احکامات الہٰی کے مطابق فیصلہ:

0

تمام انبیاء لوگوں کو اللہ کا تعارف کروانے، اسکی ہدایات سے متعلق آگاہی دینے اور ان ہدایات کے مطابق معاشرے کی تشکیل کیلیے مبعوث کئے گئے۔

انبیاء اس وقت کے معاشرے کے رہن سہن، ذہنی ساخت اور ضروریات کے مطابق احکامات دیتے رہے اور یہ احکامات شریعت” کہلاتے ہیں۔ شریعہ یا شریعت کا لغوی معنٰی وہ راستہ ہے جو پانی کی طرف لے جاتا ہو۔ جبکہ اسی مناسبت سے جو راستہ دنیا و آخرت میں نجات کیلیے رہنمائی کرتا ہے اسے شریعت کہتے ہیں۔

دین و ایمان کی بنیاد ہر نبی نے ایک ہی بتائی۔ یعنی توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں، جنت، جہنم کے بارے میں تمام انبیاء کی تعلیم ایک ہی روشنی کا پرتو ہے لیکن شرعی معاملات میں ہر نبی کی امت کیلے اس وقت کے حالات و واقعات کے مطابق کچھ تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن ان شرعی معاملات کے مطابق انفرادی و اجتماعی امور میں پابندی ہر امت پر فرض رہی۔ قرآن پاک نے اللہ و رسول کے احکامات کی روشنی میں ان شرعی احکامات میں پابندی نہ کرنے اور مخالفت کو کفر، ظلم اور فسق کا ارتکاب قرار دیا ہے۔

قرآن پاک کا یہ اعجاز ہے کہ اسمیں قیامت تک کے انسانوں کیلیے رہنما اصول و قوانین بتا دئیے گئے ہیں جبکہ اسکی تشریح اور وضاحت نبی کریم صلعم کی سنت کرتی ہے،جسپر ایمان لانا اور عمل کرنا قیامت تک کے انسانوں کیلیے دنیا و اخروی فلاح کیلیے ضروری ہے۔

قرآن پاک نے اللہ، اسکے رسول اور دین کے احکامات کے نفاذ کیلیے کوشاں ریاستی سربراہ کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے۔ اب یہ اسلامی ریاست کاکام ہے کہ وہ قرآن و سنت کے واضح احکامات اور جدید چیلنجز سے نپٹنے کیلیے قرآن و سنت کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق ان مسائل کا حل پیش کرنے کیلے ادارے تشکیل دے اور ریاست ان تمام احکامات کو معاشرے میں نافذ کرے۔ ہمارے ملک میں اسلامی نظریاتی کونسل اسی مقصد کیلیے تشکیل دی گئی ہے۔

اسلامی ریاست میں تمام غیر مسلمانوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور انکے انفرادی فیصلے انکی مذہبی روایات و احکامات کے مطابق سرانجام دئیے جائینگے۔ قانون کا نفاذ ریاست کے ہر شہری خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ،اسکے لیے یکساں کیا جائے گا یعنی کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں۔

اسلامی ریاست کے اصل پہلو, بے لاگ اور یکساں انصاف کی فراہمی , غریب پروری, سود سے پاک قرض حسنہ, صدقات, مشا رکہ اور مضاربہ وغیرہ پر مبنی معیشت کی تشکیل, ارتکاز دولت کیلیے اقدامات کرنا شامل ہے۔ جبکہ حیا اور پاکیزگی کی بنیاد پر نمو پانے والے معاشرے کا فروغ, مرد و خواتین کے لئے یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنا, خود داری پر مبنی خا رجہ پا لیسی, معاشرے کے کمزور اور پسے ہو ئے طبقات کی فلاح کے لئےریاست کی طرف سےسہولیات کی فراہمی شامل ہے۔

آج یوم پاکستان کے دن ہمیں “کلمہ” کی بنیاد پر حاصل کردہ اس ریاست کو اسکے دستور کی روشنی میں مکمل دین کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا عزم دوھرانا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی یہ دینی و آئنی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق احکامات کا نفاذ کر کے اپنے آپکو کفر، ظلم اور فسق کی صف سے نکالیں ۔ ورنہ وہ نہ صرف آئن کے مطابق حق حکمرانی کھو بیٹھتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی انکو اس بھاری ذمہ داری کیلے جوابدہ ہونا پڑے گا اور اس جوابدہی سے انکا فرار ناممکن ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: