حزب اختلاف کا سیاسی بیانیہ ——– سلما ن عابد

0

پاکستان کی مجموعی سیاست حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان محاذ آرائی، الزام تراشیوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جمہوری سیاست مضبوط ہونے کی بجائے کمز ور ہوئی ہے۔ اس وقت بھی حزب اختلاف کی سیاست اپنے اندر لاتعداد مسائل، تضادات، ٹکراو اور فکری مغالطوں میں گھری نظر آتی ہے۔ اس وقت حزب اختلاف کی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، افتاب شیر پاو سمیت جماعت اسلامی کی سیاست کا بنیادی نکتہ عمران خان کی حکومت کی رخصتی ہے۔ ان کے بقول عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ اب منطق دی جارہی ہے کہ عید کے بعد کل جماعتی کانفرنس میں حکومت کی رخصتی کا حتمی فیصلہ، طریقہ کار اور حکمت عملی طے کرکے ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔

اس سے قبل بھی کئی بار حزب اختلاف کی جماعتوں نے کوشش کی کہ ہم کوئی حکومت مخالف مشترکہ حکمت عملی طے کرسکیں۔ لیکن ایک مضبوط سطح کی حزب اختلاف سامنے نہیں آسکی۔ کیونکہ سب جماعتوں کی سیاسی سوچ وفکر میں جہاں اختلاف ہے وہیں سب کے اقتدار سے جڑے مقاصد بھی علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ایک بڑے سیاسی دھرنے کی مدد سے تن تنہا حکومت گرانے کے منصوبے میں ناکام ہوئے۔ ان کو گلہ ہے کہ اس منصوبے میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن وہ کردار ادا نہیں کیا جو حکومت مخالف تحریک کے لیے ضروری تھا۔ مولانا فضل الرحمن کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا ووٹ بینک خیبرپختونخواہ تک محدود ہے۔ لیکن وہاں عمران خان کے بھرپور سیاسی جادو نے ان کی سیاسی کمر توڑ دی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انتخابی سیاست میں تنہا نظر آتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو ہمیں عمران خان کی حکومت کو گرانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے انتخابات کے فوری بعد دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کومشورہ دیا تھا کہ وہ اسمبلیوں سے حلف لینے سے انکار کردیں اور نئے انتخابات کا مطالبہ کریں۔ لیکن دونوں بڑی جماعتوں نے فورا مولانا فضل الرحمن کی مہم جوئی میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔

عمران خان کی حکومت پر یقینی طور پر بڑی تنقید ہونی چاہیے۔ ان کی حکومت کا حکمرانی کا انداز بھی ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہیں اور ان کی ٹیم پر بھی بہت سے تحفظات ہیں۔ اس لیے عمران خان حکومت کی حمایت کی بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کون لوگ حکومت کی تبدیلی یا ملک میں حکمرانی کی باتیں کر رہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل 13ویں سال حکومت ہے وہاں کیا حکمرانی کے انداز ہیں اس پر کوئی پیپلز پارٹی کا احتساب کرسکے گا۔ کیا ماضی میں ہم نے کسی حکومت کو اس کی کارکردگی پر گھر بھیجا ہے، یقینا ایسا نہیں۔ کوشش یہ ہی گئی ہے کہ ہر دور کی حزب اختلاف نے اسٹیبلشمنٹ کے کھیل کا حصہ بن کر حکومت بنانے اور حکومت گرانے کا کھیل کھیلا ہے اور اس میں ساری سیاسی جماعتوں کا سیاسی ریکارڈ بہت ہی برا اور غیر جمہوری ہے۔

عمران خان کی حکومت کو گرانا آسان ہے۔ اس کا سیاسی اور آئینی طریقہ کار ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہے۔ بقول حزب اختلاف عملی طور پر عمران خان کی حکومت کمزور ہے اور ان کے اتحادی بھی ان سے فاصلوں پر ہیں۔ ایسی صورت میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کو پیش کرکے ان کو بڑی آسانی سے گھر بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں تحریک عدم اعتماد کو پیش کرنا یا عوامی تحریک چلانے کی بجائے پہلی کوشش یہ ہورہی ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ ہی عمران خان کو گھر بھیجے۔ یعنی حزب اختلاف خود کچھ نہیں کرنا چاہتی اور سارا بھروسہ یا انحصار اسٹیبلیشمنٹ پر ہی ہے۔ وہ جو سیاست، جمہوریت، قانون کی بالادستی، پارلیمنٹ کی بالاستی، فوجی مداخلت اور آئین کی پاسداری جیسے نعرے کہاں ہیں اور کیوں اپنی سیاسی طاقت کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ کی طاقت پر بھروسہ کرکے اسٹیبلیشمنٹ ہی کو سیاسی مداخلت کا راستہ دیا جارہا ہے۔ اگر عمران خان اپنی سیاست کے لیے سلیکٹرز کا انتخاب کیا تو کیوں حزب اختلاف اسی سلیکٹرز سے دوائی مانگ رہے ہیں۔ آصف زرداری، شہباز شریف سمیت جو لوگ اسٹیبلیشمنٹ سے رابطوں میں ہیں ان کو کیا نام دینا چاہیے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ حکومت گرانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اسٹیبلیشمنٹ کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ عمران خان کی حمایت کرنے کی بجائے ہماری حمایت کریں ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ پیپلز پارٹی کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ اگر ہم وفاق کی حکومت کو گراتے ہیں تو اس کا سیاسی اثر سندھ کی صوبائی حکومت پر بھی پڑے گا اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی صوبائی حکومت کو کوئی بڑا خطرہ ہو۔ اسی طرح شہباز شریف جو مسلسل اسٹیبلیشمنٹ سے رابطوں میں ہیں وہ کیونکر کوئی ایسا ایجنڈ ے کی حمایت کریں گے جس سے ان کے اسٹیبلیشمنٹ سے تعلقات خراب ہوں۔ کیونکہ ان کو اندازہ ہے کہ اگر ان کو سیاسی طاقت کے کھیل میں کچھ ملے گا تو وہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کی سیاست نواز شریف اور مریم نوازکی عملی سیاست سے بہت مختلف ہے۔ ان کو مسلم لیگ ن کی سیاست میں پرو اسٹیبلیشمنٹ ہی سمجھا جاتا ہے۔

اس وقت حزب اختلاف کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے فوج اور عمران خان کی حکومت کے درمیان فاصلے، ٹکراو پیدا کیا جائے تاکہ اس ٹکراو کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت رخصت ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر ماضی میں عمران خان نے غلطیاں کی ہیں تو ایسی ہی غلطیاں آج موجود حزب اختلاف بھی کرنا چاہتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہماری سیاست سے جڑے فریقین نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل کرنے کی بجائے ان ہی غلطیوں کو دہرانے کی سیاست کی جارہی ہے۔ برحا ل لگتا ہے کہ حزب اختلاف کی سیاست عمران خان کی مخالفت میں ہر وہ کھیل کھیلنے کی کوشش کرے گی جو ان کے اقتدار کو کمزو رکرسکے۔ پاکستان کی سیاست میں اصول پسندی اور فکری سیاست کا جو فقدان ہے اس کی جھلک ہمیں ہر سطح پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی سیاست میں دیکھی جاسکتی ہے اور یہ ہی ہماری قومی سیاست کا المیہ ہے کہ عملی طور پر خود سے سیاست، جمہوریت کو کمزو رکرنے کے کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں جو جمہوری سیاست کے لیے اچھا شگون نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20