پاکستان میں فیمنزم کے کردار کا جائزہ —- وحید مراد

0

دیگر ایشیائی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی فیمنسٹ موومنٹ کی بنیادیں صرف انسانی حقوق کی تنظیموں یا این جی اوز وغیرہ میں ہی پائی جاتی ہیں اور اس تحریک کا دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں سے بہت معمولی قسم کا رابطہ ہے تاہم اسکے بیانیے کے بہت سے پہلوئوں کی حمایت سوسائٹی کے کچھ حلقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ مغرب کی خواہش یہ ہے کہ فیمنزم اور دیگر پروگریسو تھنکرز، دانشوروں، سول سوسائٹی، سماجی تحریکوں، ٹریڈ یونینز، اکیڈیمکس، پرائیویٹ سیکٹر اور پالیسی میکرز کے درمیان ایک مضبوط اتحاد اور ورکنگ ریلیشن شپ ہو، تاکہ فیمنزم کے بیانیے کو زیادہ بہتر طور پر عوام تک پہنچایا جا سکے۔ یعنی انکے خیال میں صرف بڑی تحریک ہی سماجی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں جس میں فیمنزم کے نام نہاد دشمن “پدرسری نظام” کو شکست دی جا سکتی ہے اور موجودہ سیاسی پاور اسٹرکچر کو تبدیل کیا جا سکتا ہے جو ایشیا میں لوگوں کے جسم، دل، دماغ اور خیالات کو تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن مغرب کی انتہائی کوششوں کے باوجود ابھی تک پاکستان میں کسی باقاعدہ فیمنسٹ تحریک کا کوئی وجود نظر نہیں آتا ہاں البتہ کچھ گروپس، پلیٹ فارمز، نیٹ ورکس اور اتحاد وغیرہ ضرور موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں فیمنزم کی تحریک نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی این جی اوز کے ذریعے بھی کوئی خود مختار تحریک وجود پذیر نہ ہو سکی کیونکہ بیرونی مالی اعانت سے چلنے والی تنظیمیں ڈونرز کے ایجنڈے پر ہی کام کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ وہ نہ تو اپنے کام کےلئے علاقے کا تعین کرنے میں آزاد ہوتی ہیں اور نہ ہی کام کے شعبہ اور موضوع کے حوالے سے آزاد ہوتی ہیں، انہیں جو کہا جاتا اسے وہ ایک خادم کے طور پر سرانجام دیتی ہیں اور تحریک کیلئے ایک آزادانہ شوق، عزم، لگن اور رضاکارانہ جذبے کی ضرورت ہوتی ہے جو خدمت گزار این جی اوز میں مفقود ہے۔

آئیے پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ حقوق نسواں کی تحریک، جس کے بارے میں مقامی فیمنسٹ لیڈران اور کارکنان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کی تحریک کی نرسری ہے، کن مراحل سے گزری ہے۔ قیام پاکستان سے قبل خواتین نے دینی و ملی احیاء اور تحریک آزادی کیلئے کس طرح بڑھ چڑھ کر کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد اس تحریک کی قیادت کس طرح لبرل اور سیکولر ہاتھوں میں چلی گئی اور ان سیکولر رہنمائوں نے کس طرح خواتین کو مردوں کے سامنے مقابلے کیلئے لا کھڑا کیا جبکہ اس سے قبل مردو زن ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں کسی طرح یہ حقوق نسواں کی تحریک پہلے بائیں بازو کے ہاتھوں یرغمال ہوئی اور بعد ازاں عالمی منظر نامے سے سویت یونین کی پسپائی کے بعد کس طرح نو لبرلز اور ریڈیکل فیمنسٹ رہنمائوں نے اس تحریک کو ہائی جیک کرتے ہوئے ریڈیکل نعرے (میرا جسم میری مرضی وغیرہ) دے کر فیمنسٹ تحریک کا نام دینے کی کوشش کی اور انہیں کس طرح اس میں بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

پاکستان میں حقوق نسواں کی تحریک کو تاریخی لحاظ سے چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور مشترکہ ہندوستا ن میں استعمار کے خلاف ہونے والےسیاسی آزادی، اور تعلیمی و قانونی اصلاحات کی جدوجہد میں خواتین کے کردار پر مشتمل ہے۔ یہ خواتین ملی، قومی اور دینی جذبے کے تحت سامنے آئیں اور انکا کام مقامی تہذیبی فریم ورک کے اندر تھا اس لئے انکے بارے میں مغربی تہذیب کی نمائندگی کا کوئی تاثر موجود نہیں تھا۔ مرد حضرات بھی انکی حمایت کرتے تھے اور انہیں مختلف امور میں خدمات پیش کرتے تھے اور آج بھی ان خواتین رہنمائوں کو مرد رہنمائوں کی طرح آزادی کا ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ دوسرا دور قیام پاکستان سے لیکر 1970 کی دہائی کا دور ہے جس میں حقوق نسواں کی بیشمار تنظیمیں وجود میں آئیں۔ اس دور میں اس تحریک کی قیادت زیادہ تر سیاسی خانوادوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ہاتھوں میں تھی۔ ان میں سے کچھ خواتین انفرادی طور پر مغربی تہذیب کی دلدادہ ضرور تھیں لیکن مجموعی طور پراس دور میں بھی یہ تحریک ہمارے قومی و تہذیبی فریم ورک کے اندر ہی کام کر رہی تھی اس لئے اس تحریک کو کسی تنقید یا مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس دور میں حوق نسواں کی زیادہ تر توجہ خواتین کی تعلیم، صحت و زچگی کی سہولیات، ووکیشنل تربیت (سلائی، کڑھائی اور چھوٹے موٹے ذاتی کاروبار وغیرہ)  اور قانونی اصلاحات پر مرکوز تھی۔ تیسرا دور روس امریکہ کی سرد جنگ اور پاکستان میں اسلامائزیشن کی کوششوں اور جمہوریت کی بحالی اور نیو لبرل ازم کا دور ہے جس میں این جی اوز منظر عام پر آئیں اور حقوق نسواں کی تحریک کی قیادت مارکسی، سیکولر اور لبرل خواتین کے ہاتھوں میں چلی گئی اور انہوں نے قومی و تہذیبی فریم ورک سے باہر نکل کر مغربی تہذیب کو فالو کرتے ہوئے عورت کی انفرادی شناخت پر زور دیا اور اس تناظر میں صنفی مساوات، جنسی آزادی اورحقوق کی بات کی۔ چوتھا دور نائین الیون کے بعد وار آن ٹیرر کا دورانیہ ہے جس میں مارکسزم کا پس منظر رکھنے والے لوگ بھی لبرلز اور سیکولرز کی صفوں میں شامل ہو گئے اور حقوق نسواں کی تحریک کے بےشمار لیڈروں اور کارکنوں نے سول سوسائٹی میں شامل ہوکر یو ایس ایڈ USAID کی نوکری کر لی۔

ابتدائی دور: حقوق نسواں کا آغاز تقسیم ہند سے پہلے ہوتا ہے اگر چہ اس دور کی سماجی، قومی، سیاسی اور مذہبی بیداری تحریکوں میں خواتین کے حقوق کی کوئی بات نہیں ہوتی تھی لیکن کچھ متمول گھرانوں کی فعال خواتین جنہوں نے ان تحریکوں میں شمولیت اختیار کی انہوں نے ابتدائی طور پر ذاتی سیاسی آزادی کے تناظر میں عورتوں کو اپنے حقوق کیلئے بولنا ضرور سکھایا اور اسکے ساتھ مسلم معاشرے میں عورت کی حیثیت اور کردار کےبارے میں پائے جائے والے روائتی خیالات کو ایک حد تک ضرور تبدیل کیا۔ ہندوستان میں انگریز سامراج نے روائتی اور مذہبی ثقافت کو سیکولرائز کرتے ہوئے مذہب کا عمل درآمد صرف انفرادی اور عائلی معاملات تک محدود کرنے اور عام سیاسی اور سماجی معاملات ماڈرنٹی کے تحت چلانے کیلئے 1870 میں قوانین میں تبدیلی کا آغاز کیا، جب مذہب کو پرسنل لاء کے طور پر اپنایا گیا تو صرف اسلام میں عورت کو جائیداد خریدنے اور سماجی معاملات میں رول پلے کی اجازت تھی لیکن ہندو مذہب اورعیسائیت میں اس طرح کی آزادی نہیں تھی لہذا ہندوستان کی عورت جسکا تعلق دیگر مذاہب سے تھا ان حقوق سے محروم ہو گئی لیکن 1937 میں پنجاب کے بڑے بڑے جاگیرداروں نے انگریز سرکار کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے مسلم پرنسل لاء میں بھی یہ شق شامل کرا لی کہ خواتین کو زرعی اراضی کے حقوق سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

اسی طرح انگریزوں نے روائیتی تعلیمی نظام میں تبدیلی کی تاکہ انگریز کے وفادار ہندوستانیوں کی ایک کلاس بنائی جائے۔ جب یہ سلسلہ آگے بڑھا اور مسلمانوں میں ایک طبقہ تیار ہو گیا جو انگریزی وغیرہ سمجھتا تھا تو جدت پسندی اور روایت پسندی کے درمیان بحثوں کا آغاز کرایا گیا، مثلا پردہ کے مسائل، مردوں عورتوں کی باہمی میل جول وغیرہ کے مسائل عورت کے تعلیمی حق کا سوال سب سے پہلے 1886 میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں شیخ عبداللہ نے اٹھایا اور بہت سے ترقی پسند مسلمان راہنمائوں نے بھی اسکی مخالفت کی تاہم 1899 میں کلکتہ میں خواتین کا ایک اسکول کھولا گیا۔ پھر علی گڑھ میں شیخ عبداللہ نے محمڈن گرلز اسکول کھولا جسکی مالی اعانت، والی بھوپال کی بیگم نے عطیات کی شکل میں کی۔ 1915 میں اس اسکول میں گرلز ہاسٹل کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل خواتین کے مدرسے وغیرہ تھے یا کچھ پڑھی لکھی خواتین گھروں پر بھی خواتین کو تعلیم دیتی تھی لیکن اسکا نصاب روائیتی اور مذہبی علوم تک محدود تھا اور اس میں ویسٹرن کلچر کا نفوذ ممکن نہیں تھا لیکن خواتین کے اسکول، ، ہاسٹل اور کالجز کے شروع ہوتے ہی مغربی ثقافت کا نفوذ شروع ہو گیا۔

1904 میں خواتین کی ایجوکیشن ریفارم موومنٹ شروع ہوئی تو مولانا الطاف حسین حالی نے بھی اسکی حمایت کی۔ خواتین کے حقوق کا پہلا اخبار “حقوق نسواں” تھا جس کا آغاز سید ممتاز علی اور انکی اہلیہ محمد ی بیگم نے کیا بعد میں اسی طرز پر “اخبار نسواں” اور “تہذیب نسواں” کا اجراء ہوا۔ اسکے بعد خواتین کیلئے تمام بڑے شہروں میں اسکول اور کالج کھلنا شروع ہو گئے اور کئی پڑھی لکھی خواتین سامنے آئیں ان میں بنگال کی سلطان بیگم پہلی خاتون تھیں جس نے 1922 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پھر فیضی بہنیں مشہور ہوئیں جو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کیلئے گئیں۔ لاہور میں سر محمد شفیع نے، خواتین کے حقوق کیلئے زبردست وکالت کی اور خواتین کے حقوق کی پہلی تنظیم “انجمن خواتین اسلام” بھی انہی کی کوششوں سے قائم ہوئی۔ 1915 میں اس تنظیم نے آل انڈیا مسلم لیڈیزکانفرنس بلائی جس میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین نے شرکت کی۔ 1917 میں بیگم حسرت موہانی کی سربراہی میں ایک وفد نے سیکرٹری آف اسٹیٹ مونٹیگو سے ملاقات کی اور اس سے مطالبہ کیا کہ عورتوں کی تعلیم، صحت اور زچگی کیلئے بہتر سہولیات کا بندوبست کیا جائے۔ اسی طرح اس وفد نے مونٹیگو فیمسفورڈ اصلاحات میں عورتوں کے حق رائے دہی کا مطالبہ بھی کیا۔ 1918 میں آل انڈیا مسلم لیگ اورکانگریس نے خواتین کے اس حق رائے دہی کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم اسے صوبائی مسئلہ قرار دے دیا گیا۔ 31- 1930 میں سر محمد شفیع کی بیٹی جہاں آرا شاہنواز نے پہلی گول میز کانفرنس میں ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں ذات، پات اور مذہب سے قطع نظر سب خواتین کے حقوق کا مطالبہ کیا گیا اور مسلم لیگ نے اس مطالبے کی حمایت کی اور پھر انڈیا ایکٹ آف 1935 میں چھ ملین خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا اور پہلی دفعہ خواتین کیلئے مخصوص نشستیں مختص کی گئیں۔ چنانچہ خواتین کی بیداری کا عمل جو تعلیم سے شروع ہوا تھا اب سیاسی حقوق کی جدوجہد میں تبدیل ہو گیا۔

تحریک خلافت کے پین اسلامک مقصد کیلئے بھی بڑے پیمانے پر مسلم خواتین کو سیاسی طور پر متحرک کیا گیا جس میں علی برادران کی والدہ، بیگمات اور دیگر ممتاز مردوں کی بیگمات وغیرہ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس وقت سب لوگ ان خواتین کا احرام کرتے تھے کیونکہ یہ خالصتاً ہندوستانی تہذیب کی نمائندہ تھیں انکے بارے میں مغربی تہذیب کی نمائندگی کا کوئی تاثر موجود نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے مغربی طرز کی ثقافت اور اس سے جڑے ہوئے حقوق کی کبھی حمایت کی۔ اور وہ ایک مذہبی اور قومی سیاسی مقصد کیلئے باہر نکلی تھیں نہ کہ خالصتاً عورتوں کے حقوق کیلئے اس لئے مردوں نے انکی حوصلہ افزائی کی۔ سر سید احمد خان، ڈپٹی نذیر احمد نے خواتین کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے حق میں مضامین لکھے لیکن دونوں خواتین کیلئےمغربی طرز کی تعلیم کے خلاف تھے دیگر اکابرین اور سیاسی رہنما بھی اسی طرح کے خیالات رکھتے تھے۔

1940 میں جب نوآبادیاتی نظام کے خلاف سیاسی تحریکوں نے زور پکڑا تو مسلم لیگ میں خواتین کیلئے الگ ونگ کی تشکیل ہوئی، اپریل 1940 میں خواتین نے مسلم لیگ کے رہنمائوں کی گرفتاری اور خاکسار تحریک پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور پہلی بار خواتین، سیاسی کاروائی کے الزام میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئیں۔ 1941 میں مسلم لیگ گرلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسکا آغاز فاطمہ بیگم عبد القادر اور مس ایم قریشی نے کیا۔ اس گروپ نے تحریک پاکستان کیلئے پرزور حمایت حاصل کی۔ 1942 میں قائد اعظم محمد علی جناح نے خواتین کی اس تنظیم میں براہ راست دلچسپی لیتے ہوئے اس سے خطاب بھی کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ تحریک پاکستان کے حق میں زیادہ پرجوش انداز میں کام کریں۔ 1943 میں جب بنگال میں قحط پڑا تو مسلم لیگ کی خواتین نے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کا اہتمام کیا، 1943 میں کراچی میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پانچ ہزار خواتین نے حصہ لیا جن میں “گرلز گارڈ” بھی شامل تھیں۔ اسکے بعد معاشرے میں، قومی تناظر میں ہونے والے ہر کام میں خواتین کی شرکت کو قابل قبول سمجھ لیا گیا لیکن اس وقت خواتین کیلئے پردے، علیحدگی وغیرہ کا اسطرح انتظام ہوتا تھا کہ وہ مردوں کی نظروں سے محفوظ رہتی تھیں۔

1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی طرف سے سلمیٰ تصدق حسین اور جہاں آرا شاہنواز نے بطور خواتین امیدوار کے شرکت کی۔ بعد ازاں جب مسلم لیگ کو حکومت بنانے کی اجازت نہیں ملی تو ان خواتین نے لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرےکی قیادت کی اور اسکے نتیجے میں جہاں آراء اور بیگم کمال الدین احمد سمیت کئی لیگی راہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیااور پہلی بار خواتین پر لاٹھی چارج کیا گیا، اور آنسو گیس پھینکی گئی۔

دوسرا دور: پاکستان میں خواتین کے حقوق کے دوسرے دور کا آغاز قیام پاکستان سے ہوتا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت پہلی مقننہ میں دو خواتین جہان آراء شاہنواز اور بیگم شائستہ اکرام اللہ موجود تھیں۔ 1948 میں بجٹ بحث کے دوران خواتین کے معاشی حقوق کے حصول کی بات اٹھائی گئی، اور مسلم پرسنل لاء آف شریعہ 1948 میں خواتین کےوراثت کے حق اور حق جائیداد کو تسلیم کیا گیا۔ 1954 میں اسمبلی میں چارٹر آف ویمن رائٹس کا مسودہ جہاں آراءشاہنواز کی طرف سے پیش کیا گیا، اس پر بحث ہوئی، اسکے مطابق مرکزی اور صوبائی اسمبلی میں 3 فیصد نشتیں خواتین کیلئے مخصوص کی گئیں، دیگر مطالبات میں عورتوں کی مساوات، برابر اور مساوی مواقع، مساوی تنخواہ اور اسلامی شریعت کے مطابق وراثت کے حقوق کی ضمانت وغیرہ شامل تھے۔ یہ بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا کیونکہ اس دور میں بھی خواتین مذہبی اور روائیتی تہذیبی فریم ورک میں کام کر رہی تھیں اور انہیں کسی ردعمل کا سامنا نہیں تھا۔ 1951 میں مسلم پرسن لاء آف شریعہ کا نفاذ بھی کر دیا گیا جسکے تحت خواتین کو زرعی اراضی کی وراثت اور ملکیت کےحقوق دئے گئے تھے۔

وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیگم راناء لیاقت نے بھی عورتوں کیلئے نمایاں کام کئےاور خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کئی تنظیمیں تشکیل دیں۔ ان میں آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن (اپوا) زیادہ مشہور۔ اس تنظیم نے خواتین کی تعلیم، فلاح و بہبود، صحت مراکز، صنعتی گھر، سلائی کڑھائی کی مہارتیں وغیر، خواتین کی ترقیاتی اور کاروبارری سرگرمیوں ہ اور قانونی اصلاحات کیلئے ملک بھر میں کام کیا۔ بیگم رعناء لیاقت خواتین کی رضاکار تنظیموں “پاکستان وومن نیشنل گارڈ” اور “پاکستان نیول ریزرو خواتین” کی چیف کنٹرولر بھی تھیں۔ بیگم رعناء لیاقت علی خان پردہ وغیرہ نہیں کرتی تھیں اور انکے اس ذاتی عمل پر تو دائیں بازو کی کچھ جماعتیں مثلاً مجلس احرار، جماعت اسلامی، جمیعت العلمائے اسلام وغیرہ تنقید کرتی تھیں لیکن چونکہ اس وقت کی خواتین کی تنظیمیں روائیتی مذہبی فریم ورک کے اندر ہی کام کررہی تھیں اس لئے مجموعی طور پر خواتین کے کام اور سرگرمیوں پر تنقید نہیں کی جاتی تھی۔

1955 میں خواتین تنظیموں نے اس وقت کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا کے خلاف ایک مہم چلائی اور اس مہم کو آل پاکستان وومن ایسوسی ایشن (APWA) لیڈ کر رہی تھی۔ اس مہم میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ مردوں کو دوسری شادی سے منع کیا جائے۔ اس مہم کے نتیجے میں، جہاں آراء شاہنواز نے کی قیادت میں یونائیٹڈ فرنٹ فار وومن رائٹس وجود میں آئی۔ اپوا اور یونائیٹڈ فرنٹ کے دبائو کے نتیجے میں حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس راشد کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا جس نے شادی، طلاق، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ کے قوانین کا جائزہ لیا اور 1956 میں ایک رپورٹ پیش کی جس پر مولانا احتشام الحق تھانوی کا اختلافی نوٹ بھی درج تھا۔ 1956 کے آئین میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا اصول شامل کیا گیا۔ اس دور میں تو ایک شادی والے معاملے پر کوئی عمل درآمد نہ ہوا لیکن بعد میں ایوب خان کے مارشل لاء کے دور میں 1961 میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت شادی، بچوں کی تحویل، طلاق، نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن کے قوانین منظور کئے گئے، اس آرڈیننس میں دوسری شادی کیلئے خاوند کو پہلی بیوی سے تحریری اجازت لینے کو ضروری قرار دیا گیا۔ اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ عائد کیا گیا۔ علمائے کرام نے اس بل کی مخالفت کی اور اسے اسلامی قوانین میں تجاوز قرار دیا گیا لیکن علماء کرام کی اس تنقید کے جواب میں اور اس بل کی حمایت میں کچھ خواتین نے ایک تحریک کا آغاز کر دیا اور لاہور میں بیگم نسیم جہاں نے علماء کے خلاف مارچ کی قیادت کی اور مولانا عباس علی خان کے مجسمے کو نذر آتش کیا جو اس بل کی زیادہ مخالفت کر رہے تھے۔ اسکے باوجود اس وقت تک دائیں بازو اور بائیں بازو میں واضح تفریق موجود نہیں تھیں اور جب 1965 میں انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو علماء کی ایک بڑی تعداد اور مذہبی جماعتوں نے انکی حمایت کی لیکن حقوق نسواں کی تنظیموں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ نہیں دیا۔ اسی دور میں فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان FPAP، پاکستان چائلڈ ویلفئیر کونسل PCWC، پاکستان ریڈ کراس، پاکستان نرسز فیڈریش PNF، ہائوس وائف ایسوسی ایشن، گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن، اور انٹرنیشنل وومن کلب، ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن DWA جیسی تنظیمیں بھی وجود میں آئیں۔

Related image1972جب پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو انہوں نے نئے آئین کا تشکیل کا آغاز کیا چنانچہ 1973 کے آئین میں درج کیا گیا کہ جنس، نسل، مذہب غیرہ کی بنیاد پر پاکستان میں سروسز کی اپائنٹمنٹ کے وقت کوئی امتیا ز نہیں برتا جائے گا۔ اور کنبہ، ماں اور بچے کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ بیگم رعناء لیاقت علی خان کو سندھ کا گورنر بنایا گیا، اور کنیز یوسف کو وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ بیگم اشرف عباسی کو قومی اسمبلی کا دپٹی اسپیکر منتخب کرایا گیا۔ اب خواتین وزیر اعظم، کیبنٹ ممبر بھی بن سکتی تھیں اور خواتین کا فارن سروس کیڈر بھی وجود میں آیا۔ 1975 میں خواتین کا بین الاقوامی سال تھا اور وزیر اعظم کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو میکسیکو میں پاکستان کی نمائندگی کرنے گئیں۔ 1976 میں خواتین کی سماجی، معاشی حالات کو بہتر بنانے اور قانونی اصلاحات لانے کیلئے کمیشن بنایا گیا لیکن اس کمیشن کی سفارشات پر نہ کبھی عمل درآمد ہوا نہ انکے بارے میں عوام کو بتایا گیا۔ اسی زمانے میں “عورت فائونڈیشن” اور “شرکت گاہ” جیسی تنظیمیں سامنے آئیں جنہیں بائیں بازو کے ریڈیکل ونگ کی سرپرستی حاصل تھی جس نے انٹریشنل فیمنزم تحریک سے متاثر ہو”عورت اور سیاست ساتھ ساتھ Women and Politics are one” کے نعرے لگائے۔ بعد میں شرکت گاہ سے “وومن ایکشن فورم” سامنے آیا۔ شرکت گاہ نے خواتین ہاسٹل اور ورکنگ وومن کیلئے “ڈے کئیر سینٹر” بھی بنائے۔ اس وقت بھی خواتین تنظیموں نے نہ تو 1973 میں شامل کردہ اسلامی دفعات کی مخالفت کی، اسلام بطور سرکاری مذہب کی بھی مخالفت نہیں کی، جمعہ کو چھٹی، جوئے اور شراب کی ممانعت کے قوانین کی مخالفت نہیں کی حتیٰ کہ جب بھٹو کی حکومت کو مارشل لاء کے ذریعے ختم کیا گیا اور اس سے قبل جب بھٹو کے خلاف نظام مصطفی کی تحریک چلی تو خواتین تنظیموں کی طرف سے اسکی بھی مخالفت نہیں کی گئی۔ کیونکہ اس زمانے تک خواتین کے حقوق کے مطالبات آئین، قانون اور تہذیب کے دائرے کے اندر تھے اور جب کوئی حکومت ان تنظیموں کو لاء ریفارمز وغیرہ کا یقین دلا دیتی تھی تو سب خاموشی سے بیٹھ جاتے تھے۔

تیسرا دور: پاکستان میں حقوق نسواں کے تیسرے دور کا آغاز ضیاء الحق کے مارشل لاء کے ساتھ ہوتا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں جب اسلامائزیشن کی طرف قدم اٹھاتے ہوئے خواتین کیلئے پردہ اور چاردیواری پر زور دیا گیا، عوامی شعبہ جات میں کام کرنے والی خواتین کیلئے دوپٹہ اور چادر کو ضروری قرار دیا گیا، حدود آرڈیننس اور زنا آرڈیننس کا نفاذ کیا گیا، اسی طرح یہ تجاویز بھی پیش کی گئی کہ سیاست میں صرف بڑی عمر کی خواتین کو اجازت ہونی چاہیے، عورتوں کیلئے الگ یونیورسٹیوں کے قیام کی تجاویز بھی پیش ہوئیں یہ سب وہ معاملات تھے جنکی وجہ سے حقوق نسواں کی تنظیموں اور حکومت میں ٹھن گئی اور ایوب دور اور بھٹو دور میں حکومت اور حقوق نسواں کی تنظیموں کے درمیان دوستی کی جو پینگیں بڑھ رہی تھیں وہ دشمنی میں بدل گئی۔ حقوق نسواں کی تنظیموں نے سب سے زیادہ تنقید زنا آرڈیننس پر کی کیونکہ مغرب کی ایماء پر وہ زنا Rape صرف اس عمل کو سمجھتے ہیں جس میں مرد کی طرف سے عورت پر زبردستی کی جائے لیکن باہمی رضامندی سے وقوع پذیر ہونے والے اسی عمل کو وہ زنا Rape کا نام نہیں دیتے بلکہ اسےایک ذاتی یا انفرادی حق سمجھا جاتا ہے اور انکے خیال میں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں جس طرح کا فعل چاہے سرانجام دے۔ لیکن چونکہ زنا آرڈیننس میں دونوں طرح کے زنا کوایک ہی جیسا جرم قرار دیا گیا تھااس لئے اسکے خلاف بہت واویلا مچایا گیا۔

1981 میں خواتین کے ایک گروپ نے شرکت گاہ کراچی میں ملاقاتیں کیں اور ویمن ایکش فورم WAFتشکیل دیا، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں بھی اسکے دفاتر کھولے گئے اور یوں یہ تنظیم پاکستان کے اندر خواتین کے ریڈیکل گروپ کی سرکردہ تنظیم بن گئی اور اس تنظیم نے حکومت کے خلاف احتجاج، جلوس، ریلیاں، مظاہرے، دستخطی مہمیں وغیرہ شروع کر دیں اور اسکے ساتھ ساتھ اس تنظیم نے ترقی پسند شاعروں، ادیبوں، اداکاروں، فنکاروں کو حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے پر اکسایا۔ کشور ناہید کی نظم “ہم گناہگار خواتین” اور فہمیدہ ریاض کی نظم “چادر اور چار دیواری” اسی زمانے میں سامنے آئیں اور انہیں اس تنظیم نے ترانوں کی شکل میں پیش کیا۔ پینٹنگ میں سلیمہ ہاشمی، تھیٹر میں مدیحہ گوہر، ڈانس میں شمیمہ کرمانی، فلمسازی میں صبیحہ ثمر، صحافت میں شری رحمان، شاعری میں عطیہ دائود اور عذرا عباس، کالم نگاری میں زاہدہ حنا اور خالدہ حسین سامنے آئیں۔

تاہم اس دور میں اس تنظیم کے اندر بھی کئی مباحثے ہوئے اور پھوٹ بھی پڑ گئی کیونکہ تنظیم کے قیام کے وقت اسکے تمام نظریات کا رخ واضح نہیں تھا، اس میں سیکولر، سوشلسٹ، لبرل، عام سیدھے ساد ے مسلمان غرض ہر سوچ اور نظریے کے لوگ شامل ہوگئے لیکن جب نظریاتی امور پر مباحثے شروع ہوئے تو اندر کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے اور یہ بھی سب پر کھل گیا کہ یہ تنظیم دراصل کس قسم کے نظریات کی اشاعت کیلئے کام کرنا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم جو شروع میں یہ اندازہ لگائے بیٹھی تھی کہ مغرب کی طرح یہاں بھی وہ خواتین کو اسلامی تہذیب کی ہر روائیت سے بغاوت اور انحراف کرنے پر مجبور کر دے گی لیکن اس اندرونی خلفشار کے باعث تنظیم کے سرکردہ لوگوں پر بھی یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان ایک اکثریتی مسلم ملک ہے، یہاں کی تہذیب اور روائیت میں مغرب کی بہت سی چیزوں کو زبردستی شامل کرنا ممکن نہیں۔ اور پاکستان کو مغرب ممالک کی طرح ایک جدید سیکولر ریاست نہیں بنایا جا سکتا۔

ان پر یہ بھی واضح ہو گیا کہ وہ اپنی تنظیم کی بھرپور پذیرائی کو جو روشن خیالی اور خواتین کی آزادی کے حق میں سمجھ رہے تھے وہ دراصل مارشل لاء کے خلاف پذیرائی تھی اسکا خواتین کے حقو ق یا آزادی سے ذرا کم ہی تعلق تھا۔ چنانچہ اس تنظیم کو اپنے ایک اعلامیے میں کہنا پڑا کہ انکی جدوجہد جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد ہے۔ اور اسکے ساتھ ہی اس تنظیم نےریڈیکل کارکنوں پر مشتمل ایک الگ “وومن ایکشن فورم ” تشکیل دیا جس کا مقصد مغرب کے طرز پر خواتین کو منظم کرنا تھا۔ اس فورم میں سب وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنے آپ کو فیمنسٹ کہتے تھے، عورت پر ہونے والے ہر ظلم کو “پدرسری نظام معاشرت” میں تلاش کرتے اور مردوں کو اپنا دشمن قرار دیتے۔ اس تنظیم کی ممبر شپ سب خواتین کیلئے کھلی ہوئی نہیں تھی بلکہ اس میں خاص قسم کی تربیت یافتہ خواتین کو ہی ممبر شپ لینے کی اجازت تھی کیونکہ انکو ہر وقت یہ خطرہ بھی رہتا تھا کہ سب خواتین کیلئے ممبر شپ کھولنے پر جماعت اسلامی کا وسیع خواتین ونگ انکی تنظیم کو ہائی جیک بھی کر سکتا ہے۔ الغرض یہ فورم اپنے قیام سے ہی ایک مخمصے کا شکار رہا کہ اگر اس میں سب خواتین کو شرکت کی اجازت دی جائے تو ریڈیکل ایجنڈے کو نہیں اپنا یا جا سکتا اور اگر ریڈیکل ایجنڈے کو سختی کے ساتھ اپنانے کی کوشش کی جائے تو عام خواتین کی شرکت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی طرح اگر فیمنزم کا نام استعمال کیا جائے تو خواتین اس تنظیم میں آنے سے گھبراتی ہیں اور اگر یہ نام استعمال نہ کیا جائے تو مغرب میں پزیرائی ملنا ممکن نہیں۔ اور بالآخر فیمنسٹ اسکالر فوزیہ گردیزی کو یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ “وومن ایکشن فورم کے دو اہم مسائل تھے ایک فورم کا اپنا نقطہ نظر، نظریہ اور اسکے مطابق کام کرنے کی کوشش اور دوسرا اسلامی فریم ورک کے اندر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکامی”۔ اسی طرح ایک مشہور تاریخ دان عائشہ جلال نے کہا کہ ” خواتین کا تعلق مختلف طبقات سے ہے اور خواتین پر ہونے والے ظلم کا تعلق عموماً نچلے طبقات سے ہوتا ہے لیکن وومن ایکشن فورم میں شامل خواتین کا تعلق زیادہ تر مڈل کلاس یا اعلیٰ طبقات سے اور اعلیٰ طبقات کی خواتین اتنی بے سہارا نہیں ہوتیں کہ ان پر ظلم کیا جا سکے اس لئے فیمنسٹ کی طرف سے اس ظلم کو اسلام سے جوڑنا یا پدرسری نظام کا شاخسانہ قرار دینا درست نہیں۔

ضیاالحق کے مارشل لاء کے بعد جب جمہوریت بحال ہوئی تو دنیا بھر میں سوشلزم اور کمیونزم پسپائی اختیار کر رہا تھا چنانچہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بھٹو کی سوشلسٹ پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے نیولبرل ازم اور مارکیٹ اکانومی کو اپنایا۔ اور نوے کی دہائی میں اکانومی کی ری اسٹرکچرنگ، نجکاری، غربت ختم کرنے، سوشل ریفارمز وغیرہ کے نام پر جتنے بھی کام ہوئے وہ اسی کا تسلسل تھا جسکا آغاز بینظیر بھٹو نے کیا تھا۔ اسی دو ر میں این جی اوز کی ایک بڑی تعداد بھی پاکستان میں لائی گئی۔ جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ این جی اوز اور فوج استعمار کے دو بازو ہیں جنکے ذریعے وہ کمزور ممالک پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اور انہی این جی اوز کو “سول سوسائٹی” کا نام بھی دیا جاتا ہے اور یہ سول سوسائٹی، کسی بھی ترقی پذیر ملک کی حکومت اور یاست کے خلاف ایک طرح کا خروج ہوتا ہے۔ چنانچہ نوے کی دہائی میں پاکستان پر فارن فنڈز سے چلنے والی این جی اوز کی یلغار کی گئی اور یہ مختلف ایشوز پر کام کر رہی تھیں جن میں خواتین کے کام کرنے کے حقوق، ماحولیات، پائیدار ترقی، بچوں کے حقوق وغیرہ شامل تھے۔ ان این جی اوز میں روزن، بیداری، عورت فائونڈیشن وغیرہ زیادہ مشہور ہوئیں۔ 1995 میں بینظیر بھٹو نے، بیجنگ میں ہونے والی چوتھی عالمی کانفرنس برائے خواتین میں شرکت کی اور پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حصول کے سلسلے میں حکومت کی کوششوں کا اعادہ کیا۔ نوے کی دہائی میں مجموعی طور پر حکومت اور خواتین کے حقوق کے تنظیموں کے درمیان تعلقات باہمی تعاون پر مبنی اور خوشگوار رہے۔

نوے کی دہائی کے اختتام تک این جی اوز ایک بین الاقوامی مظہر کے طور پر دنیا بھر میں اور پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں پھیل چکی تھیں چنانچہ انہوں نے پاکستان میں بھی صنفی مسائل پر بات کرنا شروع کر دی۔ ان صنفی مسائل میں جینڈر ٹریننگ، صنفی حس، صنف کی مرکزی دھارے میں شمولیت، صنفی شعور وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ یعنی اب “عورت” لفظ کے متبادل کے طور پر “جینڈر” کا لفظ استعمال کیا جانے لگا اوراسکا فلسفہ یہ بتایا گیا کہ “پدرسری نظام معاشرت” ہی عورت پر ہونے والے ہر ظلم کی بنیادی وجہ ہے اور اس نظام نے مرد کا راج قائم رکھنے کیلئے عورت کو نرم و نازک اور کمزور باور کرانے کیلئے یہ لفظ ایجاد کیا، اب عورت اس ظالمانہ نظام سے آزادی حاصل کر رہی ہے لہذا اس لفظ کو بھی تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ مرد و زن کی مساوات اور برابری اس وقت ہی قائم ہو سکتی ہے جب دونوں کیلئے ایک ہی لفظ استعمال کیا جائے۔ دو الگ الفاظ حاکم اور محکوم کی یاد دلاتےہیں۔ اس حوالے سے این جی اوز نے اہم کردار ادا کیا اور کسی بھی این جی اوز کو اس وقت تک باہر سے فنڈز کا اجرا ء نہیں ہوتا جب تک وہ مذکورہ فلسفے کی ترویج پر کاربند نہ ہو۔ یوایس ایڈ پروگرام کی طرف سے خاص ہدایت تھی کہ محض مساوات کا لفظ استعمال نہ کیا جائے بلکہ اسکی بجائے صنفی مساوات Gender Equality کا لفظ استعمال کیا جائے اور انکی امداد پر چلنے والے پروگرام کا نام Gender Equality Program ہی رکھا گیا۔ چنانچہ حقوق نسواں کے تحاریک کے تاریخ میں یہ وہ موقع ہے جب “خاتون” کے لفظ کو اس تحریک سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا اور یہ عہد کیا گیا کہ آئندہ اس لفظ کو اس تحریک کے کسی پروجیکٹ میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔

جو سادہ لوح خواتین این جی اوز کو خواتین کے حقوق کی ضامن سجھتی ہیں وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ این جی اوز ہی ہیں جنہوں نے خواتین کے حقوق کی تحریکوں اور تنظیموں کو غلط راستے پر ڈال کر گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ سب مشہور اور بااثر فیمنسٹ خواتین نے اپنی اپنی این جی اوز بنا لیں اور دنیا بھر سے فنڈز اکھٹے کرکے اس شعبے کو ایک بزنس اور انڈسٹری بنا دیا۔ اب انکا کل کام یہ ہے کہ فنڈز کو حلال کرنے کیلئےڈونرز کو ہر ماہ سچی جھوٹی رپورٹیں بھیجتی رہیں اور انکے کہنے پر سوشل میڈیا پر واویلا مچاتی رہیں۔ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے کے مصداق، ڈونرز انکے فنڈز تو نہیں روکتے لیکن ہمیشہ ان پر” ڈبل گیم” کا الزام لگاتے رہتے ہیں اور انہیں”ڈو مور” کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ جب ڈونرز کی طرف سے فنڈز استعمال کرنے کے معاملے میں سختی کی جاتی ہے تو ان این جی اوز کے اندر آپس میں بھی مسابقت دیکھنے میں آتی ہے اور یہ ایک دوسرے کے پول بھی کھول دیتے ہیں اس طرح کئی این جی اوز کو اب تک مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں سول سوسائٹی خواہ کتنی ہی ماڈرنائزڈ اور ویسٹرنائزڈ نظر آئے لیکن ان کا مقصد نہ جمہوری نظریات کا حصول ہے نہ مغربی طرز کی جمہوریت۔ آزادی، خود مختاری، عوامی حکومت وغیرہ انکے ہاں صرف نعرے تو ہو سکتے ہیں لیکن ان کا حصول انکے بنیادی مقاصد میں نہیں، یہ کچھ گروہ ہیں جو حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ابھر کر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے این جی اوز کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ فوجی حکومتوں کا وزیر، مشیر بن کر اپنی شہرت، منافع بخش معاہدوں، اور مزید کامیابیوں کیلئے راہ ہموار کرنے کو برا نہیں سمجھتے۔

چوتھا (موجودہ) دور: پاکستان میں حقوق نسواں کی تحریک کے چوتھے دور کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب 1999 میں پرویز مشرف نے مارشل لاء کے ذریعے نواز شریف کی حکومت کو ختم کیا تو این جی او ز اور لبرل کے ایک بہت بڑے طبقے نے انہیں خوش آمدید کہا اور آپس میں گلے مل کر ایک دوسرے کو مبارکبادیں پیش کیں اور کچھ نے جشن بھی منائے حالانکہ یہی لوگ ضیا الحق کے مارشل لاء کے دوران فوج کے سب سے بڑے مخالفین میں شامل تھے اور جمہوریت کی بحالی کی مشترکہ جدوجہد میں شامل تھے۔ وہی جرنیل جو کل تک جمہوریت، سماجی انصاف، انسانی حقوق اور خاص طور حقوق نسواں کے دشمن تصور کئے جارہے تھے آج وہ لبرل ازم، سیکولرازم، فیمنزم کے محافظ تصور کئے جانے لگے۔ چنانچہ سول سوسائٹی کے بہت سے دانشوروں نے انکی کابینہ میں بھی شمولیت اختیار کی۔ اسی موقع پر اکبر زیدی نے کہا کہ ” پاکستان میں سول سوسائٹی خواہ کتنی ہی ماڈرنائزڈ اور ویسٹرنائزڈ نظر آئے لیکن ان کا مقصد نہ جمہوری نظریات کا حصول ہے نہ مغربی طرز کی جمہوریت۔ آزادی، خود مختاری، عوامی حکومت وغیرہ انکے ہاں صرف نعرے تو ہو سکتے ہیں لیکن ان چیزوں کا حصول انکے بنیادی مقاصد میں شامل نہیں، یہ کچھ گروہ ہیں جو حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ابھر کر سامنے آئے ہیں اور انہوں نے این جی اوز کی شکل اختیار کر لی ہے یہ فوجی حکومتوں کا وزیر، مشیر بن کر اپنی شہرت، منافع بخش معاہدوں، اور مزید کامیابیوں کیلئے راہ ہموار کرنے کو برا نہیں سمجھتے۔ یہ ایک طرف “ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ” کہلواتے ہیں اور دوسری طرف دیگر اسٹیک ہولڈرز کے پارٹنرز بنے ہوئے ہیں۔ اور ان اسٹیک ہولڈرز نے ملک و قوم کیلئے جو مسائل پیدا کئے ہیں، اب ان مسائل میں بھی یہ انکے برابر کے شراکت دار ہیں۔ اب یہ مسائل کے خلاف محاذ آرائی کرنے والے نہیں بلکہ سمجھوتہ اور تعاون کرنے والے لوگ ہیں۔ اکبر زیدی مزید کہتا ہے کہ فارن فنڈنگز نے ان دانشوروں اور ایکٹوسٹس کے اندر مزاحمت کے حوالے سے پائے جانے والے معمولی دم خم کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ضیاالحق نے مذہبی عناصر کو اقتدار میں شراکت دار بنایا تھا اب پرویز مشرف نے لبرل طبق کو اقتدار میں شراکت دار بنا لیا ہے، دونوں میں فرق کچھ بھی نہیں، اب یہ دونوں طبقات اپنی ذاتی سہل پسندی، آرام، عزت، شہرت، اور عیش کیلئے ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں۔

مشرف نے جب بلدیاتی الیکشن کرائے تو اس وقت سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور این جی اوز کیلئے کام کرنے کا میدان بالکل صاف تھا چنانچہ اس الیکشن کمپین میں لوگوں کو موبالئز کرنے میں یہ ان این جی اوز سب سے آگے تھیں۔ مشرف کی طرف سے کئے جانے والے زیادہ تر سیاسی اقدامات مثلاً تعمیر نو بیورو، عوامی مجلسیں وغیرہ جیسے پروگرامز سب باہر کے ڈونرز کے فنڈز کے مرہون منت تھے۔ تمام خواتین کے حقوق کی انجمنوں کو کنسورشیم بناکر فنڈز دئے گئے، جو ڈکٹیٹر شپ کی حمایت کرتے انہین فنڈز سے نوازا جاتا اور جو مخالفت کرتے انہین سائیڈ لائن کر دیا جاتا۔ عورت فائونڈیشن کو اس کام کیلئے فنڈز دئے گئے کہ وہ نئی منتخب ہونے والی بلدیاتی کونسلرز کو تربیت دے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں کو 33 فیصد اور 17.5 فیصد کیا گیا۔ شمشاد اختر کو پہلی بار خاتون گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر تعینات کیا گیا، 2007 میں جب مشرف نے عدلیہ کے خلاف قدم اٹھایا اور وکلاء تحریک چلی تو این جی اوز اور سول سوسائٹی نے جمہوریت کے خلاف کئے گئے اپنے گناہوں کے داغ، دھبے صاف کرنے کیلئے اس وکلاء تحریک کا ساتھ دیا کیونکہ اب انہیں مغرب سے اشارے مل چکے تھے اور یقین ہوچلا تھا کہ مشرف اب اقتدار کی کرسی پر مزید براجمان نہیں رہ سکتا چنانچہ انہوں نے اس تحریک میں شامل ہو کر ایک بار پھر شہیدوں کی لسٹ میں اپنے نام لکھوا لئے۔

خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا تعلق، زرداری کی زیر قیادت پیپلز پارٹی کی حکومت سے بھی تذبذب کا شکار رہا۔ خواتین کے گروپوں اور حکومت کے مابین دو طرفہ تعاون کے تعلقات کی بات ہوتی رہی لیکن تعاون کے ساتھ ساتھ اس میں اتار چڑھائو بھی آتا رہا۔ پی پی پی کی اتحادی حکومت میں زیادہ تر پارٹیاں لبرل اور سیکولر سمجھی جاتی تھیں لیکن پھر بھی انہوں نے حکومت کی طرف خواتین کے حقوق کے حق میں دئے جانے والے بیانات کا دفا ع نہیں کیا۔ 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جے یو آئی کے مولانا شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کا چئیرمین مقرر کیا تو خواتین ایکشن فورم نے اس تقرری کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ مولانا نے خواتین کے حق میں ہونے والی قانون سازی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آئوٹ کیا تھا۔ اور جنسی ہراسگی کے قانون کے خلاف یہ بیان دیا تھا کہ کچھ غیر مہذب عورتیں اشتعال انگیز لباس پہن کر خود جنسی ہراسگی کا سبب بنتی ہیں، گھریلو تشدد پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے اسے مغرب سے متاثر تعلیم یافتہ خواتین نے ایک مصنوعی مسئلہ کے طور پر اٹھایا ہے مزید یہ کہ مولانا نے اسے نجی مسئلہ قرار دیتےہوئے اس میں حکومت کی مداخلت کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔

2009 میں گھریلو تشدد کا یہ بل اسمبلی سے تو پاس ہو گیا لیکن سینٹ میں سیاسی سودے بازی کی وجہ سے پاس نہ ہو سکا اور دسمبر 2010 میں وفاقی شرعی عدالت نے 2006 کے خواتین کے تحفظ کے قانون کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دے دیا اور اس سلسلے میں خواتین کے حقوق کی تنظیمیں عرصہ دراز سے یہ کوششیں کر رہی تھیں کہ عدلیہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ان اختیارات کو محدود کر دیا جائے جن کے تحت وہ کسی قانون کو غیر اسلامی دے کر مسترد کر سکتے ہیں۔ یہ ایک عجیب ستم ظریفی ہے کہ خواتین کے تنظیمیں عمومی طور پر فوجی حکمرانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے جمہوریت کی داد لیتی رہی ہیں لیکن خواتین کے حقوق کے حوالے سے سب سے زیادہ قانون سازی فوجی حکومتوں کے دوران ہوئی نہ کہ جمہوری حکومتوں کے دوران۔ مثلاً فیملی لاء آرڈیننس ایوب خان کے دور میں آیا اور ویمن پروٹیکشن ایکٹ جنرل پرویز مشرف کے دور پاس ہوا۔ شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری ملٹری فورسز کے افسران کو جدیدیت اور لبرل ازم کا کلچر، نوآبادتی روایات سے ورثے میں ملا اور فوجی آمر عوامی رجحانات کی پرواو کئے بغیر اس طرح کے کام کر جاتے ہیں لیکن سیاسی پارٹیوں کو ووٹ کی خاطر عوامی رائے کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے اور مسلم ممالک کی عوامی رائے روایت پسند انہ مذہبی سوچ کی ہی عکاسی کرتی ہے۔ ترکی، مصر اور ایران میں بھی سیکولرائزیشن آمریت کے دور میں ہی پرون چڑھی۔

پیپلز پارٹی حکومت بظاہر لبرل اورماڈریٹ قوتوں کی محافظ سمجھی جاتی تھی لیکن 2012 میں میر پور ماتھیولو(سندھ) سے ایک ہندو لڑکی رنکل کماری پیپلز پارٹی کے اپنے ہی ایک ممبر پارلیمنٹ کے ہاتھوں اغوا ہو گئ اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے اس پر خوب ہنگامہ برپا کیا۔ تاہم 2010 میں پیپلز پارٹی کی اس حکومت کے دوران “کام کی جگہوں پر خواتین کی جنسی ہراسگیLaw against sexual harassment at workplace” کے حوالے سے قانون پاس ہوا اور یہ خواتین کی تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس سلسلے میں ایک تنظیم Alliance Against Sexual harassment AASHA نے اور پیپلز پارٹی کی چند خواتین نفیسہ شاہ، بشریٰ گوہر، شیری رحمان، اوراسپیکر فہمیدہ مرزا نےاہم کردار ادا کیا۔ 2012 میں خواتین کی حیثیت Status of Women طے کرنے کیلئے ایک کمیشن بنایا گیا اورگھریلو تشدد کے خلاف ایک بل منظور کیا گیا جسکا نفاذ ایک ماڈل کے طور پر صرف اسلام آباد میں کیا گیا اور صوبوں کو کہا گیا کہ وہ اس ماڈل کے مطابق قانون سازی کریں کیونکہ آئین میں 18 ویں ترمیم کے تحت خواتین کے حقوق کے معاملہ کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دیا گیا تاہم وفاقی ہیومن رائٹس منسٹری کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس حوالے سے بین الاقوامی امور کو دیکھے۔ اس پر خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا یہ مطالبہ رہا کہ تمام صوبوں میں ایک ہی اصول پر عمل درآمد ہونا چاہیے اور یہ یقین دلایا جائے کہ خواتین کے حقوق کے خلاف کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوگی۔ یعنی خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اس اصول کو تو منوانے پر بضد ہیں کہ خواتین کے حقوق کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر مذہبی حلقوں کی طرف سے یہ اصول پیش کیا جائے کہ اسلام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے تو اس پر خواتین کے حقوق کی یہی تنظیمیں احتجاج کرتی ہیں۔

سندھ اسمبلی نے اس سلسلے میں پہل کرتے ہوئے 2013 میں خوتین کی شادی کی کم از کم عمر کا تعین کیا اور 2013 میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون پاس کیا۔ اسی طرح کے بل بعد میں پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی سے بھی منظور ہوئے۔ مگر ان قوانین کے حوالے سے خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ موثر قوانین نہیں ہیں کیونکہ جب عورت اپنے خاوند کے ساتھ رہنے سے انکار کرتے ہوئے خلع اور علیحدگی کیلئے قدم اٹھاتی ہے تو اسے مالی، قانونی اور نفسیاتی تحفظ نہیں دیا جاتا۔ انکے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ ایسی صورتحال میں مردوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے عورت کو ایک متبادل میکے کا ماحول فراہم کرے اور اسے “Body rights میرا جسم میری مرضی” کے حقوق دےکیونکہ ایسے معاملات میں عام طور پر عورت کے اصل میکے والے عزت اور غیرت کی وجہ سے اس کا ساتھ نہیں دیتے۔

اسکے بعد نواز شریف کی حکومت کے دوران “خواتین کی حیثیت متعین کرنے والے کمیشن” نے اپنی سفارشات پیش کیں جن میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ، 1961 کے فیملی لاء آرڈیننس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے، نکاح رجسٹرار وغیرہ کی طرف سے خواتین کے ساتھ تعاون کی ٹریننگ، غیرت کے نام پر قتل اور جرگوں کے فیصلوں کو غیر قانونی قرار دینےاور وومن پروٹیکشن بل میں ترمیم نہ کرنے کی یقین دہانی، گھریلو تشدد کے بل، تولیدی صحت، شادی اور طلاق کے ترمیمی بل کا جائزہ، وغیرہ کے امور شامل تھے۔ الغرض فیمنسٹ لیڈرشپ نے ہر ممکن کوشش کی کہ پاکستان کی کمزور حکومتوں پر امریکہ اور یورپی ممالک کے ذریعے سیاسی اور معاشی دبائو ڈال کر من مانی قانون سازی کرائی جائے اور وہ اس میں بہت تک کامیاب بھی ہوئے۔ اسی طرح وہ حقوق نسواں کی روئیتی تحریک کو ہائی جیک کرکے اس کا رخ خواتین کی فلاح و بہبود کے کاموں سے، انفرادی، سیاسی و سماجی حقوق، صنفی مساوات اور عورت کی آزادی کے نعروں کی جانب موڑنے میں بھی کامیاب رہے، این جی اوز اور سول سوسائٹی کے ذریعے اربوں روپے کے فنڈزکی خرد برد کے ساتھ ساتھ بےشمار لوگوں کوذہن اور ضمیر خریدنے میں بھی کامیا ب رہے لیکن پاکستان کے روائیتی مذہبی ماحول میں مغربی طرز کی فیمنسٹ تحریک چلانے یا اس حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ لیکن مقامی نام نہاد فیمنسٹ لیڈران و کارکنان کو اس ناکامی پر کوئی فکر اور پریشانی لاحق نہیں کیونکہ ہر ماہ انکی طرف سے “سب اچھا ہے” کی رپورٹیں آگے بھیجی جا تی ہیں اور اسکے بدلے میں تنخواہ اور مراعات کی وصولیابی وقت پر ہوجاتی ہے۔ اس وقت مسلم ممالک میں سیکولر ازم، لبرل ازم، فیمنزم، ہیومن رائٹس اور ہم جنس پرستی وغیرہ کے ایشوز پر مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے کام کرنا سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ہے اور اس گنگا میں نہانے کیلئے ہر کوئی تیار بیٹھا ہے۔ چند خریدے ہوئے لوگوں کے ذریعے ریلیاں نکالنے، سیمینار اور ورکشاپس کرنے، میڈیا چینلز کے ساتھ مل کر ٹاک شو اور مذاکرے کرنے، اور سوشل میڈیا وغیرہ پر بڑےبڑے دعوے کرنے اور بیان بازی کرنے کے بعد جس قسم کی مراعات اور سہولتیں راتوں رات میسر آجاتی ہیں اس قسم کی راحتوں کی امید بہت سے لوگ جنت کے بارے میں بھی نہیں رکھتے۔

Jeffery Weeks یورپ کا ایک مشہور سوشل سائنٹسٹ ہے جو مغرب کے ایجنڈے پر مسلم ممالک کے اندر جدیدیت، سیکولرازم، فیمنزم، صنفی اور جنسی آزادی کے حوالے سے ہونے والے کام پر بہت گہری نظر رکھتا ہے اور اسکے مطابق ان امور کو سرانجام دینے اور انکو فروغ دینے کے پیچھے بہت بھاری مالی وظائف کارفرما ہیں اور جنکو حلال کرنے کیلئے زیادہ تر زبانی جمع خرچ ہی کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کوئی ٹھوس کام نہیں کیا جاتا۔ جیفری ویکس، مسلم دنیا میں اس حوالے سے آنے والی تبدیلیوں کا بھی بہت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر رہا ہے۔ اس حوالے سے اسکے اخذ کردہ نتائج کے مطابق ”صرف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ ثقافت زیادہ سے زیادہ سیکولر مغربی ماڈل کی حد تک جائے گی یا تیزی سے ایک نئی مذہبی عسکریت پسندی کے زیراثر آجائے گی، اس وقت یقین سے اگر کوئی بات کہی جا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ یہاں تبدیلی آرہی ہےلیکن اسکی سمت کا تعین ابھی ہم نہیں کر سکتے”۔

پاکستان میں مقامی فیمنسٹوں کے حلقوں میں بھی کچھ سنجیدہ محققین، جیفری ویکس سے ملتی جلتی رائے ہی رکھتے ہیں۔ مثلاً ممتاز اور شہید کا کہنا ہےکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی تہذیب و ثقافت میں اسلا م ایک بالادست عنصر ہے اور یہاں خواتین جس انداز سے زندگی گزارتی ہیں اس میں اس لازمی عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح امینہ جمال نے جماعت اسلامی کی خواتین کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا کہ لبرل فیمنسٹ تو مذہبی قسم کی خواتین کو صرف مظلوم، مجبور اور مردوں کی خادمائیں قرار دیتے ہیں لیکن یہ انکی بہت بڑی غلطی ہے وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان خواتین کی اپنے عقائد اور ایمان کے ساتھ کس قسم کی وابستگی ہےاور پاکستان میں مذہبی خواتین جس طرح منظم اندا ز سے کام کررہی ہیں فیمنسٹ حلقے اپنی بیش بہا فارن فنڈنگ کے باوجود انکو کبھی بھی شکست نہیں دے سکتے۔ اسی طرح حمیرا اقتدار نے بھی جماعت اسلامی اور جماعت الدعوۃ کے وومن ونگز کا مطالعہ کیا اوراپنے ریسرچ پیپر میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیاسی تجزیہ کیلئے مذہبی بیانیہ ایک جائز کیٹیگری ہے اور اس میں خواتین کا کردار قابل فہم ہے اور مذہبی خواتین، فیمنسٹ خواتین سے کسی طور پر کم باشعور نہیں ہیں۔ خواتین کے حقوق اور موجودہ دور کہ تہذیب و ثقافت میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرنے سے بخوبی واقف ہیں لیکن وہ مشرقی تہذیبی فریم ورک کے اندر رہ کر کام کر رہے ہیں لیکن خواتین کے حقوق کی وہ تنظمیں جو باہر کے فنڈز سے چلتی ہیں ان پر یہ پریشر ڈالا جاتا ہے کہ وہ باہر کے ایجنڈے پر کام کریں اور انہیں بار بار ڈو مور کیلئے کہا جاتا ہے۔

فیمنسٹ ایکٹوسٹ طاہرہ عبداللہ اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ پاکستان میں کسی باقاعدہ فیمنسٹ تحریک کا کوئی وجود نظر نہیں آتا ہاں البتہ کچھ گروپس، پلیٹ فارمز، نیٹ ورکس اور اتحاد وغیرہ ضرور موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں فیمنسٹ کہنا یا فیمنزم کی تحریک کہنا مناسب نہیں۔ انکے خیال میں “خواتین ایکشن فورم” فیمنسٹ تصور، اصولوں اور لائحہ عمل کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا لیکن یہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں ایکٹو نہیں ہے اور جو تنظیمیں خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے خدمات وغیرہ فراہم کرتی ہیں انکا حقوق کی جدوجہد سے عام طور پر کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور ایسا لگتا ہے کہ ہے پاکستان کے ابتدائی دور میں اٹھنے والی خواتین تحریکیں اور تنظیمیں خواتین کی دوسری اور تیسری نسل کو اس طرح متاثر نہیں کر سکیں جس طرح انہوں نے ابتدائی دور کی خواتین کو متاثر کیا۔ اور غیر ملکی فنڈز پر چلنے والی این جی اوز کے ذریعے بھی کوئی خود مختار تحریک وجود پذیر نہ ہو سکی کیونکہ بیرونی مالی اعانت سے چلنے والی تنظیمیں ڈونرز کے ایجنڈے پر ہی کام کرنے کی پابند ہوتی ہیں۔ وہ نہ تو اپنے کام کےلئے علاقے کا تعین کرنے میں آزاد ہوتی ہیں اور نہ ہی کام کے شعبہ اور موضوع کے حوالے سے آزاد ہوتی ہیں، انہیں جو کہا جاتا اسے وہ ایک خادم کے طور پر سر انجام دیتی ہیں اور تحریک کیلئے ایک آزادانہ شوق، عزم، لگن اور رضاکارانہ جذبے کی ضرورت ہوتی ہے جو خدمت گزار این جی اوز میں مفقود ہے اس لئے داخلی طور پر پاکستانی خواتین کی تنظیموں میں انتشار، دھڑے بندیاں، تقسیم در تقسیم، دشمنی کی حد تک مسابقت، علاقائیت اور معاندانہ رویے پائے جاتے ہیں۔ اور نہ ہی یہ تنظیمیں منظم ہیں اور نہ ہی ان میں کسی قسم کا اتحاد اور یگانگت پائی جاتی ہے۔ بہت سے مخلص کارکنان مایوس ہوکر الگ ہو گئے ہیں اور کچھ نے اپنی این جی اوز کھول لیں ہیں۔

اسی طرح ایک فیمنسٹ محقق صبا خٹک بھی یہی کہتی ہیں کہ یہ جو این جی اوز کی شکل میں بہت سے ادارے اور تنظیمیں نظر آ رہی ہیں یہ سب بیرونی فنڈز کی وجہ سے ہے اگر انکی بیرونی امداد بند ہو جائے تو ان میں سے کوئی بھی نظر نہیں آئے گا۔ این جی اوز کی اٹھائی ہوئی تحریک، اصل تحریک نہیں ہے۔ یہ تحریک تو یہ صلاحیت بھی نہیں رکھتی کہ اسقاط حمل یا گھریلو تشدد کے حوالے سے کوئی آزانہ سروے کر سکے اور اس سلسلے میں صحیح معلومات اکھٹی کر سکے۔ اسی طرح وہ تعلیمی ادارے جہاں وومن اسٹڈیز اور صنفی تعلیم دی جاتی ہے ان اداروں اور فیمنسٹ تحریک کے درمیان کوئی رابطہ یا ورکنگ ریلشن شپ نہیں ہے اورضررورت اس بات کی ہے کہ اس سارے کھیل کی جانچ پڑتا ل کی جائے جس میں اعداد و شمار اور زبانی جمع خرچ تو بہت کچھ نظر آرہا ہے لیکن اصل تحریک کی موجودگی کہیں نظر نہیں آتی۔

فیمنسٹ آرٹسٹ لالہ رخ کا کہنا ہے فیمنسٹ تحریک کے اندر موجود بہت سی مذہبی پس منظر رکھنے والی خواتین لفظ فیمنزم اور پدرسری نظام کے خلاف اسکے نظریے سے مطمئن نہیں ہیں اور فنڈنگ کی سرگرمیوں نے فیمنسٹ تحریک کو خاموش کر دیا ہے۔ حقوق نسواں کی ایک اور کارکن اور محقق عافیہ ضیا ء کے خیال میں بھی این جی اوز کوئی آزاد و خودمختار تحریک نہیں اٹھا سکتیں کیونکہ انکا زیادہ تر انحصار ڈونرز اور میڈیا پر ہوتا ہے اور اسکے خیال میں “عورت فاونڈیشن”، پاکستان میں خواتین کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے اورتحریک کے خاتمے کا باعث بننے کی بدترین مثال ہے۔ یو ایس ایڈ کی گود میں بیٹھ کر انکی آئوٹ سورسنگ کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کی آواز اٹھانا، اس تحریک کے بانیوں کی نیک نامی کی میراث پر دھبہ لگانے کے مترادف ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ پچھلی دو دہائیوں میں اس تحریک کے اندر سیکولرازم بمقابلہ مذہب اور دہشت گردی مباحثے کے اہم موضوعات رہے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچا گیا کہ یہ جنگ اصل میں دہشت گردی کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ تو استعمار کی جنگ ہے اور استعمار کے عالمی اداکاروں کے ساتھ تعاون سے خواتین کے حقوق کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ فیمنسٹ ماہرین کے مذکورہ بالا خیالات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ پاکستان میں فیمنزم نام کی کوئی مربوط تحریک وجود ہی نہیں رکھتی غلط نہیں ہوگا۔ پاکستان میں اگر فیمنزم کی تحریک کہیں نظر آتی ہے تو وہ صرف کاغذی کاروائی، میڈیا چینلز یا سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے اور اس تحریک کا ایکٹو ازم محض Paid Activism ہے اور یہ تحریک جو کام کر رہی ہے وہ جوش، جذبے اور جنوں سے عاری ہے کیونکہ یہ تحریکی کام نہیں بلکہ ایک Paid Job ہے۔

(اس مضمون میں شامل بیشتر معلومات، واقعات اور حقائق، ڈاکٹر روبینہ سہگل کے ریسرچ پیپر Feminism and the Women’s Movement in Pakistan سے ماخوذ ہیں لیکن اس مضمون میں ان معلومات، واقعات اور حقائق کو ذرا مختلف تناظر اور سیاق و سباق میں پیش کیا گیا ہے اور نتائج بھی قدرے مختلف اخذ کئے گئے ہیں)

اسی موضوع پر مزید مضامین کا مطالعہ کیجئے:

1۔ فیمنزم : نظریہ، تحریک، اہداف اور کردار —- وحید مراد

2۔ فیمنزم کے غیر سائنسی مفروضے اور اعتقاد —- وحید مراد

3۔ فیمنزم اور مردانگی کا بحران —- وحید مراد

4۔ جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مراد

5۔ استشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا — Joseph Massad — ترجمہ و تلخیص: وحید مراد

ایک اہم گفتگو کی وڈیو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20