محمد اسد، پہلا پاکستانی (قسط دوم) — فلک شیر

0

ارضِ ہند (1932ء 1933ء)

یہ نیند اور جاگنے کے درمیان کی کوئی حالت تھی، جس سے میں دوچار تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ پانی بہتا تھااور کانوں میں اس کی آواز سرسراتی تھی، دفعتاً پھر غنودگی طاری ہو جاتی۔ کسی بحری جہاز پہ ہونے کا شک گزرتا اور اس کی ڈولتی تیرتی خمار آمیز آوازوں میں کہیں دھوپ سی چمکتی اور میرا خوابیدہ وجود اس میں نہا جاتا۔ آنکھ اچھے سے کھلی، تو پتہ چلا کہ ریگستان سے پانی کے جہاز پہ منتقل ہو چکا ہوں، حجاز اور ملک ابنِ سعود کہیں پیچھے رہ گئے ہیں، سمندر کا سفر ہے اور ہندوستان منزل۔ جہاز ہر لمحے مجھے اونٹنیوں، خیموں، قہوے اور مہمان نواز بدویوں کے دیس سے ہند کے ساحل کی طرف لے جا رہا تھا۔ وہاں میں نے چھ برس گزارے تھے اور وہ بالکل میرے اپنے گھر جیسا میرا وطن تھا۔ ابنِ سعود، جو کہ فیاض، کشادہ ظرف اور وسیع القلب تھے، روانہ ہوتے وقت، انہوں نے میرے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا تھا:
“میرے فرزند! تمہیں ہمارے پاس جلد واپس آنا چاہیے۔ مت بھولو کہ یہ تمہارا اپنا ملک ہے”

ایک لمحے کے لیے تو میں کٹ کر رہ گیا، پھر مجھے اس کُرد بوڑھے کی بات یاد آئی، جس نے رکے ہوئےپانی کو جوہڑ کہا تھا۔ اس وقت غیر منقسم ہندوستان کا یہ سفر میری دانست میں تو مہینوں کا تھا، مگر اسے محیط کئی سالوں پر ہونا تھا۔

ہندوستان جانے کا خیال اچانک ہی مجھ پہ طاری نہیں ہوا تھا، پچھلے سال حج (غالباً ہندی حجاج سے ملاقاتوں اور یہاں کے سیاسی حالات کے تجزیہ) کے بعد یہ خیال پختہ ہوا تھا۔ اتفاق سے دوران حج ڈاکٹر عبدالغنی سے میری ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر موصوف ہندوستانی الاصل تھے اور برطانیہ سے طب کی تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ افغانستان کے بادشاہ حبیب اللہ خان نے انکی لیاقت اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے انہیں ابتداً اپنا شاہی طبیب بنانا چاہا، مگر بعد ازاں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں افغانستان کے محکمہ تعلیم کا اولین ذمہ دار مقرر کر دیا۔ ڈاکٹر موصوف نے اپنے بھائی نجف علی خان کے ساتھ مل کر افغانستان، جو ابھی ایک نیم قبائلی معاشرہ تھا، میں تعلیم کا ایک منظم سلسلہ جاری کیا، جس سے ایک باشعور نسل سامنے آنے لگی، جو نظام حکومت کو بھی بہتر چلا سکتی تھی۔ ولی عہد امان اللہ خان بھی ڈاکٹر صاحب کی سرگرمیوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ لیکن ہو ا یوں کہ تعلیم کے ساتھ نوجوانوں کی پختگی میں اضافہ اس رفتار سے نہ ہوا، نتیجتاً ان کے نیم پختہ افکار، جنہیں ابھی غوروفکر اور تقابل و تطبیق کی بھٹی سے گزرنا تھا، وہ معاشرے کے دوسرے اہم طبقہ، یعنی علماء کو بدظن کرنے کا باعث بن گئے، جس کا لازمی اور آخری نشانہ ڈاکٹر عبدالغنی ہی بنے۔ آخر ایک روز ان دونوں بھائیوں کو قید کر دیا گیا اور دس برس تک وہ اس مشقت اور آزمائش سے گزرے۔ جب ڈاکٹر عبدالغنی عمر کے پینتالیسویں برس میں پہنچے تو امیر حبیب اللہ خان کو کسی نے قتل کر دیا، ولی عہد امان اللہ خان، جو پہلے کئی دفعہ ان کی رہائی کی درخواست بادشاہ سے کر چکے تھے، انہوں نے تخت پہ آتے ہی ان دونوں بھائیوں کو رہا کر دیا۔

جب انیس سو ستائیس میں میری ملاقات ڈاکٹر عبدالغنی سے ہوئی، تو سفید بالوں کے ساتھ ان کے ہاتھ بھی رعشہ زدہ تھے، لیکن ان کا دماغ بہت صاف سوچتا اور زبان سے لطیف مزاح سننے کو ملتا تھا۔ قید نے ان کا جسم تو کمزور کیا تھا، لیکن ذہانت سلامت تھی اور اللہ پہ ایمان پہلے سے بڑھ گیا تھا۔ انہی کے توسط سے میری ملاقات ہندوستان کے بہت سے حجاج سے ہوئی۔ انہی حجاج میں سے دو بھائیوں سے میری ذہنی قربت بڑحتی گئی، جن کے ناموں کے ساتھ ‘قصوری’ بولا جاتا تھا۔ بڑے بھائی کا نام عبدالقادر قصوری تھا، جو ہندوستان کے مشہور قوم پرست سیاستدان اور عالم دین تھے۔ قصوری برادران اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے، جب کہ میں خود بھی سمجھتا تھا، کہ کسی ایک فقہی مسلک کی تقلید کے بجائے براہ راست کتاب و سنت کے مطالعہ اور ان میں تفکر و تدبر سے اسلام کی درست تفہیم ممکن ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کا شاہی خاندان اور علماء بھی شیخ محمد بن عبدالوہابؒ کے کتاب و سنت کی طرف رجوع کے انہی سے ملتے جلتے خیالات کے پیروکار تھے۔ ان سب موافقات کی وجہ سے میں قصوری برادران کے قریب ہوتا چلا گیا اور ان کی انگیخت پہ ہندوستان کے مسلمانوں اور ان کے احوال سے واقفیت کے لیے ہندوستان کے سفر کا ارادہ پختہ کر لیا۔

ہندوستا ن کے لیے رختِ سفر باندھتے ہوئے میرے قلب و ذہن میں باہم متعارض خیالات آ رہے تھے، ایک طرف مسلمانانِ عالم کے ایک مؤثر اور نمایاں گروہ کے قرب اور واقفیت کی خواہش اور خوشی، جب کہ دوسری جانب انگریزی حکومت کی ناراضی کا خدشہ، جن کی مختلف پالیسیوں پہ میں اخبارات میں اپنے مضامین اور رپورٹوں میں ناپسندیدگی ظاہر کیا کرتا تھا۔ بہرحال مجموعی طور پہ اول الذکر تاثر نے دوسرے تمام خدشات کو کاہ برآب کی طرح بہا کر کہیں دور پہنچا دیا تھا۔

جب ہم کراچی کے ساحل پہ پہنچے، تو حجاج اپنے وطن کو دیکھ دیکھ کر بے حال ہوئے جاتے تھے، جہاز سے اترنے والوں کی لمبی قطاریں تھیں، لیکن میرے خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے ، مجھے “وصول کرنے” برطانوی ہند کی خفیہ پولیس کے دو لوگ پہلے سے موجود تھے، جنہوں نے میری کراچی اور لاہور کی رہائش گاہوں کے پتے لکھوائے اور ہمیں جانے دیا۔ کراچی کے ابتدائی چند روزہ قیام کے دوران اس شہر نے مجھے بہت متاثر نہیں کیا، اپنی الگ سی چھاپ لیے بغیر اور بے رنگ سا! کراچی کے قیام کے دوران خفیہ پولیس کے ارکان قصوری برادران کے ساتھ مشترک میری رہائش گاہ کے دائیں بائیں منڈلاتے رہے، اس بلا سے میرا ٹکراؤ آگے بھی ہوتا رہا، جس کا حال آگے بیان کروں گا۔

ایک صبح ہم، اپنے سفر کی اگلی منزل، یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر میں قدیم دریا سندھ کے سبز پانیوں سے کیچڑ بھرے میدانوں اور دیہاتی سٹیشنوں پہ گاہے بھیک کے لیے یلغار کرتے بچ دیکھنے کو ملے۔ ۔ ۔ خیر، ریل گاڑی نے جھٹپٹے میں لاہور پہنچا دیا، جہاں ہمیں اگلے کئی ہفتے قیام کرنا تھا۔ لاہور میں ہر سو چہل پہل تھی اور صحت مند خوبصورت خواتین بازاروں میں گھومتی نظر آتیں، جو کہ غیر مسلم تھیں۔ مسلم خواتین مکمل پردہ میں رہتیں اور یہ بدقسمتی ہی تھی (محمد اسد کا حجاب سے متعلق یہ رویہ ان کے یورپی نژاد ہونے کی وجہ سے تو سمجھ آتا ہے، لیکن حجاز کے سعودی علماء اور عوام کے قریب کئی برس گزارنے کے بعد بھی ان کا یہ بیان ناقابلِ فہم ہے، بالخصوص اس وجہ سے کہ اپنے “قلبی وطن” یعنی حجاز کے ذکر کے دوران ایسی کسی بات کا تذکرہ نہیں کرتے)۔ مجھے بلند و بالا چٹے گورے پٹھان اور سکھ مرد عورتیں بھی نظر آتیں۔ سب سے بڑھ کر لاہور کے چائے خانوں میں مجھےاپنی پسند کی دودھ والی لذیذ چائے میسر آتی۔ میں مشرق وسطی میں کچھ عرصہ گزار چکا تھا اور اب اردو سنتے سنتے، اسے بولنے بھی لگا تھا۔ یہاں لاہور کے بازاروں میں گھومتے پھرتے، برصغیر کے مزاج اور طرز زندگی کی کلید میرے ہاتھ آئی اور وہ تھی “ایک دلکش بے ہنگم پن”، جیسے ایک مصور کی رواروی میں شوخ رنگوں سے بنائی گئی کوئی تصویر۔

لاہور میں گھومتے پھرتے مسجد وزیر خان جیسا شاندار تاریخی ورثہ بھی دیکھنے کو ملا۔ شاندار پچی کاری کایہ عظیم نمونہ میرے سامنے تھا، لیکن وہاں سے باہر نکلتے ہی تختوں پہ مٹھائی اور دودھ دہی کی کچی پکی دکانوں نے مسجد کے تاثر کو عجیب سا کر دیا۔ دراصل اس زمانے کا ہندوستان تھا ہی ایسا، منقسم سا، منتشر سا، اندرونی تضادات کا شکار اور متنوع روایات کا حامل۔

لاہور کی چہل پہل اور میل ملاقات سے میں جلد ہی تنگ آ گیا اور کسی گوشہ عافیت کی تلاش میں سیالکوٹ سے ہوتا ہوا وادی کشمیر کی ترائیوں میں ایک دوست کے انتظام شدہ ڈاک بنگلہ میں پہنچ گیا، تاکہ اپنے کچھ مؤخر شدہ مضامین کو مکمل کروں اور یورپ بھیج کر اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکوں۔ یہاں ایک گونہ سکون تھا اور سرکاری ڈاک بنگلے کے ملازمین ہر وقت حاضر باش۔ میں لمبی سیر کرنے نکل جاتا اور اکثر صبحیں شامیں ایسے ہی بتاتا۔ ایک شام ایسی ہی ایک سیر کے دوران مجھے خوب بھوک محسوس ہوئی اور میں نے بنگلے واپسی کا ارادہ کیا۔ اسی اثنا میں مجھے گوشت کے جلنے کی بو آئی، میں سمجھا شاید یہاں قریب ہی کوئی کباب کی دکان وغیرہ ہے۔ لیکن وہاں پہنچنے پہ پتا چلا، کہ ہندو اپنے ایک مردے کی چتا جلا رہے ہیں اور ماتمی منتر پڑھے جا رہے تھے۔ یہ ہندومت سے میرا پہلا واسطہ اور تاثر تھا۔ اس شام میں نے اللہ تعالیٰ کا اسلام کی نعمت پہ بے شمار شکر ادا کیا۔

ہندوستان میں ہندوؤں سے متعلق اگلا تاثر مجھے یہاں کے بازاروں اور مجالس سے یہ ملا، کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان بنیادی فرق عقائد، زبان اور کلچر کی ہر سطح پہ پایا جاتا ہے، جسے پاٹنا نا ممکن ہے، یہ فرق شرک اور توحید، تناسخ ارواح اور جزائے اعمال کے مابعد الطبیعاتی مسلم اعتقاد سے ہوتا ہوا تمام تہذیبی باریکیوں اور طرز فکر پہ محیط تھا۔ ان دونوں گروہوں کا اکٹھے بسنا اس وقت تک ممکن نہ تھا، جب تک کوئی ایک اپنے عقائد و روایات کو ترک کر کے دوسرے میں مدغم نہ ہو جاتا۔ مسلمان تعداد میں تھوڑے ہونے کے باوجود ہندو اکثریت پہ ہزار سال سے حاکم رہے تھے اور ہندو اسے بھولے نہیں تھے۔ لیکن صدیوں کے سفر میں، مسلمان بس اپنے شاندار ماضی کے اسیر رہے اور ہندوؤں نے علم و فن اور تجارت میں آگے بڑھ کر اپنا حصہ بنایا، انگریزوں کے آنے کے بعد ہندو ان کے قریب ہو گئے اور اقتدار میں حصہ دار بھی بن گئے، لیکن ان کے اجتماعی شعور میں کہیں نہ کہیں یہ بات موجود رہی، کہ مسلمان کہیں پھر سے حکومت میں نہ لوٹ آئیں۔ ہندو مسلمانوں کو غیر ملکی اور گھس بیٹھیے بھی کہتے۔ مغلیہ سلطنت تک تو کام کسی نہ کسی طرح چلتا رہا، لیکن ان کے بعد یہ سب کھل کر سامنے آ گیا اور اکثریت کے ہاتھوں، خونی فسادات میں مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا۔ ایسے مواقع بھی آئے کہ انگریزوں کے خلاف دونوں اقوام اکٹھی ہوئیں، لیکن جلد ہی مسلمانوں کو احساس ہو گیا، کہ ایسی کسی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ایک ‘رام راج’ کے سوا کچھ بھی نہیں، اور انگریزوں کے نوآبادیاتی اقتدار سے نجات حاصل کرنے کے لیے کسی ایسی “مشترکہ جدودجہد” سے قبل انہیں اپنے ثقافتی وجود کو منوانے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

ہندو قیادت اپنی بچھائی ہوئی بساط، یعنی ایک “مشترکہ جدوجہد” کے بیچوں بیچ سے ایک ایسی اقلیت کو نکل بھاگنے اور اپنی ثقافتی اور بالآخر سیاسی آزادی پا لینے کی اجازت دینے کے قطعی روادار نہ تھی۔ وہ، ہزار سال سے حاکم ایک گروہ، کو اپنا محکوم ہوتا دیکھ رہے تھے اور اس موقع کو جانے دینا نری حماقت سمجھتے تھے۔ دوسری طرف مسلمان اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے، کہ انگریزوں کی ماتحتی یا ہندوؤں کے زیر انتظام رہ جانا ایک ہی بات تھی اور دونوں صورتوں میں ان کا تہذیبی اور اقتصادی وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ میری نظر میں مسلمانوں کی یہ سوچ بالکل درست تھی، کیونکہ ہزار سال میں وہ اکثریت پہ حاکم رہے اور اس میں مدغم نہ ہوئے تھے، اب فریق مخالف تازہ موقع سے فائدہ اٹھا کر ان کے لیے جوہی نوعیت کی بہت سی مشکلات پیدا کرنا چاہتا تھا (جس کی تازہ مثالیں ہم آج کے ہندوستان کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں )۔ یہ بات بھی قابل غور ہے، کہ مسلمانوں کے تحریک آزاد ی میں شامل نہ ہونے سے اس کی طاقت کس قدر کم ہو سکتی تھی، اس کا اندازہ 1932ء کی کانگریس کی مجوزہ “تحریک نافرمانی” کی ناکامی سے لگایا جا سکتاہے، کیوں کہ مسلمانوں نے اس میں حصہ نہیں لیا تھا۔

جہاں تک میرا تعلق تھا، تو میں ان دو مختلف نسلی اور تہذیبی گروہوں کے لیے یہی سمجھتا تھا، کہ ممکن ہے وہ اپنے الگ تشخص کی حقیقت کو آنکھیں کھول کر دیکھیں اور اس کی بنیاد پہ مستقبل گری کریں، یہی ان دونوں کے مفاد میں تھا۔ آنے والے سالوں نے میری اس مبہم سوچ کو ہندوستان کے گلی کوچوں میں ایک صاف نقش کی طرح ابھرتے ہوتے دیکھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے:
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20