اسلامک فیمنزم: اسلام اور فیمنزم سے مذاق —– خرم شہزاد

0

کسی بھی کام یا تحریک کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے عملی میدان کے بارے پوری معلومات ہوں۔ اس کام یا تحریک میں شامل اور ایسے تمام لوگ جن پر اس کے اثرات مرتب ہونے ہیں ان تمام متعلقہ لوگوں کی نفسیات کا بھی بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں بہت سے کاموں کا ڈول تو ڈال دیا جاتا ہے لیکن اس کے لیے درکار زمینی حقائق سے ہم بے خبر ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے ایک طبقے کی یہ عمومی نفسیات ہے کہ مغرب کی تقلید کو ہی اصل کام سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے مغرب میں کسی کو زکام بھی لگا ہو تو یہاں چھینکنے کو عقل اور شعور کی کئی منازل طے کرنے کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں مغرب کے رد میں ایک طبقہ ہے جو مغرب کے ہر کام کا اسلامی ورژن جاری کرتا رہتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے مغرب کی تقلید میں شروع ہوا اور اس کے رد میں حیا ڈے منایا جانے لگا۔ مغرب والوں نے ماں باپ کو اٹھا کر اولڈ ہوم میں ڈال کر سال میں ایک فادر اور مدد ڈے منانا شروع کر دیا تو ہمارے ہاں دن رات ماں باپ سے جوتیاں کھانے والے بندر بھی مور ناچ ناچنے لگے۔ اپنی حقیقت میں کسی بھی مغربی دن کا ہمارے معاشرے میں کوئی حصہ نہیں اور اب بھی یہ دن منانے والے معاشرے کے کبوتروں میں کوے جیسے لگتے ہیں۔ مغربی رواجوں کی پزیرائی میں آج کل ہمارے معاشرے میں فیمنزم کا اسلامی ورژن جاری کرنے اور معاشرے کو اسلامی فیمنزم کے بخار میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بہت معذرت لیکن اسلامک فیمنزم ہمارے نزدیک اسلام اور فیمنزم دونوں کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق ہے کیونکہ دونوں بہت الگ چیزوں کو ایک جگہ جمع نہیں کیا جا سکتا۔

سب سے پہلی بات کہ اسلام اپنی مکمل تعلیمات کے ساتھ ہمیشہ رہنے والا مذہب ہے جبکہ کسی بھی تحریک کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ کیمونزم کی بات ہو یا سوشلسٹ جذبوں کی کہانیاں ہوں، دائیں بائیں بازووں والے ہوں یا ترقی پسند ادب، ایسی بہت سی تحاریک کی چھوٹی سی عمر کے گواہ تو آپ بھی ہوں گے۔ اب ان وقتی تحریکوں کا موازنہ اور مقابلہ کس طرح سے اسلام یا کسی بھی آفاقی مذہب کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ چار دن کی چاندنی کے بعد جب ان تحریکی ایوانوں میں اندھیری راتیں چھا جائیں گی تو ناکام و نامراد افراد پھر سے مذہب کو الزام دے رہے ہوں گے۔

اسلامک فیمنزم میں بہت سے اسلامی قوانین اور ضوابط کی نئی تشریحات کے لیے میدان ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  کہنے والے کہتے ہیں کہ آج کے جدید دور میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اسلامی قوانین کی موجودہ دور کے مطابق تشریحات کی جائیں۔ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ پچاس سال بعد ہمارا جدید دور قدیم میں بدل چکا ہو گا تب ان تشریحات کی قدر اور وقت کیا رہ جائے گی؟ کیا اس وقت دوبارہ سے ان تشریحات کو کسی کچرے کی ٹوکری میں ڈال کر مزید نئی تشریحات کی جائیںگی؟ اس کے لیے ایک بہت چھوٹی سی مثال یہ دینا پسند کروں گا کہ اسلام میں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کو برابر قرار دیا ہے لیکن اسلامک فیمنزم کی نئی تشریحات میں عورتوں کی تعلیم اور کئی میدانوں میں بہتر کارکردگی کی وجہ سے اس بات کے بارے سوچا جا رہا ہے کہ چونکہ اب قدیم زمانے کی طرح عورت ان پڑھ اور ایک محدود ماحول میں رہنے والی نہیں رہی اس لیے آج ایک عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر ہونی چاہیے۔ جبکہ ترقی کی منازل طے کرتی ٹیکنالوجی آنے والے چند سالوں میں ہماری زندگی کے ہر پل کو آن لائن اور ریکارڈ میں تبدیل کر دے گی تو پھر شائد کسی مرد اور عورت کی گواہی کی ضرورت ہی باقی نہ رہے اور کسی بھی بات کے ثبوت کے لیے گوگل اور آن لائن ڈیٹا کی خدمات حاصل کی جائیں، تب ہماری آج کی جدید تشریحات کس قیمت میں میسر ہوں گی ؟ ایک اور سوال جس کا جواب نہیں دیا جارہا ہے اسلامی احکام میں پڑھی لکھی اور ان پڑھ، سمجھ دار اور نا سمجھ جیسی کوئی تفریق نہیں کی گئی بلکہ سب کے لیے یکساں احکامات بیان کئے گئے ہیں لیکن چونکہ اسلامک فیمنزم میں عورت کے پڑھے لکھے ہونے اور زندگی کے کئی میدانوں میں کامیاب کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے ایک مرد اور ایک عورت کی برابری کا سوال اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس لیے کیا ان پڑھ اور نا سمجھ یا دیہاتی عورت کے لیے اسلامک فیمنزم میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور کیا ان پڑھ عورتوں کے معاملے میں بدستور دو کی گواہی ایک مرد کے برابر رہے گی؟

اسلامک فیمنزم کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ماننے واے اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے کا خیال کہیں پیش کرتے نظر نہیں آتے۔ ایسے لوگوں کی آخری حد بھی اسلامی تعلیمات میں سے عورتوں کے چند حقوق کے بارے نئی توجیہات اور تشریحات پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات کا نام ہے اور اس میں کسی ایک پہلو پر عمل نہ کرتے ہوئے ہم کسی دوسرے پہلو کے وہ فوائد حاصل نہیں کر سکتے جس کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ جب عورتوں کو یکساں مواقع میسر آنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ بچیوں کو بھی یکساں تعلیم اور تربیت دی جائے جس کا اسلام حکم دیتا ہے۔ اس طرح اگر ہم خواتین کو گھر سے باہر ہراسمنٹ سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اسلام کے پردے کے احکام، تعلیم و تربیت، حلال کمانے اور دین دار گھرانے پر مشتمل مکمل کڑی کا عملی نفاذ کرنا پڑے گا۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے عورت کی زیب و زینت کی جو حد مقرر کی گئی ہے اس کی پاسداری کے ساتھ ہی مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنے کی ممانعت اور اپنی نظریں جھکا لینے کا عملی اطلاق کرنا پڑے گا۔ اب دنیا میں کوئی ایسا قانون تو بنایا نہیں جا سکتا کہ ایک فرد دوسرے کو نہ دیکھے ہاں لیکن اگر ایک دین دار گھرانے کے والدین نے حلال کمائی کے ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہو تو اس گھرانے کے مرد سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ غیر محرم کو دیکھتے ہوئے اپنی نظریں جھکالے اور سامنے موجود عورت کی زیب و زینت بھی ایسی نہ ہو کہ مرد کو اپنی نفسانی خواہشات سے لڑتے ہوئے اسے دوبارہ دیکھنے یا متوجہ ہونے کی ضرورت پڑے۔ یوں ایک مکمل کڑی ترتیب دئیے جانے کے بعد ہی ہم اس کے مکمل فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حرام کمائی پر بچوں کو پالنے کے بعد یہ توقع کی جائے کہ اس گھرانے کے مردوں سے غیر عورتوں کی عزتیں محفوظ رہیں گی یا اس گھرانے کی لڑکیوں کے کسی غیر مرد سے تعلقات نہ ہوں گے۔ اسلامک فیمنزم کے تمام ایجنڈے ایسے کسی منشور سے خالی ملتے ہیں اور وہاں بھی چند لفظوں کے ہیر پھیر سے کام چلانے کو ہی اپنی کوششوں کی معراج سمجھا جا رہا ہے جبکہ عورتوں کے تمام بنیادی مسائل جیسا کہ جائیداد میں حصہ، مطلقہ اور بیوہ عورتوں کی بحالی، شادیاں اور ان کے بچوں کی پرورش، عورتوں کو گھروں میں غیر انسانی سلوک اور جہیز جیسی لعنت سے بچانا، شادیوں کے غیر یقینی مستقبل جیسے تمام معاملات کا ایک ہی یقینی اور بہترین حل مکمل طور پر اسلام کے نفاذ میں ہے اور دنیا کا کوئی قانون سو فیصد حل کی ضمانت نہیں دے سکتا لیکن ہم اپنے نام، شہرت اور انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر کام پر اپنا جھنڈا لگانے کی خواہش میں اسلام کے بجائے اپنی کوششوں کا صلہ چاہتے ہیں۔

یہاں یہ کہنے میں کوئی عار نہ ہو گی کہ جیسے دین کا لیبل لگائے لوگوں کا دل بھی ویلنٹائن ڈے منانے کو مچل رہا تھا تو انہوں نے ملنے ملانے کے بہانے کو حیا ڈے کا نام دے ڈالا لیکن ملنے ملانے سے باز پھر بھی نہ آئے ایسے ہی فیمنزم کے نام پر عالمی سطح پر جو فنڈز جاری کئے جا رہے ہیں ان میں حصہ وصولنے اور مختلف ہمدردیوں کے نام پر خواتین و حضرات کے ملنے ملانے کے بندوبست کو اب اسلامک فیمنزم کا نام دیا جا رہا ہے جبکہ اسلامک فیمنزم نام کی کوئی چیز ممکن ہی نہیں۔ اسلام یا تو اپنی مکمل صورت میں نافذ ہوتے ہوئے ہر شخص کے لیے اس کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے آسانیاں فراہم کرتا ہے یا پھر حصوں اور ٹکڑوں میں بٹے ہوئے منتخب اسلام سے ہم صرف اس خوش فہمی میں زندہ رہ سکتے ہیں کہ اسلام کسی نہ کسی حد تک نافذ ہے اور اس کسی نہ کسی حد تک کے بعد ہماری عملی زندگیاں بھی کسی نہ کسی حد تک ہی اچھی اور پر سکون گزر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا ----- وحید مراد

۔
اس موضوع پہ ایک عمدہ گفتگو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20