پاکستان میں موجود تعلیمی اداروں کا تنقیدی جائزہ —- محمد زمان

0

جدید دور میں جدیدیت کے باعث تعلیم و تدریس میں تغیر پیدا ہو چکا ہے، تعلیم میں چاہے جدت جتنی بھی آجائے لیکن انسانی ذہن کی تشکیل تعلیم سے منسلک ہے اس لیے ملک میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے جامعات کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی بات کی جائے تو یہ پاکستان کے صرف چند اضلاع میں موجود ہے، جبکہ دیہاتوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات عوام کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کل 185 جامعات موجود ہیں جس میں تقریباً 59 فیصد جامعات سرکاری جبکہ 41 فیصد نجی سطح پر موجود ہیں۔ سرکاری سطح پر 81 فیصد طلباء و طالبات کا داخلہ ہوتا ہے جبکہ نجی سطح پر 19 فیصد طلباء و طالبات داخلہ لیتے ہیں۔

پاکستان میں سرکاری سطح کی جامعات میں داخلہ کے حصول کے لیے مضامین میں 80 سے 95 فیصد نمبروں کا آنا لازمی ہوتا ہے جس میں اعلی درجہ کی مسابقت کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں طالب علموں کی ذہانت کا اندازہ بھی انکے حاصل کردہ نمبروں سے لگایا جاتا ہے۔ تعلیم معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ تربیت کا ایک حصہ ہے جس سے عملی زندگی میں آسانیاں تو پیدا ہوتی ہیں لیکن اسکے ساتھ تعلیم کا اصل مقصد فرد کی ترقی اور اسکو سماج کاری کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ جس سے اسکی شخصیت کی تراش خراش ہوتی ہی ہے اسکے علاوہ تعلیم سے زندگی میں کچھ حاصل کرنے کی مہارتیں پیدا ہوتی ہیں۔

تاہم، شاید ہی پاکستان میں ایسی جامعات موجود ہوں جو طالب علموں کی زندگی میں روشن خیالی کو اجاگر کر سکے۔ ملازمت کی دوڑ میں تعلیم کی اہمیت نہیں رہی، روز بروز بے روزگاری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ وہ نوجوان جو فارغ التحصیل ہو چکے ہیں ایک ملازمت کی درخواست لکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ طلباء و طالبات جامعات میں کسی فیکٹری میں بنائے جانے والے مواد کی طرح داخل ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ طالب علم زیادہ نمبر کی بنیاد پر اسکالر شپ یاں طلائی تمغہ حاصل کر رہے ہیں لیکن اگر ان سے پوچھ لیا جائے کہ آپ نے جامعہ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے کورس کی کتابیں پڑھی ہیں؟ تو حیران کن طور پر انکا جواب ”نہیں” میں ہوگا۔ اگر ان سے  اپنے شعبوں سے منسوب متعلقہ نامور مصنفین و اسکالروں کا نام پوچھ لیں تو یہ مشکل سے ہی اپنے مضامین کے دو سے پانچ مصنفین، سائنسدانوں اور اسکالروں کے نام بتا سکیں۔ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کی ایک دوڑ میں بھاگ تو رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند کیوں ہیں اور پھر بھی جامعات انکو اعلی درجات سے کیوں نواز رہی ہے؟ یہ بات ماہرین تعلیم اور یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

ہر طالب علم نے 16 سے 18 سال تعلیم حاصل کرنے میں گزارے ہیں لیکن پھر بھی کچھ صفحات پر مبنی معیاری مواد لکھنے سے قاصر ہیں۔ انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری سطح پر امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کر رہے ہیں لیکن ان میں تنقیدی صلاحیتوں و سوچ کا فقدان ہے۔ ان کی اس سے سکول کالج و جامعات کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے۔

بہت سے طالب علم اپنی حاصل کردہ تعلیم سے وابستہ ہنر پر بڑی مشکل سے توجہ دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ جامعات میں تفریح​، سنسنی، ہڑتالوں، پرتشدد سرگرمیوں اور تعلیمی نظام کو خراب کرنے میں مصروف ہیں۔ دریں اثنا، اگر انہیں ایک عدد ٹرم پیپر لکھنا ہو تو یہ ان کے لئے بوجھ ہے، کچھ طلباء طالبات متن چوری کرتے ہیں یاں کچھ کے لیے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو انکو کوئی بھی تحریر چند پیسوں کے عوض لکھ کر دے دیتے ہیں۔ یہی طالب علم محنت کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان کے پاس پیسہ لگانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، انہیں “ڈگری” کے نام سے پر ایک “کاغذ کا ٹکڑا” دیا جاتا ہے۔

اساتذہ کے لئے طلباء کی پانچ منٹ تک توجہ حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے طالب علم اساتذہ سے چھپ کر فون پر مصروف رہتے ہیں اور دورانِ کلاس سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں طالب علموں کے مابین زیادہ استعمال انہیں کلاس کے دوران لیکچر سے بے خبر بنا رہا ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان میں بہت کم طلباء و طالبات ایسے ہیں جو پڑھنے آئے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، روشن خیالی لاتا ہے لیکن اس کے نتائج قابل اعتراض ہیں جس پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا طلباء طالبات کے مابین انتہائی پسماندہ قسم کے خیالات اجاگر کر رہا ہے، دورانِ کلاس طالب علم لیکچر سے بیزاری محسوس کرتے ہوئے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔ معیاری تعلیم متعدد وجوہات کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے جن میں سکول، کالج اور جامعات کا ایک اہم کردار تو ہے ہی لیکن ادھر سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال نے پاکستان کی بگڑتی ہوئی تعلیم میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

طلباء و طالبات کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے جب استاد کی جانب سے انہیں پڑھنے و لکھنے میں مشغول ہونے کو کہا جاتا ہے تو “آپ ضرورت سے زیادہ پڑھا رہے ہیں” جیسے جملے انکی جانب سے کہے تو نہیں جاتے لیکن اپنے رویہ سے یہ ضرور باور کرواتے ہیں۔ اگر کوئی استاد گپ شپ میں مصروف ہے یاں لیکچرز سے زیادہ غیر حاضر رہے یا کوئی ادب پڑھنے کو نا کہہ تو ایسے اساتذہ کو طلباء و طالبات کی جانب سے ”پسندیدہ” استاد قرار دیا جاتا ہے۔

توجہ اس امر کی ہے کہ آج کے نوجوان تعلیم مکمل ہونے کے بعد ملازمت کی تلاش میں جب نکلتا ہے تو اسے اتنا معلوم ہی نہیں ہوتا ہے وہ کس شعبہ میں جائے، آج کے دور میں تعلیمی ادارے پیسے کمانے کا ایک ادارہ بن رہے ہیں جس میں ہنر سکھانے کی اہمیت کھوٹے سکے جتنی رہ گئ ہے۔ نوجوان اپنے ہنر سے روشناس ہی نہیں ہیں؛ وہ روشناس تب ہی ہوگا جب تعلیمی اداروں میں ایسی سہولیات کے ساتھ مضامین اور سرگرمیاں متعارف کروائی جائیں جس سے طلباء و طالبات کو فائدہ پہنچے، اسکے ساتھ ذہنی و روحانی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور حکومت اپنے تعلیمی نظام پر توجہ مرکوز کریں تا کہ مستقبل پر ان تعلیمی اداروں پر کوئی انگلی نا اٹھا سکے۔


لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی آف اسلام آباد کے شعبہ سماجیات کے چیئرمین ہیں، وہ پاکستان میں سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، جہاں وہ سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، وہیں وہ ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کرتے ہیں۔ ترجمہ:  سعدیہ اسلم

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20