فیمنزم کے غیر سائنسی مفروضے اور اعتقاد —- وحید مراد

0

اس سے قبل کچھ مضامین میں ہم فیمنسٹ تحریک کی تاریخ، مختلف ادوار waves، اغراض و مقاصد، اہداف، اقسام، فیمنزم کے اندر دھڑے بندیاں، مباحثے، مناظرے، اختلافات، آج کے دور میں اس تحریک کے کردار، یورپ اور امریکہ کے معاشرے پربالخصوص اور دیگر دنیا پر بالعموم، اسکے اثرات اور اسکے نتیجے میں مرد و زن کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج اور بحران، منشیات اور کرائم انڈسٹری کی طرف سے ان بحرانوں میں شدت لانے کیلئے انوسٹمنٹ، اس صورتحال پر امریکی دانشوروں، صحافیوں اور میڈیامیں تشویش، جورڈن پیٹرسن اور کئی دیگر دانشوروں کی طرف سے فیمنزم پر شدید تنقید اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے اینٹی فیمنزم رجحانات پر تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں۔

اس مضمون میں فیمنسٹ تھیوری کے چند بنیادی مفروضات کا جائزہ لیا جائے گا۔ فیمنسٹ تھیوری دراصل فیمنسٹ تحریک کی ہی توسیع ہے اور اس تھیوری کی عمارت چند مفروضات اور اعتقادات پر قائم ہے جن میں سب سے بنیادی اور اہم مفروضہ “پدرسری نظام معاشرت” ہے اور فیمنسٹ ماہرین کے مطابق خواتین پر ہونے والے تمام ظلم، جبر اور استحصال کی جڑیں اس نظام معاشرت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ا نکے خیال میں یہ نظام ہر شعبہ زندگی میں مردوں کی حاکمیت قائم کرتا ہے اور تاریخی طور پر ہمیں معیشت، معاشرت، تعلیم، قانون، فنون، ادب، شاعری، اورسائنس وغیرہ کی شکل میں جو بھی ورثہ ملا ہے اس میں مردوں کی حاکمیت اور اجارہ داری قائم ہے۔ فیمنسٹ ماہرین کی تجویز یہ ہے کہ آج کی عورت کو آزاد ہونے کیلئے ضروری ہے کہ وہ مردوں کے بنائے گئے اس نظام کو اسکے تمام اجزاء سمیت مکمل طور پر مسترد کر دے۔

اس تھیوری کا دوسرا اہم مفروضہ یہ ہے کہ حیاتیاتی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مرد و زن میں کوئی فرق نہیں، عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے لہذا مرد و زن میں صنفی مساوات ہونی چاہیے۔ فیمنسٹ ماہرین کے نزدیک مرد و زن کا حیاتیاتی اختلاف محض دونوں کی چھاتی پر چربی کے کم ذخیرے یا زیادہ ذخیرے، زیر ناف معمولی سا جسمانی فرق، کچھ ظاہر ی نقوش اور شکل سے زیادہ کچھ بھی نہیں اور یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے جو جنسی امتیاز کی وجہ قرار دیا جائے۔ انکے نزدیک مرد و زن کےا لگ الفاظ اور اصطلاحات بھی پدرسری نظام کے دئے ہوئے ہیں جن میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ مرد گھر کا سربراہ یا نگران ہوتا ہے اورعورت اسکی خادمہ لہذا ان الفاظ اور اصطلاحات کو بھی ختم کیا جانا چاہیے اورانکی جگہ نیوٹرل الفاظ استعمال کئے جانے چاہیں۔ وہ گھریلو خواتین کو یہ باور کراتے ہیں کہ انکی حیثیت، ساری زندگی مردوں کی فرمانبرداری، جنسی غلامی، اوربچے پیدا کرنے والی مشین سے زیادہ کچھ نہیں امریکی فیمنسٹ بٹی فریڈن Betty Friendan نے خاندانی نظام کو ” حراستی کیمپ” کا نام دیا، شیلا کرونن Sheila Cronanنے دعویٰ کیا کہ “شادی کے خاتمے کے بغیر خواتین کیلئے آزادی حاصل نہیں کی جا سکتی“، آندریا ڈورکن Andrea Swokinنے کہا کہ “بطور ادارہ شادی، محض عصمت دری کے عمل کی ترقی یافتہ شکل ہے” اور مزید کہا کہ “شادی، عصمت دری کا قانونی لائسنس ہے” مارلن فرانسیسی Marilyn French نے کہا کہ “خاندان تو عورت کیلئے جبر کا ایک مقام ہے جہاں جنسیت کو جبر کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے” اسی طرح فیمنسٹ تحریک میں نکاح کرنے والی خواتین کو فیمنزم کا غدار تصور کیا جاتا ہے اور ان خواتین کو باشعور ہیروئین کے طور پر لیا جاتا ہے جو پدر سری نظام کے بنیادی جابرانہ ادارے یعنی “شادی” کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتی ہیں۔ یعنی انکے نزدیک پدرسری کے ظالمانہ نظام میں مرد یہ طے کرتا ہے کہ عورت کو گھر کے اندر اور باہر کیسے رہنا چاہیے اور اسے جنسی اعمال کیسے سرانجام دینے چاہیں حالانکہ عورت اپنے جسم کی خود مالک ہے لہذا یہ اسکی مرضی ہے کہ وہ جنسی حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔ اس سلسلے میں مرد کی طرف سے عورت پر کوئی پریشر نہیں ہونا چاہیے۔

اسی طرح فیمنزم کا ایک اور اہم مفروضہ یہ ہے کہ جب مردوزن میں حیاتیاتی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر کوئی فرق نہیں تو پھر انکے معاوضوں اور تنخواہوں میں فرق کیوں ہے؟ انکے خیال میں معاوضوں کے اس فرق کی وجہ بھی پدرسری نظام ہے جسکے تحت مردآجر اور مرد اجیر کے درمیان ایک گٹھ جوڑ پایا جاتا ہے کہ عورتوں کو کلیدی عہدوں پر آنے سے روکا جائے۔ فیمنزم کا ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ مردوں کی طرف سے عورتوں پر روا رکھا جانے والا جبر اور ظلم و استحصال اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک مردوں کو Feminized Men بننے کیلئے مجبور نہ کیا جائے۔ چنانچہ اس کیلئے، لٹریچر، ورکشاپس اور سیمناروں کے ذریعے مردوں کی تربیت کی جاتی ہے اوراسکے ساتھ ساتھ ان پر پریشر ڈالنے کیلئے انہیں مختلف انداز سے دھمکایا جاتا ہے، اور فیمنزم کے لٹریچر میں طعن و تشنیع، جھا ڑ پلانےاور گالیاں دینے تک سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ کچھ عرصہ قبل مردوں کیلئے “زہریلی مردانگی Toxic Masculinity” کے نام سے ایک نئی گالی ایجاد کی گئی ہے جس سے مردوں کو اشتعال دلا کر تشدد کرنے پر اکسایا جاتا ہے اور جب وہ اشعال میں آجاتے ہیں تو الزام لگایا جاتا ہے کہ مردانگی تو تشدد، جرائم، ظلم اور استحصال کا ہی نام ہے۔ یہ نہیں سوچا جاتا کہ جب آپ نوجوان مردوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کریں گے تو لازمی طور پروہ فاشسٹ نظریات میں دلچسپی لیں گے۔ چنانچہ اس عمل سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مردانگی کا بحران پیدا کیا جارہا ہے۔

فیمنزم کا ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ صنفی مساوات قائم کرنے کیلئے ضروری ہے مردانہ ادب کے مقابلے میں خواتین کا ادب، مردانہ شاعری کے مقابلے میں خواتین کی شاعری، مرد انہ فنون کے مقابلے میں خواتین کے فنون حتیٰ کر مردانہ سائنس کے مقابلے میں خواتین کی سائنس تخلیق کی جائے۔ حالانکہ درست رویہ یہ ہے کہ یہ تمام علوم و فنون پوری انسانیت کیلئے ہیں اور ان سے مستفید ہونے یا مسفید کرنے کے معاملے میں مرد و زن کی کوئی تخصیص نہیں۔ جہاں مرد، ان تخلیقی سرگرمیوں میں شرکت کرتے ہیں وہاں خواتین کیلئے بھی کوئی قید نہیں۔ لیکن فیمنسٹ ماہرین ہر شعبہ علم میں ڈیڑھ اینٹ کا ایک آشرم الگ بنانا چاہتے ہیں خواہ اسکے نتائج انسانیت کیلئے کتنے ہی بھیانک نکلیں چنانچہ سائنسی اصولوں سے لیکر تہذیبی اوراخلاقی اصولوں تک ہر چیز فیمنسٹ ماہرین کا تختہ مشق بن رہی ہے اور اجرام فلکی کی کسی حرکت کے اصول پر بھی اگر انہیں شبہ ہوتا ہے کہ اس میں کسی مردانہ حاکمیت کا علامتی اظہار کیا گیا ہے تو وہ اسکو بھی نسائی علامت کے طور پر تبدیل کرنے کے درپے ہیں۔ مثلا انکو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ زمین (مونث)، سورج (مذکر) کے گرد چکر لگانے پر کیوں مجبور ہے؟ فیمنسٹ تھیوری کے اور بھی کئی مفروضات ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے لیکن مضمون کی طوالت کے خطرے کے پیش نظر، آج کی گفتگو صرف مذکورہ بالا مفروضات اور عقائد کے جائزے تک ہی محدود رہے گی۔

فیمنزم کے مطابق پدرسری کا مطلب ایسا نظام معاشرت لیا جاتا ہے جس میں تمام خواتین پر ایسا جبراورظلم روا رکھا جاتا ہے جو مجموعی طور پر پورے معاشرے کی طرف سے ہوتا ہے اور جو زندگی کے تمام پہلوئوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس بیان سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسکی مثال طبقاتی نظام جیسی ہے جس میں حاکم طبقات کا ظلم و جبر محکوم طبقات پر قائم ہوتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ اسکالرز کا کہنا ہے کہ خواتین پر ہونے والا ظلم طبقاتی استحصال سے بالکل الگ ہے لیکن وہ یہ وضاحت کرنے سے قاصر ہیں کہ کلاس سسٹم میں بھی آدھی نسل ظالم اور آدھی مظلوم کیوں ہوتی ہے کچھ لوگ غربت، عدم مساوات، معاشی استحصال کا شکار ہوتے ہیں اور کچھ لوگ دوسروں کو شکار کرتے ہیں۔ اگر پدرسر ی نظام معاشرت ظالمانہ نظام ہے تو کلاس سسٹم اسی طرح کیوں ظالمانہ نظام نہیں ہے۔ حالانکہ دونوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دونوں میں ایک طبقہ دوسرے طبقے کا استحصال کرتا ہے۔ فیمنسٹ اسکالرز کا استدلال ہےکہ ان دونوں یعنی کلاس سسٹم اورپدرسری نظام کو مختلف طریقے سے ڈیل کیا جانا چاہیے انکے خیال میں پدرسری نظام کے خلاف جدوجہداس طرح کی سوشلسٹ جدوجہد کی طرح نہیں ہو سکتی جو کلاس سسٹم کے خلاف جدوجہد ہے۔ مردوں کے خلاف عورتوں کی جدوجہد ایک الگ نوعیت کی ہے جس میں پدرسری نظام کو شکست سے دوچا کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ پدسری نظام کیا چیز ہے ؟ جس کو شکست سے دوچار کرنا ضروری ہے۔ عام الفاظ میں اسکا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ “باپ کی حکمرانی” جیسے کارل مارکس نے اس لفظ کو اس کنبے کیلئے استعمال کیا ہے جہاں گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے اور وہ پورے کنبے کی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے لہذاذرائع پیداوار اسکے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ لیکن فیمنسٹ اسکالرز پدرسری نظام کی یہ تعریف نہیں کرتے، وہ اس اصطلاح سے مردوں کی حاکمیت Male Chauvinism مراد لیتےہیں۔ انکے نزدیک یہ مردوں کا ایک حاکمانہ رویہ ہے جس کے تحت لڑکے اور لڑکیاں اپنے اپنے جنسی کردار سیکھتے ہیں۔ اسکے پیچھے مادی عوامل ہونا ضروری نہیں یہ محض ایک رویہ یا شعور کی ایک شکل ہے لہذا اس پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ اسکے خلاف ایک نظریاتی جدوجہد کی جائے۔ یعنی عورتوں میں جبر کے خلاف شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور مردوں کو یہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ وہ عورتوں پر زیادہ مہربان ہوں، ان پر جنسی معاملے میں جبر نہ کریں، گھر کے کاموں اور بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ میں انکا ہاتھ بٹائیں اور برابری کی سطح پر عورتوں کے کردار کو تسلیم کریں۔

Related imageاب اگر فیمنزم کے اس عمل سے اطمینان بخش نتائج نہیں نکل رہے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ انکا عمل ایک غیر اطمینان بخش تھیوری سے جڑا ہوا ہے۔ اکثر خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم کا اظہار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اسکے مفروضات، تصورات اور نظریات کی شکل میں بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ لیکن یہ مفروضات، تصورات اور نظریات نہ ہوا میں تیر سکتے ہیں اور نہ خلا میں باقی رہ سکتے ہیں جب تک انکی بنیاد ان حقیقی حالات و واقعات پر نہ ہو جو لوگوں کے ساتھ ہر رو ز پیش آتے ہیں۔ اب جہاں تک پدرسری کے مفروضے کا تعلق ہے یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ اس تصور کی بنیاد کیا ہے؟ یہ کہاں سے نمودار ہوا ہے؟ اس مفروضے کی کمزوری یہ ہے کہ یہ صرف ایک تصور ہے۔ یہ ایک ایسا مفروضہ تصور ہے جو تبدیل ہونے کا نام ہی نہیں لیتا قطع نظر اسکے کہ معاشرتی ماحول تبدیل ہو رہا ہو، معاشی پیداوار کے طریقے تبدیل ہو رہے ہوں یعنی معاشرے میں سب کچھ تبدیل ہو سکتا ہے لیکن یہ مفروضہ جوں کا توں ہی رہتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مفروضہ کا بدلتے ہوئے سماج سے کوئی تعلق نہیں یہ ایک خود ساختہ مفروضہ ہے جو صرف ہوا میں معلق ہے اور ماحول کی کسی تبدیلی کا اثر ہی نہیں لیتا۔ اگرچہ یہ مفروضہ سوشلسٹ تھیوری سے اخذ کیا گیا ہے لیکن فیمنسٹ ماہرین تاریخی سیاق و سباق میں اس مفروضے کو معاشرتی و معاشی ماحول کی تبدیلی میں تبدیل ہوتا ہوا نہیں مانتے۔ ان کے خیال میں جاگیردارانہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہوتا ہے لیکن جب جاگیردارانہ معاشرہ سرمایہ دارانہ معاشرے میں تبدیل ہوتا ہے تو خواتین کے ساتھ ہونے والا ظلم و ستم جوں کا توں رہتا ہے صرف اسکی شکل تھوڑی سی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے انکا استدلال یہ ہے کہ معاشرتی نظام کی تبدیلی کے دوران آلات پیداوار تو پرانی شکل سے نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور جاگیردارانہ نظام معیشت و معاشرت سرمایہ دارانہ نظام کی شکل لے لیتا ہے اور معاشی و معاشرتی طبقات تبدیل ہو جاتے ہیں اور نئے قسم کے تعلقات وجود میں آ جاتے ہیں لیکن خاندان اور کنبہ اسی طرح قائم رہتا ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

اس سلسلے میں شیلا روبوتھم Sheila Rowbotham کہتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں خاوند اور بیوی کے تعلقات اسی نوعیت کے ہوتے ہیں جس طرح جاگیرداری نظام میں مالک اور مزدور کے ہوتے ہیں۔ سیلی الیگزینڈر Sally Alexandere نے یہی بات ذرا دوسرے انداز میں کہی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام سے قبل، خاندان کے اندر موجود کام کی تقسیم کار، سرمایہ دارانہ نظام آنے کے بعد مارکیٹ اور مزدور کے رشتے میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں فرانسیسی کرسٹین ڈیلفی Christine Delphy نے استدلال کیا ہے کہ صنعت اور کنبہ پیداوار کے دو مختلف طریقہ کار modes ہیں۔ کنبے کے اندر خواتین مکمل طور پر مردوں کے ماتحت ہوتی ہیں اور اسکے خیال میں یہی رویہ خواتین کے ایک الگ طبقے کی تشکیل کرتا ہے۔ مذکورہ دلائل سے آسان اور عملی نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ جہاں سرمایہ دارانہ نظام میں مرد و خواتین دونوں کو سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف منظم ہو کر لڑنا پڑتا ہے وہاں خواتین کو مردانہ تسلط کے خلاف بھی الگ سے جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ وہ دوہرے تسلط کا شکار ہیں۔ اس دلیل کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں کنبے کو تبدیل نہ ہونے والا ایک یونٹ تصور کیا گیا ہے اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ صنعتی انقلاب کے دوران اور اسکے بعد مزدور طبقےکا کنبہ بالکل اسی طرح کا نہیں جیسے پہلے ہوا کرتا تھا۔ پہلے کے دور میں اس کنبے کی نوعیت اس طرح کی تھی کہ یہ کنبہ ایک ایسا گھریلو پیداوار کا یونٹ تھا جہاں گھریلو ضروریات اور استعمال کا سامان اور بازار میں فروخت کرنے کا سامان ایک ہی خاندان کے لوگوں کے ہاتھوں تیار ہوتا تھا لیکن اٹھارویں صدی کے آخر میں وہ گھریلو صنعت تباہ و برباد ہو گئی جو مارکیٹ میں فروخت کرنے کا سامان گھروں میں تیار کرتی تھی اور اس تباہی کے بعد گھریلو صنعت مکمل طور پر فیکٹریوں اور کارخانوں میں منتقل ہوگئی اس سے خاندان اور کنبے کے اندر موجود پرانے معاشی اور معاشرتی تعلقات بھی تبدیل ہوئے، گھروں کے اندر ہاتھ سے چلائی جانی والی کھڈیاں اور چرخے فیکٹریوں میں منتقل ہو گئے جنہیں پہلے خواتین اور بچے چلایا کرتے تھے اور اب انکی شکل پاور لومز میں بدل گئی اور انہیں فیکٹریوں کے اندر مرد چلانے لگے۔ اب خاندان کا ہر فرد جسے مزدوری کے بدلےاجرت چاہیے تھی مارکیٹ پہنچ گیا اور کنبے کی پیداواری یونٹ کی حیثیت بالکل ختم ہو گئی اور اس سے خواتین کے سیلانی پن vagrancy میں بھی اضافہ ہوا۔ کھیتی باڑی پر گزارہ کرنے والے لوگ شہروں میں منتقل ہو نے پر اور کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ شہروں میں تنگ و تاریک رہائش اورمزدوروں کی صحت کے مسائل پیدا ہوئے۔ گھر سے بھاگنےوالے بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا جو گھریلو زندگی کی کمی کا ثبوت تھا۔ پھر بڑی صنعتوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ متعدد چھوٹی صنعتیں Peripheral Industries وجود میں آئیں جہاں بچوں کی پرورش کے سامان سے لیکرموت کے سامان تک ہر چیز تیار ہونے لگی اور پرانے کنبے کا یونٹ سفاکانہ طور پر ختم کر دیا گیا۔

The Serial Comma: Feminism: The Results of a Misinterpretationاب یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کنبے اور خاندان میں بنیادی تبدیلیاں لائے بغیر اتنے بڑے معاشرتی تغیرات کیسے رونما ہو سکتے ہیں؟ اس حقیقت سے کیوں انکار کیا جارہا ہے کہ جاگیر داری دور کا کنبہ سرمایہ دارانہ دور کے کنبے سے واضح طور پر الگ خصوصیات رکھنے والا کنبہ ہے۔ اب اس کنبے کا گھر کے اندر صنعتی پیداوار سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلے کے دور میں گھر اور کام کی جگہ ایک ہی ہوا کرتی تھی اب یہ دونوں الگ الگ ہیں۔ اب گھر کے اندر کچھ شوقیہ پیداواری کام کئے جارہے ہوں تو دوسری بات ہے لیکن گھر، عملی طور پر ایک پیداوری یونٹ نہیں ہے۔ آج کے کنبے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی صحت مند، پڑھی لکھی، تربیت یافتہ ورک فورس پیدا کرے جو سرمایہ دارانہ نظام کے کام آ سکے اس لئے اب گھریلو مزدوری domestic labor بھی مردوں کی انفرادی خدمت گزاری کیلئے نہیں کی جاتی بلکہ اسکا مقصد بھی سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ قدر فاضل Surplus value میں شراکت داری ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر کنبہ یا خاندان، پیداوار کا کوئی الگ موڈ distinct mode of production نہیں ہے بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی ایک لازمی جزو ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اس خاندان کو سرمایہ دارانہ معاشرےکی ضروریات کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے تو کیا اس سے خواتین پر ہونے والے جبر کی بھی وضاحت ہوتی ہے؟ فیمنسٹ اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں انکا خیال یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں مرد کی طرف سے عورت پر ہونے والےجبر کو مردوں کے اپنے اعمال کے ذریعےپابند کر دیا گیا ہے۔ امریکن فیمنسٹ ہیڈی ہارٹمین Heidi Hartmann کا کہنا ہے کہ ظلم و جبر کی جڑیں اس ڈویژن آف لیبر division of labour میں ہیں جس کے تحت یا تو خواتین کو معاشرتی پیداوار سے یکسر خارج کر دیا جاتا ہے یا انہیں اسکے اندر کسی قسم کے امتیازی سلوک سے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اور یہ امتیازی سلوک مرد کارکنوں اور حکومت کے مابین ایک اتحاد کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ پدرسری نظام کی تعریف یہ کرتی ہیں کہ

“پدرسری نظام معاشرتی تعلقات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کی ایک مادی اساس ہے اور جس میں مردوں کے مابین درجہ بندی کے تعلقات ہیں اور ان میں ایک ایسی یکجہتی ہے جو انہیں خواتین پر غلبہ پانے کے قابل بناتی ہے۔ اور پدرسری نظام کی یہ مادی اساس مرد کا عورت پر لیبر پاور میں کنٹرول ہے اور اس کنٹرول کو، خواتین کی ضروری معاشی پیداواری وسائل تک رسائی پر پابندی لگا کر اور انکی جنسیت پر پابندی لگا کر برقرار رکھا جاتا ہے۔ سرمایہ داروں اور مرد مزدور طبقے کے درمیان اتحاد اور گٹھ جوڑ، ٹریڈ یونینز کے ذریعے، قابل قدر آسامیوں تک صرف مردوں کی رسائی کو ممکن بناتا ہے۔ قانون سازی کے ذریعے کچھ مخصوص کاموں کے حوالے سےبچوں اور خواتین پر پابندی لگا کر مردوں کو یہ موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کیلئے لازمی اجرت کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور اس طرح جبراً اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ عورت معاشی معاملات میں مرد پر انحصار کرے”۔

ہارٹ مین کی اس دلیل کو بہت سے فیمنسٹ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ دلیل درست نہیں ہے کیونکہ انیسویں صدی میں زیادہ تر مرد ٹریڈ یونینز کا حصہ نہیں تھے، ہنر مندافراد کی ایک چھوٹی سی اقلیت ان ٹریڈ یونینز کا حصہ تھی، روائیتی تجارتی شعبہ جات میں خواتین کے داخلے سے صورتحال خراب ہونےاور اجرتیں کم ہونے کے خدشات تھے، اس صورتحال کی وضاحت پدرسری نظام کی بجائے کام کے حالات کے تقاضوں کے حوالے سے زیادہ بہتر طور پر ہو سکتی ہے۔ جیسے مثال کے طور انیسویں صدی کے وسط میں ایڈنبرگ میں کتابوں کی جلدیں بنانے والوں کے معاوضے، برطانیہ کے دیگر شہروں کی نسبت کم تھے کیونکہ ایڈنبرگ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اس شعبے میں شامل ہو چکی تھی۔ قانون سازی کے ذریعے تحفظ کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اسکے ذریعے ورکر ز کی زندگی کو تحفظ دینے اورخطرناک کاموں کی ملوں اورفیکٹریوں میں بچوں اور خواتین کی مزدوری کو روکا گیا جیسے کوئلے کی کان کنی یا اس طرح کے کچھ دیگر کام وغیرہ اس سے نہ مردوں کو کوئی فائدہ ہوا نہ انہیں فائدہ پہنچانا مقصود تھا کیونکہ اس میدان میں خواتین اور مردوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ کچھ شعبوں میں خواتین پر پابندی کی وجہ صرف اجرت کی شرح میں ناہمواری کو روکنا مقصد تھا اور اس سے ورکنگ کلاس کی فیملیز کو ہی مجموعی طور پر فائدہ ہوا اور بالواسطہ طور پر خواتین نے بھی خاندان کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا چنانچہ اس کو خواتین کے خلاف بطور دلیل کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟

فیمنزم تحریک کی دوسری لہر (دور) کے دوران وہ مرد جنہوں نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی انہوں نے تحریک کے اندر یہ سوالات اٹھانا شروع کر دئے کہ جس پدرسری نظام کو آپ ظالمانہ معاشرتی نظام قرار دے رہے ہیں اور خواتین پر ہونے والے تمام ظلم اور استحصال کی بنیاد قرار دے رہے ہیں وہ واقعی کہیں وجود رکھتا ہے یا نہیں یہ تو الگ بات ہے مگر اس نظام کے خلاف جدوجہد سے قبل کم از کم انہیں یہ حق تو حاصل تھا کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرکے ایک آسودگی حاصل کریں اب تو وہ حق بھی ان سے چھینا جا رہا ہے؟ اسی دوران 1963 میں بٹی فریڈن Betty Friedan نے ایک عورت ہونے کی حیثیت سے دیگر عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے، اورمردوں کی اس کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ

اگر ہم صرف اپنی انفرادیت اور اپنی ذات ہی میں گم رہیں گے اور اپنے ذاتی حقوق کیلئے ہی آواز بلند کرتے رہیں گے تو ہم ایک دوسرے کو کیسے جان سکتے ہیں یا ایک دوسرے سے اچھے تعلقات کیسے استوار کر سکتے ہیں؟ یہ انفرادیت تو مرد اور عورت دونوں کو ایک تنہائی، اور بیگانگی کی بند گلی میں دھکیلتی جا رہی ہےجہاں خواہ وہ دن رات مصنوعی جنسی اجسام سے کھیلتے رہیں مگروہ تعلق تو ایسا ہی ہوگا جیسے ایک لاش کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر مرد حضرات، اپنے آنسو چھپاتے ہوئے اور کرب کی کیفیت سے لڑتے ہوئے، جوانی کے ایام میں کیوں مر رہے ہیں؟ کیا مرد واقعی ہمارے دشمن ہیں؟ کیا وہ ہمارے ہی ساتھی نہیں ہیں جو اس صورتحال سے متاثر ہو کر جانیں دے رہے ہیں”۔

1993 میں کونل Connellنے یہ خیال ظاہر کیا کہ جن مردوں کے 1970 کے عشرے میں فیمنزم کے پیش کردہ مفروضے “پدرسری نظام معاشرت ہی عورت پر ہونے والے ظلم و استحصال کی بنیاد فراہم کرتا ہے” کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش کی توانہیں خواتین کی طرف سے طنز اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا، اور انہیں اگلے وقتوں کے لوگ کہا گیا۔ کونل کے خیال میں یہی وہ لوگ تھے جنہوں نےمردوں کی آزادی کی بات کا آغاز کیا، شروع میں سب مرد اسکے حق میں نہیں تھے لیکن جب فیمنزم نے مردوں کے جنسی کردار کو زبردست تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا، ، ان پر عصمت دری، جنسی ہراسگی، اور گھریلو تشدد کے الزامات لگانا شروع کئے اور اسکے نتیجے میں مردوں کے کردار کی سکروٹنی ہونا شروع ہوگئی تو فیمنزم کے حمایتی مرد اس تحریک سے الگ ہو نا شروع ہو گئے 1980 میں مردوں کے تین گروپ الگ ہوئے جن میں ایک گروپ biological traditionalists کہلایا، دوسرا men’s rights activists کہلایا اورتیسرا گروپmythopoetic men’s movement کہلاتا ہے جنہیں سیاست میں عام طور پر صنفی علیحدگی پسند قرار دیا جاتا ہے اور یہ 1990 کی دہائی میں سامنے آئے۔ ان گروپوں نےصدر ریگن اور مسز تھیچر کے دور میں فیمنزم کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کاروائیاں کیں۔ اسقاط حمل کرنے والوں، فراہم کنندگان اور کروانے والوں پر حملے، ہم جنس پرستوں پر حملے وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ biological traditionalists گروپ نے فیمنزم کے خلاف باقاعدہ آواز اٹھائی اور انکے “پدرسری نظام معاشرت” کے مفروضے کو مسترد کیا اور یہ استدلال کیا کہ مرد اور عورت میں حیاتیاتی اور فطری طور پر ایک صنفی اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے انکے صنفی کردار کے درمیان مساوات کا حصول ممکن نہیں اور مردوں کے فعال معاشرتی کردار کو مردوں کا جبریا راج قرار دینا درست عمل نہیں۔ صنفی مساوات نہ صرف ایک ناقص تصور ہے بلکہ حیاتیاتی اعتبار سے اسکا حصول ناممکن ہے۔

علم نفسیات، نفسیاتی تجزیوں اور عمرانیات وغیرہ میں پدرسری نظام معاشرت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے، مردانگی کی شناخت کو منفی جذبات اور احساسات کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ منفی جذبات اور احساسات کو عام طور پر “دکھ، تکلیف، اور پریشانی” کے زمرے میں لیا جاتا ہے اور انکے رد عمل کے طور پر ایک تشویش، اداسی، خوف، غصہ، شرمندگی، احساس جرم، چڑچڑاپن اور کئی دیگر ناخوشگوار احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ جبب اس حوالے سے منفی جذبات کو شدت کے ساتھ ابھارا جاتا ہے تو اسکے نتیجے میں “مردانگی کا بحران” پیدا ہوتا ہے اورا ب اس بحران کی گونج وسیع پیمانے پر تمام علوم اور شعبہ جات میں سنائی دے رہی ہے۔ فیمنسٹ اسکالرز نے اس بحران کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پید ا کیا ہے اور کچھ مخصوص سیاسی مقاصد کا حصول اسکے پیدا کرنے کی بنیادی وجہ ہے۔ 1994 میں سب سے پہلے ایک ماہر نفسیات راجر ہورکس Roger Horrocks نے اپنی ایک کتاب ” مردانگی کا بحران: خرافات، تصورات اور حقائق” میں اس طرف توجہ دلائی کہ نسائی نظریات کی وسیع ترویج اور مردانگی پر جذباتی حملوں کے نتیجے میں مغربی ثقافت میں مردانگی کی شناخت میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور یہ مزید ٹوٹ پھوٹ اور بحران کا شکار ہو رہی ہے۔ پھر 1998 میں ماہر عمرانیات جان میک آئنس John Maclnnes نے اپنی کتاب “مردانگی کا خاتمہ” میں اس موضوع پر استدلال کرتے ہوئے بتایا کہ تاریخ کے ہر دور پر مردانگی ہی نسائیت پر حاوی رہی ہے لیکن آج اگر یہ مردانگی بحران کا شکار ہو رہی ہے تو اس بحران کو ماڈرینیٹی کے بنیادی اصول کہ”مرد اور عورت میں ہر لحاظ سے مساوات ہونی چاہیے اور عورت پر ہونے والے تمام ظلم اور استحصال کی وجہ پدرسری نظام معاشرت ہے” میں تلاش کرنا چاہیے۔

2000 میں سیلی رابنسن Sally Robinson کی کتاب “سفید فام مردانگی بحران کا شکار ہے” شائع ہوئی جس میں اس نے بتایا کہ یورپ اور امریکہ کی ماڈرن سوسائٹی میں نسائی تحریک کے پھیلائوں کے ساتھ ساتھ، سفید فام مرد کس طرح درد، تکلیف، اور تنائو کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد مردانگی کے بحران کا موضوع صرف سوشل سائنسز کا موضوع بحث نہیں رہا بلکہ ہر شعبہ علم کا موضوع بحث بن گیا اور 2009 میں علم آثار قدیمہ کے ایک ماہر پیٹر میک آلیسٹر Peter McAllister کو کہنا پڑا کہ “جدید دور کا مرد، مردانگی سے کیوں محروم کر دیا گیا ہے؟” اوراپنے ایک انٹرویو میں اس نے دعویٰ کیا کہ یورپ اور امریکہ میں اس وقت ایک شدید احساس پایا جاتا ہے کہ “مردانگی بحران میں ہے” کیونکہ جدید سوسائٹی میں مرد، دیوانہ وار، اپنا کردار تلاش کرنے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور تاریخ کا یہ دور دیگر ادوار کی نسبت مرد کیلئے انتہائی کرب، اذیت اور تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ریسرچ اسکالرز کی کتابوں اور ریسرچ پیپرز کے علاوہ اس بحران کی گونج میڈیا میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے تمام نشریاتی اداروں، پریس اور سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحثیں جاری ہیں۔ اور سفید فام مرد اس قدر افسردہ ہیں کہ اب بہت سوں کو اپنی مردانگی پر سے یقین ہی اٹھ گیا ہے اور انکو یہ یقین دلانے کیلئے کہ وہ مرد ہی ہیں، ٹرمین اور میلز Terman and Miles نے ایک ایسا آلہ اور ٹسٹ (M-F Test) ایجاد کیا ہے جو مردوں کا ٹسٹ کرکے انہیں یہ بتاتا ہےکہ مرور زمانہ کے ساتھ انکی مردانگی کا جوہر ابھی تک بالکل فنا نہیں ہوا ہے بلکہ اس میں نسائی تحریک کی طرف سے دی جانے والی مزید اذیتوں، دکھ، درد اور تکالیف کوسہنے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت ابھی باقی ہے۔ اس ٹسٹ میں نفسیاتی اعداد و شمار کو صنفی اصولوں کے مطابق ڈیکوڈ کرکے مردانگی کی موجودگی کی تصدیق کی جاتی ہے۔

اگر مردانگی کے وظیفے کو سگمنڈ فرائیڈ کی طرف سے 1905 میں پیش کی جانے والی صنفی تھیوری Theory of Sexuality میں تلاش کیا جائے تو فرائیڈ نے اوڈیپس کمپلیکس Oedipus Complex اور لڑکوں، لڑکیوں میں اسکی قبل از تاریخ موجودگی کا ایک خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان میں دونوں اصناف کے کچھ خواص موجود ہوتے ہیں اور خالص مردانگی یا خالص نسائیت ابتدائی طور پر غیر یقینی مواد سے بنی ہوتی ہے۔ بعد ازاں خاندانی زندگی اور معاشرتی زندگی صنف کی توسیع اور خالص اظہار کو فروغ دیتے ہیں۔ تاہم فرائیڈ یہ کہتا ہےکہ صنفی فرق کی بنیاد عضو تناسل کی موجودگی یا عدم موجودگی کی حقیقت پر مبنی ہوتی ہے۔ اور مردانہ شناخت جہاں اس عضوکی موجودگی سے قائم ہوتی ہے وہاں نسائی شناخت اسکی عدم موجودگی اور اسکے موجود نہ ہونے کی حسدPenis envy پر قائم ہوتی ہے۔ اور مردانہ شناخت میں فروغ کا آغازاس وقت ہوتا ہے جب مرد کو نسائی حسد کا احساس ہوتے ہوئے یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ کہیں وہ اس حسد میں یہ عضو چھین نہ لے یا اسے مختون نہ کر دے۔ یعنی صنفی طاقت کے عدم توازن کی بحث سے قطع نظر، فرائیڈ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جنسوں کے مابین تفریق فطری جسمانی درجہ بندی anatomical distinction سے جڑی ہوئی ہے اوراصناف پیدائشی طور پر نیوٹرل نہیں ہوتیں بلکہ ان میں نسائی یا مردانہ کوئی ایک قسم کی خصوصیات غالب ہوتی ہیں۔

فرائیڈ کے بعد کارل جنگ Carl Jung نے 1953 میں تھیوری آف Persona/Anima پیش کی جسکے مطابق Persona شخصیت اور شناخت کا وہ اظہار ہے جس کا احساس سماجی طور پر تشکیل پاتا ہے لیکن Anima شخصیت اور شناخت کا وہ اظہار ہے جس کی جڑیں انسان کے لاشعور اور ماضی کی ثقافت میں ہوتی ہیں اور یہ ثقافتی اور تاریخی اثرات انسان کے جذباتی تضادات کی وضاحت کرتے ہیں اور انکی بنیاد کسی عقلی یا منطقی سرگرمی پر نہیں ہوتی بلکہ یہ کچھ عقائد اور تصورات ہوتے ہیں جو ایک خاص سمت میں رہنمائی کرتے ہیں۔ R.W. Connell کہتے ہیں کہ جب فرائیڈ مردانہ اور نسائی صنفی تضاد کی تھیوری کو سلجھانے میں مصروف تھا تو کارل جنگ نےاس مسئلے کو حل کرنے میں اسکی مدد کی۔ اور جنگ نے مردانگی کی صفت کو سماج کی طرف سے کی گئی تشکیل Persona قرار دیا اور نسائیت کو قدیم تاریخ، ثقافت، عقائد اور تصورات Persona کی تشکیل قرار دیا۔ اگرچہ کارل جنگ یہ کہتا تھا کہ مردانگی کی جڑیں بھی ماضی کے ان تصورات اور عقائد سے جڑی ہوئی ہیں جن کا اظہاراجتماعات کی شکل میں ہوتا تھا۔ لیکن سماج کے بدلتے ہوئے تناظر میں مردانگی ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم صنفی اظہار کا تصور بن گیا اور جدید فیمنسٹ اسکالرز نے اسکی یہ تعبیر و تشریح شروع کر دی کہ نسائیت صرف حقوق نسواں کے سلسلے میں عورت پر ہونے والے ظلم و ستم کے سامنے مزاحمت کا اظہار نہیں بلکہ یہ ماضی میں نسائی کردار کے غلبے کی بازیافت کا اظہار بھی ہے۔ یعنی دلچسپ بات یہ ہے کہ کارل جنگ کی تھیوری کو ایک ہی وقت میں فیمنزم اور انٹی فیمنزم اسکالرز اور کارکنان دونوں اپنے اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔

فیمنزم، مرد اور عورت کے حیاتیاتی فرق کے علم کو مسترد کرتا ہے اور فیمنسٹ حلقوں میں “حیاتیاتی اختلاف” کا ذکر کرنا بھی گناہ کی طرح ممنوع ہے اور اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس سے کسی ٹرانس جینڈر کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔ کچھ بنیادی وجوہات جن سے مرد اور عورت کا فرق واضح ہوتا ہے ان میں ہارمونز، اعصابی اور حیاتیاتی اختلاف ہے۔ لیکن فیمنزم میں حیاتیات کو اس بنیاد پر مسترد کیا جاتا ہے کہ اس میں صنفی اختلافات کا پتہ لگانے کا استعمال خواتین پر مظالم کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ حیاتی اختلاف کی بجائے فیمنزم میں “صنفی کرداروں کی معاشرتی تعمیر” جیسی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ یعنی انکے خیال میں حیاتیات تقدیر کا تعین نہیں کرتی بلکہ ثقافت تقدیر کا تعین کرتی ہے، مرد، ہارمونز کی وجہ سے قوی اور پرتشدد نہیں ہوتے بلکہ معاشرتی وجوہات کی وجہ سے پر تشدد ہوتے ہیں اوراسے وہ “زہریلی مردانگی” کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ بچے پیدا کرنے والی خواتین کے حوالے سے یہ تصور نہیں کیا جاتا کہ وہ جنسی اورجسمانی طور پر زیادہ صحتمند اور مستحکم ہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر مغلوب ہو کر بچے پیدا کرتی ہیں۔ یعنی فیمنزم میں بیالوجی کے بنیادی حقائق کا انکار کیا جاتا ہے۔ مثلاً اس بات سے انکار کیا جاتا ہے کہ مردوں کا جسم، انکے پٹھے خواتین کے جسم اور پٹھوں سے زیادہ بڑے اور قوی ہوتے ہیں۔ اگر خواتین ایتھلیٹس کی تعداد کم ہے تو اسکو اس طرح بیان نہیں کیا جاتا کہ خواتین کی اکثریت نازک مزاج ہوتی ہے اورانکے ایتھلیٹ بننا آسان نہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اسکی معاشرتی وجوہات ہیں جن کے باعث خواتین کو مواقع نہیں دئے جاتے۔

جسمانی طاقت کے حوالے سے انکی دلیل یہ ہے کہ آجکل مشینوں اور کمپوٹر کا دور ہے ایک بٹن دبانے سے سب کام ہوجاتے ہیں لہذا مرد اور عورت کی جسمانی طاقت کا موازنہ کرنا بے معنی ہے لیکن دوسری طرف انہیں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی اس رائے سے کوئ اختلاف نہین کہ مردوں اور عورتوں کیلئے الگ الگ کھیلوں کے مقابلے ہونگے کیونکہ ایک ہی کھیل خواہ وہ مردوں اور عورتوں میں یکساں طور پر مقبول ہو لیکن کھیل میں مردوں اور عورتوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق ہوتا ہے اور اس طرح مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو ذلت اٹھانے سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر تھوڑی دیر کیلئے یہ فرض کر لیا جائے کہ مردوں اور عورتوں میں جینیاتی، حیاتیاتی طور پر یا نفسیاتی طور پر کوئی فرق نہیں ہوتا تو وہ عورتیں جو آپریشن وغیرہ کروا کر عورت سے مرد بن جاتی ہیں اور بظاہر مرد ہی نظر آتی ہیں لیکن انہیں پھر بھی ایک مرد کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا جاتا اور انہیں اپنے اندر سے ایک بے چینی کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ کوئی عورت سرجری کرواکر جب مرد بن جاتی ہے اور سرجری کے دوران اس میں مرد کے جین تو داخل کر دئے جاتے ہیں جس سے اسکی جنس توتبدیل ہو جاتی ہے لیکن اس سے اسکا انرجی لیول بہت بلند ہو جاتا ہے، جنسی اشتہا بہت بڑھ جاتی ہے، مزاج بالکل تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ صحیح مرد بننے کیلئے مرد ہارمونز کا ایک خاص تناسب چاہیے، ہارمونز کےاس تناسب کے بغیر عورت کو بظاہر مرد تو بنایا جا سکتا ہے لیکن حقیقی طور پر وہ مرد کی طرح behave نہیں کر سکتی اور یہی بات اس کا ثبوت ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان حیاتیاتی اور نفسیاتی طور پر ایک امتیاز پایا جاتا ہے۔ مرد، مرد ہارمونز کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور عورت، عورت ہارمونز کے ساتھ پیدا ہوتی ہے، پرورش اور معاشرت کے نتیجے میں یا کسی اور مصنوعی طریقے سے نہ مرد کو حقیقی معنوں میں عورت بنایا جا سکتا ہے اور نہ عورت کو مرد۔

حیاتیاتی اختلافات صرف انسانی نر اور مادہ میں ہی نہیں بلکہ دیگر جانوروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اعصاب اور ہارمونز دو ایسی چیزیں ہیں جن کے اختلافات جذبات اور صلاحیتوں دونوں کو متاثر کرتےہیں، مثلاً ادارک کی مہارتیں وغیرہ۔ فیمنسٹ ان سب کی تردید کرتےہیں کیونکہ حیاتیاتی اور جینیاتی حقائق انکی اس تھیوری کو سپورٹ نہیں کرتی جس کے تحت وہ “صنفی مساوات” کے نظریے کی ترویج کرنا چاہتےہیں یہ وہ صورتحال ہے جس میں فیمنزم سائنس کا دشمن بن جاتا ہے۔ مثلاً کیلیفورنیا پولی ٹیکنک اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر Emeritus کہتے ہیں کہ اوسط درجے سے زیادہ ذہین اور اوسط دجے سے زیادہ بے وقوف دونوں طرح کے انسان مردوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں بنسبت عورتوں کے۔ انیسویں صدی میں ڈارون کی تحقیق بھی یہی کہتی ہے کہ اگر چہ مخصوص خصائص اور نوع کے بہت سارے استثنیٰ ہیں لیکن جانوروں کی تمام انواع میں، ایک نوع کی مادہ کے مقابلے میں نروں کے اندر زیادہ تغیر پایا جاتا ہے۔ اس نظریے کے ثبوت کافی قوی ہیں اور اسکے آثار تقریباً تمام اقسام کے جانوروں میں دیکھے گئے ہیں۔ متعدد مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پیدا ئش کے وقت وزن اور دماغی ڈھانچے سے لیکر ریاضی کے ٹسٹ اسکور تک کے بیشتر زمروں میں اوسط سے زیادہ اور کم کی تقسیم میں مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح نوبل انعام یافتہ، فلسفی، میوزک کمپوزر، شطرنج کے چمپیئن، بے گھر افراد، خودکشی کرنے والے، جیلوں میں قید ہونے والے وغیرہ کے حوالے سے بھی مردوں کی تعداد، خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔

فیمنزم کے نظریات و اعتقادات نہ صرف سائنسی شواہد سے متصادم ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے سرکاری و تعلیمی اداروں میں اساتذہ، محققین اور سائنسدانوں پر دھونس ڈالی جاتی ہے کہ وہ سائنسی تحقیقات سے ایسے نتائج اخذ نہ کریں جو فیمنزم کے اعتقادات کے خلاف ہوں۔ اور فیمنزم کے سیاسی گروپ خواتین کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ مظلوم اور متاثرین میں سے ہیں۔ شمالی امریکہ کے پورے معاشرے میں حکومتوں، سائنسی ایجنسیوں، گرانٹ دینے والی ایجنسیوں اور یونیورسٹیوں میں سائنس، ٹیکنالوجی اور میتھس (STM) کے شعبوں میں خواتین کی تعداد بڑھانےکیلئے فیمنسٹ لابی کی طرف سے بہت زور لگایا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود جب خواتین کوآزادانہ انتخاب کا موقع ملتا ہے تو وہ زیادہ تر سوشل سائنسز کا ہی انتخاب کرتی ہیں۔ اب شمالی امریکہ کی یونیورسٹیوں سے 60 فیصد خواتین گریجوئیٹ اور 40 فیصد مرد گریجوئیٹ نکل رہے ہیں لیکن فیمنسٹ اسکالرز کے نزدیک یہ” صنفی مساوات “کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

مگر یہ بات یہی پر ختم نہیں ہوتی اب فیمنسٹ لابی کی طرف سے اس مطالبے کے ساتھ سائنس پر حملے ہو رہے ہیں کہ کہ سائنس کو ” فیمنسٹ سائنس” میں تبدیل کر دیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیمنسٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ سو سالوں میں جو سائنس رائج ہے اس میں کوئی اچھی بات نہیں ہے اور اسے ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اس میں جو بھی معروضیت پائی جاتی ہے اسکی بنیاد مردانہ موضوعیت پرہے۔ اس لئے سائنس کو “فیمنسٹ سائنس” بنا دینا چاہیے تاکہ یہ معاشرتی انصاف، اور صنفی مساوات کے حصول میں معاون ثابت ہو۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیمنسٹ ماہرین حقائق اور شواہد کو جمع کرنے اور انکے تجزیے کے ذریعے حقیقت کو تلاش نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ اپنے مفروضات اور عقائد جن پر وہ ایمان رکھتے ہیں انہیں ثابت کرنے کیلئے اور مقبول عام بنانے کیلئےسائنس کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی اب تک تو فیمنزم صرف ہماری ثقافت اور تعلیمی نظام کیلئے ایک مضر چیز تھی لیکن اب اسکی سائنس دشمنی کھل کر سامنے آرہی ہے اور اسکے لئے سائنسدان اور محقق بہت پریشان ہیں۔ ایک عام آدمی تو یہ سوچتا ہے کہ معاشرتی نظریات، سائنس کے راستے میں کیسے ےروڑے اٹکا سکتے ہیں؟ لیکن ایک امریکی اسکالر مارگریٹالیون Margarita Levin نے یہ بتایا ہے کہ سائنس کے راستے میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں اس نے مثالیں دے کر بتایا ہے کہ فیمنسٹ ماہرین کس طرح ہر سائنسی نظریہ کو مرادانہ تعصب کی عینک سے دیکھتے ہوئے اس میں مردانہ تسلط کو تلاش کرتے ہیں جیسے ڈی این اے فنکشن کی ماسٹر مالیکول تھیوری، ارتقا ء اور زندہ رہنے کے کیلئے جدوجہد کرنےکے حوالے سے “تنازع البقاء” کی تھیوری، وسائل کی کمی کے پیش نظر “جانوروں کے مابین مسابقت” کی تھیوری اسی طرح بیشمار سائنسی ماڈل جیسے Symbiosis, feedback, catalysis, mutual attraction وغیرہ حتیٰ کہ انہیں اس سائنسی حقیقت پر بھی اعتراض ہےکہ زمین (مونث)، سورج (مذکر) کے گرد گردش کیوں کرتی ہے اور اس میں بھی وہ مردانہ تسلط کو تلاش کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ جب Ptolemaic نظام کو کوپرنیکس کے گردشی نظام سے تبدیل کیا گیا تو سائنسی تھیوری کی شکل میں یہ بھی گویا مردوں کا خواتین پر تسلط قائم کرنے کا ایک علامتی اظہار تھا۔

مزید یہ کہ فیمنزم کے مقاصد، دعووں اورافعال کا نہ صرف یہ کہ سائنسی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فیمزم کے ” نسائی سائنس کے ماڈلز” کی اصل ناکامی یہ ہے کہ یہ نفسیات، سیاست، معاشرتی سائنس اور نیچرل سائنس کے میدان میں کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے ہیں بلکہ انکا مقصد صرف فیمنسٹ جذبات اور عقائد کی ترویج اور تکمیل ہےکسی بھی مباحثے کے ذریعے جب فیمنسٹ، پہلے سے قبول شدہ سائنسی حقائق کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو اسکا مقصد نہ سائنسی مفروضات کا تجزیہ کرکے حقائق تک پہنچنا ہوتا ہے اور نہ کوئی سائنسی انکوائری ہوتا ہے بلکہ اسکا مقصد صرف ان لوگوں کو بیوقوف بنانا ہوتا ہے جو سائنس کو گہرائی کے ساتھ نہیں جانتے اور محض حوالہ جات دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنسی سچائیاں خواہشات اور آئیدیالوجی کی پابند نہیں ہوتیں اور جب انہیں آئیڈیالوجی کے ماتحت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو حقیقت مسخ ہو جاتی ہے۔ مگر فیمنسٹ ماہرین جو اپنی خواہشات کی خدمت کرنا چاہتے ہیں انہیں اس بات کی ذرا برابر پرواہ نہیں ہے کہ جب پروپیگنڈے کا شکار لوگوں کی اکثریت بکواس کو سچ مان لے گی توبکواس سچ کی حیثیت اختیار کر لے گا اور یہ عمل انسانیت کی تباہی پر منتج ہوگا۔ مثلاً فیمنسٹ ماہرین “پدرسری نظام” کی عالمگیریت کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ا س امکان کو ماننے کو تیار نہیں کہ نفسی اور فزیولوجیکل محرکات بھی فیصلہ کن عوامل ہو سکتے ہیں۔ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ پدرسری نظام سرمایہ دارانہ نظام کا نتیجہ ہے حالانکہ پدرسری نظام سے ان معاشروں میں بھی موجود ہے جو سرمایہ دارنہ نوعیت کے نہیں تھے۔ وہ حیاتیاتی تفریق کو نظر انداز کرکےہر صنفی امتیاز کو ثقافت کے گلے میں ڈال دیتے ہیں جو درست تعبیر و تشریح نہیں ہے مثلا حیاتیاتی طور پر مردوں اور عورتوں میں (کچھ مخصوص استثناء کے علاوہ) یہ فرق ہے کہ مردوں کے چہروں پر داڑھی کے بال اگتے ہیں اور عورتوں کے چہروں پر نہیں اگتے لیکن اسکی تعبیر و تشریح یہ تو نہیں کی جا سکتی کہ مردوں کے چہروں پر بال اس لئے اگتے ہیں کہ ماضی میں انہیں معاشرہ یہ سکھاتا رہا ہے کہ عورتوں پر تسلط قائم رکھنے کیلئے مرد اپنے چہرے پر بال اگائیں۔

اسی طرح وہ معاشی مقاصد کو معاشی عومل سے الجھاتے ہیں۔ معاشی عوامل میں مرد کے غلبے کو تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ “میکڈونلڈ کو منافعے کی اس لئے ضرورت ہے کہ انسان کو پیٹ بھرنے کیلئے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے”۔ انکی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ معاشرتی ماحول کو ایک آزاد متغیر Independent variable کے طور پر لیتے ہیں اس لئے اس بات کی تعبیر و تشریح کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ معاشرتی ماحول ہمیشہ فزیالوجیکل سمت سے ہم آہنگ اورطے شدہ حدود کے مطابق کیوں رہتا ہے؟ یعنی آسان الفاظ میں وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ معاشرہ کبھی بھی معاشرے کو مردانہ تسلط سے پاک رکھنے کے قابل بنانے کیلئے مناسب مدارج کی حیثیت سے کام کیوں نہیں کرتا؟ اس بات کو سمجھنا اس وقت آسان ہے جب ماحول کو مرد و عورت کی فزیالوجیکل فطرت کی سمت کے تناظر میں دیکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر فیمنسٹ ماہرین اصطلاحات میں الجھے رہتے ہیں اور غلط تشریحات کرتے ہیں۔

اصل سائنسدانوں میں بلاشبہ بہت سی خواتین سائنسدان بھی ہیں لیکن وہ خواتین ہونے کے ناطےسائنسی مباحث کے دلائل فیمنسٹ ڈسکورس میں تلاش نہیں کرتیں یقیناً اگر وہ ایسا کریں گی تو انکی یہ کاوش سائنس نہیں کہلائے گی کیونکہ ایک سائنسدان کا بنیادی فریضہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے ذریعے کسی سائنسی سوال کے جواب کے حوالے سے پائی جانے والی لاعلمی کا خاتمہ کرے نہ کہ اپنی کسی خواہش کی تکمیل کیلئے یہ وظیفہ سر انجام دے۔ لیکن فیمنسٹ ماہرین، سنجیدہ سائنسدانوں کے طرز عمل کو سمجھنے سے اس لئے قاصر ہیں کہ وہ سائنسی نظریات اور حقائق کو بھی اپنی خواہشات اور اعتقادات کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ سنجیدہ سائنسدان کبھی بھی سائنٹفک انکوائری میں جذبات، آئیڈیالوجی یا سیاسی محرکات سے متاثر نہیں ہوتے۔ لیکن فیمنسٹ ماہرین جس چیز کو ” فیمنسٹ سائنس” کے طور پر پیش کر رہے ہیں وہ خود پسندی و خود تبریکی پر مبنی اصطلاحات کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کے علاوہ کچھ نہیں اور ایسی اصطلاحات نہ از خود صحیح پیشن گوئیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور نہ یہ وضاحت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کہ روائیتی سائنسی منہاج میں درست پیشن گوئیاں کرنے کی صلاحیت کیونکر موجود ہے۔

سائنس میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کوئی تھیوری کسی مرد نے پیش کی ہے یا کسی خاتون نے بلکہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ اس تھیوری کا دعویٰ و استدلال فطرت کے مطابق ہونا چاہیے یعنی فطرت کے مطابق ہونا ہی دعوے کے وجود کا واحد جواز ہے۔ وہ لوگ جو فطرت کے حقائق کو دریافت کرنے کی بات کرتے ہوئے کچھ دیگر لوازمات کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں انکی بے ایمانی اور نااہلی فطرت کے رازوں کو دریافت کے انمول طریقہ کار کو بھی الجھا دیتی ہے اور پیچیدہ کر دیتی ہے۔ سچ، سچ ہوتا ہے اور اسے فطرت کے قوانین پر تولا جاتا ہے، سچ پسند اور ناپسند کے پیمانوں پر نہیں تولا جاتا۔ یہ بات ایک سائنسدان کیلئے یا ہر اس شخص کیلئے جو سچ کا متلاشی ہے نا قابل معافی ہے۔ یہ عمل تجسس کو نرگسیت سے بدل دیتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ نرگسیت کے تحت کئے گئے فیصلے ہی انسانیت کے مقصد کے حصول کے دعوے کا منطقی جواز ہیں۔ بہرحال فیمنزم نے اپنے سیاسی زور پر مغرب میں سائنسدانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو ایسے کمزور سائنسدان بننے پر مجبور کر دیا ہے جو عوامی اور سیاسی خواہشات کے سامنےسینہ تان کر کھڑے نہیں ہو سکتے اورایسے نازک موقعوں پر وہ سخت گیر سائنسی موقف اپنانے کی بجائے خو ش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان بچانے کو غنیمت سمجھتے ہیں لیکن اندر سے وہ جانتے ہیں کہ وہ جس چیز کی تائید کر رہے ہیں اسکی حیثیت ایک “بکواس” سے زیادہ نہیں ہے لیکن انکے خیال میں ایسا کرنا اپنی جان کو بچانے کیلئے ایک ناگزیر عمل ہے لیکن یہ جو بھی عمل ہے یہ سائنسی اصولوں اور سائنسی منہاج سے کوسوں دور ہے اور بہرحال اس عمل کو سچ نہیں کہہ سکتے۔

فیمنزم کے غیر سائنسی اور غیر علمی رویوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیمنزم اور سائنس دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ فیمنزم ایک تنگ نظر اور متعصب نظریہ، آئیڈیالوجی اور نظام عقائد ہے جو ایک خاص لابی کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ سائنس علم کی جانچ اور توسیع کیلئے ڈیزائن کی گئی ایک کھلی تحقیق کا نام ہے۔ اور آئیڈیالوجی ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہوتی ہے، آئیڈیالوجی کے تحت، عقائد کے ایک مخصوس پیکج کے ذریعے لوگوں کو سرشار کرنا شاید قابل تعریف عمل ہو لیکن جب اسکے برعکس شواہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ چیز بہت خطرناک ہو جاتی ہے اور اس طرح کی نظریاتی سختی جو ان نظریات اور اعتقادات کے ماننے والوں میں پائی جاتی ہے وہ عام طور پر شواہد پر مبنی تفتیش کو مسترد کرنے کا باعث بنتی ہے اور یہی کچھ ا س وقت فیمنزم کے ماننے والوں کے ساتھ ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیمنزم کی ترویج کیلئے جو نظریات اور عقائد اپنائے اب یہ واضح ہوجانے کے باوجود بھی کہ وہ سائنسی معیار پر پورے نہیں اترتے وہ ان کے ساتھ ایسے چمٹے ہوئے ہیں جیسے کوئی بھکشو یا کسی آشرم کا مجاور کسی فرسودہ، خود ساختہ مذہبی روایت کے غلط ثابت ہوجانے کے باوجود بھی ان سے چمٹا ہوتا ہے۔


اس موضوع پر مزید مضامین کا مطالعہ کیجئے:

فیمنزم اور مردانگی کا بحران —- وحید مراد

2۔ جورڈن پیٹرسن : فیمنزم کے ستائے ہوئے مردوں کا مسیحا —- وحید مراد

فیمنزم : نظریہ، تحریک، اہداف اور کردار —- وحید مراد

استشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا — Joseph Massad — ترجمہ و تلخیص: وحید مراد

References:

  1. Field, Nicolas (2017), Masculinity and the Politics of Emotion, University of Toronto
  2. Hogsbjerg, Christian (1988), What’s wrong with patriarchy theory?, Encyclopedia of Trotskyism online
  3. Goldbery, Steven, Feminism Against Science, https://aimhs.com.au/cms/index.php?page=against-science
  4. Carl Salzman, Philip (2019), Feminists Assault Science, https://fcpp.org/2019/01/23/feminists-assault-science/
  5. Brunell, Leura; Burkett, Elinor. “Feminism” Encyclopedia Britannica
  6. Cott, Nancy F (1987). The Grounding of Modern Feminism, New Haven: Yale University Press
  7. Berezow, Alex (2016), Is Modern Feminism Incompatible with Science?
  8. Arguments against Feminism: dandebat.dk/eng-feminisme.html

خواتین کے بدلتے معاشرتی کردار پر ایک مفصل گفتگو اس وڈیو میں ملاحظہ کیجئے:

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20