زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم — حافظ محمد زوہیب

0

امیر خسرو کا ایک شعر ہے:
؎ زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

یعنی میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا، کیا ہی اچھا ہو اگر اسکی زبان میرے منہ میں ہو۔ بولنے، بات کرنے، اپنے احساسات، جذبات و خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کے صوتی اور لفظی وسیلے کو زبان کہتے ہیں۔ زبان اصل میں ایک ایسا نظام ہے جس میں مختلف آوازوں کو سُن کر ایک ربط بنایا جاتاہے اور اُسے معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں زبان کی ماہیت، اُس کی تاریخ، خاص قرآن کی روشنی میں اور اس کے ساتھ ساتھ عربی زبان کی اہمیت و افادیت کو سپردِ قلم کیا جائے گا۔

تخلیقِ آدم کے بعد انسان نے اپنی ضروریات کا حل ڈھونڈنا شروع کردیا، جیسے: کھانے کے لیے انسان نے بیج بونا سیکھا، رہنے کے لیے ایک ایسی جگہ ڈھونڈی جہاں اُسے سکون میسر ہو۔ اسی طرح یہ کہا جاتاہے (آگے تفصیل آئے گی) کہ ضروریات اور احساسات کے تحت اظہارِ مدعا کیلئے انسان کو الفاظ کی ضرورت پڑی اور یہ الفاظ مختلف آوازوں کے مجموعے سے بنے اور پھر رفتہ رفتہ مختلف زبانوں کا ظہور ہونا شروع ہوگیا۔ علم لسانیات کی لغت اور اصطلاح میں ان آوازوں کو حروف تہجی کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ حروف بنیادی آوازیں ہیں جنہیں جوڑ کر الفاظ بنتے ہیں۔ مثلاً: عربی کا لفظ ’ما‘ کے معنی ’پانی‘ کے ہیں اور فارسی میں ’ما‘ کے معنی ’ہم‘ کے ہیں۔ اسی طرح مختلف زبانوں میں کئی الفاظ مشترک ہوتے ہیں مگر انکے معنی مختلف ہوتے ہیں۔ اصل میں آواز مشترک ہوتی ہے لہذا ہر علاقہ اور ہر نسل کے لوگوں نے ہزارہا سالوں سے اپنی اپنی ضرورت اور مزاج و ماحول کے مطابق زبانیں بنا لیں۔ زبان محض ایک آلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ شعور کا ایک لازمی اور ناگزیر حصہ ہے۔ یہ انسانی ذہن اور خود شعوری کی لیاقت ہے۔ انسانی ذہن شعور کی مجموعیت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ زبان شعور کی ترقی کے ساتھ ترقی کرتی ہے اور جب شعور پر روک لگائی جاتی ہے تو زبان بھی رک جاتی ہے۔

اہلِ علم نے زبان کی مختلف تعریفیں کچھ اس طرح کی ہے :

’’زبان محدود نطقی آوازوں کا مجموعہ ہے، جس میں اظہار کی غرض سے تنظیم پیدا کی جاتی ہے‘‘(خلیل صدیقی، زبان کیا ہے، ص، ۱۵، عاکف بک ڈپو، مٹیا محل دہلی، سنِ اشاعت، ۱۹۹۴)۔ ’’زبان روایتی علامتوں کا ایک نظام ہے جو کسی بھی وقت اختیاری طور پر مسلمات کے تحت وضع کیا جاسکتا ہے‘‘(ایضاً)۔ ’’زبان ان علامتوں کا ڈھانچہ ہے جس کی مدد سے خیالات اور حقائق کو بیان کیا جاتاہے، جن اشیا کا وجود نہیں اور حواس جن کا ادراک نہیں کر سکتے اُن کا خاکہ کھینچا جاتا ہے۔‘‘(ایضاً)

زبان کے میڈیم:

معروف محقق خلیل احمد صدیقی زبان کے میڈیم سے متعلق لکھتے ہیں :

’’بات چیت کے لیے تکلم، سامع اور گفتگو کے مواد کا وجود ضروری ہے۔ یہ مواد سامع تک براہِ راست نہیں پہنچتا بلکہ تکلمی آوازوں کے ذریعے سے پہنچتاہے اور اس مواد کی موصولی سماعت کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ اس لیے تکلمی آوازوں کے وسیلے کو ’’سمعی میڈیم‘‘ کہا جاتاہے۔ زبان کے اظہار و ابلاغ کا دوسرا معروف ذریعہ تحریر ی ہے، جسے پڑھ کر ’مواد موصول‘ کہا جاتاہے۔ قوتِ باصرہ مواد کی موصولی کا وسیلہ بنتی ہے، اس لیے تحریر کو ’’بصری میڈیم‘‘ کہتے ہیں۔ تکلمی آوازوں کی ترکیبیں اور ڈھانچے معنویت پاکر مجموعی طور پر زبان کہلاتے ہیں۔۔۔ تکلمی آوازیں یا میڈیم ہی وہ مواد ہے جس سے زبان کی ہیئت تشکیل پاتی ہے۔ ’’میڈیم‘‘ کی صرف یہی خصوصیت نہیں کہ زبان کا وسیلہ بننے والے پیٹرن (pattern) اور ڈھانچے (structures) بنائے بلکہ وہ اپنی ہی آزاد اور خود مختار حیثیت بھی رکھتاہے۔ بولا جانے والا ہر کلمہ زبان کا ایک جزو ہی نہیں بلکہ کسی دوسری آواز کی طرح ہوتاہے یا آوازوں کا سلسلہ یا زنجیرہ بھی ہوتاہے۔۔۔ ’’لامسی میڈیم‘‘ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ نابینا افراد کی تعلیمی ضرورت کو پوری کرتاہے۔۔۔‘‘ (خلیل احمد صدیقی، زبان کیا ہے، ص۲۹، عاکف بک ڈپو، مٹیا محل دہلی، سنِ اشاعت، ۱۹۹۴)

زبان کا زیور :

محاورات، روزمرہ، تلمیحات اور ضرب الامثال کو زبان کے زیور کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی مدد سے سادہ بات کا بیان نہ صرف خوب ‌صورت اور سحرانگیز ہو جاتا ہے بلکہ بسااوقات کلام کی بلاغت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ (خلیل احمد صدیقی، زبان کیا ہے، ص، ۲۹، عاکف بک ڈپو، مٹیا محل دہلی، سنِ اشاعت، ۱۹۹۴)یعنی محاورات و کہاوتیں زبان کے حسن کو چار چاند لگادیتے ہیں۔

عورتیں اور ذخیرۂ الفاظ :

عام طور پر یہ کہا جاتاہے کہ زبان دانی کے معاملات میں عورتیں مردوں کی نسبت کچھ پیچھے ہوتی ہیں ، لیکن یہ صرف خیال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کہیں زیادہ فصیح اللسان ہوتی ہیں۔ اُن کے پاس الفاظ ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہوتاہے۔ اس ضمن میں خلیل احمد لکھتے ہیں:

’’لسانی انحرافات کے ذیل میں عورتوں اوراہلِ حرفہ کی بولیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی میں تو مرد و عورتوں کی بولیوں میں واضح اختلافات کچھ زیادہ ہی ہوتے تھے۔ عورتوں کا سماجی دائرہ محدود ہونے کی وجہ سے اُن کی زبان خارجی اثرات سے محفوظ اور اپنی اصل سے زیادہ قریب ہوتی تھی۔ اُن کے مخصوص روز مرہ محاوروں اور کہاوتوں میں خاصی تازگی اور برجستگی بھی ہوا کرتی تھی۔ اور دنیا میں عورتوں کی زبان کو مستند سمجھا جاتا رہا ہے۔۔۔۔ ( خلیل احمد صدیقی، زبان کیا ہے، ص۵۳، عاکف بک ڈپو، مٹیا محل دہلی، سنِ اشاعت، ۴ ۱۹۹)

مذہب اور زبان:تاریخ ِانسانی کا یہ مسلمہ امر ہے کہ زبان انسان کی ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی حیوانات جیسی ہوجائے۔ اب جو بات ذہنِ انسانی میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا مذہب نے زبان سے متعلق کچھ وضاحت کی ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں ہمیں قرآن مجید کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ قرآن نے زبان کو ’نشانی‘ کہا ہے۔ ارشاد ہوتاہے: وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ۔ (۲۲:۳۰) اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مندوں لوگوں کے لیے۔ (ترجمہ، مودودی) زبان وہ خاص صفت ہے جو انسان کو دوسرے زندہ عالم سے نمایاں کرتی ہے۔ یقیناً آج انسان جس مقام پر پہنچا ہے اس میں زبان اور کتاب کا بڑا حصہ شامل ہے۔

زبان کی تاریخ : زبان کی تاریخ کتنی قدیم ہے ؟ ماہرین ِ لسانیات کہتے ہیں کہ:

’’اگر پوچھا جائے کہ سب سے قدیم زبان کون سی ہے؟ تو ہم شاید سوچیں کہ یہ سنسکرت، قدیم مصری یا بابل میں بولی جانے والی بابلی زبان ہو۔ پروفیسر ٹالرمین کا کہنا ہے کہ اس کا کہانی کے آغاز سے قریب کا بھی تعلق نہیں ہے۔ زیادہ تر وہ زبانیں، جنھیں ہم قدیم تصور کرتے ہیں وہ چھ ہزار سال پرانی ہیں اور بنیادی طور پر آج کل کی جدید زبانوں جیسی ہی ہیں۔ ماہرین ِ لسانیات کہتے ہیں کہ آج کل دنیا میں 6500 زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن سائنس دان کس طرح اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ کونسی زبان سب سے زیادہ قدیم ہے‘؟ (https://www.bbc.com/urdu/vert-cap-48763120)‘‘

اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت کا کہنا ہے کہ انسان نے ایک لمبے عرصے بعد زبان سیکھی ہے۔ یہ بات کافی بحث طلب ہے کیوں کہ قرآن کی تعلیمات سے پتہ چلتاہے کہ انسان جب دنیا میں آیا تو اسے ’بیان ‘ کی صلاحیت دی گئی تھی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتاہے : ’ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ‘ (۴:۵۵) اُ سی نے اس کو بولنا سکھایا۔ (ترجمہ، مودودی)۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتاہے : وَلِسَانًا وَّشَفَتَيْنِ۔ (۹:۹۰) اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟ (ترجمہ، مودودی)۔ ایک اور بات قرآن مجید نے واضح کردی ہے کہ رسالت مآب ﷺ سے قبل اللہ تعالیٰ نے قوموں پر اُن ہی کی زبان میں انبیاء و رسل بھیجیے۔ ارشا د ہوتاہے : وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ۔ (۴:۱۴) ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا تاکہ وہ انھیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ (ترجمہ، مودودی)۔ ان آیات سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انسان جب دنیا میں آیا تو اُس کے پاس بولنے کی صلاحیت اور عقل و شعور دونوں تھے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پہلے انسان (آدم ) حضرت آدم ؑ اور ان کے ساتھیوں سے متعلق یہ بات ارشاد فرمائی کہ : فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًى فَمَنْ تَبِــعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ۔ (۳۸:۲) پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہوگا۔ (ترجمہ، مودودی) یعنی یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان جب دنیا میں آیا تو اُسے بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔ اور چوں کہ وہ وحی کے تابع بھی تھا تو اس لیے اس کو ایک راہ بھی دی گئی تھی تاکہ اُس راہ پر چلتے ہوئے فوز و فلاح پر جا سکے۔

عربی زبان اور اس کی اہمیت :

قرآن مجید الہامی کتابوں میں سب سے آخری کتاب ہے، اس کی زبان عربی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کی زبان سے متعلق ارشاد فرمایا کہ : بِلِسَانٍ عَـرَبِـيٍّ مُّبِيْ۔ (۱۹۵:۲۶) صاف صاف عربی زبان میں۔ (ترجمہ، مودودی ) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتاہے : فَاِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔ (۵۸:۴۴) اے نبی، ہم نے اس کتاب کو تمھاری زبان میں سہل بنا دیاہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کر سکیں۔ (ترجمہ، مودودی)

ان آیات سے جو مفاہیم نکلتے ہیں وہ :

  • قرآن کی زبان نہایت صاف اور واضح ہے۔
  • اس زبان (عربی) کو نہایت سہل بنایا ہے۔
  • اس (قرآن ) سے لوگ نصیحت حاصل کریں۔

عربی ایک زندہ زبان ہے۔ اس کے زندہ ہونے کا ثبوت اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے کی جو قومیں تھیں اُن کی زبانیں اب ناپید ہوچکی ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم سیدنا آدم ؑ کون سی زبان بولتے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم سیدنا نوح ؑ کون سی زبان بولتے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم سریانی زبان کیسے ناپید ہوگئی۔ عبرانی زبان میں اب کہیں جاکر اصلاحات کی جارہی ہیں۔ عربی زبان کا معاملہ دنیا کی تمام زبانوں سے بالکل الگ ہے۔ یہ واحد دنیا کی قدیم زبان ہے جو اب تک اپنی اصل میں موجود ہے۔ اس زبان کا تعلق عقل سے جوڑا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتاہے: اِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ (۳:۴۳)کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔ یعنی عقل و شعور کا تعلق اس زبان سے جڑا ہوا ہے اس لیے آخری کلام اسی زبان میں نازل ہوا۔ اس زبان کے الفا ظ میں ایسی اشتراکیت پائی جاتی ہے کہ قاری دنگ رہ جاتاہے، مثلاً: عربی زبان میں ایک لفظ کے کم سے کم دو معنی عام طور پر پائے جاتے ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں جیسے: عین کا معنی چشمہ، گھٹنا، جاسوس، نقدی اور آنکھ وغیرہ۔ جبکہ دوسری زبانیں اس سے خالی ہیں۔ اسی طرح جس لفظ کے شروع میں جو حرف آتا ہے، اس حرف میں پائی جانے والی صفات کا اثر اس لفظ کے معنی میں بھی پایا جاتی ہے، جیسا کہ شین کی ایک صفت تفشی ہے، تفشی کا مطلب ہے کہ حرف کی ادائیگی میں آواز کھینچتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نکلے، ایسے ہی اس کے معنی میں بھی پھیلاؤ کا معنی پایا جائےگا جیسےعربی میں جوانی کو شباب کہتے ہیں، کیونکہ جوانی میں جسم کے جوڑ اور جذبات بڑھ جاتے ہیں، اسی طرح قوانین الہیہ کو عربی میں شرع کہتے ہیں کیونکہ خدا کا قانون ہمہ گیر ہے اور اس کا دائرہ تمام دنیا کو محیط ہے۔

مختصر اورجامع : حضور ﷺ کا ارشاد ہے : اعطیت جوامع الکلم (بخاری) یعنی مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے۔ یعنی یہ آپ ﷺ کا معجزہ تھا کہ مختصر بات میں اتنی جامعیت ہوتی تھی کہ سامع کو چند الفاظ میں پورا کا پورا مدعا سمجھ میں آجاتاتھا۔ جیسے آپ ﷺ کا ارشاد ہے : الدنیا مزرعۃ الاٰخرۃ۔ (بخاری) دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اب سمجھنے والا سمجھ جائے گا کہ دنیا میں جو کچھ انسان بوئے گا اسے آخرت میں کھیتی یعنی اس کا نتیجہ ضرور ملے گا۔ یہی معاملہ قرآن مجید کا ہے مختصر اور اتنے مدلل اندام میں کلام کرتاہے کہ قاری فوراً بات سمجھ جاتاہے کہ ان چند الفاظ کی حقیقت کیا ہے۔ مثلاً، سیدنا مسیح ؑ اور اُن کی والدہ حضرت مریم ؑ پر لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کیں جیسے وہ معاذ اللہ خدا کے بیٹے اور حضرت مریم ؑ خدا کی بیوی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اللہ نے جواب دیا۔ كَانَا يَاْكُلَانِ الطَّعَامَ۔ (۷۵:۵) وہ دونوں کھانا کھاتے تھے(ترجمہ مودودی)۔ اب دیکھیے اس چھوٹے سے کلام میں کتنی اہم بات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمادی ہے، یعنی کہ جو بھی کھانا کھاتاہے وہ محتاج ہوتاہے سبزی یا کسی بھی کھانے کی چیز کا۔ اسی طرح اسے کھانا پکانے کے لیے چولہا چاہیے ہوگا یعنی انسان اس چولہے کا محتاج ہوگا جس پر کھانا پکے گا۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے ماورا ہے وہ کسی کا محتاج نہیں، اسے کسی کھانے یا چولہے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے چند الفاظ میں کتنی گہری بات اللہ تعالیٰ بیان فرمادی۔ اس لیے اس زبان میں اختصار اور جامعیت ہے جو دوسری زبانوں میں نہیں ہے۔ ان تمام بحث کا حاصلِ کلام کچھ یوں ہے:

  • انسان کو ضروریات اور احساسات کے اظہار کے لیے الفاظ کی ضرورت پڑی جس سے زبانوں کا ظہور ہوا۔
  • مختلف زبانوں میں کئی الفاظ مشترک ہوتے ہیں لیکن ان کے معنوں میں اختلاف پایا جاتاہے۔
  • زبان ان علامتوں کا ڈھانچہ ہے جس کی مدد سے خیالات اور حقائق کو بیان کیا جاتاہے۔
  • قرآن مجید نے زبان کو ’نشانی‘ کہا ہے۔
  • انسان کو ابتدا ہی سے ’بیان‘ کی صلاحیت دی گئی تھی۔
  • قرآن مجید کے مطابق جب انسان دنیا میں آیاتو اسے قوتِ گویائی عطا کی گئی تھی۔
  • انسان ابتدا ہی سے وحی کا تابع رہا ہے۔
  • اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر انبیاء ان ہی زبانوں پر بھیجیے۔
  • عربی زبان کا تعلق عقل سے جوڑا گیا ہے۔
  • عربی میں ایک لفظ کے کم از کم دو معنی پائے جاتے ہیں اور زیادہ سےزیادہ کوئی حد نہیں۔
  • اس زبان کا خاصہ ہے کہ مختصر الفاظ میں اتنی جامعیت ہوتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتاہے۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20