ڈاکٹر اسرار احمد ۔ جاوید احمد غامدی: تعلقات کا تناؤ — عبدالمجید گوندل

0

مریم حیات صاحبہ نے اپنی وال پر ایک وڈیو کلپ پوسٹ کرتے ہوئے، اس کا تعارفی جملہ یہ لکھا ہے:

“جب ڈاکٹر اسرار احمد نے جاوید احمد غامدی کو اپنی ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں داخلے سے منع کر دیا۔۔“

ہماری مذہبی تاریخ میں اختلافات مخالفانہ روش کی تلخی و تیزی میں ڈھلتے رہے ہیں۔ لہذا معاشرہ ے سے اتحاد و اتفاق کی برکتیں اٹھ جاتی ہےاور ان کی جگہ انتشار و نفاق لے لیتے ہیں۔ کیونکہ ہر معتقد اپنے مولوی کی پیروی میں دوسرے کے مولوی کو نیچا دکھانے میں سرگرم ہونا اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہے۔ یہ وڈیو بھی اسی عصبیت کا شاخسانہ لگتی ہے۔

اس وڈیو سے غامدی صاحب کے کسی معتقد نے یہ مفہوم سمجھا ہے کہ “جب ڈاکٹر اسرار احمد نے جاوید احمد غامدی کو اپنی ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں داخلے سے منع کر دیا۔۔“ اور وڈیو دکھانے والے بھی اپنے ناظرین کو پابند کر رہے ہیں کہ وہ بھی اس کلپ کا یہی مفہوم سمجھیں اور مانیں۔ حالانکہ اینکر کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسرار احمد نے واضح طور پر کہا ہے کہ: میں نے مسجد میں آنے سے منع نہیں کیا تھا۔

چلیں ایک لمحے کے لیے مان لیتے ہیں کہ وڈیو کا وہی کیپشن درست ہے جو آپ نے لگایا ہے تو ہمیں اس مقصد سے بھی آگاہ فرما دیں کہ اس سے دین کی وہ کون سی خدمت ہے جو آپ نے انجام دی ہے۔

اس وڈیو میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے غامدی صاحب کے بارے میں یہ کہا ہے کہ:

“اصل میں وہ وہاں آکر کچھ ایسی حرکتیں کرتے تھے، جس سے انتشار پیدا ہوتا تھا۔ تو ہمارے ایک صاحب نے اپنے طور پر جا کر ان سے کہا تھا کہ آپ ایک طرف تو ڈاکٹر اسرار کو کہتے ہیں جاہل اور گمراہ ہے تو آپ یہاں کاہے کو آتے ہیں ؟ تو بس اس بات سے انہوں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ میرا حکم آیا ہے۔ میں نے منع نہیں کیا۔“

ان دنوں جناب غامدی صاحب سے میری ملاقات رہا کرتی تھی۔ انہوں نے خود بھی یہ واقعہ مجھے سنایا تھا۔ جو میری یادداشتوں میں اس طرح محفوظ ہے:

اشراق کے دفتر (ماڈل ٹاؤن، لاہور) میں بیٹھے تھے۔ جناب غامدی صاحب کہنے لگے کہ میں جمعہ ڈاکٹر اسرار صاحب کے پیچھے پڑھتا تھا۔ ان کی کسی رائے سے اختلاف ہوتا تو اس پر علمی تنقید سپرد قلم کر دیتا۔ میرا ایسا کرنا انہیں ناگوار خاطر گزرتا تھا۔ ان کے یہ جذبات مجھ تک پہنچتے رہتے تھے۔ ایک دن میں وہاں ان کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک صاحب میرے پاس آئے اور آتے ہی کہنے لگے کہ آپ جمعہ تو ڈاکٹر اسرار صاحب کے پیچھے پڑھتے ہیں اور پھر ان پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ پھر کہا کہ ایسا کرنا بند کریں اگر باز نہ آئے تو آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔

ہمارے ان دونوں محترم اہل علم حضرات نے ایک ہی واقعے کو جس طرح بیان کیا ہے۔ اس سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ ان کے مذہبی اختلافات نے ان کے رویوں کو متاثر کیا جس سے تلخی اور رنجش کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔

درحقیقت غامدی صاحب کے شخصی مزاج کا شروع سے یہ خاصہ ہے کہ وہ دوسروں کے معاملات میں در اندازی کرنا اور پھر اپنی مجلسوں میں ان کا مذاق اڑانا جائز سمجھتے ہیں۔

نیچے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جن سے غامدی صاجب کے مزاج کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ ایک عینی شاہد کی تحریر کا حصہ ہیں جو انہوں نے بطور شہادت رقم کی تھی:

“جاوید صاحب کچھ عرصہ جماعت اسلامی میں بھی شامل رہے۔ جماعت میں شمولیت کے کچھ عرصے بعد اچھرہ لاہور میں مرکز جماعت کی عمارت کا ایک حصہ اُن کے حوالے کر دیا گیا اور مولانا مودودی نے ذاتی طور پر ماہانہ وظیفہ بھی جاری کر دیا۔ مقصد پیشِ نظر یہ تھا کہ کراچی کے بعد لاہور میں بھی ادارہ معارفِ اسلامی کی شاخ قائم کر کے تحقیق و تالیف کا کام شروع کیا جائے۔

مولانا مودودی اورمولانا اصلاحی دونوں بزرگوں نے جاوید صاحب کے ساتھ سرپرستی و شفقت کا سلوک روا رکھا، مگر موصوف دونوں کے ساتھ انصاف نہ کر پائے۔ تب ایسی ایسی افسوس ناک حرکتیں کیں اور چالیں چلیں کہ دونوں بزرگوں کو ایک دوسرے کا مدِ مقابل لا کھڑا کرنے تک کی مذموم کوششیں کر ڈالیں۔

تدبر قرآن اور تفہیم القرآن کی موازنہ آرائی کی گئی۔ ماچھی گوٹھ کے قصے چھیڑے گئے۔ شورائی فیصلوں پر اقلیت و اکثریت کے حوالے سے پھبتیاں چست کی گئیں۔ جاوید صاحب، جماعت اسلامی کی جس عمارت میں ٹھیرائے گئے تھے، اس کے نچلے حصے میں اسلامی جمعیت طلبہ کا دفتر تھا۔ جہاں پر روز سینکڑوں طلبہ اور جمعیت کے کارکنان کی آمدورفت رہتی تھی۔ جاوید صاحب اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان نوجوانوں کے نوخیز و ناپختہ ذہنوں کو مسموم کرنے کا بھی “کار خیر” سرانجام دیتے رہتے۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ جماعت کے مرکز میں بیٹھ کر ہو رہا تھا۔ محاذ آرائی کا ایک پورا بازار تھا، جو انھوں نے گرم کیے رکھا۔

اسی دوران میں جاوید صاحب کے غیر محتاط تبصروں اور جمعیت کے افراد کو توڑ کر اپنے حلقے میں شامل کرنے جیسے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے جماعت نے ایک کمیٹی مقرر کی تاکہ شکایات کا ازالہ اور اصلاحِ احوال ممکن ہو۔

اس کمیٹی کی تشکیل کے چند ماہ بعد جناب غامدی صاحب نے ایک اور کارنامہ کر دکھایا۔ انہوں نے تدبر قرآن سے سے کچھ جملے اٹھا کر کے انھیں سوالات کی صورت میں مرتب کرکے مولانا مودودی کو بھیج دیا۔ مولانا نے ان سوالات کے جوابات لکھ کر اپنے ماہ نامہ ترجمان القرآن میں ’رسائل و مسائل’ کے عنوان سے شائع کردیے۔

اسی دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن نے جاوید صاحب کے ۱-اے ذیلدار پارک اچھرہ میں درس قرآن کے دوران ان سوالات کے بارے میں سوال اٹھا دیا۔ جواب میں جاوید صاحب نے حواس باختگی کے عالم میں سوالات سے لاتعلقی کا صریح جھوٹ بول دیا۔ اس واقعے نے بھی جاوید صاحب کی اخلاقی پوزیشن خراب کردی۔

جاوید صاحب کی منفی سرگرمیوں سے پیدا شدہ صورت حال پر جماعت اسلامی لاہور کی ایک کمیٹی بڑی احتیاط سے واقعات و معاملات کا جائزہ لے رہی تھی۔ کمیٹی کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے کوئی دقت نہ ہوئی۔ لہٰذا، امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب مولانا فتح محمد صاحب نے جاوید صاحب کو جماعت کی رکنیت سے فارغ کر دیا۔“

غامدی صاحب کا فرمانا ہے کہ وہ جمعہ ڈاکٹر اسرار صاحب کے پیچھے پڑھتے تھے۔ ان کی کسی رائے سے اختلاف ہوا تو اس پر علمی تنقید سپرد قلم کر دیتے تھے۔ ان کا ایسا کرنا ڈاکٹر اسرار صاحب کو ناگوار گزرتا تھا۔

اظہار اختلاف میں حفظ مراتب کے لحاظ کی جگہ مخاطب کی عزت نفس مجروح کرنے لگ جانا کسی طور درست نہیں ہوتا۔ خود جناب غامدی صاحب ایسے مواقع پر باہم احترام کی پاسداری پر بہت زور ددینے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے معاملے میں وہ اس اخلاقی اصول کو خاطر میں نہیں لاتے۔

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اعتراف کرتے تھے کہ انہیں عربی زبان سے واقفیت ہے۔ لیکن غامدی صاحب نے اس بات کا ہمیشہ دل کھول کر مذاق اڑایا۔ ڈاکٹر اسرار صاحب کے بارے میں ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

“اس معاملے میں سب سے زیادہ بد ترین رویہ ان لوگوں کا ہوتا ہے ، جو بس شدبد علم کی بنا پر مذہبی پیشواؤں کی صف میں شامل ہونا چاہتے اور اپنے آپ کو ان سے زیادہ ان کے عقائد و نظریات کا محافظ ٹابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“

غامدی صاحب تسلیم کریں یا نہ کریں انہیں اپنے بارے میں بخوبی علم ہے کہ کبھی وہ بھی شوق مسابقت کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا تھے۔ وقت کے ایک پیشوا مولانا امین احسن اصلاحی رحمتہ الله علیہ کو کہنا پڑا کہ: ’’بھلا جاوید میں اتنی قابلیت و لیاقت کہاں کہ وہ ایسے سوالات لکھ پائیں۔ مولانا مودودی کو اس کا بخوبی ادراک ہونا چاہیے تھا اور اس کی چال میں آنا نہیں چاہیے تھا۔

ماہنامہ اشراق کے ایک قاری نے غامدی صاحب کو ایک خط لکھا تھا۔ اس سوال و جواب کا احوال درج ذیل ہے۔

ہمارے ایک دوست نے اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے:

“ آپ نے اپنے مضمون ،غلبہ دین کی جدوجہد، میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ اپنی جہالت پر پردہ ڈالنے کے لیے خود کو امی کہتے ہیں۔ میرے خیال میں اس قدر مدلل علمی تحریر میں یہ اسلوب اگر آپ اختیار نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ تنقید میں اس طرح کی شدت ہی اتحاد فکر و عمل میں رکاوٹ بنتی ہے۔“

اس مکتوب کا جواب جاوید صاحب نے یہ دیا:

“آپ اسے شدت قرار دیتے ہیں۔ ذرا غور فرمایئے۔ انہوں نے خود کہا ہے کہ وہ دینی علوم سے ناواقف ہیں۔ ان کے اس بیان سے ہم تعرض نہ کرتے۔ لیکن انہوں نے بہ تکرار کہنا شروع کیا کہ اپنی اس ناواقفیت کو وہ اپنے لیے شرف سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ چونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم بھی امی تھے ، اور وہ بھی امی ہیں۔ اس لیے انہیں آپ سے ایک نسبت خصوصی حاصل ہو گئ ہے۔ آپ مجھے بتائیے ، کیا نبی صلی الله علیہ وسلم اس معنی میں امی تھے کہ آپ دینی علوم سے ناواقف تھے۔ وہ ہستی جس پر آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ جو حامل قرآن ہے۔ جو ہمارے سارے علم دین کا منبع ہے، اسے آپ اس معنی میں امی قرار دے سکتے ہیں۔ رسالتمآب صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں اس جسارت کو اگر میں جہالت نہ کہتا تو پھر کیا کہتا۔“

انقلابات زمانہ کی ستم ظریفی دیکھیے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے یہ کہا کہ “چونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم بھی امی تھے، اور وہ بھی امی ہیں، اس لیے انہیں آپ سے ایک نسبت خصوصی حاصل ہو گئ ہے۔“ تو جناب الغامدی صاحب ناموس رسالتمآب کے دفاع میں تڑپ اٹھے اور انہوں نے ڈاکٹراسرار احمد صاحب پر اپنے غم و غصے کا شدت سے اظہار کیا تھا۔ لیکن آج الغامدی صاحب اتنے صلح جو ہو گئے ہیں کہ ،با مسلماں الله الله با برہمن رام رام، کی صلح کل منزل پر فائز المرام ہو چکے ہیں۔ جس شخص یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے حریم نبوت پر شب خون مارا اور دعوی نبوت کیا۔ جس نے اپنے بارے میں اس دعوے کا علانیہ دو ٹوک اعلان کیا، اس مرزا کے بارے میں الغامدی صاحب نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اسے کافر نہیں بلکہ اپنے جیسا مسلمان سمجھ رہے اور اصل مسلمانوں میں شمار کرتے ہیں۔ اور جھوٹے نبی کو صوفی کے لقب سے موسوم کر رہے ہیں۔ اس راہ میں وہ اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ گویا قرآن اور مقام نبوت دونوں ان کی دلیلوں اور تاویلوں کے سامنے نعوذ بالله عاجز و درماندہ ہو کر رہ گئے ہیں۔

الله تعالی نے حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو خاتم النبیین کے مقام پر فائز فرمایا ہے۔ قرآن مجید کی آیت ہے ولکن رسول الله و خاتم النبیین۔ یعنی محمد الله کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ خود آپ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرے بعد کوئ نبی نہیں۔ رسالت اور نبوت کا سلسلہ اب منقطع ہوچکا ہے میرے بعد اب نہ کوئ نبی ہے اور نہ رسول۔

عقیدہ ختم نبوت سے متعلق جب بھی بات ہوئی ہے ، غامدی صاحب ایسے ہر موقع پر پہلے اپنا عقیدہ ختم نبوت جو عین قرآن و سنت کے مطابق ہوتا ہے بیان کرتے ہیں۔ لیکن اس اقرار کے ساتھ اگلے ہی سانس میں وہ اس عقیدے سے زیادہ تاکید سے یہ اہم اعلان بھی کرتے ہیں کہ کہ مرزا قادیانی اوران کے پیروکاروں کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔

عقیدہ اور اینٹی عقیدہ دونوں کی یہ ساری معاملہ بندی اپنی جگہ لیکن جناب غامدی صاحب جس عقیدہ ختم نبوت کو مانتے اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں تو ان سے سوال ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے اس عقیدہ کے خلاف دعوی نبوت کرے تو کیا وہ اسے جھوٹا نبی قرار دیں گے یا نہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20