال پرانے ڈھانچے سے مماثلت رکھتاتھا۔ یہاں لوہے کے زمانے کے قدیم ہتھیار اور بدھ مت کے زمانے کے آثار اور دوسری قدیم تہذیبوں کے سراغ بھی ملے۔

3۔ اعوان کوہستان نمک کے جنوب سے اس علاقے میں داخل ہوئے اور شمالی علاقوں کو پھیل گئے۔ یہ علاقہ مغلوں کی گزرگاہ رہا۔ یہاں سے ان حملہ آوروں کو بازوں اور گھوڑوں کے تحائف ملتے تھے۔ سکھ یہاں آکر غالب رہے۔

4۔ جس قدیم رسالے کا یہاں ذکر ہو رہا ہے؛ یعنی “رہنمائے تعلیم پنڈی گھیب” اس کے مدیر ماسٹر جگت سنگھ تھے، جو 20 مئی 1885 کو پنڈی گھیب میں لالہ بوٹا مل کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں اس رسالے کا ڈیکلریشن 1905 میں انہیں ملا تھا۔ رسالہ اگلے سال کے اوائل میں پنڈی گھیب ہی سے نکلنا شروع ہوا تھا۔ کوئی ایک سو پندرہ سال سے جاری اس رسالے کا نام اور مقام اشاعت ضرورت کے مطابق بدلا ضرور مگر ماسٹر جگت سنگھ کی استقامت میں ذرا فرق نہ آیا۔ حتٰیٰ کہ تقسیم کا زمانہ آگیا اور ماسٹر صاحب جو تب تک لاہور میں مقیم ہو گئے تھے گھربار چھوڑ کر دہلی نکل گئے۔

5۔ ماسٹر جگت سنگھ کے بیٹے نے اپنے والد کی موت کے بعد بھی اس پرچے کو زندہ رکھا۔ 2005 میں دہلی سے اس کا صدی نمبر نکالا۔ یوں دیکھیں تو پنڈی گھیب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں سے ایک ایسا رسالہ نکلا جس نے صدی سے بڑھ کر طویل عمر پائی۔

7۔ میرے لیے سیماب کی یہ تحقیق بہت دلچسپی کی رہی کہ ماسٹر جگت سنگھ کے جاری کردہ اس رسالے نے کئی اور اہم نمبروں کے علاؤہ 1934میں ایک ضخیم افسانہ نمبر شائع کیا تھا جس میں شوکت تھانوی، کوثر چاند پوری، پریم چند، مرزا یگانہ چنگیزی، کرپال سنگھ بیدار، اندر جیت شرما، پنڈت شیوناتھ کوشک، اشفاق حسین، شاکر گولیاری، عرش ملیسانی، مظہر انصاری اور کئی دوسرے افسانہ نگاروں کے افسانے چھپے تھے۔ 1943 میں چھپنے والے افسانہ نمبر میں ایک مضمون”افسانہ نویسی کا افسانہ” بھی شامل تھا اور ارشد سیماب کے مطابق یہ پہلا مضمون تھا جس میں افسانے کے فن پر بات ہوئی اور اس کی مفصل تاریخ بھی بیان کی گئی تھی۔

ارشد سیماب ملک کے اس تازہ کارنامے کا قصہ یہاں تمام نہیں ہوتا کہ بتانے کو بہت کچھ ہے مگر میں چاہتا ہوں آپ یہ کتاب ڈھونڈ کر پڑھیں اور پنڈی گھیب سے نکلنے والےاس رسالے کی تاریخ پڑھیں جسے مرزا یاس یگانہ، ریاض خیر آبادی، مولانا حسن نظامی، صوفی غلام تبسم، تلوک چند مرحوم، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، دل شاہجہان پوری، کنور مہندر سنگھ بیدی، پروفیسر احتشام حسین، شوق جالندھری، ہنس راج الفت، رام پرکاش کپور، اشفاق احمد جیسے بہت اہم لکھنے والوں کا تعاون حاصل رہا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20