لاہور کالج آف ویمن یونیورسٹی اور ڈاکٹر بشری مرزا —– سلمان عابد

0

پاکستان کی جامعات کے بارے میں بہت سے لوگ ان کی کارکردگی کو تنقید کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک عمومی خیال یہ ہی ہوتا ہے کہ ہماری جامعات و ہ کردار ادا نہیں کررہی جو ان کا حق یا ذمہ داری بنتی ہے۔ یقینا ہماری جامعات میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جو تنقید کے زمرے میں آتے ہیں۔ لیکن اب بہت سی جامعات میں ان کی قیادت یعنی وائس چانسلرز نے کچھ ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جن کی ہر سطح پر بڑی پزیرائی بھی ہونی چاہیے۔ کیونکہ جہاں تنقید کی جانی چاہیے وہیں اچھے کاموں کی پزیرائی بھی ان جامعات کا حق بنتا ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے پوری دنیا اور خود پاکستان میں عالمی وبا کرونا کے بحران کا شکار ہے۔ اس بحران نے عملی طور پر پورے ملک کے تعلیمی نظام کو مفلوج بھی کیا ہوا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے اپنے اداروں میں بیٹھ کر تعلیم دینے سے قاصر رہے ہیں۔ کیونکہ کرونا وبا کے باعث تاحال ہمارے تعلیمی ادارے بچوں اور استاد کے تحفظ کے تناظر میں بند ہیں۔

لیکن اچھی بات یہ اس کروناوبا کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں نے ایک متبادل تعلیمی نظام کو ترتیب دیا تاکہ بچوں و بچیوں کی تعلیمی سرگرمی کو متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ اسی تناظر میں لاہو رکالج آف ویمن یونیورسٹی کو بھی داد دینی ہوگی کہ یہ ادارہ اور اس کی سربراہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے بچیوں کے لیے آن لائن لرننگ پروگرام کے تحت بچیوں کو تعلیم دینے کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی۔ ڈاکٹر بشری مرزا معروف ماہر تعلیم اور اعلی فکری دانشورانہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ جب سے انہوں نے اس ادارے میں بطور وائس چانسلر اپنی ذمہ داری لی تو اس کے بعد اس ادارے کی ساکھ کو بہتر بنانے اور بالخصوص یہاں کے تعلیمی معیار، تحقیق کے نئے زاویوں، جدید تعلیمی انداز کو اختیار کرنے، استاد اور بچیوں کے درمیان موثر رابطہ سازی، نصابی کتابو ں کے ساتھ ساتھ اپنے بچیوں کے لیے تواتر کے ساتھ سیمینار، کانفرنسزسمیت مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دے کر بچیوں میں تعلیمی ڈگری کے ساتھ ان میں اعتماد سازی اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ان کا اہم ایجنڈا تھا۔

مجھے اس ادارے کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر انجم ضیا اور سوشل ورک کی سربراہ ڈاکٹر ارم شاہد،جینڈر سٹڈیزکے شعبہ جات کی طرف سے مختلف سیمینار، کانفرنسز میں بطور مہمان مقرر شرکت ہونے کا موقع ملتا ہے۔ دو پہلو اس ادارے کے اہم ہیں۔ اول ادارے کی سربراہ کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف تقریبات کو طالبات کی مدد سے منعقد کروایا جائے یعنی الف سے لے کر یے تک سارے کام طالبات خود کرتی ہیں جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں۔ دوئم لاہو رکالج کی سربراہ اور تمام فیکلٹی کا کمال یہ ہے کہ ادارے کا ڈسپلن کمال کا ہوتا ہے اور واقعی ہمیںطالبات میں بہت زیادہ نظم و ضبط دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس ادارے کی ایک کمال یہ ہے کہ ادارے کی سربراہ ڈاکٹر بشری مرزا کی قیادت میں ’’پائدار ترقی اہداف2015-30 کو بنیاد بنا کر اس پر بہت زیادہ کام کیا گیا۔ تعلیمی نصاب میں اس کو شامل کیا گیا۔ طالبات کو مختلف ماہرین کی مدد سے آگاہی اور مختلف صنفی نوعیت کے منصوبوں میں شمولیت کو بھی یقینی بنایا گیا۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر بچیوں کی تعلیم وصحت سے جڑا ہے۔ ہم نے عالمی ماہدے کے تحت اس منصوبے پر دستخط کیے ہیں کہ ہم 2015-30 بچیوں کی تعلیم اور صحت سے جڑے مسائل کو نہ صرف حل کریں گے بلکہ اپنی عالمی درجہ بندی کو بھی بہتر بنائیں گے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ’’ٹائمز ہائر ایجوکیشن‘‘ جو یونیورسٹیوں کی عالمی درجہ بندی کا معتبر ادارہ ہے۔ اس ادارے نے 2020کا جو عالمی ایڈیشن جاری کیا ہے اس میں SDG5 پر عملدرآمد کے حوالے سے لاہور کالج آف ویمن یونیورسٹی نے پاکستان میں پہلی اور دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں 15ویں پوزیشن حاصل کی، جو اس ادارے سمیت پاکستان کا بھی بڑا اعزاز ہے۔
اسی طرح کرونا وبا کے دوران بہت سے اہم اقدامات کیےگئے جن کا مقصد بچیوں کو آن لائن تعلیم کے ساتھ ساتھ کرونا وبا کے بارے میں آگاہی، سماجی دوری کی اہمیت، ضرورت مندوں کی مدد اور احتیاطی تدابیر شامل ہیں۔ یہاں شعبہ میڈیا کی سربراہ ڈاکٹر انجم ضیا اور ان کی ٹیم بھی مبارک باد کی مستحق ہے جنہوں نے اپنے ادارے کے ایف ایم ریڈیو اور آئن لائن پروگرام کے تحت بچیوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات اور آگاہی دی۔ کرونا وبا کے دوران تواتر سے آن لائن سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اہم بات یہ ہے کہ ترکی، تیونس، چین، امریکہ کے مختلف عالمی ماہرین نے بھی بطور ماہر شرکت کی۔ادارے نے کرونا وبا کے دوران حکومت کو اپنی جانب سے 1.5ملین مالی امداد بھی دی۔ اسی طرح ادارے نے عملی طور ویب ٹی وی کا بھی آغاز کردیا ہے جہاں بچیوں کی مختلف بنائی ہوئی ڈاکومینٹریز بھی پیش کی جائیں گی تاکہ بچیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کروایا جائے۔ خصوصی نفسیاتی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اس مرکز کے تحت نفسیاتی امور پر بھی توجہ دی جائے۔

اسی طرح ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے سمارٹ یونیورسٹی پراجیکٹ کا بھی آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت جامعہ کی سات بڑی عمارتوں میں انٹرنیٹ کے 150پوائنٹ نصب کیے جارہے ہیں۔ یہ منصوبہ اگلے چھ سے سات برس تک طلبہ کی ضرورتوں کو پورا کرے گا۔ اسی طرح ادارے نے آئن لائن ڈائریکٹری تیار کرلی ہے جس کے تحت تمام نصاب اور دیگر اہم امور کر اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔ لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے تحت نگرانی کے نظام کو بھی بہت زیادہ موثر بنایا گیا ہے۔ اس وقت ادارے میں 14000سے زائد طالبات اور 600 سے زیادہ فیکلٹی ممبران شامل ہیں۔

ہمارے یہاں ویسے بھی بچیوں کی اعلی تعلیم ہمارے معاشرے کا بڑا مسئلہ ہے۔ اس تناظر میں ہم دنیا کے کئی ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ اس لیے لاہور کالج آف ویمن یونیورسٹی، تمام فیکلٹی اپنی قائد ڈاکٹر بشری مرزا کی قیادت میں اعلی تعلیم کی جو روایات قائم کر رہی ہیںاس کی حکومتی اور معاشرتی دونوں سطحوں پرپزیرائی ہونی چاہیے،یہ اس ادارے کا حق بھی بنتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20