عقل سے پیدل پاکستانی فیمنسٹ اور تبلیغ کے اصل میدان —- خرم شہزاد

0

پاکستان میں تعلیم کے غیر موثر نظام کی بدولت ہمارے اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے ایسے طالب علم فارغ التحصیل ہوتے ہیں جو واقعی فارغ ہی ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اگر جاہل نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے والدین نے برسوں فیس دی ہوتی ہے اور اس سارے خرچ کئے پیسے کی لاج رکھنا ضروری ہے تو پھر بھی ہم انہیں عقل مند اور سمجھدار بالکل نہیں کہہ سکتے۔ اپنی تعلیم میں رٹا اور کاپی کرنے والے یہ افراد جب معاشرے کا حصہ بنتے ہیں تو یہاں بھی ہر مسئلے کا ان کے پاس ایک ہی حل ہوتا ہے کہ ذرا ادھر ادھر دیکھیں کہاں پہلے ایسا کچھ تھا کہ نہیں اور وہاں کا کام، انداز سب کاپی کر کے اپنے ہاں چلا لیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے منانا ہو یا کرونا وائرس کے خلاف کوئی حفاظتی قدم اٹھانا ہو ہمارے معاشرے میں دوسروں کی عین نقل کو ہی اصل کام سمجھا جاتا ہے۔ مسئلہ شکاگو میں مزدوروں کو تھا اور ہم ہر سال یوم مزدور منا رہے ہوتے ہیں اور اس دن صرف اپنے آجروں کے خلاف تقاریر کرنے کے مزدوروں کو اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اسی طرح ووٹ اور دوسرے حقوق سات سمندر پار کی عورت کو حاصل نہ تھے لیکن یہاں کی خواتین و حضرات کو وویمن ڈے منانے کی پڑی ہوتی ہے اور اب فیمنزم کے نام سے نیا بخار معاشرے کو چڑھائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فیمنزم میں اچھائی یا برائی کیا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ فیمنزم کی اصل کو جاننے بغیر مچائے جانے والے شور سے اپنے خوابوں کے مقاصد کیسے حاصل کئے جائیں گے۔

ہزار فیمنسٹوں میں کوئی ایک اگر بہت ٹھنڈے دماغ سے بات کرنے پر راضی ہو جائے تو وہ فیمنزم کے پاکستانی معاشرے میں بنیادی مقاصد یہی بیان کرتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، انہیں کوئی کمتر مخلوق نہ سمجھا جائے بلکہ ایک برابر کا انسان سمجھتے ہوئے معاشرے میں برابری دی جائے۔ سسرال میں اسے نوکر نہ سمجھا جائے، مار پیٹ اور بد سلوکی کی بالکل اجازت نہ ہو۔ تعلیم، نوکری اور آگے بڑھنے کے تمام مواقع میں اسے برابر کا حصہ ملنا چاہیے اور کسی بھی طرح کی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ یہ وہ چند خوبصورت باتیں ہیں جو اس میدان میں قدم رکھنے والے مرد و زن کے سامنے سب سے پہلے بیان کی جاتی ہیں بالکل جیسے کسی جعلی ٹیکنیکل ادارہ چلانے والوں کا اشتہار ہوتا ہے کہ آج کی دنیا کو بس اسی ایک شعبہ میں ماہر افراد کی کمی کا سامنا ہے اور اگر آپ یہ کورس کر لیں تو ماہانہ اتنے لاکھ کمانے لگ جائیں گے جو کہ سالانہ اتنے لاکھ بنتے ہیں، کورس ختم ہونے سے پہلے ہی آمدنی شروع، اس کے ساتھ ساتھ امریکی صد اور برطانوی وزیر اعظم خود آپ کی خدمات لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ فیس جمع ہو جانے کے بعد کورس ورک اس قدر ناقص ہوتا ہے کہ آپ کو کورس مکمل کر لینے کے بعد بھی اکثر بنیادی چیزوں کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح جب کوئی فیمنزم کی خوش کن دنیا میں داخل ہوتا ہے تو اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد سے ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے کے لیے کوشش کر رہا ہے لیکن کسی بھی عورت مارچ یا جلسے جلوس میں کی جانے والی تقاریر اور اٹھائے جانے والے بینر ایک سمجھدار شخص کو ضرور سوچنے پر مجبور کر دیں گے کہ ان تقاریر اور بینرز کے ساتھ کیسے اور کیونکر مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ فیمنزم کے تمام طے کردہ مقاصد کے حصول کی راہ میں جو شخص کھڑا ہے وہ اسی معاشرے کا مرد ہے جس کو ساتھ لے کر اور اس کے کچھ لو کچھ دو کر کے معاملات کو طے کرنا ہی اصل حقیقت ہے لیکن عورت مارچ کی تقاریر میں یہ تاثر دیا جا رہا ہوتا ہے کہ اگر تقریر ختم ہونے تک اس معاشرے سے مرد نامی مخلوق کو ختم کر دینے پر اتفاق نہ کیا گیا تو ہمیں ہمارے مقاصد کبھی حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ کوئی پوچھے کہ تقاریر میں جو کہا جاتا ہے کہ اب ہم اپنے حقوق چھین لیں گے، تو اگر چھین لینے پر اتنی ہی قدرت ہوتی تو تقریر کرنے میں وقت اور قوت لگانے کی کیا وجہ، جائیں اور جا کر چھین لیں یہاں اسٹیج سجاکر کیا کر رہے ہو۔ دوسرا فرد جو کہ مرد ہے اور اسی معاشرے میں برابر کی حیثیت رکھتا ہے کیا آپ کے حقوق چھین لینے کے وقت وہ منہ میں دہی جمائے اور ہاتھوں پر مہندی لگائے بیٹھا رہے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کے بعد فیمنزم کا لبادہ اتر جاتا ہے اور معاشرے میں ایک طبقے کو ددوسرے سے لڑوانے کی سوچ کا اصل رنگ سامنے آ جاتا ہے۔

عقل سے پیدل فیمنسٹوں سے کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ سرکار عورت کے تمام مسائل اور حقوق کے حصول کی راہ میں جو شخص کھڑا ہے اس سے آپ نے کب اور کہاں سیدھے منہ بات کی تھی؟ کیا کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں کو عورتوں کے حقوق، بیویوں سے حسن سلوک اور گھر کے معاملات بہتر طریقے سے چلانے پر کوئی لیکچر دیا اور انہیں عورتوں کو اپنے برابر کا فرد سمجھنے میں جو تحفظات ہیں ان پر کوئی بات کی؟ کیا کاروباری اداروں میں آپ نے کوئی خصوصی ورکشاپ کی جس میں مردوں کو اپنے ساتھ کام کرنے والی عورتوں کی عزت کرنے اور انہیں برابر کا انسان سمجھنے پر زور دیا گیا ہو؟ خواتین کو ہراسمنٹ سے بچانے اور ایک محفوظ دفتری ماحول دینے کے حوالے سے مردوں کو ان کی ذمہ داریاں ادا کرنے پر کچھ بتایا؟ عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی این جی اوز بنانے کے بجائے عورتوں کے عدالتی کیس لڑنے کے لیے کوئی پینل ترتیب دیا؟ جیلوں میں قید عورتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے جیل حکام سے بات چیت کی گئی ؟ کیا قوانین میں موجود سقم کو دور کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ارکان اسمبلی سے پورے ورک آوٹ کے ساتھ کوئی بات کی گئی؟ یاں پھر صرف عورت مارچ اور میڈیا پر ٹاک شوز میں ہی سارے ڈرامے کئے گئے؟

ہمارے معاشرے میں غریب عورتوں سے پہلے امیر اور پڑھی لکھی عورتوں کے مسائل حل کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان کی ایک بڑی تعداد شادیوں کے بعد گھروں میں صرف شو پیس بن کر رہ جاتی ہے۔ مرد کاروبار کر رہے ہیں اور عورتوں کے پاس کرنے کو ئی کام نہیں جس کے بعد پارٹیاں اور سوشل گیدرنگ کے نام پر کچھ نہ کچھ کرتے ہوئے وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ صرف بڑے خاندان کی عزت بچانے کے نام پر ایک قانونی بیوی کے ہوتے، ایک غیر قانونی بیوی، دو سیکرٹریوں اور چار گرل فرینڈوں سے معاشقے کرتے اپنے مردوں کی گواہ ان عورتوں کو بھی آزاد کروانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی نام نہاد عزت اور گلے سڑے رشتے کو ساری عمر کے لیے نہ اٹھائے پھرتی رہیں بلکہ دولت اور بہت سا ویلہ وقت ہونے کی وجہ سے یہ خواتین معاشرے کے لیے کچھ تعمیری کام کر سکیں۔ کاروباری معاہدات کو تحفظ دینے کے نام پر کئے جانے والے رشتوں میں قربان ہونے والی خواتین کو بھی بچانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی حقیقی زندگی جی سکیں اور ساری عمر وہ کاروباری گارنٹی بن کر نہ رہیں۔

بصد معذرت کہ ہمارے پاکستان میں عقل سے پیدل فیمنسٹوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ ہماری عورتوں کے مسائل کیا ہیں اور ان کے حل کے لیے انہیں کیسے اور کس طرح کے اقدامات کرنے ہیں۔ مغرب کی نقل میں مارچ کر لیا، واک کا اہتمام کر لیا، مذاکرے کر لیے، ڈسکشن کر لی اور سمجھنے لگے کہ اس طرح سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہاں ہر کوئی غریب عورت کے مسائل کے لیے مرا جارہا ہوتا ہے لیکن امیر عورتوں کے مسائل کیا کبھی مسائل نہیں ہوتے یا وہ فیمنزم کے کھاتے میں نہیں آتے، اور غریب عورتوں کے مسائل کے لیے کب، کہاں اور کیسے ان عورتوں کے خاندانوں سے بات چیت کا اہتمام کیا گیا ہے یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی؟ یہاں عقل سے پیدل فیمنسٹوں کو صرف اتنا پتہ ہے کہ عورت گھر بار کو لات مار دے تو بس یہی فیمنزم کی معراج ہے۔ کوئی انہیں بتائے کہ فیمنزم کے لیے کہاں کہاں اور کیسے کوششیں کرنی ہیں ورنہ یہ عقل سے پیدل فیمنسٹ صحرا و دریا فتح کرتے رہیں گے اور میدانوں میں خواتین اپنے مسائل کے ہاتھوں مرتی چلی جائیں گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20