اِس دشت میں اِک شہر تھا، کراچی کا انسائیکلو پیڈیا —– نعیم الرحمٰن

0

’’اِ س دشت میں اِک شہرتھا‘‘ عروس البلاد کراچی کے سنہری دنوں کی یادگار ہے۔ کتاب شہر کے سنہری دنوں کی یادگار اور اس کے ایک ایک محلے اور گلی، یہاں آباد ہر ذات، نسل، زبان اور برادری سے تعلق رکھنے والوں کے بارے میں جامع معلومات سے مزین ہے۔ ’’اِس دشت میں اِک شہر تھا‘‘ کو بجا طور پر کراچی کا انسائیکلو پیڈیا کہا جاسکتا ہے۔ کتاب کے مصنف اقبال اے رحمٰن مانڈویا کا اسلوب بیان سادہ، دلنشین اور پراثرہے۔ اور ایسا نہیں لگتا کہ یہ مصنف کی دوسری کتاب ہے۔ وہ اندازِ تحریر سے منجھے ہوئے قلم کار معلوم ہوتے ہیں۔ اقبال مانڈویا نے ابتدا میں ’’عروس البلاد کراچی‘‘ کے عنوان سے فیس بک پیچ کی داغ بیل ڈالی، اور اس میں کراچی کے حوالے سے طویل اور انتہائی دلچسپ تحریریں لکھنا شروع کیں۔ جنہوں نے فینزکا ایک وسیع حلقہ تشکیل دیا۔ ہر اتوار کو وہ کراچی کے مختلف علاقوں کے بارے میں تفصیلی مضمون پیش کرتے۔ لوگ نہ صرف یہ مضامین پڑھتے بلکہ ان پر سیر حاصل گفتگو بھی کی جاتی۔ آج ان کے فیس بک کاروان پر ہزاروں باذوق قارئین موجود ہیں اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اقبال اے رحمٰن کامرس گریجویٹ ہیں ان کا تعلق ایک علمی اور کاروباری خانوادے سے ہے۔ ان کے والد عبدالرحمٰن اسیر علمی و ادبی ذوق کے حامل صاحبِ کتاب ادیب تھے جبکہ چچا یوسف مانڈویا نامور ادیب و بے باک صحافی تھے، اور جونا گڑھ سے گجراتی اخبار ’’مجاہد‘‘ نکالا کرتے تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ جن میں سیرت النبیﷺ پر صدارتی ایوار ڈ یافتہ کتاب شامل ہے۔

کراچی کی تاریخ کا مطالعہ اہلِ کراچی کے لیے ہمیشہ دلچسپ رہاہے۔ اس پراولین کتاب 1890ء میں شائع ہونے والی الیکژنڈر ایف بیلی کی ’’کراچی پاسٹ، پریزنٹ اینڈ فیوچر‘‘ سمجھی جاتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی پر چند اور کتابیں منظرِ عام پرآئیں۔ جن میں اہم ترین ’’اے ہینڈبک آف کراچی‘‘ تھی۔ سہراب ایچ کٹرک، مانک جی پیٹھاوالا، اور بہرام جی سہراب جی نے چند مختصر کتب بھی تحریر کیں۔ اردو میں کراچی پر پہلی کتاب ’’ملکہ مشرق‘‘ محمودہ رضویہ نے لکھی۔ گذشتہ چند دہائیوں میں اردو اور انگلش میں کئی عمدہ کتب شائع کی گئیں۔ ان میں سرِفہرست اجمل کمال کے منفرد جریدے آج کے’’کراچی کہانی‘‘ کے عنوان سے دو جلدوں پر مبنی خصوصی شمارے ہیں۔ عثمان دموہی نے ’’کراچی تاریخ کے آئینے میں‘‘ احمد حسین صدیقی نے ’’گوہرِ بحیرہ عرب‘‘ پروفیسر محمد اسلم نے ’’خفتگانِ کراچی‘‘ ڈاکٹر سید عارف شاہ گیلانی نے ’’عروس البلاد پاکستان، کراچی‘‘ س م سلمان یونس نے ’’باتیں کراچی کی‘‘ سید ادیب حسین کی ’’کراچی اوراس کی بندرگاہیں‘‘ غلام رسول کلمتی نے ’’کراچی قدامت، واقعات روایات‘‘ کھتری عبدالغفور کانڈا کریا نے ’’کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘ کے علاوہ یاسمین لاری، ایس ایم شاہد کی اور فرخ گول والا کی انگریزی کتب بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں مشہور بلاگر اختر بلوچ کے ’’کرانچی والا سیریز ‘‘ کی تین کتب شائع ہوئی ہیں۔ شاہ ولی اللہ جنیدی نے کراچی کی شاہراہوں کے بارے میں ’’یہ شارع عام نہیں ہے‘‘ اور محمد سعید جاوید نے کراچی کی یادوں پر مشتمل ’’ایسا تھا میرا کراچی‘‘ تحریر کی ہیں۔ گل حسن کلمتی نے ’’سندھ جی ماروی‘‘ کے نام سے کراچی پرسندھی میں بھی عمدہ کتاب تحریر کی ہے۔

اقبال اے رحمٰن کی نس نس میں کراچی کی محبت بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے فیس بک پر کراچی کے مختلف علاقوں کی تاریخ لکھنا شروع کی۔ خوش قسمتی سے وہ اصل کراچی کی ایک ایک گلی سے واقف ہیں۔ انہوں نے کیماڑی سے سینٹرل جیل تک کے ایک ایک محلے، ایک ایک سڑک کی تاریخ لکھناشروع کی تواسے بڑی پذیرائی ملی۔ احباب کے اصرار پر ان مضامین کو ’’اِس دشت میں اِک شہر تھا‘‘ کے نام سے وقیع کتاب کی صورت انداز میں منظرِ عام پر لائے۔ زیک بکس نے اسے خوبصورتی سے شائع کیا ہے۔ بڑے سائز کے آٹھ سو صفحات پر مبنی بہترین کمپیوٹر کتابت سے آراستہ کتاب کی دو ہزار روپے قیمت بھی بہت مناسب ہے۔

عرضِ مصنف میں اقبال اے رحمٰن نے تحریر کیاہے۔ ’’کراچی اس شہر میں رہتے بستے لوگوں کے لیے بڑا دلچسپ موضوع ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں یوں ہواجب ہم نے فیس بک پر ’’کراچی عروس البلاد‘‘ کے نام سے گروپ بنایا اور کراچی کی تاریخ، تمدن، تہذیب اور توصیف پر نگار شات گروپ کی نذر کرنا شروع کیں تو ممبران کی جانب سے زبردست پذیرائی ہوئی۔ کراچی میں ہم نے ہوش سنبھالا، پلے بڑھے اوربالآخر اس شہر کے سینئر سٹیزن بن جانے کی منزل پر پہنچے اور شاید اسی شہر میں پیوندِ خاک ہوجائیں، بچے جب ہمارے سامنے بڑے ہوتے ہیں تو ان کے خدوخال کی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی، اسی طرح شہرِ نگاراں میں رہتے ہوئے، اس شہرمیں رونما ہوتی تبدیلیاں نظروں سے اوجھل رہیں، کوئی دو برس قبل ہم استنبول گئے تو ہمیں استنبول کے کچھ علاقوں میں پرانے کراچی کی جھلک نظر آئی۔ معلوم ہوا کہ سترکی دہائی تک استنبول اور کراچی تقریباً یکساں انداز کے تھے۔ اس کے بعد استنبول فطری اور مثبت ترقی کرتے ہوئے بہت آگے نکل گیا اور ہم ترقی معکوس سے ہمکنار ہوئے اوراپنی شناخت ہی مٹا بیٹھے۔ ‘‘

استنبول میں ورثے کو سنبھالا گیا لہٰذا وہاں بہت سے جگہوں پرپرانے کراچی کا سا انداز دکھائی دیتاہے۔ اقبال اے رحمٰن جب کراچی کی محبت سے سرشار سفر نامہ ’’جنت ارضی، استنبول‘‘ لکھنے بیٹھے تو اس سفرنامے میں استنبول کم تھا اور کراچی زیادہ، دوستوں نے مشورہ دیاکہ کراچی سے اس قدر الفت ہے تو پھر کتاب کراچی پر ہی ہونی چاہیے۔ یوں یہ شاہکار کتاب وجود میں آئی۔

شاعر مصنف اور دانشور عقیل عباس جعفری نے کتاب کے تعارف میں لکھا ہے۔

’’اس کتاب میں کراچی کے گلی کوچوں تاریخ تو محفوظ کی ہی گئی ہے ان شخصیات کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن سے ان گلی کوچوں کے محلے اور سڑکیں موسوم ہیں۔ دو تلوار اور تین تلوارکی تاریخ کیاہے۔ اصل گرو مندر کہاں واقع ہے، مشتاق احمد یوسفی نے صبغے اینڈ سنز میں کتابوں کی کس دکان کا ذکر کیا ہے، جمشید روڈ کا اصل نام کیاہے اوراصل جمشید روڈ کہاں واقع ہے، بی وی ایس اسکول اور فلیگ اسٹاف ہاؤس کا آرکیٹیکٹ کون تھا۔ اوجھا روڈ، قاضی نذرالاسلام روڈ کب بنی اور پھر قاضی نذرالاسلام روڈ، بزنس ریکارڈر روڈ میں کیسے تبدیل ہوئی۔ زیب النسا اسٹریٹ کانام شہزادی زیب النساکے نام پر رکھا گیا ہے یازیب النسا حمیداللہ کے نام پر۔ کراچی کی کونسی سڑکیں موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو کے نام سے منسوب تھیں، ہنی مون لاج میں کس شخصیت نے جنم لیا۔ مصری شاہ کون تھے، قادو مکرانی کہاں دفن ہیں، مختلف علاقوں میں کھانے پینے کی مشہوردکانیں کونسی ہیں؟ پٹیل پارک کانام کس شخصیت کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جاپانی روڈ کو جاپانی روڈ کیوں کہتے ہیں؟، لسبیلہ کانام لسبیلہ کیسے پڑا۔ ڈاڈا گھی ’’ڈالڈا گھی‘‘ کیسے بنا۔ کراچی میں یہودیوں کا سائناگاگ کہاں تھا اور یہ سائناگاگ مدیحہ اسکوائر کیسے بنا؟ کراچی میں نہاری کا پہلاہوٹل کہاں قائم ہواتھا، رام باغ آرام باغ اور مولو ڈینا دھرم شالہ، مولوی مسافر خانہ کیسے بنا، وشن دیوی نرائن داس مہا کنیا ودیالیہ کالج، قیام پاکستان کے بعد کیا کہلانے لگا، کراچی کی کونسی سڑک قائداعظم کی اہلیہ رتن بائی کے داداسے موسوم تھی۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کے لیے زمین کا عطیہ کس نے دیا۔ ہندو جمخانہ اور موہٹہ پیلس کا آرکیٹکٹ کون تھا۔ کتاب کیا ہے معلومات کا خزانہ ہے۔‘‘

عرضِ ناشر میں زاہدعلی خان لکھتے ہیں۔

’’کتاب ہٰذا کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا خاصا دشوار ہوگا کہ یہ تاریخ ہے یامقالہ، افسانہ ہے یا حقیقت، آپ بیتی ہے یاجگ بیتی، نوحہ حال ہے یاتاب ناک ماضی۔ اگر اس میں شامل کیے گئے اشعار ہی کو یکجا کرلیا جائے تو شاعری کا ایک نہایت خوش نما انتخاب معرضِ وجود میں آسکتا ہے۔ فاضل مصنف نے کراچی کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے ایسادل شگفتہ اسلوب اختیار کیاہے کہ آپ کو تاریخ جیسے خشک موضوع میں کہانی کا لطف آئے گا۔ بڑی عمرکی ناسٹلجیائی مریضوں کے لیے تو گویا یہ آبِ حیات ہے۔ آپ پڑھتے جائیے اور زقند بھرتے ہوئے کراچی کے اس خواب ناک ماضی میں پہنچ جائیے جسے ہم کراچی کا عہدِ زریں کہتے ہیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کراچی کیساتھایہ صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اس دور میں کراچی میں رہے ہیں۔ اگر خاک سارسے پوچھا جائے کہ اس کتاب کا کیا عنوان ہو تو برملا کہوں گا ’‘داستان طلسمِ ہوشربا‘‘ اگرآج نسل نو کو معلوم ہوکہ کراچی میں کبھی ٹرام بھی چلاکرتی تھی اور وہ سڑکیں جو رات کو روزانہ دھلاکرتی تھیں اوراگلے روزان پرڈبل ڈیکر بسیں فراٹے بھرا کرتیں تھیں تو کیا وہ کراچی کو جہاںِ پرفسوں نہیں سمجھے گا؟ بس اسی شہرِ بے مثال کی کہانی اقبال مانڈویا نے بیان کی ہے جسے آپ پلک جھپکے بناپڑھنا چاہیں گے۔ جب بھی آپ کو ناسٹلجیا کا دورہ پڑے اس کتاب کے کسی بھی صفحے کو کھول کرپڑھنا شروع کردیجئے آپ فوراً وہاں پہنچ جائیں گے جہاں آپ نے اپنی جوانی کے رومان پرور دن گزارے تھے۔ کراچی کے ان قدیم باسیوں کے لیے جو عہدِ رفتہ کو یاد کرکے آہیں بھرتے ہیں یہ کتاب کسی آبِ حیات سے کم نہیں۔‘‘

کراچی صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے، انتظامی اعتبارسے چھ اضلاع پر مشتمل یہ عظیم الشان شہر اب ایک ڈویژن ہے۔ کراچی انگریزوں کے دورمیں کوارٹرز پر مشتمل ہوتا تھا۔ جن کا انتظام کراچی میونسپلٹی کے سپردتھا جبکہ دیہی علاقے لوکل ڈسٹرکٹ بورڈ کے تحت تھے۔ یہاں چھ قدیم فوجی چھاؤنیاں تھیں جواب بھی ہیں۔ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد مہاجرین نے اس شہرکارُخ کیاتواس نے دیدہ ودل فرش راہ کردیے پورے ملک سے لوگ روزگارکے لیے اس شہر آنے لگے تو اس مزدور پرور شہر نے سب کو سایہ عافیت مہیا کیا، بعدمیں آنے والے باشندے بھی اس دھرتی کے کلچر میں ضم ہوتے چلے گئے، اور شہر پھیلاتا چلا گیا۔ کسی زمانے میں کھارادر سے جیل روڈ تک محدود شہر کی وسعتوں کا آج کوئی اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ ایک جانب حب روڈ پر یہ بلوچستان سے ملتاہے تو دوسری جانب لانڈھی سے آگے ٹھٹھہ تک اسے کنارے جاملتے ہیں۔

تاریخ دان اورمصنف گل حسن کلمتی کا کہناہے۔

’’اس کتاب میں آپ کو پورے تحقیقی یا ادارتی آداب نہیں ملیں گے، کیونکہ یہ ایک تحقیقی کتاب نہیں بلکہ ایک کراچیائی کا کراچی کی گلیوں سفرنامہ ہے۔ قاری اپنے آپ کو اس سفر میں لکھاری کے ساتھ پاتا ہے۔ یہ کتاب موجودہ کراچی کی ایک دلچسپ تصویر ہے جس میں ہررنگ موجود ہے جو اس شہرسے ان کی محبت کا ایک ایسانمونہ ہے جس کی ہرسطرسے اس شہرکی محبت جھلکتی ہے۔ پاکستان نیشنل اسکول کی بات ہو یاٹوپسی کی، انکے قلم نے اس شہرکے قصیدے اور اس کی پشت سے ابھرتے مرثیے کوبڑے کرب سے بیان کیاہے۔‘‘

حسنِ بیان کی شاہکار اس ضخیم کتاب میں کیاکچھ نہیں سمو دیا گیا، ایک جہاں نما ہے جس کی کھڑکی سے جھانکیں تو اطراف میں پھیلے مظاہراپنے آپ کوعیاں کرنے پربے تاب نظرآتے ہیں۔ احساس کی آنکھ ان کو سموئے جاتی ہے۔ سڑکیں، محلے، عمارات، انکی تاریخ اوراس کے چھوٹے بڑے کردار، جغرافیہ، زراعت، صنعت وحرفت اوران کے موجد، آبائی پیشے، سیاسی، ادبی اور فنون لطیفہ کی قدآور شخصیات سب کا جامع اور مربوط جائزہ اس منفرد اسلوب میں لیاگیاہے کہ کتاب شروع کرنے کے بعد رکھنے کودل نہیں کرتا۔

کراچی شہر پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، صنعت وتجارت، بینکنگ اوربڑی کارپوریشنوں کے دفاترکے علاوہ معاشی سرگرمیوں کے مرکز اس شہر میں جہازرانی، نقل وحمل، تفریخ طبع، فنون لطیفہ، فیشن، اشہار سازی، طباعت اور سافٹ ویئر کے جدیدادارے قائم ہیں۔ بندرگاہ کے محصولات اوربراہ راست ٹیکسوں کوجمع کیاجائے تو قومی آمدنی میں کراچی کا حصہ ستر فیصد ہے۔ شہرمیں کم و بیش پچاس یونیورسٹیاں اور اعلیٰ اسلامی علوم کے بیس کے قریب مدرسے موجود ہیں۔ بدترین حالات میں بھی شہرکی سماجی وثقافتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔

اقبال اے رحمٰن نے ’’ اِس دشت میں اِک شہرتھا‘‘ میں نہ صرف کراچی کے ہر علاقے کو بھرپور انداز سے پیش کیاہے، بلکہ ان کی کردار نگاری، یادداشت اور طرزِ بیان بھی غضب کاہے۔ کتاب کاپہلا باب ’’آغوش کراچی‘‘ یوں شروع ہوتا ہے۔

’’شہرکراچی میں جب ہوش سنبھالا، پاکستان بنے محض پندرہ برس ہوئے تھے، ہماراگھر شو مارکیٹ کے علاقے میں تھا، چڑیا گھر سے رنچھوڑ لائن کی طرف چلیں توبائیں ہاتھ والی گلی دھوبی گھاٹ والی گلی کہلاتی تھی۔ دھوبی گھاٹ کے آغاز ہی میں ایک صاحب کی چھپرے سے ڈھکی چھوٹی سی دکان تھی، نام تو معلوم نہیں، ’’چشتی صاحب‘‘ کہلاتے تھے اورہرفن مولا تھے، دلی کے تھے اور کیا کچھ نہیں کرتے تھے، انکے پاس طرح طرح کے گُر اور ٹوٹکے تھے، وہ بال سے باریک اورہاتھی سے موٹا لکھنے والے چشتی پینٹر بھی تھے اوربیمار جانوروں کو صحت بخشنے والے ڈاکٹر چشتی بھی، مگر انکی قابل فخر صلاحیت کتے سدھانے کی قابلیت تھی جس کے سبب برٹش کلچر کے مارے لوگ طرح طرح کے کتے لیے ان کے پاس آتے تھے اورقلیل عرصے میںکتاان کی دی ہوئی تربیت کو سمجھ لیتا، سنا تھا تقسیم سے قبل اعلیٰ مرتبت انگریزوں کے کتے یہی چشتی صاحب سدھاتے تھے۔ دھوبی گھاٹ کے سامنے شو مارکیٹ کی شمالی دیوارتھی جس کے ساتھ چھوٹی چھوٹی جھگیاں تھی، ہماری بلڈنگ کے نزدیک جھگی میں ایک بڑے میاں رہتے تھے۔ نام غالباً اسلام الدین تھا، اہلیہ داغ مفارقت دے چکی تھیں، دو بیٹیاں تھی جوبیاہ دی تھیں سو اکیلے رہتے تھے، استری کا کام کر کے اوردوچارپلی ہوئی مرغیوں کے انڈے بیچ کر گزر بسرکرتے تھے۔ ہمارے ابااجڑے ہوئے لوگوں میں وفاکے موتی ڈھونڈنے میں مشاق تھے، بڑے میاں میں انہیں کچھ نظر آیا سو ان سے علیک سلیک ہوگئی، معلوم یہ ہوا کہ استری کے ماہر ترین کاریگروں میں شمار ہوتے ہیں، دلی میں تھے تو وائسرائے یعنی لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سکریٹریٹ سے تنخواہ پاتے تھے کیونکہ وائسرائے کے سوٹ وہی استری کرتے تھے، ابا سے دوستی کے بعدہمارے گھر کے کپڑے بھی ان کے یہاں سے استری ہونے لگے یوں ہمیں بھی وائسرائے کے سے اندازسے استری کیے ہوئے کپڑے پہننے کا اعزاز اور اپنے آپ کو کبھی کبھار وائسرائے سمجھ لینے کا حق حاصل ہوگیا۔‘‘

اس میں کیا کمال کی کردار نگاری ہے اور چندلائنوں میں مصنف نے دو مختصر خاکے پیش کردیے ہیں۔ ’’ٹی وی اس وقت نہیں آیا تھا، ریڈیو سیلون لوگ شوق سے سنتے تھے، صبح سویرے ٹھیک سات بجے حمام ٹوائلٹ سوپ اور اسکے بعد مسلسل ٹینوپال کے بجتے اشہتارآج تک سماعت میں محفوظ ہیں۔‘‘

ٹینوپال کانام بھی آج کون جانتاہے۔ ‘‘اس زمانے میں بکرے کا گوشت ایک روپے اور گائے کا گوشت آٹھ آنے سیرتھا، فارم کی مرغی تو تھی ہی نہیں دیسی مرغی بہت مہنگی سمجھی جاتی تھی یعنی پانچ روپے سیر اور اسکا اہتمام عیدبرات پرہی ہوتا تھا۔ بقر عید آئی تو بکرا پینتیس روپے اور بچھیا ایک سو چالیس روپے کی آجاتی تھی۔‘‘ بھلا آج کا قاری ان قیمتوں پریقین کریگا اور بڑے بوڑھے ناسٹلجیا کا شکار  نہ ہوں گے۔

مہاجرین کی آمدکے بعدمروجہ مقامی الفاظ جب اردومیں ڈھلے تولفظ کیاماڑی اصل لہجے سے ہٹ کرکیماڑی بن گیا۔ کیا ماڑی دوالفاظ یعنی کیا اورماڑی کامرکب ہے، ماڑی سندھی زبان میں ٹیلے یااونچی عمارت کوکہتے ہیں، مگرلفظ کیاکے کوئی معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ کراچی پر شائع شدہ ایک کتاب میں اس کی توجیہ یوں بیان کی گئی ہے کہ پارسی خاندانوں کی عمارتوں کے نام چونکہ کے سے شروع ہوتے تھے، اس لیے اس مناسبت سے اس علاقے کانام کیماڑی پڑگیا جس کا اصل نام کیاماڑی ہے۔

اسی طرح مختلف علاقوں، گلیوں اور سڑکوں کے اصل نام اوران کی توجیہ دلچسپ ہی نہیں قابلِ فہم بھی ہے۔ ’’14 دسمبر 1961ء کو کراچی پر ٹڈی دل کا حملہ ہوا، پچاس میل طویل اور پندرہ میل عریض ٹڈی دل کے اس لشکرنے چھوٹے سے کراچی کو ڈھانپ لیا تھا، ایک بادل تھا جو شمال کی جانب سے داخل ہوا اور آن کی آن میں جنوب تک پھیل گیا، بظاہر یہ سیاہ بادل تھا جب نیچے کی جانب آتا تو بھوری رنگت میں تبدیل ہوجاتا۔ ٹڈیاں اوران کا فضلہ زمین پرگر رہا تھا جس نے زمین پر ایک چادر سی بچھادی تھی، ٹڈی دل کایہ حملہ کراچی کی تاریک کابدترین حملہ تھا۔ سماعت میں پھرپھراہٹ اور سیٹیوں کی آوازیں بہتوں کو یاد ہوں گی۔‘‘ پاکستان میں موجودہ ٹڈی دل حملے کے تناظر میں ساٹھ سال پہلے کے اس حملے کی بھیانک یادیں بہت سے دلوں میں تازہ ہوگئی ہوں گی۔

لوگ مچھر کالونی کوگندگی کے سبب مچھروں کی افزائش کاسبب بننے کی وجہ سے مچھر کالونی سمجھتے ہیں مگریہ دراصل مچھیروں کی کالونی کے اعتبار سے مچھیرا کالونی کے نام سے آباد ہوئی تھی جو بعد میں بگڑ کر مچھر کالونی بن گئی۔ اسی طرح کراچی کے مختلف ایریازکے ناموں کی وجہ تسمیہ، وہاں قائم مساجدکے احوال، ان کے تعمیر کرنے والوں، قاری اور علمائے کرام کی تفصیلات، کس علاقے میں کون کون سی صنعت قائم ہوئی، کس جگہ کونسی خوراک دستیاب ہے۔ کراچی ٹرام کہاں چلتی اور ڈبل ڈیکربس کا کیا روٹ تھا، کونسی بستی کب بسائی گئی۔ کن تعلیمی اداروں سے کون سے عظیم طالب علموںنے دنیامیں پاکستان کا نام روشن کیا۔ کراچی کی مارکٹیں، سینما، کاریگر، مختلف فنون کے ماہر، گھریلوں صنعتوں کی مصنوعات غرض کراچی کے بارے میں کونسی معلومات ہیں، جو ’’اِس دشت میں اِک شہرتھا‘‘ میں موجود نہیں۔ ناشر زاہد علی خان نے بجا طور پر اسے ’’طلسمِ ہوشربا‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ بے مثال کتاب کے مصنف اقبال اے رحمٰن مانڈویاکی مزید تحریروں کو قارئین کو انتظار رہے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20