ایک بچے کی ای میل، اللہ تعالی کے نام —- اظہر عزمی

0

میرے پیارے اللہ میاں !
لوگ مجھے آپ سے ڈراتے کیوں ہیں ؟

میرا نام مصطفی حسن ہے۔ فورتھ کلاس میں پڑھتا ہوں۔ پڑھنے میں بس ٹھیک ہی یوں۔ پاس ہوجاتا ہوں۔ میری ایک چھوٹی بہن بھی ہے جو بہت ہی تیز ہے۔ میری ہر چیز لے لیتی ہے۔ اس کی کسی چیز کو ہاتھ لگا لوں تو خوب شور کرتی ہے اور پھر مجھے سب ہی ڈانٹتے ہیں۔ ہاں میں کبھی کبھی شرارت کرتا ہوں لیکن اگر میں اب شرارت نہیں کروں گا تو کب کروں گا؟ بس اسی وجہ سے میں یہ میل لکھ رہا ہوں۔

میرے پیارے اللہ میاں، مجھے سب تو نہیں لیکن بہت سارے لوگ آپ سے ڈراتے ہیں۔ کچھ بہت ڈراتے ہیں، بہت confuse ہوں۔ ایک دن میں نے بہن کی پینسل لے لی۔ اس نے شور کردیا۔ میں نے کوئی چوری تھوڑی کئ تھی۔ وہ بھی تو میری چیزیں لے لیتی ہے۔ میں کچھ کہوں تو کہتے ہیں کہ چھوٹی بہن ہے۔ تو کیا میں چھوٹا نہیں؟ اچھا آپ کو پوری بات تو بتا دوں اصل میں میری پینسل sharp نہیں تھی۔ Sharpner مل نہیں رہا تھا۔ پینسل سامنے ہی تو رکھی تھی۔ اٹھا لی۔ مجھے سب نے کہا یہ بری بات ہے۔ پوچھ کر لیتے۔ ایسا کرنے سے اللہ میاں ناراض ہو جاتے ہیں۔ ارے میں نے پینسل چوری تھوڑی کی تھی۔ سمجھا دیتے۔ میں بھی اصل بات بتا دیتا۔ کسی نے میری سنی ہی نہیں۔ بس آپ سے ڈرانا شروع کر دیا۔ اللہ میاں آپ کو تو سب پتہ ہوتا ہے کہ کسی دل تک میں کیا ہے۔

ایک دن میں کرکٹ کھیلنے گیا۔ نماز پڑھنے میں دیر ہو گئی۔ چاچی جان نے کہا نماز پڑھو ورنہ جو نماز نہیں پڑھتا اس کی قبر میں بچھو ( مجھے پتہ نہیں یہ کیا ہے) اور سانپ آتے ہیں۔ پتہ ہے اللہ میاں، میں ڈر گیا۔ رات کو بابا سے لپٹ کر سویا۔ میں نے نماز پڑھنے سے کب منع کیا ہے لیکن ڈرا ڈرا کر نماز کیوں پڑھوا رہے ہیں۔ بہت دنوں تک تو نماز پڑھتے پڑھتے بچھو اور سانپ کا خیال آجاتا۔

ایک مرتبہ میرے کزن نے مجھے مارا۔ مجھے بھی غصہ آگیا۔ سب نے کہا وہ چھوٹا ہے۔ ایسی باتوں سے گناہ ملتا ہے، اللہ میاں سزا دیتے ہیں۔ سمجھا پاتے نہیں ہیں بس آپ سے ڈرانا شروع کردیتے ہیں۔ اللہ میاں پہلے سوری کرنے کے بعد بتا رہا ہو ایک دن میں نے کہہ دیا اللہ میاں کیا ہر وقت غصے میں رہتے ہیں، ناراض رہتے ہیں؟ دیکھیں اللہ میاں میں نے بتانے سے پہلے سوری کر لی۔ امی نے خوب ہی ڈانٹا۔ میں نے بھی توبہ کی۔ آپ بتائیں میرا کیا قصور؟ سب یہی کہتے رہتے ہیں۔ اب میں تو یہی سوچوں گا ناں ؟

بس میرا ایک دوست ہے وہ کہتا ہے میرے اللہ میاں بہت پیارے ہیں سب سے پیار کرتے ہیں۔ میں جانتا یوں ہم سب کے اللہ میاں آپ ہی ہیں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کی امی نے بتایا کہ جس طرح میں تمھارا خیال کرتی ہوں اور پیار کرتی ہوں۔ دنیا میں مجھ سے بھی اچھی امیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح کی 70 امیوں سے بھی زیادہ اللہ میاں اپنے بندوں سے پیار کرتے ہیں اور بچوں سے تو بہت ہی زیادہ پیار کرتے ہیں کیونکہ وہ دل سے جو سچے ہوتے ہیں۔ سب لوگ بچوں سے بچوں کی طرح کیوں بات نہیں کرتے۔ وہ ہمیں اپنے برابر کا سمجھ کر کیوں سمجھاتے ہیں۔

میں چھوٹا ہوں مگر اتنا چھوٹا بھی نہیں۔ کتنی بار کوئی گھر کی بیل بجائے تو مجھ سے کہا جاتا ہے کہ جاو کہہ دو گھر پر نہیں۔ موبائل کی بیل بجتی یے تو کہہ دیتے ہیں کہ میں تو وہاں ہوں جب کہ گھر پر ہوتے ہیں۔ کیا یہ جھوٹ بولنا نہیں۔ مجھ سے کہتے ہیں اللہ کے بندوں سے محبت کرو اللہ میاں خوش ہوتے ہیں تو ان سے کہیں یہ خوشی وہ خود کیوں نہیں لیتے۔ غریبوں کا خیال رکھو۔ یہ اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں تو پھر ان غریب لوگوں کے خود قریب کیوں نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں اللہ کے لئے سب برابر ہیں لیکن اگر کوئی غریب پانی مانگ لے تو گھر کا سب سے پرانا گلاس کیوں ڈھونڈتے ہیں اور بھر بعد میں اس کو دھوتے ہیں یا پھر اسے کونے میں رکھ دیتے ہیں۔

اللہ میاں بڑے ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں۔ انہیں پتہ نہیں کہ جسے وہ ڈرا کر سمجھا رہے ہیں وہ دیکھ بھی رہا ہے۔ ۔ ۔ اور ہاں اللہ میاں یہ بھی بہت کہتے ہیں اللہ میاں دیکھ رہے ہیں تو کیا آپ ان کو نہیں دیکھ رہے؟ کیا سارے کیمرے بچوں پر ہی لگے ہوئے ہیں؟

گھر آکر لوگوں کی برائیاں کرتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں برائی کرنا بری بات ہے۔ آپ مجھے بتائیں خود غلط ہو کر مجھے صحیح کا بتانا بری بات نہیں ہے کیا؟ ہم بچے بات کہنے سے نہیں دیکھنے سے سیکھتے ہیں۔ اچھی بات کہنے کے لئے اچھائی خود میں بھی تو ہونی چاھیئے۔ میں بار بار ڈر لکھ رہا ہوں لیکن میں آپ کو ایک بات بتاوں۔ مجھے معلوم ہے آپ اپنے بندوں خاص طور پر بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اسی لئے تو میں اپنی ساری باتیں آپ سے کر رہا ہوں۔ اللہ میاں جیسا آپ چاھتے ہیں میں ویسا ہی بننا چاھتا ہوں لیکن خوشی خوشی، کسی ڈر کے بغیر۔

آخر میں میں سوچ رہا تھا کہ کس ای میل ایڈریس پر یہ میل کروں۔ سب کچھ ہی تو آپ کا ہے۔ آپ کہاں نہیں۔ سوچا آپ کے کسی بھی گھر پر پرنٹ آوٹ رکھ آتا ہوں لیکن اللہ میاں یہ مسجدیں تو لوگوں نے بانٹ لی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے دادا کے مکان کو بانٹ لیا گیا ہے۔ سوری اللہ میاں میں یہ کہنا نہیں چاہ رہا تھا۔

آپ کا مصطفی حسن
کلاس فورتھ، سیکشن C

(توجہ : یہ ایک بچے کے حقیقی خیالات ہیں جنہیں پوری احتیاط کے ساتھ اسی کے انداز میں تحریر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بچے اب اردو نہیں لکھ پا رہے ہیں بہرحال اس کی باتیں قابل توجہ ہیں۔)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20