آمریت کا نشان! روٹی، کپڑا اور مکان —– جہاں تاب حسین

0

ستّر کی دہائی میں ایک نعرہ بے حد مقبول ہوا۔ اس نعرے کے بانی مبینہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق یہی نعرہ سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری صاحب بھی ۲۰۱۷ میں لگا چکے ہیں اور آج اُن کے فرزند بلاول زرداری بھی یہی نعرہ لگا رہے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان آخر ہے کیا؟ در اصل یہ اشیا کسی بھی جاندار کی ضروریات کا بنیادی جُز ہیں، یعنی خوراک، لباس اور رہائش۔ آپ سوچیں گے کہ آخر میں نے اِن اشیا کو انسانی ضروریات کے بجائے ہر جاندار کی ضرورت کیوں قرار دیا؟ چلو خوراک تو ہر جاندار کی ضرورت ہےلیکن لباس اور رہائش کا انسانوں کے علاوہ کسی اور مخلوق سے کیا سروکار؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ ذرا غور کریں کہ قدرت نے ہر جاندار کو اُس کے ماحول کے مطابق جِلد اور مقام عطا کیا ہے۔ برفانی ریچھ اپنی موٹی چمڑی کے سبب منفی درجہ ٔحرارت بھی برداشت کر جاتا ہے۔ سمندر کے کھارے پانی میں بقا کے لیے قدرت نے مچھلیوں اور دیگر آبی جانداروں کو مخصوص چمڑی عطا فرمائی ہے۔ اسی طرح چرند، پرند اور آبی مخلوقات کے اپنے اپنے مخصوص علاقے ہیں جہاں اُن کے سامانِ زندگی کی ہر شیٔ میسّر آجاتی ہے اور موسمی تبدیلیوں کے سبب زمینی اور آبی مخلوقات نقلِ مکانی بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس تمام نظام پر نظر دوڑائیں تو آپ بخوبی جان جائیں گے کہ اس قسم کا نعرہ لگانا محض حماقت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایک دفعہ کسی پیغمبرِ خدا نے خواہش کا اظہار کیا کہ اے رب میں کسی یوم تیری تمام مخلوق کی دعوت کا انتظام کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تُو ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو کوشش کر کے دیکھ لے۔ یو ں اُس پیغمبر نے دعوت کی تیاری شروع کر دی اور تمام جہاں میں اعلان بھی کروا دیا کہ فلاں دن تمام مخلوقات کی دعوت ہے۔ دعوت کا دن آیا تو مخلوق جمع ہونے لگی یہاں تک کے دعوت گاہ میں تِل دھرنے کی جگہ تک نا بچی۔ اچانک ایک دیو ہیکل مچھلی سمندر سے نمودار ہوئی ہے اور آناً فاناً دعوت کے لئے تیار شدہ تمام کھانا ہڑپ کر کے رفو چکر ہوگئی اور پیغمبر سمیت تمام مخلوق دیکھتی ہی رہ گئی۔ گویا یہ کسی مخلوق کے بس میں ہے ہی نہیں کے وہ دوسری مخلوقات کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے یہ تو سب توفیقات کے کھیل ہیں۔ ارادہ ئے ایزدی کے اس کارخانے میں اس طرح کے نعرے لگانے والے فرعون و نمرود ہی ہو سکتے ہیں جو اپنی آمریت کے نشے میں شرابور ربوبیت کا دعوہ کر بیٹھتے ہیں۔

مشہور چینی کہاوت ہے! بھوکے کو مچھلی کھلانے کے بجائے اُسے مچھلی پکڑنا سکھا دو۔ ہر چند کہ فطرت بھی تو ہمیں یہی سکھاتی ہے، چرند و پرند پے ذرا غور تو کریں جب اُن کی اولاد کم سن ہوتی ہیں تو وہ اپنے منہ کا نوالہ تک اُسےدے دیتے ہیں لیکن تربیت اور ایک خاص عمر گذر جانے کے بعد وہ اپنے بچوں کو حالات کے رحم کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن شومئے قسمت تو دیکھئے ہماری قوم کے مبینہ لیڈران آج بھی ہمیں روٹی کپڑا اور مکان کے گورک دھندے میں الجھا کر قوم و ملّت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ میرے مطابق روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ در اصل آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے گویا ایک ایسا حاکم جو اپنے عوام کو بنیادی ضروریات کے چکّر میں الجھا کر اپنے اقتدار کو دوام دینا چاہتا ہے۔ اُسے اس بات کی فکر نہیں ہے کہ میری قوم تعلیمی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے کس درجے پر ہے۔ یعنی وہ ایک ایسا معاشرہ مرتّب کرنا چاہتا ہے جس کے مکینوں کا فہم محض بنیادی ضروریات تک محدود رہے۔ اُن میں کوئی مفکر پیدا نہ ہو، کوئی فلسفی جنم نہ لے پائے، علم و آگہی کے تمام دریچے اُن پر بند کر دیئے جائیں۔ یہ ایک ایسی آمرانہ سوچ ہے جس کے مطابق عوام معمولی کیڑے مکوڑوں کی مانند ہیں اور یہ کیڑے مکوڑے سرمایہ دارطبقے کے آلۂ کارسے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، اُنہیں استعمال کیا جاتا ہے اور اُتنا ہی تیل دیا جاتا ہے کہ یہ متحرّک رہ سکیں۔ اگر اُن میں کوئی ناکارہ ہو جائے تو اُسے کُوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے اور اُس کی جگہ دوسرا پرزہ فٹ کر دیا جاتا ہے۔ اِس فلسفے کے تحت عوام کو قابو میں رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اِنہیں حقارت سے دیکھا جائے۔ اگر اِنہیں آدمی سمجھا گیا تو یہ خود کو اہمیت دینے لگیں گےاور پھر ایسے عوام کو زیرِ تسلّط رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

بھٹو صاحب نے نہ صرف کیپٹل ازم کو سوشالیزم کا لبادہ اُڑھا کر قوم کی تمام جائداد ھڑپ لی بلکہ انہوں نے چیئر مین ماؤ کی عطا کردہ کیپ پہن کر یہ بات بھی ثابت کر دی کہ کمیونزم بھی سرمایہ دارانہ نظام ہی سے جنم لینے والی ایک تحریک ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ موجودہ زمانے میں رائج شدہ تمام معاشی اور سماجی افکار در اصل سرمایہ دارانہ نظام کو دوام بخشنے کے لئے ہی گھڑے گئے ہیں جو خدا کے عطا کردہ رزق کی مساوی تقسیم کے نظام کی سراسر مخالفت میں بنائے گئے ہیں، جن کا اصل مقصد انسانیت کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سُنا ہے کہ بھٹّو صاحب تہتّر کے آئین سمیت پاکستان کو بہت کچھ دے گئے مگر سد افسوس کہ وہ قوم کو کوئی ڈنگ کا نعرہ نہ دے پائے۔ آج میں آپ کی خدمت میں ایک ایسا لازوال نعرہ پیش کر رہا ہوں جو ہماری راہوں سمیت منزلیں بھی روشن کر دے گا۔ اِسے زہن نشیں کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر اور جدو جہد ہماری اوّلین ذمہ داری ہونی چاہئے اور وہ نعرہ ہے، تا ابد حرّیت تا ابد عدالت۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20