معاصر اجتہاد میں جدید سماجی علوم کی ناگزیریت —- محمد طیب عثمانی

0

انسانی سماج میں احوال و نفسیات ِ فرد میں تبدیلی ارتقاء کا لازمہ ہے اور اسی تبدل و تغیر میں مسائل پیدا ہونا ناگزیر ہیں۔ انسانی سوسائٹی میں مسائل کےحل کے تلاشنے کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ سماج کی بہتری کےلیے انسانی کاوشیں الگ الگ میادین و دوائر میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن معاصر عہد میں معاصر ضروریات کے ساتھ ایسے علوم بھی سامنے آئے، جنکی روشنی میں سماج وانسان کی انفردی و اجتماعی مسائل کو حل کیا جارہاہے مثلا علم نفسیات اپنی جولان گا میں سماج وفرد کو دیکھ رہا ہے تو ماہرین عمرانیات اپنی علمی مہارتوں سےپرکھ رہے ہیں۔ اسی طرح قانون بشریات، معاشیات کو بھی ان مسائل کے بطور جانچ کے استعمال ماہرین کرتے ہیں۔ سماج کی تبدیلی کا سامنا مسلم امہ کو بھی ہے اور مسلم فرد کو اجتماعی و انفرادی سطح پر تبدیلی کا سامناہے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے اور مزید وقت بوقت پیدا ہو رہے ہیں۔ اجتہاد ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ماضی میں بھی انسانی و سماجی مسائل کو ماخذ شرعیہ کی روشنی میں کیا جاتا رہا ہے۔ ماخذ شرعیہ کے ساتھ تحقیقی و تخریجی مراحل میں عربی زبان، قرآن و سنت، فقہاء کے مقرر کردہ اصول، اجماعی احکام سے آگاہی کے ساتھ ساتھ تعامل کی روشنی میں شرعی احکام بیان کیے جاتے رہے۔ زمانہ آگاہی کانام ہی تعامل ہے اور معاصر تعامل میں ایسے تمام مسائل و احوال فرد و اجتماع داخل ہیں جو نوپیدہیں اور اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کے شرعی احکام کی وضاحت کے تحقیق کی جائے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ظاہری مماثلت و نظائر کی تلاش ہی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اان مسائل کے نفسیاتی، عمرانیاتی، بشریاتی اور قانونی پہلوؤں کی روشنی میں ان مسائل کے پس منظر، مقاصد، محرکات اور اس کے معاشرے پر اثرات و نتائج کی جانچ پڑتال کرنا ازحد ضروری ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ ان علوم اور جدید طرق ِتحقیق کی روشنی میں (Investigation) کرنا کیسا ہے؟

یہ جدید معاشرے کے قیام کے بعد تعامل کی کیفیات و صور تبدیل ہو چکی اور جیسا ازمنہ قدیم میں فقہاء اپنے اپنے تعامل کی روشنی میں اس وقت کے ذرائع اور طرق استعمال کرتے ہوئے اجتہادکیا کرتے تھے اسی طرح جدید معاشرے کے اجتہاد میں جدید فرد کے انفرادی و اجتماعی مسائل و ضروریات کو جدید علوم اور ان کے داخلی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر جدید طرق ِ تحقیق کے ضوابط و قواعد کی روشنی میں رائے قائم کرنا شرعی تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا ہے تاکہ مکث فی الارض کے تناظر میں انسانیت کے لیےنفع رسانی کا سامان ہوسکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20