جیکسونین بغاوت : امریکی پاپولزم (عوامیت پسند تحریک) اور لبرل آرڈر ۔۔ والٹر رسل میڈ ( Walter Russel Mead) ترجمہ: اسامہ مشتاق

0

ستر سالوں میں پہلی دفعہ امریکی عوام نے ایک ایسے صدر کا انتخاب کیا ہے جو اُن پالیسیوں، نظریات اور اداروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے لوازمات ہیں۔ کسی کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی واضح صورت کیا ہوگی یا نئے صدر کی ترجیحات اور میلانات کیسے بدلیں گے جب اسے مختلف واقعات اور ان سے جنم لینے والے بحرانوں کے ایک سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن صدر روز ویلٹ کی حکومت کے بعد سے امریکی خارجہ پالیسی پر ایسی بنیادی بحثیں اور کڑی تنقیدیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔
جنگِ عظیم دوم کے بعد سے امریکی گرینڈ سٹریٹیجی (عظیم حکمتِ عملی) کی صورت گری دو بڑے مکاتبِ فکر نے کی۔ یہ دنوں مکاتب اس مقصد کے حصول میں متفق تھے کہ ایک ایسا مستحکم عالمی نظام تشکیل دیا جائے جو ” امریکہ مرکز ” ہو۔ ہملٹونینز (Hamiltonians) کا ماننا یہ تھا کہ ” عالمی نظام کے گردش نما ” کے طور پر برطانیہ کی جگہ لینا امریکہ کے وسیع تر مفاد میں ہے، جیسا کہ امریکی صدر ولسن کے مشیر ایڈورڈ ہاؤس نے یہ بات جنگِ عظیم اول کے دوران کہی۔ اس مقصد کے تحت امریکہ نے اپنے تمام تر مالی و دفاعی وسائل ایک ایسی عالمی معیشت کی تشکیل میں لگا دیے جو نہ صرف سوویت یونین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا راستہ روک سکے بلکہ امریکی مفادات کو بھی پروان چڑھائے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد , ہملٹونینز ایک ایسے عالمی لبرل نظام کے قیام کے لیے مزید پُرجوش ہو گئے جو بنیادی طور پر معاشی خطوط استوار ہو۔ ولسونینز (Wilsonians) کا بھی یہی مانا ہے کہ ایک عالمی لبرل نظام کا قیام امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے لیکن وہ اس نظام کو اقتصادیات سے زیادہ اقدار پر مبنی تصور کرتے ہیں۔ ولسونینز کے نزدیک دیگر ملکوں میں بدکردار اور آمرانہ حکومتیں دنیا میں موجود تنازعات اور تشدد کی ذمہ دار ہیں اور ان ممالک میں انسانی حقوق، جمہوری طرزِ حکومت اور قانون کی حکمرانی کے فروغ سے ہی دنیا میں قیامِ امن ممکن ہے۔
سرد جنگ (Cold War) کے آخری مراحل میں اس مکتبِ فکر کا ایک حصہ ” آزاد خیال اداریت پسند (Liberal Institutionalists) ” عالمی اداروں اور پہلے سی کہیں زیادہ مربوط عالمی انضمام کا راگ الاپنے لگا، جبکہ اس کی دوسری شاخ سے تعلق رکھنے والے ” نو قدامت پسندوں (Neoconservatives) ” کا یقین یہ تھا کہ اس لبرل ایجنڈے کو یا تو واشنگٹن میں موجود امریکی حکومت کی یکطرفہ کوششوں سے یا ہم خیال ممالک کے باہمی اتحاد سے بہترین طور پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ان سیاسی دھڑوں کے اختلافات شدید اور ضمنی نوعیت کے تھے، لیکن یہ ایک مشترکہ پراجیکٹ کی جانب ان کی ایک باہمی وابستگی کی عکاسی بھی کرتے تھے۔ حالیہ دہائیوں میں یہ پراجیکٹ (عالمی لبرل ایجنڈا) جب شدید دباؤ کا شکار ہوا تو امریکی خارجہ پالیسی پر عالمگیریت کے حامیوں کی گرفت کمزور پڑ گئی۔ قومیت پرستوں (Nationalists) کی پکارعوام میں مقبول ہونے لگی اور عالمگیری سوچ کے حامل سیاسی گروہوں کے نظریات نقار خانے میں توتی کی آواز بن کے رہ گئے . عوام عالمی نظام کے اس پراجیکٹ کے طلسم سے تیزی سے نکل رہے تھے اور اسے ایک مردہ سفید ہاتھی سمجھ رہے تھے اور امریکہ کی ان عالمی لبرل پالیسیوں کو چنوتی دے رہے تھے جن کا پرچار کرنے میں امریکی محکمہ خارجہ دن رات مگن تھا۔
جیفرسونین ( Jeffersonian) اور جیکسونین (Jacksonian) مکاتبِ فکر، جو دوسری جنگِ عظیم سے قبل نمایاں حیثیت کے حامل تھے اور لبرل نظام کے زمانہِ عروج میں عوامی مقبولیت سے محروم ہو گئے تھے، اب اپنے مکافاتِ قہر کے ساتھ دوسرا جنم لے چکے تھے۔
جیفرسونین , جو آج کل نام نہاد ” حقیقت پسند ” بنے بیٹھے ہیں، کا کہنا یہ ہے کہ ریاست متحدہ ہائے امریکہ کی عالمگیری حیثیت کو گھٹانے سے اس کی خارجہ پالیسی کے اخراجات اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات میں کمی آئے گی۔ یہ امریکی مفادات کو تنگ فکری سے متعین کرتے ہیں اور ان مفادات کو پروان چڑھانے کے محفوظ ترین اور کم سے کم لاگت والے ذرائع استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ” آزاد ر و (Libertarians) ” سیاسی دھڑے اس مجوزہ حل کی کچھ حدود مقرر کرتے ہیں اور انہیں بائیں بازو کے ایسے اتحادی سیاسی گروہ میسر ہیں جو امریکہ کی دوسرے ملکوں کے معاملات میں بے جا مداخلت کی مخالفت کرتے ہیں، فوجی اخراجات کم کرنا چاہتے ہیں اور حکومتی اقدامات اور وسائل کو از سرِ نو صرف اور صرف امریکہ پر مرکوز کرنے کے حامی ہیں۔
کینٹکی کے سینیٹر رینڈ پال اور ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز دونوں یہ خیال کرتے تھے کہ وہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے Primary Elections میں جیفرسونین تحریک کی بلند لہر کی کفِ موج پر سوار ہو کر امریکی صدارت کے ساحل تک پہنچیں گے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات بھانپ لی کہ امریکہ میں ابھرتی ہوئی اصل قوت جیفرسونین تخفیف پسندی (Jeffersonian Minimalism) نہیں بلکہ جیکسونین عوامیت پسند قوم پرستی (Jacksonian Populist Nationalism) ہے۔ ٹرمپ کے سیاسی حریف یہ بات سمجھنے میں ناکام رہے۔
ٹرمپ نے جس نمایاں امریکی عوامیت پرستی کو اختیار کیا اس کی جڑیں امریکہ کے پہلے عوامیت پرست صدر اینڈریو جیکسن کے افکار و نظریات کی زمین میں پیوست ہیں۔ جیکسونینزم ٹرمپ کی جذباتیت پر مبنی سیاست کا مغز ہے۔ اس فکر کے مطابق ریاست متحدہ ہائے امریکہ کوئی ایسی سیاسی وحدت ہرگز نہیں جسے تحریکِ تنویر (Enlightenment) کی کوکھ سے جنم لینے والے دانشورانہ آدرشوں کو رو بہ عمل لانے یا کسی عالمگیری مشن کی تکمیل کے لیے تخلیق کیا گیا ہو۔ اس بات کے برخلاف یہ امریکی عوام پر مشتمل ایک قومی ریاست ہے اور اس کی بنیادی ترین ذمہ داری داخلی نوعیت کی ہے۔ جیکسونینزم کے پیروکار امریکی استثنائیت American Exceptionalism کو امریکی نظریات کے عالمگیری پھیلاؤ اور رچاؤ کے عمل کے طور پر نہیں دیکھتے اور نہ ہی اسے دنیا کو بدلنے کا کوئی منفرد امریکی فریضہ سمجھتے ہیں۔۔  ان کی نظر میں ریاست کی جانب سے امریکی شہریوں کی مساوی حیثیت اور ان کے وقار کا تحفظ امریکہ کو باقی دنیا سے ممتاز بناتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی حکومت کی بنیادی ذمہ داری امریکی شہریوں کی نجی زندگی میں کم سے کم مداخلت کرتے ہوئے ان کے جان،مال اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ جیکسونین عوامیت پرستی کبھی کبھار تو خارجہ پالیسی پر اپنے موقف کے ساتھ سامنے آتی ہے یا پھروقفے وقفے سے سیاست میں اپنی جھلک دکھلاتی ہے۔ اس فکر نے اس الیکشن کے عمل میں خود کو متحرک رکھنے کے لیے ملک کی داخلی سیاست کی مخصوص قوتوں اور میلانات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ مبصری کی آراء کے مطابق امریکی شہروں کی غریب آبادیوں میں تنخواہوں اور اجرتوں میں نہ ہونے کے برابر بڑھوتری، غیر کاریگر افراد کے لیے مناسب ملازمتوں کی نافراہمی، شہری زندگی کی کھوکھلاہٹ اور منشیات کے استعمال میں اضافہ جیسے عوامل جیکسونینزم کے مقبول ہونے کا باعث ہیں۔ لیکن یہ بات اس صورتحال کی جزوی اور نامکمل عکاسی کرتی ہے۔ شناخت اور ثقافت کے مسائل امریکی سیاست میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور 2016 ء کے امریکی الیکشن بھی ان سے ہرگز مبرا نہ تھے۔جیکسونینزم کے امریکی پیروکار اپنے ہی ملک میں خود کو محصور، اپنی اقدار کو غیر محفوظ اور اپنے مستقل کو مخدوش جاننے لگے تھے۔ انہیں ٹرمپ کی صورت میں جیکسونینزم کی عوامی سرحدوں پر اس کی حیاتِ نو کے لیے لڑتا ہوا آخری جانباز دکھائی دے رہا تھا۔
جیکسونین امریکہ، اس کے سیاسی تعاملات اور مفادات کے لیے کچھ واقعات ہمیشہ عمل انگیزی کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک جنگ ہے۔ جب کوئی دشمن ملک پر حملہ آور ہوتا ہے، جیسکونینز اس کے دفاع کے لیے اولین صفوں میں موجود ہوتے ہیں۔اسی طرح ملک کی داخلی سیاست میں جیکسونینزم کے بڑھتے ہوئے کردار کا بنیادی ترین محرک یہی اندیشہ ہے کہ اشرافیہ کے سازشی گروہ اور امریکہ میں آباد دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن گھر کا بھیدی بن کر محب وطن جیکسونینز امریکیوں کی لنکا ڈھا رہے ہیں اور ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ جیکسونینز کو اس بات نے پریشان کر رکھا ہے کہ بد اندیش طاقتیں امریکی حکومت پر قابض ہیں اور وہ ریاست متحدہ ہائے امریکہ کے بنیادی کردار اور اصل چہرے کو بگاڑ رہی ہیں۔ جیکسونینز کرپشن کو حقیقی سیاست کا ناقابلِ استیصال جزو گردانتے ہیں اور اس کو بنیاد بنا کر اپنے حریفوں پر الزام تراشی نہیں کرتے۔ یہ اس معاملے میں بہت حساس ہیں کہ جب امریکی سیاستدان عوام اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے ان پر ظلم کرنے میں ملوث ہو۔ حالیہ چند سالوں سے جیکسونینزم کی حامی یہ محسوس کر رہے تھے کہ امریکہ کی دونوں بڑی پارٹیوں کی اشرافیہ اور سیاسی انتظامیہ عوام کے مفادات کے خلاف گٹھ جوڑ کر چکی ہے۔
جیکسونینز کے ہاں محب وطن ہونے کی تعریف جیکسونین عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی اقدار کی حفاظت ہے اور ان کے مطابق امریکی انتظامیہ اب ہرگز محب وطن نہیں رہی۔ اگر ان کی یہ تعریف درست مان لی جائے تو ان کا یہ الزام مکمل طور پر غلط نہیں۔ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد انسانی بنیادوں پر پردیسیوں سے ہمدردی اور نرم رویہ رکھتی ہے۔ لیکن وطن پرست جیکسونینز کے ہاں ایسی اخلاقی رواداری صرف ہم وطنوں تک محدود ہے۔ اگر” کوزموپولیٹنز ( (cosmopolitans ” جیکسونینز کو پسماندہ ذہنیت وطن پرست سمجھتے ہیں تو جیکسونینز بھی اس اشرافیہ کو اپنے ہم وطنوں اور امریکی شہریوں کا غدار کہنے میں ہرگز پیچھے نہیں۔
پچھلی چند دہائیوں سےامریکی انتظامیہ نے سماجی شناخت پر مبنی سیاست ((Identitarian Politics کو قبول کرنے میں تامل سے کام لیا ہے جس سے جیکسونینز میں اشرافیہ کی حب الوطنی پر مزید بے اعتباری نے جنم لیا ہے۔ دورِ حاضر کا امریکی منظر نامہ ایسی شہری، سیاسی اور علمی تحریکوں سے بھرا ہوا ہے جو مختلف ثقافتی، نسلی، جنسی اور مذہبی شناختوں کا اعتراف کرتی ہیں۔ امریکی اشرافیہ نے ہمیشہ افریقی امریکن، ہسپانوی نسل کے تارکینِ وطن، خواتین، جنسی بنیادوں پر مختلف LGBTQ کمیونٹی، امریکہ کے مقامی ریڈ انڈین باشندوں اور امریکی مسلمانوں کی ثقافتی شناخت کو تسلیم کیے جانے کی تمام آوازوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ صورتحال جیکسونینز کے لیے بہت پیچیدہ ہے کیونکہ وہ خود کو اس میں سے کسی گروہ کا حصہ نہیں سمجھتے۔ امریکہ کے مختلف یورپی نسلی گروہوں کی کہانیاں تاریخ میں زبان زدِ عام رہی ہیں اور اس بنیاد پر گورے بھی کسی خاص یورپی نسل سے اپنی شناخت جوڑ سکتے ہیں، مثلاً اطالوی امریکی یا آئرش امریکی۔ لیکن یہ پرانی نسلی شناختیں امریکی سماج سے مٹ گئیں اور اب خود کو کسی خاص یورپی نسل سے جوڑنا اور ” گوری شناخت ” پر اصرار کرنا معیوب گردانا جاتا ہے۔ بہت سے گورے امریکی بھی اب سماجی شناخت کی اہمیت اور نسلی اقدار پر گفتگو کرتے ہیں جنہوں نے گوروں کے علاوہ باقی تمام گروہوں کو سماجی اور معاشی فوائد سے فیضیاب کیا۔ وہ امریکی جو ایک سے زائد یورپی قوموں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں یا وہ کروڑوں لوگ جو صرف امریکی کہلاتے ہیں، ان کے لیے خود کو کسی نسلی یا ثقافتی ورثہ سے جوڑنا اب تقریباً ناممکن ہے۔ اس بات کی کئی وجوہات ہیں جو امریکہ کی تاریخ پر علمی پَرتَو سے اثر انداز ہونے والے ایک پیچیدہ عمل سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن یہ وجوہات بے روزگار امریکی مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے لیے اذعان کا درجہ نہیں رکھتیں۔ گورے ووٹرز کی جانب بڑھتی ہوئی مزاحمت (جسے وہ سیاسی اصلاح گردانتے ہیں) اور اپنی واضح سماجی شناخت پیدا کرنے کی تمنا بعض دفعہ دوسرے لوگوں کو نسل پرستی لگتی ہے۔ کچھ گروہ اپنی شاخت کو قائم رکھنے کے لیے مثبت معنوں میں نسل پرست کہلانا پسند کرتے ہیں اور خود کو نسل پرست کہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ نام نہاد دائیں بازو کے شدت پسندوں(Alt-right) میں اضافے کا یہی پسِ منظر ہے۔ حالیہ برسوں میں افریقی امریکیوں کے تحفظ کی تحریک Black Lives Matter Movement اور ان کے پولیس مخالف جذبات کے پرتشدد اظہار نے جیکسونینز کی ایک شناختی اجنبیت میں اضافہ کیا ہے جو محض نسلی ہرگز نہیں۔ جیکسونینز طبعاً پولیس اور فوج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں اولین محاذوں پر ریاست اور معاشرے کی حفاظت کرنے والوں سے بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں (جو عام طور کسی بھی لڑائی یا جرم کے سدباب میں ہوا کرتی ہیں)۔ جیکسونینز کا ماننا ہے کہ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ دھرے براجمان لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پولیس پر تنقید کریں جوعوام کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتی ہے اور شدید دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ تنقید غیر اخلاقی اور پولیس سے زیادتی ہے۔ وہ سیاسی مظاہرے جنہیں بہت سے امریکی انصاف کی جستجو سمجھتے ہیں، جیکسونینز کے نزدیک وہ قانون کی عمل داری قائم رکھنے والے اداروں اور عوامی مفا د پر حملہ ہیں۔
مزید دو بڑے مسائل Gun Control Regulations اور دوسرے ملکوں کے امریکہ میں آباد تارکین وطن ہیں جنہوں نے بہت سے ووٹرز میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ امریکہ کی بڑی سیاسی جماعتوں کی اشرافیہ بنیادی ملکی اقدار کے خلاف کام کر رہی ہے۔ وہ امریکی جو جیکسونین نہیں وہ اس احساس کی گہرائی کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ ان مندرجہ بالا مسائل نے جیکسونینز کے اندر امریکی اشرافیہ اور comopolitans کے خلاف کتنا عناد پیدا کیا ہے اور اس شک کو پروان چڑھا رہا ہے کہ امریکی اشرافیہ عوام پر اپنے تسلط کو مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ہتھیار رکھنے کی آزادی جیکسونین سیاسی کلچر میں ایک منفرد اور مقدس مقام رکھتی ہے اور امریکی آئین کی دوسری ترمیم ان کے نزدیک اہم ترین ہے۔ جیکسونین امریکی اعلانِ آزادی (Declaration Of Independence ) میں محفوظ انقلا ب لانے کی آزادی کو ظلم کے خلاف آزاد لوگوں کے دفاع کے طور پر آخری جائےپناہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک عوام کے اس بنیادی حق کی فراہمی اسلحے کے بغیر ناممکن ہے۔ ان کے نزدیک ریاست پر انحصار کیے بغیر اپنے خاندان کا تحفظ ہر امریکی کا بنیادی حق ہے اور یہ اس بات کو ایک فرضی آدرش سے زیادہ ایک عملی ضرورت سمجھتے ہیں جس کی،ان کے مطابق، ریاست کی اشرافیہ کو کوئی پروا نہیں۔ انہیں تشویش ہے کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کی اشرافیہ انہیں غیر مسلح کرنا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے عوامی جگہوں پر ہونے والی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں Gun Control Regulation کے بعد اسلحے کی خرید و فروخت میں مزید اضافہ ہوا ہے، اگرچہ جرائم کا تناسب پہلے سے کم ہو چکا ہے۔
اسی طرح امیگریشن کے مسئلے پر جیکسونینز کے بنیادی موقف کو سمجھنے میں دوسرے لوگ ناکام رہے ہیں۔ اس بات پر بہت بحث مباحثہ ہو چکا ہے کہ آباد کار تارکین وطن کی وجہ سے امریکہ کے غیر کاریگر مزدوروں کی آمدنی پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں یا یہ سب اجنبیوں سے نفرت اور اسلام بیزاری کا شاخسانہ ہے۔ 2016 ء کے جیکسونینز کے نزدیک یہ امیگریشن دراصل انہیں دیوار سے لگانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ ڈیموکریٹس میں گورے ووٹرز کی کمی کے باعث ” بڑھتی ہوئی جمہوری اکثریت ” کی امید افزاء تقاریر بھی جیکسونینز کے اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ یہ لوگ امریکہ میں آبادی کے تناسب کو دانستہ طور پر تبدیل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اشرافیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کی تیزی سے بڑھتی آباد کاری کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور غیر قانونی امیگریشن پر ایک حرف نہیں کہتی تو وہ اسے کوئی آدرشی اصول نہیں گردانتے۔ ان کے نزدیک اشرفیہ کا یہ عمل جیکسونین عوام کو طاقت کے سیاسی، ثقافتی اور آبادیاتی دائرے سے باہر نکالنے کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ دہشت گردی کے حملوں کی حالیہ لہر، امیگریشن اور انفرادی تحفظ کے مسائل نے ان میں اشرافیہ سے نفرت کا زہر گھول دیا ہے۔ اگر دریا کو کوزے میں بند کریں تو نومبر میں امریکی عوام نے کسی پارٹی کے حق میں نہیں بلکہ امریکہ کی سیاسی اشرافیہ اور ان کے Global Cosmopolitan نظریے کے خلا ف ووٹ ڈالا۔ ٹرمپ کے اکثر ووٹرز نے کسی خاص نئے عمل کی حمایت میں نہیں بلکہ امریکی عوام کے مفادات کے خلاف پروان چڑھنے والی تحریک کو روکنے کے لیے سرگرم تھے جو ان کے مطابق ان کے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئی تھی۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی پر اس سیاسی تبدیلی کے اثرات دیکھنا ابھی باقی ہیں۔ ماضی کے بہت سے امریکی سربراہان Oval Office میں پہنچ کر اپنے نظریات کو تبدیل پر مجبور ہوئے ہے اور صدر ٹرمپ بھی اس عمل سے ہرگز مبرا نہیں ہیں۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کی یہ غیر روایتی پالیسیاں کیا نتائج مرتب کرتی ہیں۔ جیسکونینز کو ماضی میں ان کے کئی” ہیروز” نے مایوس کیا ہے اور اس کے نتیجے میں جیکسونین عوام نے ان ” ہیروز ” کو اگلی دفعہ الیکشنز میں مسترد کر دیا۔ اس کی ایک مثال صدر جارج ڈبلیو بش ہے اور ٹرمپ کے ساتھ بھی یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔
سرِ دست جیکسونینز امریکی ریاست کی عالمگیری لبرل پالیسی سے نالاں ہیں۔ یہ موجودہ خارجہ پالیسی کی تشکیل کرنے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے حالیہ تجارتی معاہدوں کی مخالفت اس لیے نہیں کی، کیونکہ وہ ان انتہائی پیچیدہ معاہدوں کی شرائط کی باریکیوں اور ان کے ملکی معیشت پر اثرات کو بخوبی سمجھتے ہیں، بلکہ ان کا یقین ہے کہ ان معاہدوں کو کرنے والی امریکہ اشرافیہ کو امریکی مفادات سے کوئی غرض نہیں۔ جیکسونینز کی اکثریت خارجہ پالیسی کی ماہر نہیں اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔ ان کے نزدیک لیڈرشپ اعتبار سے عبارت ہے۔ اگر انہیں کسی رہنما یا سیاسی تحریک پر بھروسہ ہو تو یہ اس کی پیچیدہ اور ناقابلِ فہم لائحہ عمل کو بھی تسلیم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ انہیں امریکہ کی سیاسی انتظامیہ پر اب بالکل بھی اعتماد نہیں اور جب تک ان کا اعتماد بحال نہیں ہو جاتا، یہ واشنگٹن انتظامیہ پر اپنا بھرپور کنٹرول برقرار رکھنے میں دلچسپی لیتے رہیں گے۔
ہم نو رجعت پسند دانشور ” اِرونگ کرسٹل ” کی ایک بات کو ( جو اس نے” سینیٹر جوزف میکارتھے ” کے بارے میں 1952 ء میں کہی تھی ) ٹرمپ پر منطبق کرتے ہوئے کہیں گے کہ کہ جیکسونینز ٹرمپ کے بارے میں یہ بات جانتے ہیں کہ وہ ہر طرح سے ان کے ساتھ ہے۔ اپنی ملک کی سیاسی اشرافیہ پر وہ ایسا اعتبار نہیں کرتے اور ان کے خدشات مکمل طور پر غلط بھی نہیں کیونکہ امریکہ کا Global Order- Bulding Project ان کی نظر میں کسی بھی طرح سےکامیا ب نہیں۔
پچھلے پچیس سالوں سے مغربی پالیسی ساز افراد اور ادارے خطرناک حد تک سادہ ترین نظریات پر فریفتہ ہیں۔ ان کے نزدیک سرمایہ داری نظام اب پوری انسانیت کے لیے ایک فطری حقیقت کے طور پر قبول کیا چکا ہے اور اس نظام کے بطن سے اب مزید معاشی، معاشرتی اور سیاسی بحران جنم نہیں لیں گے۔ ان کے نزدیک ایسے نظریات اور سیاسی جذبات جو لبرل نہیں ہیں، اب تاریخ کے کوڑے دان میں گل سڑ رہے ہیں اور ان پر اب محض چند تلخ مزاج ہارے ہوئے لوگوں کا یقین باقی ہے۔ جیسا کہ صدر باراک اوبامہ نے 2008 ء میں ایسے لوگوں کو ” بندوق اور مذہب سے چمٹے ہوئے اوراپنا احساسِ شکست مٹانے کے لیے اپنے سے مختلف اقوام سے عداوت رکھنے والے افراد ” قرار دیا۔ لبرلز کے بقول وقت اور تاریخ کا فطری عمل سارا معاملہ حل کر دے گا اور یہ کہ ایک آدرشی” لبرل ورلڈ آرڈر” کا قیام محض احتیاط اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کا متقاضی ہے۔
احمقوں کی جنت میں خوابِ خرگوش کے مزے لیتےمابعد جدید مغربی دیوانوں کا سپنا تب ٹوٹ گیا، جب 9/11 کے سانحے، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، امریکہ کا مالیاتی بحران اور بحرِ اوقیانوس کے دونوں طرف عوامیت پسند ملک پرستوں کے عروج نے مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عالمگیریت globalization اور اس کی خود کاریت automation نے اس سماجی و معاشی سانچے کو توڑ ڈالا ہے جس میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی امریکی ترقی اور داخلی سماجی امن متشکل تھا، اور اب سرمایہ داری نظامcapitalism کی نئی شکل global World order اور اس کے قومی ستونوں کی بنیادیں ہِلا کر رکھ دے گی۔
اس نئی عالمگیری بدنظمی میں ” سماجی شناخت کی سیاست Identitarian Politics ” کو جھٹلانا آسان نہیں۔ مغربی سیاسی اشرافیہ کا یہ خیال تھا کہ اکیسویں صدی میں cosmopolitanism اور globalism انسانوں کی ان کے اجداد، قبائل،سماجی گروہ اور نسل سے وابستگی اور وفاداری مٹا کر رکھ دے گی۔ وہ انسانی نفسیات میں پیوستہ سماجی شناخت کی سیاست کی جڑوں کو دیکھنے سے اندھے رہ گئے اور یہ بات نہ سمجھ سکے کہ یہ نفسیات خارجی اور داخلی سیاست کے اکھاڑوں میں رو بہ عمل ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ وہ اس بات کا ادراک کرنے میں ناکام رہے کہ globalism اور cosmopolitanism نے جن معاشی اور سماجی طاقتوں کو پیدا کیا ہے وہ انسانی معاشروں میں انتشار اور مزاحمت کا عمل انگیز عنصر بن سکتی ہیں، جیسا کہ ماہرینِ سماجیات نے ایک صدی قبل یہ بتلا دیا کہ Gemeinschaft ((community بالآخر Gesellschaft ( (Market Societyکے جبر کے خلاف اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتی ہے۔
آنے والے دنوں میں عالمی سیاست میں بنیادی چیلنج یہ نہیں کہ Global Order -Buliding Project کو کس طرح روایتی بنیادوں پر تعمیر کیا جا سکتا ہے، بلکہ اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ لبرل آرڈر کی تباہ کاریوں کو کیسے روکا جائے اور گلوبل سسٹم کو مزید پائیدار بنیادوں پر کیسے کھڑا کیا۔ مغربی سیاسی اشرافیہ کی اجارہ داری، عالمی طاقتوں کے گٹھ جوڑ اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی پالیسی کی بجائے اب عالمی نظام کو قومی گروہوں اور عالمی برادری کے تمام ملکوں کی صوابدید پر نئے سرے سے استوار کرنا ضروری ہے، ایک ایسا نظام جس میں تمام ملک اور قومیں اپنے آپ کو محفوظ و مامون جانیں اور اپنی مرضی اور مفاد ات کے مطابق اس سے استفادہ کریں۔
ختم شد

Walter Russell Mead (born June 12, 1952) is an American academic. He is the James Clarke Chace Professor of Foreign Affairs and Humanities at Bard College and previously taught American foreign policy at Yale University. He is also the Editor-at-Large of The American Interest magazine and a non-resident Distinguished Scholar at the Hudson
Link of article : https://www.hudson.org/research/13258-the-jacksonian-revolt

About Author

اسامہ مشتاق خان نے UET , Lahore سے Chemical Engineering میں اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عمرانیات میں گریجویشنز کر رکھی ہیں۔ سائنسز، فلسفہ, تاریخ، دینیات ،تصوف ،ادب، سیاسیات جغرافیہ ، بین الاقوامی تعلقات، بین الاقوامی قانون، انتھروپولوجی اور جینڈر سٹڈیز جیسے مضامین میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر انہیں اپنا وقت اور خود کو ضائع کرنے سے فرصت ملے تو ان مضامین کی حدود میں اپنی بساط بھر پڑھنے، سوچنے اور ان کی episteme میں قلم برداشتہ لکھنے کا شغل فرماتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: