سلیم احمد کی روح کا رزمیہ —- فتح محمد ملک

0

سلیم احمد جوشِ عمل میں سرمست ایک خلاق دانشور تھے۔ دین و دانش کے دبستانِ میرٹھ کے زیرِ اثر وہ اسلامی ریاست کے قیام کی تمنا میں خاکسار تحریک کے ’’الامین‘‘ گروپ میں سرگرمِ عمل ہو گئے تھے۔ بعد ازاں مولانا شبیر احمد عثمانی کے استدلال نے اُنھیں مسلم لیگ کے پرچم تلے اسلامی ریاست کے قیام کا خواب دکھایا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ وقت بھی آ پہنچا جب اُنھوں نے جماعتِ اسلامی کے نظامِ مصطفیٰ ؐ کے قیام کے نعروں کو سچ سمجھا۔ یہاں بھی اپنی اُمیدوں کو خاک میں ملتا دیکھ کر اُنھوں نے اپنی ’’باقی ماندہ زندگی اسلام پسندوں سے جنگ‘‘ کی نذر کر دینے کی ٹھانی۔ ایسے میں اُنھیں ادب اور زندگی روحانی معنویت سے محروم نظر آنے لگے۔ مادی زندگی کی روحانی معنویت کی تلاش و جستجو اُنھیں رفتہ رفتہ ’’نیند کی وادی‘‘ تک لے گئی۔ خود سلیم احمد نے اپنے اس طویل سیاسی اور روحانی سفر کے احوال و مقامات کو اپنی ’’روح کا ایک رزمیہ‘‘ قرار دیاہے۔ لکھتے ہیں کہ الیکشن میں دائیں بازو کی شکست سے اُن کے اندر:

’’جانے کیسا دھماکہ ہوا کہ بچپن سے لے کر سن اکہتر تک کے تمام واقعات و حالات لاشعور کے نہاں خانوں سے نکل کر شعور میں آ گئے۔ میں خیالوں اور یادوں کی گزر گاہ بن گیا۔ اس حالت میں نہ جانے کیا ہوا کہ خود بخود ’’مشرق ہار گیا‘‘ کا آغاز ہو گیا۔ ایک طوفان کی طرح یہ نظم میرے پورے وجود پر چھا گئی۔ بے خودی کا ایک عالم تھا میں روتا جاتا تھا اور لکھتا جاتا تھا۔ لکھتا جاتا تھا اور روتا جاتا تھا۔ شاعری اگر روح کی پکار اور ایک پوری زندگی کا ثمر ہے تو یہ نظم یقینا ایسی شاعری ہے جو میرے وجود کی پوری معنویت کا اظہار کرتی ہے۔‘‘۱

سلیم احمد برصغیر میں ہندو اکثریت کے ایک خطے میں آباد مسلم اشرافیہ کے ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے جہاں جاگیردارانہ اخلاقیات اور اسلامی عبادات کا بول بالا تھا۔ اُن کے چچا تک کانگریسی سیاست میں سرگرم تھے مگر وہ خود لڑکپن ہی سے مسلم لیگ کی حمایت میں اتنے پرجوش تھے کہ:

’’نجانے مجھے ایک دن کیسی سوجھی
کہ خود اپنے ہاتھوں سے پرچم بنایا
ہر ا ایک کپڑا لیا
اس پہ پنّی کا چاند اور ستارہ سجایا
کئی لڑکے ہمراہ لے کر
اسے گاؤں بھر میں پھرایا
بہت کانگریسی تپے
پر مزا خوب آیا!

سلیم احمد اپنے لڑکپن سے لے کر اپنے دمِ واپسیں تک اس پرچمِ ستارہ و ہلال کی روحانی معنویت کو ہماری معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں عملاً جلوہ گر دیکھنے کی تمنا میں مصروفِ عمل رہے۔ شعر و ادب اور تہذیب و ثقافت اُن کا پسندیدہ میدانِ عمل تھا۔ ادبی زوال اور انحطاط کے ردعمل میں اُنھوں نے بنے بنائے ادبی سانچے توڑتے ہوئے عصری شاعری کی ہجو یوں شروع کی:

ہو رہی ہے ہر طرف سے منمناتی شاعری
منمناتی، چنچناتی، بھنبھناتی شاعری

’’صدقِ احساس و بیاں کے سب سبق بھولی ہوئی‘‘ اس شاعری نے خود اُن کے ’’مزاجِ شاعری کو برہم‘‘ کر دیا اور وہ یوں اینٹی غزل سرا ہوئے:

آ کے اب جنگل میں یہ عقدہ کھلا
بھیڑئیے پڑھتے نہیں ہیں فلسفہ
لومڑی کی دُم گھنی کتنی بھی ہو
سطر پوشی کو نہیں کہتے حیا
ریچھنی کو شاعری سے کیا غرض
تنگ ہے تہذیب ہی کا قافیہ
گورخر کی دھاریوں کو دیکھ لو
سوٹ چوپائے بھی لیتے ہیں سِلا

آج جب میں سلیم احمد کے یہ اشعار پڑھتا ہوں تو مجھے بے ساختہ پاکستان کے عروس البلاد لاہور میں خوش پوش وکیلوں کو لاٹھیوں سے مسلح ہو کر ہسپتال پر حملہ آور ہونے کا سانحہ یاد آ جاتا ہے اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہم نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے اداروں پر دین و دانش اور فکر و فلسفہ کے دروازے بند کرکے اپنی نئی نسل کو بھیڑیا بنا کر رکھ دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ تہذیب کا قافیہ واقعتا ہم پر تنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ جس زمانے میں سلیم احمد نے یہ شاعری تخلیق کی تھی اُس زمانے میں گرد و پیش کی زندگی اُن کے لیے’’ وحشتِ روح‘‘ کا سامان ہو کر رہ گئی تھی۔ اسی زمانے میں وہ ایک دوست کے ہاں ڈنر میں شرکت کی واردات کے بیان میں یہ تک کہَ گزرتے ہیں کہ:

روح پتھرا گئی اس طرح کا منظر دیکھا
جھک گئی آنکھ تو کوشش سے مکرر دیکھا
ہو گیا سنگ نما دیدۂ حیراں کیا کیا
کرسیوں پر نظر آئے مجھے حیواں کیا کیا
گھاس کی کرسی پہ بیٹھا ہوا خر کھاتا ہے
جعل کے توس سے دانش کا بٹر کھاتا ہے
ریچھ اک سمت میں وہ مغزِ ہنر کھاتا ہے
بھیڑیا پنجوں کے بل قاشِ جگر کھاتا ہے
تیندوا ایک طرف کُشت کیے بیٹھا ہے
ایک انسانِ مسلم کو لیے بیٹھا ہے
اور وہ مہمانِ خصوصی کی بڑی کُرسی پر
اِک سگِ سرخ نشستہ ہے ہری ٹائی میں

ایسے میں سلیم احمد اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بھاگ کھڑے ہوئے۔ تیرہ و تاریک سڑک پر بھاگتے بھاگتے بالآخر ایک نئی راہ پر آ نکلے۔ یہ راہ اُنھیں ’’قصرِ سیاہ‘‘ میں لے آئی۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہولناک قصرِ سیاہ پاکستان کو وہ ایوانِ اقتدار ہو جس میں سلیم احمد پہلے پہل وزارتِ اطلاعات میں مشیر بن کر داخل ہوئے تھے اور چارج سنبھالتے ہی مستعفی ہو گئے تھے۔ یہاں اُن کی ’’روح پتھرا گئی اس طرح کے منظر دیکھے‘‘۔ چار جانب وحشت و بربریت کو کارفرما دیکھتے ہوئے اُنھوں نے یوں محسوس کیا ’’دہر پر جیسے مسلط ہو شبِ تارِ گناہ‘‘ اور اس پر مستزاد یہ کہ وہاں:

جہل اک سمت میں کھاتا ہے وہ دانش کے کباب
کاسۂ سر میں اُدھر ظلم وہ پیتا ہے شراب
کُفر وہ بیچ میں مسند پہ ڈٹا بیٹھا ہے
حاکمِ وقت کے مانند تنا بیٹھا ہے
اور وہ اُس کے مقابل میں عیاذاً باللہ
دیکھ کر جس کو تڑپتی ہے جراحت سے نگاہ
رحلِ تقدیر پہ قرآنِ جلی رکھا ہے
طشتِ زریں پہ سرِ ابنِ علی رکھا ہے

یوں جدید اسلامی ریاست کے مقدس تصور کو ابلیسیت کے فروغ و استحکام کی خاطر استعمال ہوتا دیکھ کر وہ نیند کی وادی میں اُتر گئے تھے۔ پاکستان میں اسلامی نظام کی ترویج کا خواب ایک مرتبہ پھر خوابِ پریشاں ہو کر رہ جانے کا صدمہ اتنا شدید تھا کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھے۔ اس عالم میں بھی وہ پاکستانی پرچم رہ رہ کے یاد آتا رہا جسے وہ اپنے لڑکپن میں تھام کر جہد آزما ہوئے تھے:

کس کا پرچم
سب کا پرچم …میرا پرچم…
مشرق…مغرب…سب کے پرچم…میرا پرچم
میراپرچم…میں…کون…کون… میں کون
میرا پرچم…میرا پرچم…سب کا پرچم

قائداعظم کی وفات حسرتِ آیات سلیم احمد کی زندگی کے دو المناک ترین سانحات میں سے ایک ہے۔ پہلا سانحہ اُن کے اپنے باپ کی موت ہے اور دوسرا سانحہ اپنی قوم کے باپ کی رحلت ہے۔ ’’مشرق ہار گیا‘‘ میں ۱۱ستمبر کو قائداعظم کے سفرِ واپسیں کی ساعت:

ہجوم کوچہ و بازار میں برہنہ پا
ہجوم ہر درودیوار پر برہنہ سرہجوم جیسے رواں کاہکشاں
اور اس ہجوم میں، میں
ایک ذرۂ ناچیز
ایک جمِ عظیم
جو اپنی لاکھوں کروڑوں اُبلتی آنکھوں سے
گریاں
جو اپنے لاکھوں کروڑوں لرزتے ہونٹوں سے
نوحہ کناں
جو اپنے لاکھوں کروڑوں عظیم ہاتھوں سے
سینہ زناں
یہ گیارہ ستمبر تھی…گیارہ ستمبر
ہم اک زرد سورج کی میت کو
کاندھوں پہ اپنے اُٹھائے ہوئے
قوم کے باپ کو الوداع کہہ رہے تھے
الوداع…قائدمحترم الوداع
الوداع…آفتابِ درخشانِ ارضِ عجم الوداع
الوداع
اے امیدِ حرم الوداع، الوداع!

اس سانحۂ عظیم کے بعدجب ہم رفتہ رفتہ برطانوی تربیت یافتہ افسر شاہی کے پنجۂ استبداد میں اسیر ہو کر رہ گئے تو بہت جلد وہ وقت آ پہنچا جب ہم حریتِ فکر و عمل سے محروم ہو کر ایک بے سمت و رفتار ہجوم بن کر رہ گئے۔ ایسے میں سرسے پاؤں تک گرد میں اٹا ہوا ایک بزرگ نمودار ہوتا ہے جو بازار میں سرگرداں ہجوم کو عذابِ الیم سے متنبہ کرتے ہوئے:

بادل کی آواز میں گرجا
’’سُن اے قوم!
اُس بجبجاتے ہوئے مادے کی قسم
جو اب تیرا معبود ہے
تجھے تیری بد عہدیوں کی سزائے موافق ملے گی
تجھے شیر بھاڑیں گے اور بھیڑیئے کھائیں گے
خدا نے تمہیں نعمتیں دیں
مگر تو نے بدکاریاں کیں
پرے باندھ کر تو شکم سیر بدمست گھوڑوں کی مانند قحبہ خانوں میں ناچی
زمیں تیرے قدموں سے ناپاک ہو کر
نجس عورتوں کی طرح
وہ غسل طہارت کرے گی
جو ترے خوں سے ہوگا
ترے سب وزیر اور امیر اور شریر ایک ہیں
یہ کم بخت سونا بناتے ہیں
ایسے غریبوں کے خوں سے
جنہیں نانِ شب بھی میسر نہیں ہے‘‘

گلی بازار میں سرگرداں آوارہ و اوباش ہجوم نے اس بزرگ کے پندو نصائح ’’پاگل ہے بے پاگل ہے!‘‘ اور ’’چڑیا گھر سے آیا ہے‘‘ کے تبصروں سے رد کر دیا اور حسبِ معمول ’’تاک دھنا دھن تاک‘‘ کی دُھن پر ناچتے رہے۔ اس بزرگ کی باتیں سنتا ہوں تو مجھے بانیانِ پاکستان کے وہ بنیادی نظریات یاد آتے ہیں جو ہم نے مفاد پرست طبقات کی خوش نودی کی خاطر اپنے حافظے سے محو کر دیئے ہیں۔ سلیم احمد کی اس نظم کا یہ درویشِ خدامست ہماری گلیوں اور ہمارے بازاروں میں آوارہ گردی میں مصروف اس بے سمت ہجوم کو بانیانِ پاکستان کے فکر و عمل کی جانب متوجہ کرنے کا فریضہ سرانجام دینے والا پاگل نظر آتا ہے۔ اس آوارہ و اوباش ہجوم کو کیا خبر کہ ایسے ’’پاگلوں‘‘ کوبندہ ہائے عشق و جنوں کہا جاتا ہے۔ وہ بانیانِ پاکستان جو پاکستان کوعدم سے وجود میں لائے تھے بندگانِ عشق و جنوں ہی تھے۔ آج ہمارے ہاں بندگانِ درہم و دینار کی ہوس اختیار و اقتدار نے بھیک مانگنے اور بھیک بانٹنے کو سکۂ رائج الوقت بنا کر رکھ دیاہے۔ اس نظم کے اگلے باب بعنوان ’’مکاشفہ‘‘ میں اس تہ بہ تہ گہرے اندھیرے میں روشنی کی کرنیں چمکنے لگتی ہیں:

مجھے ایسا لگا
جیسے یہ محشر ہے
یہ محشر ہے
خدا ہے اور میں ہوں
’’خداوندا تری نصرت کہاں ہے
فتح کتنی دور ہے‘‘
اور یکایک یوں ہوا جیسے کہ میری آنکھ نے دیکھا
کہ اک فوجِ گراں کا کوچ ہے
کوہ و بیاباں میں
اور اس کے پاؤں کی سنگیں دھمک سے
سینۂ گیتی میں لرزہ ہے!

یہ پیش بینی درست ثابت ہوئی مگر افسوس صد افسوس کہ جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں فوج کا یہ تسلط سلیم احمد کو ایک ’’قصرِ سیاہ‘‘ میں لے آیا تھا جہاں سے وہ’’ نیند کی وادی‘‘ میں جا پہنچے تھے!

حواشی ۱۔ پیش لفظ، مشرق، سلیم احمد، کراچی، ۱۹۸۹ء۔

یہ بھی پڑھیں: کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

سلیم احمد کے بارے میں دو گفتگوئیں:

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20