یوم پاکستان اور ہمارے کرنے کے کام: لالہ صحرائی

0

23 مارچ 1940 کے دن حصول وطن کیلئے صرف ایک قرارداد منظور کی گئی تھی، اس کے بعد جدوجہد شروع ہوئی جس کی بدولت محض سات ہی سال میں یہ خواب شرمندہء تعبیر ہو گیا، ملک بن چکا ہے اب اس دن کی یاد کو محض سالگرہ کے ایک روایتی دن کی بجائے ایک عہد نامے کے طور پر منانا چاہیئے جس میں واضع طور پر عوامی اور قومی مفادات کیلئے ایک ایجنڈا دیا جائے، کوئی حکومت یہ کام شائد نہ کر سکے کیونکہ ہمارا اصل مسئلہ ہی یہ نااہل حکومتیں، بددیانت قیادتیں اور کرپشن زدہ محکمے ہیں۔

اس کام کیلئے سول سوسائیٹی یا کسی وطن دوست این جی او کو آگے بڑھنا چاہئے اور 23 مارچ کے دن مینار پاکستان کے سائے تلے اکٹھے ہو کر کسی ایک مسئلے کو ایک سال کا ہدف بنانا چاہئے۔

کبھی یہ حالت تھی کہ ریلوے کا ٹکٹ قُلی کے علاوہ کہیں سے ملتا نہیں تھا اب وہی ٹکٹ آپ اپنے موبائل فون سے بک کراسکتے ہیں، کسٹمز کا محکمہ سونے کی کان سمجھا جاتا تھا اب اس میں بھی کرپشن کو بہت حد تک منیمائز کر دیا گیا ہے، موٹروے پولیس کا محکمہ اس کی ایک اچھی مثال ہے، تبدیلی تو آرہی ہے لیکن سست رو ہے، اسے مہمیز کرنے کیلئے سول سوسائیٹی کا دباؤ ہی کارگر ہو سکتا ہے۔

23 مارچ کے دن عوام اپنے دباؤ سے ہر سال کسی ایک محکمے کی تطہیر کرانے کا ذمہ اٹھا لے تو دن بدن باقی محکموں میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے، اور حکومتوں کو بھی کرپشن چھوڑنے اور گوورنینس کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، قوموں کی زندگی میں پانچ دس سالہ جدوجہد کوئی بڑا عرصہ نہیں ہوتی، وسائل نہ رکھنے والے چند کروڑ لوگ سات سال میں ایک آزاد وطن حاصل کرسکتے ہیں تو بانیانِ پاکستان کے بیس کروڑ وارث جو جدید دنیا میں جی رہی ہے وہ اپنے لیڈروں سے اپنے مسائل بھی حل کروا سکتے ہیں۔

اپنے مسائل حل کرانے اور حقوق حاصل کرنے کیلئے گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر بندوق اٹھانا، اسٹیٹ سے لڑنا اور عوام پر قہر ڈھانا بیمار ذہنیت کا عکاس ایک مجرمانہ فعل ہے اس کی بجائے سیاسی، جمہوری، علمی و ادبی رائے اور عوامی دباؤ ہی قانونی راستہ ہے جو قومی اتفاق کے ساتھ اختیار کیا جائے تو ہر کامیابی ممکن ہے ورنہ ظن و تخمین کے سوا کچھ نہیں۔

میری ایک بات کے جواب میں کل کسی پوسٹ پر قوم پرست ٹائپ کے دولوگوں نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ بنگالی عقلمند تھے جنہوں نے بروقت علیحدگی اختیار کرلی اور خوشحال ہو گئے، اب ہمیں بھی یہی سوچنا چاہئے، یہ سوچ آجکل عام ہوتی جا رہی ہے، کسی بھی سانحے کو علاقائی اور طبقاتی رنگ دے کر بعض جری اور شہسوار قسم کے دانشور دبے الفاظ میں ایسی باتیں آجکل تواتر کیساتھ کہہ جاتے ہیں جنہیں جذباتی قسم کے نوجوان واشگاف الفاظ میں دہرانے لگے ہیں۔

ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ کسی ناخوشگوار صورتحال کی وجہ سے ملک سے نفرت اور تقسیم کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا ایک بدترین سوچ ہے جس کا فائدہ دشمنان پاکستان کے سوا کسی کو نہیں ہوگا، ناخوشگوار چیزوں کی حوصلی شکنی ضرور کرنی چاہئے، اصلاح احوال کیلئے تجاویز بھی دی جائیں اور مثبت تجاویز کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہئے لیکن قوم پرستی میں بنگلہ دیش کے حوالے دے کر ساتھ میں اپنا لُچ تلنا سوائے نا عاقبت اندیشی کے کچھ نہیں۔

بنگلہ دیش نے ہم سے علیحدہ ہو کر ایسی کوئی قابل ذکر ترقی نہیں کی جو ہم نے نہ کی ہو، بنگلہ دیش سوائے امن کے ہم سے کسی چیز میں آگے نہیں، ہم بدامنی کے باوجود ان سے کہیں آگے ہیں، اگر یہ بدامنی ختم ہو جائے تو بنگلہ دیش ہماری دھول کو بھی نہیں چھو سکتا۔

معیشت کے کل بیس کے قریب انڈیکیٹرز ہوتے ہیں جن سے معیشت کا طول عرض، گہرائی اور استحکام ناپا جاتا ہے، ان بیس میں سے پندرہ انڈیکیٹرز میں بنگلہ دیش ہم سے پیچھے ہے اور پانچ انڈیکٹرز میں تھوڑی تھوڑی سی لیڈ رکھتا ہے، ایکسپورٹ سمیت ان پانچ چھ فیکڑرز میں ہمارا پیچھے رہ جانا فقط بجلی کی قلت اور امن کے فقدان کی وجہ سے ہے، مجموعی طور پر ہماری معیشت ان سے بہتر ہے لیکن قرضوں کی وجہ سے ہماری ریٹنگ کمزور ہے جس کی ذمے دار بددیانت قیادتیں ہیں۔

اسی طرح معاشرے کی گہرائی و گیرائی ناپنے کیلئے ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس ہوتا ہے جسے ایم-پی-آئی بھی کہتے ہیں، انفرادی طور پر ہمارے ذہن میں غربت کا تصور صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ کسی کے پاس ضروریات زندگی حاصل کرنے کیلئے مناسب حد تک رقم موجود نہ ہو لیکن قومی سطح کی غربت نکالنے کیلئے ایم-پی-آئی کو بنیاد بنایا جاتا ہے جس کے کئی انڈیکیٹرز ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر غربت کی شرح نکالی جاتی ہے، اس تجزیئے میں بعض غیرمتعلق چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر 50 فیصد غریب قرار دئےی گئے ملک میں ضروری نہیں کہ اس کی آدھی عوام پیسے کے معاملے میں بھی غریب ہو۔

اس حساب سے اوورآل غربت کی شرح پاکستان میں 52٪ ، بنگلہ دیش میں 46.2٪ اور انڈیا میں 51.1٪ ہے لیکن عوام سے متعلق ڈائریکٹ ایم پی آئی انڈیکیٹرز میں بنگلہ دیش ہم سے پیچھے ہے بلکہ بعض انڈیکیٹرز میں انڈیا بھی پیچھے ہے۔

مثال کے طور پر پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے کی آبادی 12.4٪ ہے بنگلہ دیش کی 31.5٪ اور انڈیا کی 21.9٪ ہے۔
معاشی اور سماجی حیثیت سے غربت کی لکیر کے آس پاس پاکستان کی آبادی 14.9٪ ہے ، بنگلہ دیش 19.6٪ اور انڈیا کی 18.2٪ ہے۔
آمدنی کے اعتبار سے غربت کی لکیر کے نیچے پاکستان کی آبادی 29.5٪، بنگلہ دیش کی 31.5٪ اور انڈیا کی 21.9٪ ہے۔
کم ترین آمدنی دو ڈالر یومیہ یا دو سو روپیہ دہاڑی کمانے والی آبادی پاکستان میں 6.1٪، بنگلہ دیش میں 18.5٪ اور انڈیا میں 21.2٪ ہے۔
انکم ان-ایکویلٹی یا معاشی عدم توازن کی شرح پاکستان میں 11.6 ٪ ہے ، بنگلہ دیش میں 28.3 ٪ اور انڈیا میں 16.1 ٪ ہے، اس عدم توازن کو ایڈجسٹ کرنے کی شرح پاکستان میں 0.523 فیصد، بنگلہ دیش میں 0.380 فیصد اور انڈیا میں 0.512 فیصد ہے۔

یونائیٹڈ نیشنز کے جاری کردہ ہیومین ڈیولپمنٹ انڈیکس ایچ-ڈی-آئی میں 2015 کی گراس نیشنل انکم ، جی-این-آئی پاکستان میں فی کس 5031 ڈالر سالانہ ، بنگلہ دیش 3341 ڈالر اور انڈیا میں 5663 ڈالر ہے۔

ہماری روزانہ کی پبلک موبیلیٹی/پبلک ٹرانسپورٹ/پرائیویٹ گاڑیوں کی مائیلیج پاکستان میں 61 لاکھ کلومیٹر روزانہ ہے اور بنگلہ دیش میں 31 لاکھ کلومیٹر روزانہ ہے، ماحولیات میں کاربن ریڈکش پاکستان 7 لاکھ ٹی-سی-او ز ہے، بنگلہ دیش میں 91 ہزار ہے۔

لیکن بعض سہولتوں کے اعتبار سے غربت میں رہنے والی آبادی پاکستان میں 26.5٪ ، بنگلہ دیش میں 16٪ اور انڈیا میں 27.8٪ ہے، ان میں پانی ،بجلی، گیس، صفائی، صحت، تعلیم اور مکانات وغیرہ سب شامل ہیں، مثال کے طور پر تعلیمی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں سیکنڈری فیمیل ایجوکیشن 37 فیصد، بنگلہ دیش میں 61 فیصد اور انڈیا میں 69 فیصد ہے۔
اس انڈیکس میں چونکہ تمام بنیادی سہولتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جس میں تعلیم، صحت، سڑکیں، آبادی، ماحولیات، بجلی، گیس اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کا جائزہ بھی شامل ہوتا ہے لہذا کچھ فیکٹرز مجموعی شرح کو متاثر کرتے ہیں لیکن انفرادی طور پر ان کا عام آدمی پر کم ہی اثر ہوتا ہے، مثال کے طور پر تعلیم، صحت اور بجلی کا نظام کمزور ہے لیکن عوام کو روزگار کم از کم ایسا میسر ہے جس سے وہ یہ سہولتیں اپنے طور پر ارینج کر لیتے ہیں۔

پھر بھی 1990 سے لیکر 2015 تک پاکستان نے اپنی رینکنگ بڑھانے میں 02 پوائینٹ، بنگلہ دیش نے 02 پوائینٹ اور انڈیا نے 04 پوائینٹس کا اضافہ لیا ہے، 2010 میں ہمارا مجموعی ایوریج گروتھ ریٹ 1.55 فیصد ، بنگلہ دیش 1.59 اور انڈیا کا 1.62 فیصد تھا۔

موجودہ دنیا میں مضبوط معاشی اور فوجی قوت کے بغیر کوئی ملک بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا، بعض طاقتیں ریسورسز کے اعتبار سے مالا مال ملکوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں تاکہ ان کے ریسورسز کو باآسانی ہتھیایا جا سکے، اس لئے ساری دنیا ایک ہیجان اور خلفشار کا شکار ہے اور اسی لئے ساری بدامنی ہے ۔
جو ناعاقبت اندیش یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان سے علیحدہ ہو کر کوئی خوشحالی حاصل کرلیں گے یہ ان کا خواب تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت سے اس کا دور پرے کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

پاکستان سے محبت کیجئے، مسائل کو حل کیجئے اور پاکستان کی تعمیر کیجئے، ہر 23 مارچ کو ایک عہد کرنے کا کوئی بندوبست کیجئے کہ ہم ناہمواریوں کو ختم کریں گے اور اس ملک کو بہتر سے بہترین بنائیں گے۔

حوالہ جات:
Human Development Reports of UNO
Human Development Index of UNO
Asian Development Bank’s Reports

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: