گڑ کی ڈلی —- ڈاکٹر مریم عرفان

0

سلطانہ کی زندگی میں کبھی کوئی مرد مستقل طور پر رہاہی نہیں۔ باپ بچپن میں ہی گزر گیا تو ماں کی دوسری شادی نے اس کی زندگی کے معنی بدل دیے۔ وہ سارا دن تپتے صحن میں چونے والی دیوار کو زبان سے چاٹتی رہتی۔ پورے گھرمیں خاموشی کا راج تھا ماسوائے اس کی دبی دبی ہنسی اور سوتیلے باپ کی اونچی آواز میں دی جانے والی گالیوں کے، جو وہ اکثر اس کی ماں کو دیتا تھا۔ وہ دن چڑھتے ہی چولہے کے سوئچ بنانے والی مشین پر پاؤں جما کر بیٹھ جاتی۔ لوہے کے راڈ کی آواز دھم دھم کر کے اس کے کانوں میں شور کرتی۔ سلطانہ کے ہاتھ کیا تھے گویا نرم گداز گدیلے تھے اور ان پر نمکین کُرکُری پوپٹ جیسی انگلیاں۔ وہ جب بھی دینو حلوائی کے پاس بدانہ لینے جاتی، وہ اس کے ہاتھ پکڑ کر کہتا: ’’تیرے تو ہاتھ خود نمک پارے ہیں۔‘‘ قریب کھڑے لوگوں کی زبان پرنمک ہی نمک شامل ہو جاتا اور سلطانہ دھڑکتے دل کے ساتھ دوڑ لگا دیتی۔ دینو قصاب دکان سے لٹکتی رسی سے جھولتے ہوئے اس کے نرم ہتھیلیوں سے نوٹ کھینچتا اور وہ پھٹے کے ساتھ گھسٹنے لگتی۔ دکان میں بچھے سٹول زور دار قہقہوں سے گونج اٹھتے اور وہ گوشت کا شاپر کاندھے پر لٹکائے سرپٹ دوڑ لگا دیتی۔ اس نے ڈرکے مارے گھرسے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ اگر اس کا ہاتھ کسی سے مس ہو جاتا تو وہ کھرے میں نل کے آگے اپنے ہاتھ کر دیتی یا کبھی ہتھیلیوں پر تھوکتے ہوئے انھیں پشت سے پونچھنے لگ جاتی۔ اسے اپنے ہاتھوں سے عشق ہونے لگا تھاجن کی نرمی نے پلاسٹک کے سوئچ اور لوہے کی راڈ کو بھی نرم کر دیا تھا۔ وہ بڑی آسانی سے ڈائی میں لگے لوہے کے رنگز کو دباتی کہ سوئچ کھٹا کھٹ بن کر گرتے رہتے۔ اس کے اندر غصہ تھا ہی نہیں بس خاموشی ہی خاموشی تھی۔ ماں اس کے گورے چٹے رنگ پر گلابی پڑتے گالوں کو دیکھ کر لمبا سانس لیتی اور سر نیچے کر کے سوئچوں میں سوراخ کرنے لگ جاتی۔ پھر وہی خاموشی اور لوہے کے راڈ کی دھم دھم سلطانہ کے کانوں میں شور کرنے لگتی تھی۔

سلطانہ کو بہت جلداپنی ماں کی ماں بننا پڑ گیا جس دن اس کا سوتیلا باپ انھیں چھوڑ کر گیا ماں کی حالت بگڑ گئی۔ وہ سارا دن بستر پر پڑی چھت کے کواڑ گنتی رہتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی خاموشی جنون میں بدلنے لگی، وہ دروازے سے باہر بیٹھ کر اینٹ توڑتی پھر کنکر چبانے لگ جاتی۔ سرخ اینٹ کے ذرے اس کے ہونٹوں کی لوؤں سے لعاب کے ساتھ تیرتے رہتے۔ سلطانہ کے لیے ماں کو سنبھالنا مشکل ہونے لگا تھا۔ ماں کی ذہنی حالت کے دس سال اس نے انگلیوں پر گنتی کر کے کاٹے۔ آخری دنوں میں ماں کو رسی سے باندھ کر مشین کے پاس ہی جکڑنا پڑتا، لوہے کا راڈ دھم دھم کرتا اور ماں اوں اوں کرتی رہتی۔ اس کی خالی آنکھیں آنسو بہاتیں اور وہ دھیمے دھیمے سروں میں سلطانہ کے ساتھ باتیں کرتی چلی جاتی۔
’’ بابا آ، بابا آ۔ ‘‘
’’ باوا کنک لیاوے گا، باوی بے کے چھٹے گی۔ ‘‘

گھر سے باہر بے شمار آنکھیں اس کے دروازے پر اٹکی رہتی تھیں۔ وہ لکی کبوتری کی طرح دونوں بازو پھیلائے دوڑتی بھاگتی تو سب آنکھیں اس کے پیچھے دوڑ لگا دیتیں، پھر اس نے اپنی پرواز گھٹا دی۔ ماں اپنے الجھے بالوں میں انگلیاں پھنسائے پورا زور لگا کر خارش کرتی رہتی۔ ’’آمدھانی، مینوں رہڑکن تیرے گیرے۔‘‘ سلطانہ ماں کے سر کو کھنگالتے ہوئے بے سروپا جملے بولتی رہتی۔ پورے گھر میں بس اتنا سا ہی شور مچتا تھا اور رات کو زیرو کے بلب کی زہریلی روشنی کمرے میں ادھ موئے سانپ کی طرح لوٹنے لگتی تھی۔ اس کا سوتیلا باپ بھی عجیب آدمی تھا جسے کسی شے سے کوئی سروکار تھا ہی نہیں۔ جب تک اس کی ماں کے حواس قائم تھے وہ گھرمیں بس ماں سے ملنے آتا، وہ اس کی خدمتیں کرتی اور وہ اسے دھتکارتا ہوا باہر نکل جاتا۔ ایک بڑا سا ریڈیو اس کے دائیں کان سے لگا رہتا جسے وہ بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے کاندھے پر رکھے پھرتا رہتا تھا۔ ریڈیوں سنتے ہوئے اس کی باریک باریک مونچھیں تیرکی طرح مزید سیدھی ہو جاتیں اور وہ تخت پوش پر آڑھے ترچھے اندازمیں لیٹاان پر انگلیاں پھیرتا رہتا۔ صبح ہوتے ہی وہ تکیے کے نیچے سے سارے پیسے لے کر چلتا بنتا اور ماں اپنی کالی اوڑھنی کے پلو سے آنکھیں پونچھتی رہ جاتی۔

ماں کے مرنے کے بعد بھی سلطانہ کے معمولات نہ بدلے، جس رسی سے اس نے ماں کو باندھ رکھا تھا اب وہی اس کی گدی کے نیچے چرمرائی سی پڑی رہتی تھی۔ سوتیلا باپ ہی تو اس کی ماں کے پاگل پن کی وجہ بنا تھا جس کے جانے کے بعد دو کمروں کا مکان فاؤنٹین ہاؤس بن گیا۔ سلطانہ نے خود کو پنجرے میں بند کر لیا تھا، وہ دروازے کی ذرا سی اوٹ سے مزدوری کا سامان پکڑتی۔ مال کے پیسے بھی اسی خاموشی سے ادا ہوتے اور دروازے کے دونوں پٹ زوردار آواز سے بند ہو جاتا۔ سلطانہ زنجیر لگا کر تالہ مارتی اور دروازے کے آگے چارپائی کھسکا کر رکھنے کے باوجود بھی اس کی تسلی نہ ہو پاتی۔ قسمت نے یتیم سلطانہ پر ترس کھانے کے لیے خورشید کو بھیج دیا تھا۔ گندمی رنگت اور بڑے بڑے نقوش والا خورشید رشتے میںاس کا خالہ زاد تھا۔ چھے فٹ سے اوپر قد کاٹھ کا مالک یہ شخص جب دروازے سے سر جھکا کر اندر داخل ہوا تو سلطانہ کو لگا جیسے اس کے وجود سے گھر بھر گیا ہو۔ دو کمروں کی خاموشی کو توڑنے کے لیے وہ سلطانہ کی زندگی میں شامل ہو چکاتھا۔ سوتیلے باپ کے بعد دوسرے مردکی آمد نے اس کے جسم میں عجیب سا کرنٹ بھر دیا تھا۔ وہ صحن سے کمرے تک ادھ بدائی سی پھرنے لگی۔ خورشید بھی دوائی کی خالی شیشی کی طرح تھا، گہرے رنگ کی شیشی جس میں نہ کوئی رنگ تھا اور نہ بو۔ فٹ پاتھوں اور پارکوں میں سونے والا خورشید بچپن میں ایک آدھ بار ہی سلطانہ کے گھر اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا۔ جذبات سے عاری خورشید کو رہنے کے لیے چھت درکار تھی اور بدلے میں ایک چارپائی جس کی ادوائن کو کس کر باندھنے کے لیے بھی سلطانہ کو ہی زور لگانا پڑتا۔ خورشید لوہے کی راڈ اور سوئچوں کے شور سے تنگ پڑنے لگا تھا، وہ سارا دن چارپائی پر لیٹا رہتا اور سلطانہ دھم دھم مشین چلاتی رہتی۔ پیچ کس سے سوئچوں میں سوراخ کرتے ہوئے عجیب سی کڑک گونجتی تو خورشید کو لگتا جیسے اس کے دماغ میں کوئی ناخنوں سے لکیریں کھینچ رہا ہو۔ وہ سختی سے منہ بھینچ کر کروٹ بدل لیتا۔ پھر اس نے گھر کے سناٹے اور مشین کے شور سے گھبرا کر باہر رہنا شروع کر دیا۔

جسیال کی زمین سونا نہیں اگاتی تھی سو اس نے قریبی فیکٹری میں پتھر رگڑنے کی مزدوری شروع کر دی۔ پتھروں اور کنکروں میں رہنے والا خود بھی بڑا سا پتھرکا بت بن چکا تھا۔ جب وہ گھر آتا تو اس کا سر گرینائیٹ کی سلیں رگڑتے رگڑتے سفید ہوچکا ہوتا۔ وہ ہولے ہولے کھانستا ہوا چارپائی پر لڑھک جاتا۔ دونو ں کی چارپائیوں کے درمیان فاصلہ بڑھتے بڑھتے اتنا رہ گیا تھاکہ نیچے جوتے قرینے سے دھرے رہتے۔ صبح سے شام تک راڈ چلاتے چلاتے اس کی ٹانگیں بے جان ہو جاتیں تو وہ کپڑوں کی گدڑیوں سے بنے تکیوں کو اپنی پنڈلیوں کے درمیان رکھ کر سکون محسوس کرتی۔ پچکے ہوئے گدیلے اس کی بے جان ٹانگوں کا ملبہ اٹھا چکے تھے۔ صبح مشین کی دھم دھم اور رات کو خورشیدکی کھوں کھوں نے اس کے دماغ کو سنسنادیا تھا۔ وہ اس شور میں کچھ بچے کھچے دنوں کو یاد کرتے کرتے سو جاتی۔ اکثر اسے شادی کے بعد کا وہ میلہ یاد آنے لگتا جس میں جانے کے لیے اس نے پہلی بار اصرار کیاتھا۔ اسے بڑے سے میدان میں لگے جھولوں پر بیٹھنے کا موقع ملا تو ہنسی جیسے جبڑوں کے بند ٹوٹ کر باہر ابل رہی تھی۔ یہاں بھی بہت ساری نظریں اس کے تعاقب میں تھیں۔ ’’یہ قتلمہ کہیں میں تو نہیں۔‘‘ سلطانہ نے کڑاھی کے قریب کھڑے ہو کر سوچا۔ کیا خوبصورت رنگ ہے لیکن گھی میں سنا ہوا۔ ’’ اے میدے کی روٹی، تیری قسمت مجھ سے اچھی ہے۔ ابھی تھال خالی ہو جائے گا۔‘‘

’’کیا بڑ بڑ کر رہی ہے۔‘‘ خورشید نے پاؤں سے سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا۔ سلطانہ نے گھبراکر اس کا بازو پکڑنا چاہا لیکن وہ آگے نکل چکا تھا۔ اتنے برسوں سے ایسا ہی ہو رہا تھا خورشید کو اس کا حسن بھی اپنی طرف کھینچتانہیں تھا۔ بس ہر وقت ایک سگریٹ اس کے ہونٹوں میں دبارہتا اور دوسرا اس کی انگلیوں میں۔ سلطانہ میں بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی تھی وہ بھی ویسی ہی خاموش، بے زار اور الگ تھلگ سی رہنے لگی تھی۔ شادی کے دو سال بعد زلیخا پیدا ہوئی تو سلطانہ کو لگا زندگی بدل گئی ہے۔

خورشید کی سیلانی طبیعت نے اسے کوئی کام بھی مستقل طور پر کرنے نہ دیالیکن جس دن سے اس نے گڑ بنانا شروع کیا تھا اس کی زبان میں مٹھاس پیدا ہو گئی تھی۔ اس نے سلطانہ کی مشین بند کروا دی تھی اور اب وہ دونوں صحن میں لوئی لگائے گڑ بناتے۔ شادی کے پانچ سال بعد دونوں کوایک دوسرے سے بات کرنے کا سلیقہ آیا تھا ورنہ تو دونوں طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ وقت نے سلطانہ کو مزید حسین بنا دیا، سفید رنگت انڈے کی سفیدی بن کر پھل پھول رہی تھی۔ گداز کندھے اور کتابی چہرے نے بھی اسے آبشار کی طرح صاف شفاف بنا دیا تھالیکن خورشید کی سختی نرمی میں نہ بدل سکی۔ پہلے وہ سخت سل کا پتھر تھا اور اب گڑ کے بڑے بڑے ڈلوں کی طرح جڑا پڑا رہتا تھا۔ وہ سلطانہ کے حسن سے خائف گھرکی ڈیوڑھی میں اکڑوں بیٹھاسگریٹ پھونکتا رہتا۔ ’’ یہ اتنا بہت سارا حسن اس میں کہاں سے آ گیا۔‘‘ خورشید کن اکھیوں سے اسے دیکھ کر سوچتا۔ لوئی میں آگ سلگتی رہتی، سلطانہ بڑے پتیلے میں گنے کا رس انڈیلے اسے پکانے رکھ دیتی اور خورشید چلم سلگا کر بڑے بڑے اپنے اندرکش کھینچتارہتا۔ دھوئیں کے مرغولے کبھی دائرے بناتے اور کبھی اس کے ناک اور منہ سے چھلے بن کر نکلتے رہتے۔ زلیخا سکول جانے لگی تھی لیکن سلطانہ کی قسمت میں بس مشینوں اور برتنوں کا شور زندہ تھا۔ کالے بھجنگ پتیلے پر رکھی ہوئی روکے گرم چھینٹے اس کی کومل جلد کو جلا تے تو گلابی نشان اس کی گوری کلائیوں پر تمغوں کی طرح سجنے لگتے۔

’’خورشید، کہیں میں بھی ماں کی طرح پاگل نہ ہو جاؤں۔ ‘‘
’’ہو جاؤں سے کیا مطلب ہے، تم ہو۔ ‘‘ خورشید بے حسی سے جواب دیتے ہوئے، دھواں اس کے منہ پر چھوڑتا۔
’’خورشید، تیرے پاؤں دبا دوں۔ ‘‘ سلطانہ قریب رہنے کی چاہت میں آگے بڑھتی۔
’’ہونہہ، ہاتھ نہ لگانا، تیرے جیسی پاگل کا کیا پتہ، بوٹی ہی توڑ کے لے جائے میری۔ ‘‘ خورشیدنے ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ ایک تو تیرے سے بو بڑی آتی ہے، کتنی بار کہا ہے کہ گنے کے رس میں شہد جیسی مٹھاس ہوتی ہے۔ بیلنے کے بعد نہایا کر۔ ‘‘سلطانہ خود کو سونگھتی پھرتی لیکن اسے کہیں سے بو تو دور کٹھاس تک محسوس نہ ہوتی تھی۔ خورشید کے لیے اتنا کافی تھاکہ سلطانہ کی توجہ اب اس پر نہیں تھی۔ ہر گزرتا دن تبدیلی بن کر آ رہا تھا۔ چالیس کا سن لگتے ہی سلطانہ جیسے آبشار سے جھیل سیف الملوک بن گئی ہو۔ ویسی ہی گہری اور نیلی نیلی اداسی اس کی آنکھوں میں بھی ہلکورے لینے لگی تھی۔ ان دنوں جوبن اس پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھا، اس کے جسم کی تپش سامنے والوں کو زیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ شیشہ دیکھتے ہوئے اپنے گھنگھریالے بالوں کو کنگھا کرتے ہوئے بڑبڑاتی: ’’قسم سے بہت جی چاہتا ہے دوبارہ شادی کر لوں۔ چلو، تم سے کر لوں، اے میرے شیشے۔ ‘‘ سلطانہ اپنے دونوں بازوؤں کے درمیان چہرہ کرتے ہوئے مسکراتی اور پھر کتنی ہی دیر قہقہے پر قہقہہ لگاتے ہوئے اس کے آنسو نکل جاتے۔ وہ کبھی روتی، کبھی ناک سنکتی اور کبھی گول گول گھومنے لگ جاتی۔

ویسی ہی گہری اور نیلی نیلی اداسی اس کی آنکھوں میں بھی ہلکورے لینے لگی تھی۔ ’’ ماں، تم شادی کر لو۔‘‘ زلیخا نے جیسے سلطانہ کو آلو کی طرح چھیل کر پلیٹ میں چار ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔ ’’ ابا کو بس نشہ چاہیے، تم نہیں۔‘‘

سلطانہ خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ’’ادھر آؤ، یہ دیکھو شیشہ، دیکھو خود کو۔‘‘ زلیخا نے کانپتے ہاتھوں والی سلطانہ کو زور سے پکڑا۔ ’’یہ گھر مرد کے بغیر رہنے کا عادی ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا، شادی کروں یا نہ کروں۔ تو گڑ کی ڈلیاں بنا۔‘‘ سلطانہ نے ماتھے پر سے بال ہٹاتے ہوئے کہا اور صحن میں چلی گئی۔ اس رات سے سوچوں کی سوئی ٹوٹ چکی تھی، سلطانہ نے نئی سوئی لگاکر دھاگہ پرویا اور خیال سینے لگی۔ اس نے کتنی ہی بار خورشید کو چھوڑنے کی بات کی، دونوں میں تکرار ہوتی اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا کر ختم ہو جاتی اور نتیجہ صفر ہی نکلتا۔ خالی گھر، بنجر کوکھ اور سامنے لوئی میں رکھا ہوا پتیلا، اب اسے ایک جیسے لگتے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب اس پتیلے میں گنے کے رس کے بجائے وہ خود تیر رہی تھی۔ گرم گرم پانی بلبلے بن کر اس کے وجود سے اٹھ رہا تھا۔ ذرا سا سیک لگنے پر وہ دھواں دھواں ہونے لگی تھی۔ پھر جس دن اس نے خورشید سے الگ ہونے کا سوچا وہ چارپائی پر اوندھا پڑا کراہ رہا تھا۔ ’’ کیا ہوا تمہیں؟‘‘

’’پتہ نہیں بڑے دنوں سے کمر میں درد ہے۔ آج تو اٹھا ہی نہیں جا رہا۔‘‘
سلطانہ نے گڑ کے ڈھیلے بنا کر پرات میں رکھے اور اس کی چارپائی کے پاس بیٹھ گئی۔ ’’دکھاؤ، کہیں ناف نہ پڑ گئی ہو۔‘‘
’’ہاتھ مت لگا۔ دور بیٹھ۔‘‘ خورشید ہنکارا۔ سلطانہ دوبارہ پیڑھی پر آ کر بیٹھ گئی۔ خورشید مزید دو دن اسی تکلیف میں رہا۔ بالآخر شہر ی ڈاکٹر نے بتا دیا کہ پنچھی آزاد ہونے والا ہے۔ جگر کام چھوڑ چکا تھا، وہ کسی بھی وقت داغ مفارقت دے سکتا تھا۔ سلطانہ کی آنکھیں پانیوں سے تر تھیں۔ خورشید چارپائی پر بے سدھ پڑا کراہ رہا تھا کہ یکدم اس نے سلطانہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’سلطانہ، مجھے ٹھیک ہونے دے، تیری قسم روز سینما دیکھنے جائیں گے۔ کیا کہتی ہے۔‘‘ سلطانہ نے اس کے مرجھائے ہوئے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں سے لگالیا۔ اس رات دونوں نے بہت باتیں کیں، بچپن، جوانی، شادی اور پھر درمیان میں پاٹ دینے والے دریا کی کہانی۔ سلطانہ کو لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ پرانے والا خورشید ہے سنگدل، کٹھور۔ وہ جی بھر کر اس سے باتیں کرتی رہی، کبھی اس کے ماتھے کو سہلاتی تو کبھی دلار سے گال کھینچ لیتی۔ تبھی اسے اپنی ماں یاد آئی جو بالکل ایسے ہی اس کے سوتیلے باپ کی خدمت میں حاضر رہتی تھی۔ کبھی اس کے پاؤں کے تلوے ملتی کبھی کندھے دباتی، وہ اس دوران غصہ بھی کرتا تو ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا دیتی۔

’’اس گھرکو مرد کی کتنی ضرورت تھی، مجھے پتہ ہی نہ چلا۔‘‘ سلطانہ سوچتے سوچتے دور جا نکلی۔
خورشید نے آخری ہچکی لی تو اس کا ہاتھ سلطانہ کے ہاتھ میں تھا۔ ’’میں نے تمہیں معاف کیا خورشید۔ تم نہ جاؤ۔ کالی کملی والے اسے موڑ دے۔‘‘ سلطانہ کی خاموشی پھٹ پڑی۔ خورشید کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل چکی تھیں، اس نے اپنے ہونٹ زور سے بھینچے اور روح پرواز کرگئی۔ سلطانہ کے گورے چٹے ہاتھوں میں مرے ہوئے مرد کا ہاتھ ایسے ہی تھا جیسے گنے کا پھوک لوئی کے پاس رکھا ہو۔ ’’پندرہ سال کی بیوگی آج ختم ہو گئی خورشید، پندرہ سال۔‘‘ سلطانہ بڑبڑاتے ہوئے سوچتی چلی جارہی تھی۔ ’’قبر میں تو میں نے تمہیں اب ڈالا ہے۔ مر تو تم کب کے چکے تھے۔‘‘

’’میں پندرہ سال سے اکیلی، تنہا، میرا کمرہ الگ میرا، بستر الگ۔ میں ایک مرد تک پیدا نہیں کر سکی۔ یہ گھر ویرانہ مانگتا ہے ویرانہ، میری ماں کو بھی پاگل کرنے والا مرد تھا۔ مجھے تم نے پاگل کر دیا خورشید۔ کالی کملی والے، میرے لیرے رل گئے۔‘‘ سلطانہ ہسٹیریائی انداز میں چیخ رہی تھی۔ روز اس گھر کے صحن میں گڑبنتا تھا، ڈلیاں پیڑوں میں بدل جاتی تھیں۔ خالص گڑ، جسے سوڈے نے چھوا بھی نہیں تھا۔ جسے بنانے والے ہاتھوں نے اپنے جسم کی مٹھاس کشید کرکے پرات میں جمایاتھا لیکن وہاں گڑ کی ڈلی چکھنے والا کوئی تھاہی نہیں۔ سلطانہ نے خورشید کی قبر پر گڑکی ڈلی رکھی۔ دور کہیں دور لوہے کے راڈ کی دھم دھم سنائی دے رہی تھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20