ڈاکٹر مبارک علی کے اقبال پہ اعتراضات: چند معروضات — خرم علی شفیق

1

جیو ٹیلی وژن نے ایک پروگرام شروع کیا تھا جس کا عنوان تھا ’’میں نہیں مانتا‘‘۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ مفروضات جنھیں عام طور پر بغیر سوچے سمجھے درست تسلیم کیا گیا ہے اور جن پر سوال اٹھانے کی پاکستان میں کبھی اجازت نہیں رہی اُن کے بارے میں اختلافی آرا سننے کو مل سکیں۔ تاہم اس سلسلے کا وہ پروگرام جس میں ڈاکٹر مبارک علی اس بات سے اختلاف کرنے کے لیے مدعو کیے گئے تھے کہ اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں، اگر صرف اُس قسط کا عنوان ’’میں نہیں جانتا‘‘ رکھ دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ میں بھی موجود تھا اور اگرچہ میں اس بات کا ہمیشہ قائل رہا ہوں کہ ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ کے بارے میں بہت سی دل چسپ کتابیں لکھ کر اس معاشرے کی خدمت سر انجام دی ہے مگر اُس روز ان کی گفتگو سن کر معلوم ہوا کہ انھوں نے تاریخ لکھی ضرور ہے مگر پڑھی نہیں ہے۔ حوالے غلط تھے، اقبال سے ایسی باتیں منسوب ہوئیں جو اقبال نے کبھی نہیں کہی تھیں، جن موضوعات پر اقبال نے مفصل کتابیں تحریر کی ہیں، ان کے بارے میں فرمایا کہ اُن پر اقبال نے کچھ نہیں لکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے بعد جب میز بان غازی صلاح الدین نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ڈاکٹر مبارک علی سے اتفاق کرتا ہوں تو میرے لیے اتفاق یا اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں یہی عرض کرسکا کہ ڈاکٹر صاحب کی دس منٹ کی گفتگو میں آٹھ تاریخی حقائق غلط پیش کیے گئے، میں صرف ان کی نشاندہی کرنا چاہوں گا، اور وہ میں نے کی، مگر اب خیال آتا ہے کہ بعض غلط فہمیوں کا ازالہ زیادہ تفصیل سے ہونا چاہیے۔

میں یہ بھی عرض کردینا چاہتا ہوں کہ اگرچہ میں اقبال کی ایک مفصل سوانح کا مصنف ہوں اور آج کل تقریباً کل وقتی طور پر اقبال ہی کے موضوع پر کام کررہا ہوں مگر مجھے یہ ثابت کرنے سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ پاکستان کا تصور اقبال ہی نے پیش کیا تھا۔ میرا اپنا خیال تو یہی ہے مگر میرے نزدیک یہ علمی بحث ہے جس میں ایک سے زیادہ آرا کی گنجائش ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر مبارک علی کی بجائے کے کے عزیز یہی مؤقف پیش کررہے ہوتے (جیسا کہ وہ کرتے ہیں) تو شاید مجھے زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوتی کیوں کہ اُن کے علم کے مقابلے میں اپنی کم مائیگی کا مجھے احساس ہے۔ مگر مبارک علی صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ علم اور تحقیق کا روگ وہ نہیں پالتے۔ بنیادی ماخذوں سے انھیں سروکار نہیں اور بہت بڑی بڑی باتیں محض اس بھروسے میں کہ جاتے ہیں کہ مثلاً بھپن چندرانے کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہوگا۔ میری شکایت یہی ہے کہ انسان اپنی کم علمی پر منافع وصول نہ کرے اور کسی بات کو کہنے سے پہلے تحقیق ضرور کرے۔ بالخصوص جب کہ اسے دوسروں سے یہی شکایت ہو۔

مبارک علی صاحب کا مسئلہ یہ ہے کہ علم اور تحقیق کا روگ وہ نہیں پالتے۔ بنیادی ماخذوں سے انھیں سروکار نہیں اور بہت بڑی بڑی باتیں محض اس بھروسے میں کہ جاتے ہیں کہ مثلاً بھپن چندرانے کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہوگا۔ میری شکایت یہی ہے کہ انسان اپنی کم علمی پر منافع وصول نہ کرے اور کسی بات کو کہنے سے پہلے تحقیق ضرور کرے۔ بالخصوص جب کہ اسے دوسروں سے یہی شکایت ہو۔

مبارک علی صاحب نے اقبال کے بارے میں جو شکایات پیش کیں وہ مندرجہ ذیل ہیں اور ان کے ساتھ میری گذارشات بھی۔
پہلی شکایت مبارک علی صاحب کو یہ ہے کہ اقبال نے الٰہ آباد والے خطبۂ صدارت میں ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے ایک ریاست کی بات کی تھی جب کہ پاکستان اس وفاق سے باہر ایک خود مختار ریاست ہے، چنانچہ اس ریاست کا تصور اقبال کا نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مبارک علی صاحب نے خطبۂ صدارت کا مطالعہ ہی نہیں کیا کیوں کہ وہاں “within or without the British India” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے یا اس سے علیحدہ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ لڑکپن میں ہندوستان سے چھپی ہوئی بعض کتابوں مثلاً رفیق ذکریا کی کتاب میں میں نے بھی یہی بیان پڑھا تھا مگر جب اصل دستاویز کا مطالعہ کیا تو حقیقت معلوم ہوئی۔ ڈاکٹر مبارک علی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک تاریخی دستاویز کو غلط quote کریں۔ یہ عذر کافی نہیں کہ انھوں نے وہ دستاویز نہیں پڑھی۔

دوسری بات، ڈاکٹر مبارک علی نے ایڈورڈ تھامپسن کے نام اقبال کے مشہور خط کا حوالہ دیا جس میں اقبال نے کہا تھا کہ ان کا پاکستان اسکیم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حوالہ بھی اصل ماخذ دیکھے بغیر بآسانی مل جاتا ہے کیوںکہ یہ اقتباس تو اب رسائل میں بھی بے تحاشا آچکا ہے۔ یہاں مبارک علی صاحب آدھا سچ بول رہے ہیں اور انھیں یہ ضرور بتانا چاہیے کہ جس پاکستان اسکیم سے اقبال نے اپنی لاتعلقی ظاہر کی ہے اس سے نہ صرف اقبال، بلکہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کے تمام زعما آخر تک لاتعلق ہی رہے تھے، یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد بھی! یہ اسکیم کیمبرج میں چوہدری رحمت علی نے شروع کی تھی اور اُس پاکستان سے بہت مختلف تھی جو وجود میں آیا۔ اس کے مطابق ہندوستان میں جگہ جگہ اسلامی ریاستیں قائم ہونی چاہیے تھیں اور ہندو اکثریت کے بعض ضلعے پاکستان میں ضرور آنے چاہیے تھے تاکہ ہندوستان والے دبائو میں رہتے۔ مسلم لیگ کو اس اسکیم سے کوئی واسطہ نہیں تھا، ہاں مسلم لیگ نے رحمت علی کی مجوزہ ریاست کا نام ضرور اقبال کی تصوراتی ریاست کے لیے منتخب کرلیا۔ اگر یہ سرقہ تھا تو وہ ایک الگ بحث ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد چوہدری رحمت علی لاہور تشریف لائے تھے اور علانیہ کہنا شروع کیا تھا کہ جو ملک بنا ہے اُس کا اُن کی پاکستان اسکیم سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا تقسیم منسوخ ہونی چاہیے اور وہ از سرِ نو اپنا پاکستان بنانے کی تحریک چلائیں گے۔ یہ ۱۹۴۸ء کی بات ہے اور رحمت علی اس حد تک حکومتِ پاکستان کے لیے دردِ سر بنے کہ بالآخر انھیں ملک سے رخصت کردیا گیا اور پاکستانی پاسپورٹ بھی نہیں دیا گیا، چنانچہ وہ آخر تک برطانوی شہری رہے اور پاکستان کے خلاف مزید تحریریں شائع کرنے کے بعد فوت ہوگئے۔ لیجیے ، صرف اقبال ہی نہیں بلکہ خود رحمت علی بھی کہ رہے ہیں کہ پاکستان ہی کا ’’پاکستان اسکیم‘‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ڈاکٹر مبارک علی کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اتنی وضاحت ضرور کردیں کہ ’’پاکستان اسکیم‘‘ اور ’’پاکستان‘‘ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ مگر میں اپنی جلد بازی میں ڈاکٹر مبارک علی صاحب پر علمی بد دیانتی کا الزام نہیں لگانا چاہتا۔ علمی بد دیانتی اُس وقت ہوگی جب انھیں پوری بات معلوم ہو اور وہ جان بوجھ کر چھپائیں۔ مجھے شبہ ہے کہ شاید ڈاکٹر مبارک علی صاحب کو بھی پوری بات معلوم نہ رہی ہو، کیوںکہ خوامخواہ تحقیق کرنے کی انھیں عادت نہیں ہے۔

تیسری بات، ڈاکٹر مبارک علی نے فرمایا کہ اقبال نے تحریکِ پاکستان میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ جب پاکستان بن گیا تو چونکہ اس کی تخلیق میں اہلِ پنجاب کا بہت کم حصہ تھا لہٰذا اُنھوں نے اپنا پلڑا بھاری رکھنے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ پاکستان کا تصور ہی اقبال نے دیا تھا۔ اس کا مختصر جواب تو میں نے پروگرام میں بھی دیا تھا کہ پاکستان سے اقبال کا تعلق جس سیاست دان نے جوڑا تھا اس کا تعلق پنجاب سے نہیں بلکہ بمبئی سے تھا اور نام اس کا محمد علی جناح تھا۔ قائد اعظم نے قرار دادِ پاکستان والے تاریخی اجلاس میں جو خطبۂ صدارت پیش کیا تھا اگر اُسے پڑھیں (اور میری درخواست ہے کہ مبارک علی بھی اُسے پڑھیں)، تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے الٰہ آباد والے خطبۂ صدارت کو لفظی ردو بدل کے بعد آسان بناکر دُہرایا گیا ہے( مگر اس موازنے کے لیے مبارک علی صاحب کو خطبۂ الٰہ آباد بھی پڑھنا پڑے گا اس لیے چلیے جانے دیجیے)۔

چوتھی بات، مبارک علی صاحب فرماتے ہیں کہ اقبال نے برطانوی سامراج کے خلاف کچھ نہیں لکھا۔ اس شکایت پر واقعی ناطقہ سربہ گربیاں کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ متفرق تحریروں کو چھوڑیے، اقبال کی فارسی کتاب پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق ساری کی ساری برطانوی سامراج کے خلاف ہی لکھی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ضربِ کلیم کا ذیلی عنوان بھی ’’اعلانِ جنگ دَورِ حاضر کے خلاف‘‘ ہے۔ چنانچہ میں نے پروگرام کے دوران یہ بات مبارک علی صاحب کے گوش گزار کی اور نمونے کے لیے ضربِ کلیم کی ’’تابندہ نگیں ہے‘‘ والی نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ پس چہ باید کرد کے اشعار اس لیے نہیں سنائے کہ مبارک علی صاحب کو اس بات پر بہت شدید اعتراض ہے کہ اقبال نے فارسی میں کیوں لکھا۔ اسی ضمن میں مبارک علی صاحب کو یہ اعتراض بھی ہے کہ اقبال نے جارج پنجم کا قصیدہ کیوں لکھا تھا؟ میں انھیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اقبال نے بعض انگریزوں کے قصیدے ضرور لکھے تھے مگر اتفاق سے جارج پنجم ان میں شامل نہیں ہیں۔ تحقیق تو آپ کیا کریں گے کہ پرانی عادتیں بدلنا دشوار ہوتا ہے لیکن اگر ہماری بات کا یقین نہ ہو تو گیان چند صاحب سے دریافت کرلیجیے۔

یہ بھی عرض دوں کہ بظاہر مبارک علی صاحب نے کہیں سے اُس قصیدے کے بارے میں سن لیا ہے جس کا پہلا مصرعہ ہے ’’اے تاجدارِ خطۂ جنت نشانِ ہند‘‘۔ یہ درست ہے کہ وہ ایک انگریز حاکم کے لیے لکھا گیا تھا مگر وہ جارج پنجم یاکوئی اور بادشاہ نہیں تھا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا، مبارک علی صاحب نے اگرچہ لکھا بہت ہے مگر پڑھنے کا انھیں زیادہ شوق نہیں ہے تو اُن میں یہ شوق پیدا کرنے کے لیے میں یہ اشارہ بھی دے دوں کہ جنابِ عالی، جب آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون سا بدبخت انگریز تھا تو آپ کو اقبال کے خلاف اُس سے بھی زیادہ سنسنی خیز بات مل جائے گی جتنی آپ اس وقت کررہے ہیں۔ اُس انگریز کا نام معلوم کرکے آپ اقبال پر ایک بہت سنگین الزام لگاسکیں گے اور ایمان داری کی بات یہ ہے کہ اُس وقت آپ کا جواب دینے میں مجھے بھی ذرا سی دقت ہوگی۔ چلیے اسی بہانے کچھ نہ پڑھنے کی قسم توڑیئے اور ذرا جلدی سے کوئی کتاب کھول کر جھانک لیجیے۔

پانچویں بات، دلچسپ لطیفہ (اسے لطیفہ ہی کہنا چاہیے) یہ ہے کہ مبارک علی صاحب کہتے ہیں کہ اقبال نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا اور قائد اعظم کے نام ان کی خط کتابت محض خط کتابت ہی تھی اسے تحریکِ پاکستان میں ان کی شمولیت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے جواب میں ان سے صرف اتنا پوچھنے کو دل چاہتا ہے کہ حضرت، کیا آپ کو معلوم بھی ہے کہ ۱۹۳۶ء میں اقبال نے مسلم لیگ میں کون سا عہدہ قبول کیا تھا؟ میں یہ سوال اس لیے ان سے پوچھ رہا ہوں کہ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے بنیادی ماخذ دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عام کتابوں میں بھی اس کا جواب مل جاتا ہے۔ دوسرے قارئین ، جنھیں بنیادی ماخذوں کا مطالعہ اتنا ناگوار نہ ہوتا ہو جتنا مبارک علی صاحب کو گزرتا ہے، ان کے لیے یہ عرض کردوں کہ جناح کے نام اقبال کے خطوط جو ۱۹۴۲ء میں شائع ہوئے تھے اور بار بار چھپ چکے ہیں، ان کے دیباچے میں خود قائد اعظم نے تحریکِ پاکستان میں اقبال کے کردار کے حوالے سے بہت ہی معروضی انداز میں بہت سے حقائق پیش کردیے ہیں۔ مطالعہ ضرور کیجیے۔

چھٹی بات، مبارک علی صاحب کہتے ہیں کہ اقبال نے شروع میں ہندوستان کے لیے شاعری کی اور بعد میں صرف مسلم امت کے لیے مخصوص ہوگئے۔ یہ ایک ایسا الزام ہے جس کی تردید اقبال نے اپنی زندگی میں بار بار کی۔ بدقسمتی سے پاکستان بننے کے بعد برسرِ اقتدار طبقے نے بھی مذہب کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اقبال کے نام کو استعمال کیا اور ان حلقوں کی طرف سے بھی یہ مفروضہ بار بار پیش ہوا ہے کہ اقبال مسلم امت کے شاعر تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اقبال کا پیغام تمام انسانیت کے لیے تھا اور یہ محض زبانی دعوے کی بات نہیں ہے۔ اقبال نے جس کتاب کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دیا ہے وہ جاوید نامہ ہے۔ یہ آسمانی سفر نامہ ہے۔ آپ اس کا مطالعہ کرکے دیکھ لیجیے (اور مبارک علی صاحب چونکہ فارسی سے نالاں ہیں تو بہت جلد اس کے آسان خلاصے انگریزی اور اردو میں میری ہی ادارت میں شائع ہونے والے ہیں)۔ جاوید نامہ میں ہندو شاعر کو جنت الفردوس میں دکھایا گیا ہے جب کہ پیغمبروں کے گوشے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول مقبول ﷺ کے ساتھ زرتشت اور مہاتما بدھ کی الواح بھی موجود ہیں۔ میں نے مبارک علی صاحب کو وہاں بھی چیلنج کیا تھا اور یہاں بھی کررہا ہوں کہ وہ بر صغیر کے پچھلے دو سو سال کے ادبِ عالیہ میں کوئی دوسری کتاب دکھائیں جس میں مذاہب کے درمیان افہام و تفہیم کی اتنی وسیع کوشش کی گئی ہو۔ ٹیگور کے کلام کو بھی شام کرلیجیے اور بتائیے کہ اقبال کے سوا بر صغیر کے کون سے بڑے شاعر نے کوشش کی ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے شاہکار میں تمام مذاہب کو سامنے لائے اور ان کی فلسفیانہ باریکیوںکو اپنے طویل رزمیے کے تانے بانے میں استعمال کرے۔

اب ذکر آگیا ہے تو یہ بھی عرض کردوں کہ اقبال کے بارے میں امتِ مسلمہ کا شاعر ہونے کا شوشہ پہلی بار ان کے مترجم نکلسن نے اسرارِ خودی کے انگریزی ترجمے کے دیباچے میں چھوڑا تھا۔ نکلسن کی تصحیح کرتے ہوئے اقبال نے انھیں خط میں لکھا تھا کہ ان کی فارسی شاعری کا مقصد اسلام کو پیش کرنا نہیں ہے، ان کا مقصد تو عالمی نظام کی از سرِ نو تدوین ہے اور اگر اتفاق سے ایک ایسا معاشرتی نظام موجود ہے جو اس کام کو آسان بناتا ہے تو اسے نظر انداز کرنا حماقت ہوگی۔ چنانچہ ’’مشرق سے ہو نو مید نہ مغرب سے حذر کر‘‘ کے مصداق اقبال نے اپنی نظر ہمیشہ وسیع ہی رکھی۔ انھیں مسلم امت کا شاعر قرار دینے میں بہتوں کا فائدہ تھا، چنانچہ یہ غلط مفروضہ پھیلتا ہی گیا مگر جب کبھی اس کا تجزیہ کیا گیا، یہ غلط ثابت ہوا ہے۔ ایک دفعہ خود اقبال کے پاس کچھ ہندو عقیدت مند آئے اور یہی شکایت کی تو اقبال نے اپنے ملازم سے اپنی ساری کتابیں اٹھوا کر ان کے سامنے رکھ دیں اور کہا کہ اب آپ مجھے ایسے اشعار نکال کر دکھائیں جو صرف اسلام سے مخصوص ہوں۔ بہت کم ایسے اشعار نکلے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ ہر شاعر اپنے ثقافتی اور ادبی پس منظر سے اپنے شعر کو رنگین بناتا ہے اور اقبال کے ادبی پس منظر میں بہرحال اسلامی ثقافت کے استعارے اُسی طرح موجود تھے جس طرح ہومرؔ کے یہاں یونانی دیو مالا، ملٹنؔ کے یہاں عیسائیت اور ٹیگورؔ کے یہاں ہندو دیو مالا موجود ہے۔

ساتویں بات، مبارک علی صاحب فرماتے ہیں کہ اقبال نے فارسی میں شاعری اس لیے کی تاکہ وہ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔ خیر، اس بارے میں، میں ان کی معلومات میں اضافہ کرچکا ہوں اور جب میں نے انھیں بتایا کہ اقبال کے اپنے بیان کے مطابق فارسی میں شعر کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ان کے خیالات کم لوگوں تک پہنچیں تو انھیں بہت حیرت ہوئی۔ اگر وہ کچھ لکھنے یا بولنے سے پہلے پڑھ لیا کریں تو ایسی حیرت کے مواقع کم ہوتے جائیں گے۔

ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ اقبال نے فارسی میں شعر کہنا اس وقت شروع کیے جب مثنوی لکھنا شروع کی۔ بات یہ ہے کہ نظم اور غزل کا دامن تنگ ہوتا ہے۔ وہاں ایک طویل بحث اس طرح پیش نہیں کی جاسکتی کہ اس میں پیچ در پیچ کئی طرح کے مباحث کا احاطہ ہوجائے۔ اگر ایسا ہوگا تو اکثر صورتوں میں یہ نظم کی خامی قرار پائے گی۔ مثنوی میں اس کی گنجائش ہوتی ہے۔ چنانچہ اقبال نے اسرارِ خودی بھی پہلے اردو ہی میں لکھنا شروع کی تھی اور وہ اشعار اگرچہ شائع نہیں ہوئے مگر اقبال کے کاغذات میں میری نظر سے گزرے ہیں اور میری لکھی ہوئی اقبال کی سوانح کی دوسری جلد میں شامل ہوں گے۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی اردو میں وہ سب کہنا ممکن نہیں تھا جو اقبال کے ذہن میں تھا۔ فارسی مثنوی میں اس کی روایت موجود تھی کہ وہاں فردوسیؔ، نظامیؔ، رومیؔ اور نہ جانے کس کس بڑے شاعر نے مثنوی کو ایک ایسی صنف کے طور پر پروان چڑھایا تھا جس میں فلسفیانہ خیالات کا تسلسل قائم رہ سکے۔ چنانچہ اقبال کو اسی طرف رجوع کرنا پڑا۔

آٹھویں بات، مبارک علی صاحب کہتے ہیں کہ اقبال ماضی پرست تھے۔ خیر، یہ کوئی نیا الزام نہیں بلکہ دوسرے لوگ جنھوں نے اقبال کو نہیں پڑھا وہ بھی یہ بات عام طور پر کرتے رہتے ہیں۔ ان سے بس اتنی گزارش ہے کہ اقبال کی نثری مطبوعات میں سے کوئی ایک ٹکڑا ہمیں ایسا دکھادیں جس میں انھوں نے ماضی پرستی کی تلقین کی ہو۔ پوری Reconstruction of Religious Thought in Islam یعنی اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید سامنے ہے۔ اس کے علاوہ الٰہ آباد والا خطبۂ صدارت موجود ہے (جسے مبارک علی صاحب نے کم سے کم آج تک تو نہیں پڑھا)۔ اس کے علاوہ اقبال کے مختلف لیکچر اور مضامین ہیں جن کا سلسلہ ۱۹۰۴ء سے شروع ہوتا ہے اور تامرگ یعنی ۱۹۳۸ء تک جاری رہتا ہے۔ میں ان تمام لوگوں کو جنھیں اقبال سے ماضی پرستی کی شکایت ہے، یہ چیلنج کرتا ہوں کہ وہ مجھے اقبال کا مکمل مضمون نہیں بلکہ کسی مضمون کا ایک پیراگراف بھی ایسا دکھادیں جس میں ماضی پرستی کی تلقین کی گئی ہو۔ میں یہ دعویٰ اس بنیاد پر کررہا ہوں کہ اقبال کی یہ تمام تحریریں نہ صرف میں نے پڑھی ہیں بلکہ اقبال کی مفصل سوانح کے لیے مجھے تقریباً حفظ کرنی پڑی ہیں۔

اس کے مقابلے میں اقبال کی تمام نثری تحریروں میں تان اسی بات پر ٹوٹتی ہے کہ ہمیں ماضی پرستی کا دامن چھوڑنا چاہیے۔ میں یہاں کسی ایک آدھ تحریر کی بات نہیں کررہا بلکہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اقبال کے ہر ایک نثری شہ پارے کی بات کررہا ہوں، جی ہاں انھوں نے اپنے ہر نثری شہ پارے میں ماضی پرستی کے خلاف بات کی ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی کا المیہ یہ ہے کہ انھوں نے ایک ایسے معاشرے میں لکھنا شروع کیا جہاں خواندگی کی شرح بہت کم ہے اور پڑھے لکھے لوگ بھی عموماً کتابیں نہیں پڑھتے۔ پھر تاریخ کے معاملے میں تو خدا بھلاکرے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا جنھوں نے اپنی ساری زندگی ہی اس کوشش میں صرف کردی کہ پاکستانی عوام تاریخ سے براہِ راست واقفیت حاصل نہ کرسکیں۔ اس ماحول میں ڈاکٹر مبارک علی صاحب نے باہر کی چھپی ہوئی تحریروں کو دریافت کرکے انھیں اپنے الفاظ میں لکھنا شروع کیا (میرا اندازہ یہی ہے اور اگر یہ غلط ہے تو مبارک علی صاحب بنیادی ماخذوں سے واقفیت ثابت کردیں، میں اپنا خیال بدل لوں گا)۔ظاہر ہے کہ ان تحریروں میں وہ نقطۂ نظر موجود تھا جس سے عوام واقف نہیں تھے۔ چنانچہ کم پڑھے لکھے لوگوں میں بہت قدر ہوئی۔ یہاں سے مبارک علی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ اپنا معیار بلند کرتے مگر اس کی بجائے انھوں نے عوام کی لاعلمی سے فائدہ اٹھایا اور بے دریغ ایسی باتیں لکھنا شروع کردیں جن کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کو زیب نہیں دیتا جو مورّخ نہ سہی مگر مورّخ ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے۔ اگر مبارک علی صاحب کسی تعلیم یافتہ معاشرے میں لکھ رہے ہوتے تو وہاں کے اشاعتی اداروں کے معیار اور قارئین کے ذوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ خود ہی اپنی اصلاح پر مجبور ہوجاتے بلکہ اصلاح کے مواقع بھی انھیں میسر آتے۔ پاکستان میں لکھنے والوں کی سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ انھیں خود ہی اپنا معیار مقرر کرنا پڑتا ہے اور خود ہی اپنی اصلاح کرنی پڑتی ہے ورنہ کوئی اور آسرا تو ہے نہیں۔ وہ چار لوگ جنھوں نے کچھ پڑھا لکھا ہوتا ہے وہ میری طرح اُن کی غلطیوں کو طویل مدت تک اس لیے نظر انداز کرتے رہتے ہیں کہ چلو کوئی لکھنے والا تو ہے جو اس گھٹن کی فضا میں الٹی سیدھی ہی سہی کچھ مختلف باتیں کررہا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ مبارک علی صاحب نے اپنے معیار کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے پڑھنے والوں کی لاعلمی سے فائدہ اٹھانے کو ایک علمی کاروبار بنالیا ہے۔ بغیر حوالوں کے بات کرنا اور بہت سی غلط باتیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط ہیں، محض اس لیے کردینا کہ کوئی ان کی تردید نہیں کرے گا، کیا یہ عوام کی لاعلمی سے فائدہ اٹھانا نہیں ہے؟ کیا میں سنجیدگی سے یہ توقع کرسکتا ہوں کہ مبارک علی اس بات سے ناواقف تھے کہ اقبال نے برطانوی سامراج کے خلاف بہت کچھ لکھا تھا اور کیا مبارک علی صاحب نے واقعی اقبال کی کتابوں ضربِ کلیم اور پس چہ باید کرد کے سرورق بھی کبھی نہیں دیکھے تھے؟ اگر دیکھے تھے تو وہ اس طرح کہہ سکتے تھے کہ اگرچہ اقبال نے سامراج کے خلاف لکھا مگر ان کے خیال میں کافی نہیں لکھا۔ عوام سے یہ جھوٹ بولنا کہ اقبال نے کبھی اس موضوع پر لکھا ہی نہیں، یہ ایک علمی جرم ہے۔

میری تحریر میں تلخی اس وجہ سے نہیں ہے کہ مجھے مبارک علی صاحب کے نقطۂ نظر سے اختلاف ہے یا نہیں ہے۔ جو لوگ اُن پر ہندوستانی ایجنٹ ہونے یا ہندوستانی نظریات کی ترویج کا الزام لگاتے ہیں مجھے ان سے بھی کوئی ہمدردی نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ سنجیدگی کے ساتھ اس قسم کے الزام لگانا ایک لچر حرکت ہے۔ اگر یہ کوئی نقطۂ نظر رکھتے ہیں تو ان کا حق ہے اور اگر اُس میں ہندوستانی مصنفین کا اثر ہے یا مار کسی اثرات ہیں تو محض اس بات کو اعتراض کے قابل نہیں سمجھا جاسکتا۔ خود قائد اعظم کی سیاسی تربیت میں بعض غیر مسلم رہنمائوں کا ہاتھ تھا اور اقبال اگر ویدانت، شاستروں اور گیتا سے متاثر نہ ہوتے تو ان کے کلام میں وہ رنگ نہ ہوتا جو ہے۔ مبارک علی نے اگر ہندوستانی اور مارکسی نظریات سے استفادہ کیا ہے تو ایک فرضِ کفایہ ادا کیا ہے کیوں کہ اگر ہم زندہ قوم ہیں اور اپنی نشونما چاہتے ہیں تو ہمارے یہاں دنیا کے ہرنقطۂ نظر سے واقفیت بھی ہونی چاہیے اور اس کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو صحت مند بحث کا وہ دروازہ جسے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی ہٹ دھرمی نے ہمارے ملک میں تاریخ نگاری پر بند کردیا تھا، بند ہی رہے گا۔

مجھے ڈاکٹر مبارک علی سے وہی شکایت ہے جو انھیں بعض دوسرے تاریخ نگاروں سے ہے، یعنی یہ کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں، غلط حقائق پیش کررہے ہیں اور اس میں وہ اشتیاق حسین قریشی سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ مبارک علی صاحب بھی وہی کچھ کررہے ہیں مگر بغیر معلومات کے۔ مبارک علی صاحب کسی اور نظریے کی خاطر حقائق کو مسخ کرتے ہیں اور جھوٹ بھی بولتے ہیں۔

یہ المیہ ایسے ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے نظریے کو علم سمجھ بیٹھے۔ نظریہ ایک چیز ہوتا ہے مگر علم کچھ اور ہوتا ہے۔ تاریخ کسی نظریے کی پابند نہیں ہوسکتی، کیوں کہ تاریخ خود ایک نقطۂ نظر ہے۔ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ سمجھنے کا نقطۂ نظر۔ مثال کے طور پر مبارک علی صاحب کا نقطۂ نظریہ ہے کہ اہلِ پنجاب نے پاکستان بننے کے بعد دوسرے صوبوں کی حق تلفی کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات درست ہو یا نہ ہو مگر اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ اقبال کو تصورِ پاکستان کا بانی قرار دینا بھی اہلِ پنجاب کا کام ہوگا اور یہ کام پاکستان کی تشکیل کے بعد ہوا ہوگا، یہ ایک مورّخ کو زیب نہیں دیتا۔ ایک مورّخ کا کام یہ ہے کہ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے کے اخبارات کا مطالعہ کرے، اُس زمانے کے شواہد اور بنیادی ماخذوں کو دیکھے اور پھر معروضی طور پر یہ فیصلہ کرے کہ کیا اقبال کا تصورِ پاکستان سے تعلق تھا یا نہیں اور ان کے بارے میں پاکستان کے قیام سے پہلے کیا کہا جاتا تھا اور بعد میں کیا کہا گیا۔ مجھے یہ کہنے کا حق اس لیے ہے کیوں کہ میں ان میں تمام دقت طلب مراحل سے خود گزر چکا ہوں۔

نظریاتی تاریخ کو میں زیادہ وقعت کی نظر سے نہیں دیکھتا مگر بہرحال یہ ایک صنف ہے۔ تاہم اس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو مبارک علی صاحب سمجھ بیٹھے ہیں۔ نظریاتی تاریخ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام تاریخی حقائق معلوم کرکے اپنے نظریے کی تائید میں انھیں ترتیب دے کر پیش کیا جائے۔ یہ نہیں کہ ایک نظریہ قائم کرکے فرض کرلیا جائے کہ تاریخ میں جو کچھ بھی ہوا ہوگا وہ اس کے مطابق ہی ہوا ہوگا اور پھر اپنی طرف سے تاریخی واقعات ایجاد کیے جائیں جو آپ کے نظریے کو تقویت دیتے ہوں۔ یہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے والی بات بھی نہیں بلکہ یہ تو محض جھوٹ بیچنے کا کاروبار ہے۔

اشتیاق حسین قریشی نظریاتی مورّخ تھے اور انھوں نے ہماری تاریخ کو مسخ کیا۔ مبارک علی صرف دروغ گو ہیں جنھوں نے تاریخ لکھی ہے مگر پڑھی نہیں ہے۔ ان کے ہاتھوں تاریخ کا کیا انجام ہوتا ہے، اس کے بارے میں مجھے اب تشویش ہونے لگی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سلیم منصور خالد on

    خرم علی صاحب اگر اشتیاق حسین قریشی صاحب کو الگ سے زیر بحث لاتے تو اچھا تھا۔
    اس مختصر مضمون میں مبارک علی صاحب کی “ تاریخ گری”
    کا تجزیہ تا حال تشنگی لیے ہوئے ہے۔ خرم صاحب جتنے وسیع المطالعہ اور
    سنجیدہ محقق ہیں ، لگتا ہے کہ ابھی انھوں نے محض آوٹ لائین دی ہے، ان شا اللہ
    وہ مبارک صاحب کو پوری “ مبارک “ دیں گے ، اور ان کی تحلیل نفسی کرکے
    مبارکی یاوہ گوئی کا بھانڈہ پھوڑیں گے۔

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20