پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ، الف لیلہ جدید —- نعیم الرحمٰن

0

’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ‘‘ محمداقبال دیوان کی تیسری کتاب ہے۔ جس میں دوناولٹ اوردوافسانے شامل ہیں۔ ان دلچسپ اورپر فسوں تحریروں کوبجاطور پرالف لیلہ جدید کانام دیاجاسکتاہے۔ محمداقبال دیوان دوناول لکھ چکے ہیں اوران ناولوں کوبے پناہ مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے۔ وہ روایتی قسم کے فکشن نگارقطعی نہیں ہیں۔ ان کی تمام تحریروں میں قدیم اورجدید کاعجیب امتزاج پایاجاتاہے، الف لیلوی اندازبیان، قصہ درقصہ، بات سے بات اورساتھ تھوڑی سی سنسنی خیزی پھر نثرمیں شگفتگی کی زیریں لہرتحریر کالطف دوبالا کردیتی ہے۔ کتاب کا دلچسپ نام’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ‘‘ جس ناولٹ پررکھاگیاہے۔ ایک ایسی محبت کی روداد ہے جس میں ایک طرف آہستہ آہستہ سلگتاہوالگاؤہے تودوسری طرف جھوٹ تہہ درتہہ جمع ہوکرلگاؤ کوسہارادیتارہتاہے۔ حیرت اورحسرت بھری اس کہانی میں دکھ بہت ہے لیکن محبت اپناجوازاورمداوابن گئی ہے۔ ناولٹ ’’شہرکوسیلاب لے گیا‘‘ایک سوچالیس صفحات پرمحیط ہے۔ اس کاتعلق جنوبی پنجاب کے دیہی علاقے سے ہے۔ جہاں دہشت گردی قدم جمارہی ہے۔ اس میں آنے والے دنوں کی چاپ سنی جاسکتی ہے۔ افسانہ ’’رات بھی نیندبھی کہانی بھی‘‘ میں ایک ڈاکٹر اوررات بھر کے لیے دستیاب لڑکی کاقصہ ہے۔ آخری افسانہ’’جومایاتھی‘‘میں محبت سراسرفریب آمیزاورالم ناک ہے، کوپیش کیاگیاہے۔ اس فکشن میں ہمارا گردوپیش اپنے تمام خدشات، حادثات اورتوقعات کے ساتھ سانس لیتا ہوانظرآتاہے۔

محمداقبال دیوان پاکستان کی سول سروس کے منفرداہل ِ قلم گروپ کے آخری رکن ہیں۔ جن میں قدرت اللہ شہاب، مختارمسعوداورمسعودمفتی کا شمارصفِ اول کے اردومصنفین میں کیاجاتاہے۔ سول سروس افسران میں ایسے پراگندہ طبع لوگ اب اگرنایاب نہیں توکمیاب ضرور ہیں۔ اقبال دیوان چالیس سال سے زائدسول سروس کے فعال رکن رہے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کاآخری دورسندھ حکومت میں گزارا۔ ریٹائرمنٹ سے کچھ قبل اتنی تاخیرسے انہوں نے قلم سے ناطہ جوڑا، اور تین بے مثال تصانیف چندسال میں پیش کرکے قارئین کے دلوں میں گھرکرلیا۔ سرکاری ملازمت کی تکمیل کے وقت اردو ادب میں کسی مصنف کی شایدادبی دنیامیں قدم رکھنے کی یہ واحد مثال ہوگی۔ اخترحسین رائے پوری کی اہلیہ حمیدہ اخترحسین نے ڈاکٹرجمیل جالبی کے اصرار پرسترسال کی عمرمیں اپنی آپ بیتی’’ہم سفر‘‘ تحریرکی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے مزیدعمدہ کتابیں بھی لکھیں۔ محمداقبال دیوان نے ریٹائرمنٹ کے قریب خارزارِ ادب میں قدم رکھااوراپنے منفرداسلوب اوردلچسپ طرزِ بیان سے اپنی دھاک بٹھادی۔ ان کی اب تک تین کتابیں شائع ہوئی ہیں اورتینوں بیسٹ سیلرثابت ہوئیں۔ پہلی دوکتب’’جسے رات لے اڑی ہوا‘‘ اور’’ وہ ورق تھادل کی کتاب کا‘‘ کے تین تین ایڈیشنز شائع ہوئے اوردونوں کتب اب بازارمیں نایاب ہیں۔ تیسری اورزیرِ تبصرہ کتاب’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ‘‘ بھی شائع ہونے کے بعد نایاب ہوگئی۔ جبکہ قارئین ان کی چوتھی کتاب’’بے اثرہے چارہ گر‘‘ کے بے چینی سے منتظرہیں۔

اردوکے معروف افسانہ نگار، مترجم اورادبی جریدے’’دنیازاد‘‘ کے مدیرمرحوم ڈاکٹرآصف فرخی جن کے ادارے ’’شہرزاد‘‘نے اقبال دیوان کی پہلی کتاب’’جسے رات لے اڑی ہوا‘‘شائع کی تھی۔ کتاب کاتعارف کراتے ہوئے انہوں نے لکھاتھا۔ ’’کسی اونگھتی ہوئی سرکاری میٹنگ میں ان کودیکھالیکن تب محمداقبال دیوان صاحب نے ذرا بھی شک وشبہ نہ ہونے دیاکہ اجلاس کی کارروائی کے دوران یہ صاحب جو سرجھکائے ہوئے بیٹھے ہیں اورفائل میں پن سے جڑے ہوئے کاغذکے حاشیے پرگُل بوٹے بنائے جارہے ہیں، ایسارچاہواادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ چندبرسوں کی سرسری ملاقاتوں کے بعدایک دن اچانک قدرے رازداری کے ساتھ کاغذوں کاایک پلندہ میری جانب سرکادیا جس میں ان کے پہلے مضمون کاکچھ حصہ فتنہ خفتہ کی طرح موجود تھا۔ پڑھنے کی دیرتھی کہ الفاظ لودینے لگے۔ ایک عجیب نظارہ چشمِ تماشاکے سامنے بیدارہوگیا۔ اس پہلے تصادم کے دوران ہی میں سوچ میں پڑگیاکہ یہ نظارہ محمداقبال دیوان کے آوارہ خرام تخیل کاشاخسانہ ہے یاوہ خود اس تماشے کے ایسے کردارہیں جووعدہ معاف گواہ بن کرسچ کے سواسب کچھ کہہ دینے پرآمادہ نظرآنے لگے ہیں۔ یادنگاری کوشگفتگی میں سموکرمحمد اقبال دیوان نے خوب بات بنائی ہے۔ وہ حکومتِ سندھ کے اہل کارہیں مگرتحریرسے اندازہ ہوتاہے کہ ادب کاگہرامطا لعہ کیا ہے۔ ذوقِ شعری کے ساتھ مشاہدے نے سونے پرسہاگہ کاکام کیاہے۔ اس سلسلہ مضامین کومیں نے تکمیل کے مختلف مراحل میں دیکھا اورجستہ جستہ پڑھا۔ میرے لیے یہ کہنامشکل ہے کہ ادبی اصناف کے کس خانے میں ان کوجگہ دی جائے۔ یہ توظاہرہے کہ ان کی اساس آپ بیتی پر ہے مگریہ پوری طرح آپ بیتی نہیں۔ خاص طور پرخواتین کے باب میں مصنف کے اشہبِ قلم نے جوجولانیاںدکھائی ہیں، ان پرتومیں رشک کے مارے ہیراچاٹ لیتا اگرخود مصنف نے کسی کمزورلمحے میں قدرے شرماتے ہوئے اعتراف نہ کرلیاہوتاکہ وہ ’نا کردہ گناہوں کی حسرت کی ملے داد‘ کے حقداربھی ہیں۔ مجھے تویہ کتاب ایک بے تکلف آزادہ رو اورآوارہ خرام ناول ہی معلوم ہوتاہے۔ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کے پڑھنے کاخطرہ ہرشخص کوخود اپنی ذمہ داری پراُٹھاناچاہیے۔ ایسانہ ہوکہ بعد میں آپ شکایت کریں اورداد بھی دیں۔ ‘‘

ایساروز روزنہیں ہوتاکہ کوئی نیالکھنے والاآئے اورجلدہی ادبی دنیامیں اپنی سکہ جمادے۔ جس کے چاروں طرف کردارہی کرداراورکہانیاں ہی کہانیاں ہوں اور وہ انہیںجوڑتوڑ کرایسے افسانوی ماحول کی جھلکیاں دکھاتاجائے جوبیک وقت مانوس بھی ہوں اورنامانوس بھی۔ محمد اقبال دیوان کوادبی منظرپرنمودارہوئے چند برس ہی گزرے ہیں۔ انہوں نے دوناول لکھ ڈالے جن نے ایک سے زائدایڈیشن شائع ہوئے۔ اورتیسری کتاب بھی شائع ہونے کے بعد مارکیٹ میں نایاب ہوگئی۔ ایسالگتاہے کہ ان کاقلم رکنے والانہیں اورتخیل کی اُڑان دور تک ہے۔ ان کے فکشن میں بہت کچھ ہے، سنسنی، تحیر، کشت وخون، دل فریب حسینائیں، دل پھینک عاشق، اہلِ دل، اہل بصیرت، اہلِ معرفت، لائق اورنالائق بیوروکریٹ، اونچی فضاؤں میں اُڑنے والے ارب پتی، اسمگلر، دربدرپھرنے والے کنگلے، ان پڑھ مگرچالاک لوگ، جاسوس، دہشت گر، کرائے کے قاتل، جان لینے والے اورجان دینے والے۔ یہ ناول کیاہیں، ناول کابہروپ ہیں اورافسانے پاکستان کاحیرت کدہ اوربھول بھلیاں ہیں۔

محمداقبال دیوان نے تحریرکے لیے یکسرمختلف، انوکھا اوردلچسپ اسلوب بیان وضع کیاہے، جس کے وہی واحدخالق ہیں۔ وہ قدرے پیچیدہ اورگتھاہواجملہ لکھتے ہیں جوپڑھنے والے پردھیرے دھیرے آشکارہوتاہے اوروہ اس سے دیرتک لطف اندوز ہوتارہتاہے۔ یہ انداز مشتاق احمدیوسفی کی دوتصانیف’’زرگزشت ‘‘ اور’’آبِ گم‘‘میں بھی قاری کومسحورکرتاہے۔ اقبال دیوان تحریر میں اردو، انگریزی، پنجابی، سرائیکی، پشتو اور بلوچی کے الفاظ کااستعمال کرتے ہیں۔ دنیابھر کے مصنفین کی تحریروں کے ساتھ قرآن وحدیث کے حوالے، برمحل اشعار اورعالمی ادب سے بروقت اقتباسات ان کے وسیع مطالعہ کااندازہ بخوبی کیاجاسکتاہے۔ بعض اشعاراورجملوںمیں کسی لفظ کی تبدیلی یاتوڑموڑ کر دلچسپ اورمضحک صورتحال بھی دلچسپی کاباعث بنتی ہے۔ انہیں کردارنگاری اورجزئیات نگاری بھی بے پناہ عبورحاصل ہے۔ اپنی تین کتابوں میں اقبال دیوان نے کئی زندہ جاوید کردارپیش کیے ہیں۔ جواردوادب میں ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔

مسعودمفتی، مختارمسعود اورمحمداقبال دیوان جیسے نیک نام سول سرونٹ کے پاس اپنی پارسائی کے قصے اورہرجرم کاالزام کسی دوسرے کودینے قصے نہیں ہوتیں، اس لیے وہ قلم پرمکمل عبورکے باوجودآپ بیتی نہیں لکھ سکتے۔ جیساکہ ہمارے اکثربیوروکریٹ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ بیتی تحریرکرتے ہیں۔ جس میں ان کی پارسائی کے دعوے اوران کے دورمیں ہوئے ہرغلط کام کی بے معنی وضاحتیں اوران کاالزام کسی اورکے سر منڈھنے کے سواکچھ اورنہیں ہوتا۔ خصوصاً سچ کے نام سے لکھی خودنوشتوں، جیسے ’’سچ بیتی‘‘، ’’سچ سمندر‘‘وغیرہ میں سوائے جھوٹ کے کچھ نہیں ہوتا۔ قدرت اللہ شہاب کی مشہورزمانہ آپ بیتی ’’شہاب نامہ‘‘ جسے میں آپ بیتی نہیں ناول سمجھتاہوں۔ اس خامی سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
اقبال دیوان نے توجب والد کے کاروبارکو ٹھکراکرسرکاری ملازمت اختیارکرنے کافیصلہ کیاتووالدہ ماجدہ سے وعدہ کیاتھاکہ عمربھرایساکام نہیں کروں گا جس سے اسلام یاکسی غریب یاپاکستان کوہزیمت اٹھانی پڑے۔ انہوں نے طویل سول سروس کے دوران یہ وعدہ ایفا کیا۔ ادبی دنیامیں قدم رکھنے پراسی لیے انہوں نے آپ بیتی کے بجائے فکشن اورجگ بیتی کوترجیح دی۔ ان کی کتب کوآپ بیتی، جگ بنتی، افسانہ، ناول، سفرنامہ، رپورتاژ، جاسوسی، رومانی، تاریخی، سسپنس، تحیر، پراسرار، ایڈونچرکسی بھی خانے میں باآسانی فٹ کیاجاسکتاہے۔ محمداقبال دیوان کاشعری ذوق ان کی تصانیف سے عیاں ہے، انہوں نے شاعری کوگویاگھول کرپی رکھاہے۔ بلکہ فلمی گانے تک نہ چھوڑے۔ ان کا برجستہ اورپھلجھڑیاں سی بکھیرتااسلوب قارئین کوگد گدائے بغیرنہیں چھوڑتا۔ ادبی محاورے پرانہیں دسترس حاصل ہے، کراچی کی گلیوں، محلوں کی عامیانہ زبان کے محاوروں سے بھی خوب فیض حاصل کیاہے اوریوں اپنے زبان وبیان کودوآتشہ کرڈالا ہے۔

محترمہ مہتاب اکبرراشدی کااقبال دیوان کی تحریر پردلچسپ تبصرہ ہے۔ ’’مجھے مصنف کے مشاہدے سے خوف۔ ان کی معلومات اورمطالعے پر رشک آیا۔ کتاب بے حد دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ عجیب وغریب کرداروں کاایک حسین مرقع ہے جوہمارے اردگرد موجودہونے کے باوجودنظروں سے اوجھل ہیں۔ سرکاری ملازم توہم بھی رہے، مگردیوان صاحب نے شریک کارہونے کے دوران انہیں کب دیکھا اور برتا، یہ بات ہمارے لیے باعثِ حیرت ہے۔ ‘‘

سینئرصحافی، کالم نگار اورادیب نذیرلغاری نے بھی ایساہی تبصرہ کیا۔ ’’ دیوان صاحب نے جوانکشافات اپنی کتب میں کئے وہ ہم جیسے کھوجیوں کے لیے بھی چونکادینے والے اوردل چسپ ہیں۔ ان کی وقائع نگاری میں دسترس کودیکھ کرہم نے اللہ کاشکرادا کیاکہ وہ ایک بند گلی کی بند زبان اوربے لگام مغروراورعلم دشمن بیوروکریسی کے ممبرہیں۔ اگروہ بھولے بھٹکے سے کوچہء صحافت کی طرف آجاتے توبہت سے لوگوں کولینے کے دینے پڑجاتے۔ ‘‘

مشہورشاعر، ڈرامہ، کالم اورسفرنامہ نگارامجداسلام امجدکاکہناہے۔ ’’ ان قصوں میں کرداربھی ہیں، واقعات بھی، آپ بیتی بھی اورجگ بیتی بھی، جسمانی خواہشات سے متعلق تلذذ انگیزی بھی ہے اورروحانی کیفیات کاحال بھی، روح کوچھونے والے انفرادی المیے بھی اورطبقاتی تقسیم کی پیداکردہ معاشرے کی اجتماعی بے بسی کی تصویریں بھی، بھارتی فلموں میں دکھائے جانے والے انڈرورلڈسے ملتے جلتے کرداربھی اور اقدار کے نوحوں کے پہلوبہ پہلورفعتِ افکاربھی۔ کتاب کی جس خوبی نے مجھے سب سے پہلے اورسب سے زیادہ متاثرکیاوہ اس کی اپنے آپ کوپڑھوانے کی غیرمعمولی قوت اورصلاحیت ہے جومیرے نزدیک کسی بھی اچھی تحریرکاجزوِ اعظم ہوتی ہے۔ ایک اوراہم اورقابل ِ ذکر خوبی منصف کی اپنے موضوع اوراس کے متعلقات پرماہرانہ گرفت ہے کہ وہ ہرواقعے اورکردارکی جزئیات کواس طرح بیان کرتے ہیں کہ چیزیں کرداراورمنظرآپس میں گڈمڈنہیں ہوتے۔ کردارنگاری اورمنظرنویسی میں انہیں ایک خاص ملکہ حاصل ہے وہ ایک عمدہ سکرین پلے رائٹر اورباریک بین ڈائریکٹرکی طرح کسی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کوبھی نظرانداز نہیں کرتے۔ ‘‘

نوبل انعام یافتہ دنیاکے مشہورمصنف گبریل گارشیامارکیز کاکہناہے کہ کسی ناول کا پہلاجملہ لکھناہمیشہ مشکل ہوتاہے، جب وہ لکھ لیاجائے تو پھر وہ ناول مکمل بھی ہوجاتاہے۔ ’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ‘‘ کاآغازدیکھیں۔ ’’فرض کریں آپ بھی ماہم کی طرح پانچویں مہینے کے حمل سے ہوتے توسردیوں میں آپ کوصبح صبح کی دھوپ کیسی لگتی؟بھئی ہم تومردہیں ہمارااس سے کیاتعلق؟ مردوں کی غالب اکثریت ایسے ہی کہہ کربات کوٹال دیاکرتی ہے۔ وہ باتیں، جن کان سے براہِ راست کوئی تعلق نہ ہو، وہ ان کے بارے میں ذرادیرسوچنابھی گوارا نہیں کرتے۔ کچھ عورتیں اس بات کوسن کرکہیں گی کہ ان کی شادی نہیں ہوئی یاوہ اب عمرکے اس حصے میں ہیں بچہ نہ ہوناجسمانی مجبوری تویقینا ہے، تمنااورطلب کی بات ہرگز نہیں۔ عورتیں اس کے بارے میں سوچیں گی ضرور۔ ہم نے آپ سے کہاتھا، فرض کریں، آپ بھی ماہم کی طرح پانچویں مہینے کے حمل سے ہوتے توسردیوں کی دھوپ میں آپ کوصبح صبح کی دھوپ کیسی لگتی؟وسط دسمبرکے گلابی جاڑوں کی ایسی دھوپ جوآپ کی تنہائی کواُجلاکرکے مزیدخوشگواربنادیتی۔ ‘‘

کیااس دلچسپ پیرے کوپڑھنے کے بعد کوئی قاری اس ناولٹ کوادھوراچھوڑ سکتاہے۔ ناولٹ کے بعض دلچسپ جملے ملاحظہ کریں۔ ’’مردکی محبت اوراس کی خوش حالی ازدواجی زندگی کے لیے زیادہ ضروری ہے نہ کہ اس کی تعلیم‘‘۔ ۔ ’’مرد کی محبت راج کراتی ہے عورت کی محبت آنسو رلاتی ہے‘‘۔ ۔ ’’گھوڑااپنی جسمانی ساخت کے حساب سے دونوں سروں پرخطرناک اوردرمیان میں بہت تکلیف دہ ہوتاہے، اکثرشوہربھی ایسے ہی ہوتے ہیں‘‘۔ ۔ ’’مردکی عمرتوبس ایک نمبرہوتی ہے۔ عورت یوں بھی اپنی عمرکے مردکے مقابلے میں زیادہ میچورہوتی ہے‘‘۔ ۔ ’’مردوںمیں مستقل مزاجی کم ہوتی ہے۔ وہ جب پیارجتلائیں تومحبوبہ پرلازم ہوتاہے کہ وہ انہیں اپنی جانب راغب رکھنے کے لیے کچھ چمتکاردکھائے‘‘۔

اسی طرح ناولٹ ’’شہرکوسیلاب لے گیا‘‘کا پہلا باب ’دُھرکوٹ کاماسٹربرکت‘ کاابتدائی پیراگراف پڑھنے والے کی تمامترتوجہ اپنی جانب کھینچ لیتاہے، اوروہ اسے پوراپڑھے بغیرچھوڑ نہیں پاتا۔ ’دُھرکوٹ، ضلع مظفرگڑھ، پنجاب کے پرائمری اسکول میں اسلامیات کااستادبرکت اس رات جیل میں تھا، جب چھاجوں مینہ برس رہاتھا۔ چارسوسیلاب کاغلغلہ تھا اورنہرمیں ایک کمینے منصوبے کے تحت زبردستی ڈالے گئے بے رحما نہ شگاف کی وجہ سے ہنستابستادُھرکوٹ ڈوب رہاتھا۔ دُھرکوٹ کے ڈوب کربربادہونے کی پیش گوئیاںایک عرصے سے علاقے کے بڑے بوڑھے کرتے تھے جنہیں ماسٹربرکت اکثرہنس کرٹال دیتاتھا۔ وہ انہیں مزے لینے کے لیے یہ کہہ کرچھیڑتاتھاکہ جوانوں کابھاگنے سے اور بوڑھوں کادوسروں کواپنی موت سے ڈراناپرانا حربہ ہے۔ یوں بھی ان بوڑھوںکوسمنددروں، دریاؤں اورطوفانوں کاکوئی مخصوص علم حاصل نہ تھاکہ وہ ان پیش گوئیوں پرسنجیدگی سے کان دھرتا۔ ‘‘

ناولٹ میں محمداقبال دیوان کی کردارنگاری عروج پرہے۔ انہوں نے اس ناولٹ میں کئی دلچسپ اورزندہ جاوید کردارپیش کیے ہیں۔ ماسٹر برکت ان میں سے اہم اورمرکزی کردارہے۔ جوبظاہربہت مسکین اورگاؤں کے چوہدری سائیں مشتاق جوئیہ کی خدمت کی بدولت پرائمری اسکول ٹیچرلگا ہوا ہے۔ چوہدری کی بیٹی نسرین جوئیہ جومقامی ایم پی اے سائیں مشتاق کچھی کی بیوی ہے۔ وہ اپنے باپ کی جانشین کی حیثیت سے بلدیاتی سیاست میں کود گئی اوراب بلدیہ مظفرگڑھ کی نائب ناظمہ تھی۔ بتیس برس کااستاد برکت جوفطری طور پرذہین اور سیاسیات میںریگولربے اے اور پرائیویٹ ایم اے کرچکاتھا۔ وہ پہلی نظرمیں نسرین کودیکھ کراس پرفریفتہ ہوجاتاہے۔ ہمیشہ اس کی خدمت میںشعاری کی بدولت کچھ رعایتیں حاصل کرتارہتاہے، مگراسے چھونے یادیکھنے کی ہمت نہیں کرپاتا۔ لیکن جب گاؤں میں انقلاب آتا ہے۔ چوہدری کاخاندان ختم کردیاجاتاہے تو وہ اسی مجبور نسرین جوئیہ کواپنی منکوحہ بنالیتاہے۔

نسرین جوئیہ اورکامریڈمنصورناولٹ کے اہم کردارہیں۔ ان کے علاوہ منہاج الحسن بخاری عرف ملامانجھا، ملاعبدالکریم کرنٹ، سیدفیضان احمد نجفی عرف مولوی فنجان، ملانیماجلاد، سائیں عبدالغفارعشق بیمار، سردارلالہ سلطان اورملک مظفرکے دلچسپ کرداربھی شامل ہیں۔ ان کرداروں کی تشکیل اورجزئیات نگاری شاندارہے، اقبال دیوان ان کرداروں کے بیان میں خاکہ نگاری میں مہارت کابھی ثبوت دیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پنجابی طالبان کابڑھتاہوازور، کامریڈمنصوراوراس کے ٹولے درمیان سیاسی مباحث، ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگونے ’’شہرکوسیلاب لے گیا‘‘ اردوکے اہم ناولٹس میں شامل کردیاہے۔

محمداقبال دیوان ’’پندرہ جھوٹ اورتنہائی کی دھوپ‘‘انتہائی دلچسپ کتاب ہے۔ جسے باربار پڑھ کربھی سیری نہیں ہوتی اورمصنف کی اگلی تصنیف کاقاری کوبے چینی سے انتظاررہے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20